Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • مناب اسکول حملہ کبھی نہیں بھولیں گے نہ معاف کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ
    • پی سی بی کی اسکائی اسپورٹس کے خلاف شکایت پر عثمان خواجہ کا طنزیہ ردعمل، ’’یہ ضرور کوئی مذاق ہوگا‘‘
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، اسمبلی سے 30 ووٹ حاصل کیے
    • پیٹ کمنز کا عمران خان کی صحت اور اہلِ خانہ سے ملاقات پر اظہارِ تشویش
    • لارڈز ٹیسٹ: امام الحق بائیں پنڈلی کی انجری کا شکار
    • پاکستان، کویت میں دفاعی معاہدہ طے، فوجی تعلقات مضبوط بنانے کا فیصلہ
    • غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرلیا، تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرگئی
    • ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89برس کی عمر میں انتقال کرگئے
    • یورپ میں ہیٹ ویوز کا تباہ کن اثر کم از کم 35 ہزار اضافی ہلاکتیں
    • 902 فرسٹ کلاس وکٹیں، محمد عباس لارڈز میں 4 وکٹیں لے کر ایلیٹ کلب میں شامل
    • نیپال، چین سیلاب: 469 افراد جاں بحق 1400 لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری
    • سعودی کمپنی کا پاکستانی ایئرپورٹ خریدنے میں دلچسپی کا اظہار
    • سانحہ پمز ، وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کے اسپتالوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم
    • نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب، 1500 کے قریب افراد لاپتا
    • پمز سانحہ، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کا پاکستان سے اظہارِ یکجہتی
    • پمز آتشزدگی: مصطفیٰ کمال کا احتساب کا اعلان، غفلت پر کوئی رعایت نہیں
    • مون سون کا نیا اسپیل، اسلام آباد، سوات، شانگلہ، بونیر اور ایبٹ آباد میں بارش کا امکان
    • انگلش کپتان جو روٹ نے کھلاڑیوں کو سخت پیغام دے دیا، فاسٹ بولر جوش ٹنگ کا انکشاف
    • لیون کے خلاف فتح کے بعد میٹیو گینڈوزی کا جشن، شائقین مشتعل
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ادارے ایک شخص کو نہ بچائیں ، سپریم کورٹ

    By Daily Khabrainجون 23, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    supreme court of pakistan
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد(آئی این پی ‘ مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما عملدرآمد کیس میں جے آئی ٹی نے 2 کتابوں پر مشتمل اپنی تیسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرا دی، عدالت نے جے آئی ٹی کو 10 جولائی تک حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا،جے آئی ٹی سربراہ نے سپریم کورٹ میں سیکیورٹی تحفظات کا اظہار کردیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ افسوس ہے ادارے جے آئی ٹی سے تعاون نہیں کر رہے ہے اور نہ ہی مطلوب ریکارڈ فراہم کیا جارہا ہے ، کچھ اداروں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ان کے پاس ریکارڈ موجود نہیں ہے،جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تحقیقاتی ٹیم سے عدم تعاون پر چیئرمین ایف بی آر کو سمن جاری کئے جائیں، اداروں کو کسی ایک شخص کو بچانے کے بجائے قومی مفاد کے لئے کام کرنا چاہیئے، کیا ایس ای سی پی کے خلاف ریکارڈٹیمپرنگ کی انکوائری کی گئی تھی، یہ قابل افسوس بات ہے۔ادارے اپنے طور پر کیوں تعاون نہیں کر رہے،اٹارنی جنرل نے جے آئی ٹی کو ایف بی آر سے تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ تفصیلات کے مطابق پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے اپنی تیسری کارکردگی رپورٹ پیش کی، جے آئی ٹی کی سیل رپورٹ 2 کتابوں پر مشتمل ہے۔جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے بیانات کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے واجد ضیا سے استفسار کیا کہ کیا ایس ای سی پی اور ایف بی آر نے ریکارڈ فراہم کر دیا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی پی نے کچھ ریکارڈ فراہم کیا ہے جبکہ ایف بی آر نے تاحال ریکارڈ فراہم نہیں کرایا، تین بار وضاحت مانگی گئی لیکن جواب ملا کہ ریکارڈ موجود نہیں، مکمل ریکارڈ اب تک فراہم نہیں کیا گیا۔جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ ریکارڈ نہ ملنے کا معاملہ نوٹس میں کیوں نہیں لیا گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایسا نہیں چلے گا، اگر ایف بی آر کے پاس ریکارڈ نہیں بتا دیں، ریکارڈ چوری ہو گیا، گم ہو گیا یا کوئی اور لے گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ کو کیوں بار بار بلانے کی ضرورت پڑ رہی ہے، ہم نے اداروں کو سپریم کورٹ کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا تھا، ادارے ایک دوسرے کیوں تعاون نہیں کرتے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی دستاویزات کی فہرست فراہم کرے کوشش کروں گا کہ تمام ریکارڈ فراہم کروں۔واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر کو واضح کر دیا تھا کہ کونسا ریکارڈ چاہیئے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو ریکارڈ مانگا اس کی تفصیل پیش کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ریکارڈ ٹمپرنگ کی انکوائری شروع ہو چکی ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا جی انکوائری شروع ہو چکی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے دوبارہ پوچھا کہ انکوائری میں کتنا وقت لگے گا، اٹارنی جنرل نے جواب دیا زیادہ وقت نہیں لگے گا صرف ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے، ریکارڈ موجود ہوا تو ضرور ملے گا کیونکہ ریکارڈ صرف مخصوص وقت کا مرتب رکھا جاتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات ایف بی آر نے عدالت کو کیوں نہیں بتائی، ایف بی آر معاملے پر خاموش کیوں بیٹھا ہے، جے آئی ٹی ایف بی آر سے مطلوبہ دستاویزات کی فہرست کل تک جمع کرائے۔ عدالت نے جے آئی ٹی سے 10 رپورٹ تک حتمی رپورٹ طلب کر لی۔سپریم کورٹ نے تصویر لیکس کے معاملے پر رپورٹ اور شخص کا نام پبلک کرنے سے متعلق وفاقی حکومت سے موقف طلب کرتے ہوئے کہا کہ درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ کیا وجوہات ہیں تصویر لیک کرنے والے کا نام سامنے نہیں لایا گیا، جس پر واجد ضیا نے بتایا کہ صرف سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تصویر لیک کرنے والے کا نام رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں ایف بی آر کی جانب سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی شکایت کی جس پر اٹارنی جنرل نے جے آئی ٹی کو ایف بی آر سے تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ ریکارڈ، قانون اور کتابوں کو مدنظر رکھ کر دیا جاتا ہے، فیصلہ کرتے ہوئے اخبارات کو نہیں دیکھتے۔وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر24 جون کو ہی جے آئی ٹی میں پیش ہوں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر 24 جون کی صبح 11 بجے جے آئی ٹی میں پیش ہوں گے، جے آئی ٹی نے کیپٹن (ر) صفدر کو ضروری دستاویزات بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں آج جمعہ کو سابق وزیرداخلہ سنیٹر رحمن ملک پیش ہوں گے، سنیٹر رحمان ملک جے آئی ٹی کو شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ سے متعلق اپنی تحقیقاتی رپورٹ دیں گے، کل ہفتہ کو وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر جے آئی ٹی کو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے، دوسری طرف وفاقی جوڈیشل اکیڈمی اور جے آئی ٹی ارکان کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، اسمبلی سے 30 ووٹ حاصل کیے

      پاکستان، کویت میں دفاعی معاہدہ طے، فوجی تعلقات مضبوط بنانے کا فیصلہ

      غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرلیا، تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرگئی

      تازہ ترین

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.