اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی دارالحکومت میں نئے انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے بعد پولیسنگ کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر قائم پولیس ناکوں کی تعداد 24 سے کم کرکے 12 کر دی گئی ہے، جبکہ مستقل ناکہ بندی پر انحصار کم کرکے موبائل گشت اور مثر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو زیادہ مثر بنانا ہے۔ کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری نے ستمبر 2026 میں آئی جی اسلام آباد پولیس کا منصب سنبھالا تھا۔ ان کی تعیناتی کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات، ٹریفک کی روانی اور شہریوں کو پولیس خدمات کی فراہمی کے معاملات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اہم شاہراہوں پر ناکوں کی تعداد کم کرنے اور پولیس اہلکاروں کو متحرک انداز میں فرائض انجام دینے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔دوسری جانب ای سیون، ایف سیون، دامنِ کوہ اور موٹروے لنک روڈ پر قائم پولیس ناکے ختم کیے گئے ہیں، جبکہ باقی ناکوں کے انتظامات کو بھی اس انداز میں بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سکیورٹی کے تقاضے پورے ہونے کے ساتھ شہریوں کی نقل و حرکت متاثر نہ ہو۔ بالخصوص مصروف شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاروں اور آمدورفت میں رکاوٹوں کو کم کرنا اس حکمت عملی کا اہم مقصد ہے۔پولیس کی نئی حکمت عملی کے تحت مستقل ناکوں پر زیادہ انحصار کرنے کے بجائے موبائل پیٹرولنگ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے پولیس اہلکار مختلف علاقوں میں متحرک رہتے ہوئے مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں گے اور کسی واردات یا ہنگامی صورت حال کی اطلاع ملنے پر متعلقہ مقام پر فوری پہنچنے کی کوشش کر سکیں گے۔ تاہم اس حکمت عملی کی حقیقی کامیابی کا اندازہ جرائم کی شرح، پولیس کے ردعمل کے وقت اور شہریوں کو ملنے والی سہولت کے نتائج سے ہی لگایا جا سکے گا۔آئی جی اسلام آباد کے مطابق ناکوں میں کمی کا مقصد سکیورٹی انتظامات ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں زیادہ مثر اور شہریوں کے لیے آسان بنانا ہے۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس گشت بڑھانے، نگرانی کے نظام سے استفادہ کرنے اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب کیمروں اور جدید نگرانی کے ذرائع سے بھی جرائم کی نشاندہی اور تحقیقات میں مدد لینے کی پالیسی اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی پالیسی میں بعض تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے تیز رفتاری اور معمولی نوعیت کی ٹریفک خلاف ورزیوں پر مقدمات درج کرنے کے طریقہ کار پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے، تاکہ صاف ریکارڈ رکھنے والے شہریوں کو غیر ضروری طور پر فوجداری کارروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسری جانب بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ گاڑی کو قانونی تقاضے پورے ہونے تک تحویل میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی انتظامات اور سڑکوں پر رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ناکوں کی تعداد کم کرنے اور معمولاتِ زندگی کو بحال رکھنے کے اقدامات کو شہری سہولت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس قیادت کی جانب سے سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینرز کو حالات معمول پر آنے کے بعد فوری ہٹانے کی ہدایت بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔دوسری جانب پولیس کی کارکردگی کا اصل امتحان صرف ناکوں کی تعداد کم کرنے تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ شہر میں اسٹریٹ کرائم، چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی روک تھام، شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے اور پولیس کے بروقت ردعمل سے بھی اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ ناکوں میں کمی کے ساتھ گشت میں اضافے اور نگرانی کے مثر نظام کو یقینی بنانا ضروری ہوگا، تاکہ شہریوں کو سہولت دینے کے ساتھ ان کی جان و مال کا تحفظ بھی برقرار رہے۔اسلام آباد پولیس کی نئی حکمت عملی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستقل ناکہ بندی کے بجائے متحرک پولیسنگ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم اس پالیسی کے عملی نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے، جب یہ دیکھا جا سکے گا کہ شہریوں کی آمدورفت میں کتنی بہتری آتی ہے اور جرائم کی روک تھام میں پولیس کس حد تک مثر ثابت ہوتی ہے۔
بریکنگ نیوز
- کراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں مبینہ غیرقانونی امیگریشن کی کوشش کرنے والے مسافر ایف آئی اے کی تحویل میں۔
- فیصل آباد:ٹریفک وارڈن غلط طریقے پر پارک کی گئی کار کو لفٹر کے ذریعے اٹھا رہا ہے۔
- پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، روزگار کی فراہمی بڑا چیلنج بن گئی
- گل پلازہ آتشزدگی کیس: حتمی چالان اور عمارت مسمار کرنے کی درخواست پر فیصلہ نہ ہوسکا
- جی ٹی روڈ پر ایکسیڈنٹ گاڑی کی ٹکر سے شاہ زیب موقع پر جابحق سہالہ
- سعودی عرب ،خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث سعودی عرب جانے والی بیشتر پروازیں منسوخ
- راولپنڈی پولیس کی کاروائیاں 4 افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
- چوآ سیدن شاہ و گرد و نواح میں کوئلے کی کان کنی کا معاملہ بنیادی سوال کو جنم دیتا
- اٹک:منشیات فروشی اور شراب فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمان پولیس کی حراست میں ۔
- گوجرخان میں مبینہ ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت جاری
- نا جائز پارکنگ،عملہ کیساتھ ہاتھا پائی کرنیوالے ملزمان پر مقدمہ درج
- 10 سالہ لڑکے سے زیادتی کرنیوالے مجرم کو عمر قید کی سزا سنا
- ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی اور بیٹے کے جاں بحق ہونے کا معاملہ، آئی پنجاب کا سخت نوٹس
- سیکٹر G-13 کے رہائشیوںکے مسائل حل کیلئے FGEHA کی کھلی کچہری
- راولپنڈی :پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں پولیس افسران واہلکاروں کے رویوں میں مثبت تبدیلی اور شہریوں کو بہترین سروسز کی فراہمی کے حوالے سے خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ۔
- ہنگری کے قومی دن کے موقع پر مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر وزیر اعظم کے مشیر فہد ہارون رکن قومی اسمبلی نوید قمر ہنگری کے سفیر اور دیگر اہم شخصیات اسٹیج پر موجود ہیں
- اٹک :کار سرکار میں مداخلت اور تجاوزات عملہ کیساتھ ہاتھا پائی کرنے پر سندر کا ر پیٹ کے مالکان کیخلااف ایف آئی آر اور دکان سیل ۔
- روڈ ایکسیڈنٹ میں3افراد جاں بحق واقعہ،چونترہ پولیس نے واقعہ میں ملوث ڈرائیور کو تحویل میں لے لیا
- محلہ عمرآباد، عشا کے بعد یتیم بچے حیدر علی کو مبینہ طور پر مسلح افراد نے دو گولیاں مار کر قتل کر دیا
- گوجرخان میں ڈکیتی و چوری کی متعدد وارداتیں جاری
