راولپنڈی(خصوصی رپورٹر) پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر اور مایہ ناز اسپن بالر ساجد خان نے ہفتے کے روز راولپنڈی کے ایک مقامی کالج میں پنجاب ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر خالد پرویز اور ای او سی کی ٹیم کے ہمراہ ورلڈ پولیو ڈے کی سرگرمی میں شرکت کی۔ اس سال یہ دن "شکریہ فرنٹ لائن ورکرز کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، جس کا
مقصد بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے پولیو ورکرز کی انتھک محنت، لگن اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔اس تقریب میں تعلیمی ادارے کے نمائندوں، طلبہ اور پولیو پروگرام کے عہدیداروں نے شرکت کی اور ان فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو سراہا جو مشکل حالات کے باوجود گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلاتے ہیں تاکہ ہر بچے کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ساجد خان نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر بھی زور دیا کہ وہ ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔اس موقع پر پنجاب ای او سی کے کوآرڈینیٹر خالد پرویز نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں فرنٹ لائن ورکرز کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پولیو کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے ان ورکرز کی لگن اور محنت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے تک رسائی اور وائرس کے پھیلا کی روک تھام کے لیے والدین، کمیونٹیز اور سرکاری اداروں کا تعاون ناگزیر ہے۔خالد پرویز نے بتایا کہ پنجاب میں پولیو وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور 2026 کے دوران اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ مسلسل نگرانی اور حفاظتی اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان میں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت کے ذریعے کسی بھی علاقے تک پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ پولیو سے بچا کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ویکسین سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے مستند معلومات کی فراہمی، کمیونٹی کے ساتھ مثر رابطے اور صحت کے ماہرین، علمائے کرام، اساتذہ اور دیگر بااثر شخصیات کے مشترکہ کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پنجاب ای او سی کے کوآرڈینیٹر نے فرنٹ لائن ورکرز کو پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت اور محفوظ مستقبل کے لیے ان کی خدمات انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز کی محنت اور قربانیوں کو صرف ورلڈ پولیو ڈے پر ہی نہیں بلکہ پورا سال تسلیم کرنے اور سراہنے کی ضرورت ہے۔تقریب میں تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کو پولیو ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی بڑھانے اور پولیو کے خاتمے کے لیے عوامی تعاون کو فروغ دینے میں شامل کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔دنیا بھر میں ہر سال 24 اکتوبر کو ورلڈ پولیو ڈے منایا جاتا ہے تاکہ پولیو سے پاک دنیا کے قیام کے لیے حاصل ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرنے کے ساتھ اس بیماری کے مکمل خاتمے کے عزم کی تجدید کی جا سکے۔ویکسینیشن کے باعث دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم پاکستان اب بھی ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس کی منتقلی جاری ہے۔پنجاب ای او سی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے خاتمے کی ہر مہم کے دوران تمام اہل بچوں تک رسائی، عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے اور فرنٹ لائن ورکرز کی معاونت کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ بچوں کو اس قابلِ تدارک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔تقریب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہر بچے کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانا، ہر محروم بچے تک پہنچنا اور ہر فرنٹ لائن ورکر کی خدمات کو سراہنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، یہاں تک کہ پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔
