ریاض، جدہ، صنعا ( نیوز ایجنسیاں) حوثیوں نے سعودیہ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے
کردئیے، تاہم سعودی اتحاد نے ان حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، اس کے علاوہ اتحاد نے یمنی قبائل کو نشانہ بنانے کا حوثی دعویٰ مستر کردیا ، ادھر یمن نے حوثیوں کیخلاف داعش اور القاعدہ طرز پر عالمی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کئے۔ سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض سمیت مختلف شہروں کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کردیا دریں اثناء سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے حوثی ملیشیا کے اس دعوے کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں قبائلی اجتماعات اور شہریوں کے اجتماع کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کے یہ الزامات عوامی رائے کو گمراہ کرنے، اپنی مشکلات سے توجہ ہٹانے اور یمنی قبائل کو اپنے تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش ہیں۔ترکی المالکی کے مطابق یمنی قبائل یمن کے سماجی اور تاریخی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں اور سعودی و یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے اور رابطے کا ذریعہ ہیں۔انہوں نے یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی قبائل کو ایسے تنازعات میں استعمال ہونے سے بچانا ضروری ہے جو یمنی عوام کی امن، ترقی اور سلامتی کی خواہشات سے مطابقت نہیں رکھتے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض اور جنوبی سعودی عرب کی طرف داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات دے چکی ہیں۔ادھر یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حوثی ملیشیا کے خلاف ایک متحد بین الاقوامی موقف اپنانے کا مطالبہ کردیا۔ ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں شہری ہوائی اڈوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے سلسلے کے تناظر میں یمنی صدارتی قیادت کونسل نے کہا کہ داعش، القاعدہ اور بوکو حرام کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی تحرک کے طرز پر حوثی ملیشیا کا مقابلہ کیا جائے۔رشاد العلیمی نے ریاض میں آٹھ ملکوں کے سفیروں کی اعتمادی اسناد وصول کرنے کے لیے ان سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کہا کہ ایئرپورٹس اور شہریوں کو نشانہ بنانا اور آبادی کو بنیادی ضرورتوں سے محروم کرنا بین الاقوامی سطح پر فیصلہ کن اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ ان میں حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا، ان کی فنڈنگ کے ذرائع خشک کرنا اور ان تک ہتھیاروں اور عسکری ٹیکنالوجی کی رسائی کو روکنا شامل ہے۔یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے حوثی ملیشیا پر عدن اور ریان کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے اور تعز شہر اور مرب و دیگر صوبوں کے رہائشی علاقوں پر حملے جاری رکھنے کا الزام عائد کیا اور شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور انسانی صورتحال پر ان تجاوزات کے نتائج سے خبردار کیا۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ بین الاقوامی برادری کے پاس حوثیوں کی خلاف ورزیوں کے کافی ثبوت موجود ہیں، لیکن اس نے ابھی تک ایسے اقدامات نہیں اٹھائے جو ان کی خطرناکی کے متناسب ہوں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نافذ کرنے اور خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کو دھمکانے کی اس جماعت کی صلاحیت کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا۔اسی سیاق و سباق میں رشاد العلیمی نے بحری اتحاد میں شامل ملکوں پر زور دیا کہ وہ یمنی حکومت کی مدد کریں تاکہ وہ بندرگاہوں اور ساحلوں، بالخصوص الحدیدہ، پر اپنا کنٹرول دوبارہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحری خطرات کا حل ان کے زمینی ذرائع اور حملوں کی شروعات کے مقامات اور ہتھیاروں کی سمگلنگ کے مواضع سے نمٹنے کا متقاضی ہے۔
بیلسٹک میزائل
