ملتان ( جنرل رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر)کی آسان ٹیکس اسکیم بھی کامیاب نہیں ہوسکی اور اس پر عملدرآمد بھی شروع نہیں ہو پایا، اس سے پہلے 2024ء میں متعارف کرائی گئی تاجِر دوست اسکیم بھی ناکام رہی تھی۔ اس اسکیم کے تحت دس لاکھ تاجروں کی رجسٹریشن کی امید تھی، لیکن اب تک صرف 222 تاجروں نے ہی رجسٹریشن کرائی ہے۔ان دونوں اسکیموں کا مقصد تاجروں کو ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں لانا تھا، لیکن واضح طور پر یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ بہرحال دونوں اسکیموں میں کچھ فرق ضرور تھا، تاہم آسان اسکیم میں کی جانے والی اصلاحات بھی تاجروں کو اس میں زیادہ سے زیادہ شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئیں(1) تاجر دوست اسکیم کا طریقہ کار بجلی بلوں اور جائیداد کی تجارتی مالیت کی بنیاد پر ماہانہ کم از کم پیشگی ٹیکس کی ادائیگی پر مشتمل تھا جبکہ آسان اسکیم کے تحت سالانہ فروخت (سیلز) پر ایک فیصد کی شرح سے یکساں ٹرن اوور ٹیکس یا کم از کم 25 ہزار ٹیکس مقرر کیا گیا تھا۔(ii) تاجِر دوست اسکیم میں ماہانہ باقاعدہ گوشوارہ اور پیشگی گوشوارہ جمع کرانے کی شرط تھی جبکہ آسان اسکیم میں مقامی زبان میں ایک سادہ اور آسان فارم متعارف کرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔(iii) تاجِر دوست اسکیم میں یکمشت یا مقررہ وقت سے پہلے ادائیگی کرنے والوں کے لیے 25 فیصد رعایت اور نئے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں (نئے فائلرز) کے لیے 50 فیصد رعایت کا تصور شامل تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ اسکیم میں آڈٹ سے استثنیٰ، پوائنٹ آف سیل سے استثنیٰ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی سہولت شامل ہے جس کا مقصد ایف بی آر کے اہلکاروں کی جانب سے اچانک اور غیر متوقع معائنے سے بچانا ہے۔(iv) تاجِر دوست اسکیم کو تاجروں کی جانب سے منظم اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی صورتِ حال 2026ء کی اسکیم میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ایف بی آر واضح طور پر سخت نفاذی اقدامات پر انحصار کررہا ہے اور عدم تعمیل کی صورت میں بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی سہولیات منقطع کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بڑے تاجروں اور دکانداروں نے پہلے ہی رجسٹریشن کرالی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آسان اسکیم میں صرف ان تاجروں کو شامل کیا گیا ہے جن کا سالانہ کاروباری حجم 200 ملین روپے، یعنی 20 کروڑ روپے ہے۔ اس کے ساتھ انہیں ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی کٹوتی سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرنے کی شرط بھی عائد نہیں کی گئی۔حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کے تحت مئی 2026ء میں جاری کردہ اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (Memorandum of Economic and Financial Policies) کی تیسری جائزہ رپورٹ میں نشاندہی کی کہ مارچ 2026ء تک ایف بی آر نے آڈٹ کے لیے کام کا ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت آڈٹ کے تمام کیسز ایسے ہائی رسک کیسز ہوں گے جن کی نشاندہی کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ (سی آر ایم) سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 150 سے زائد افسران کو اس نظام کے استعمال کی تربیت دی جارہی ہے۔ مقامی ٹیکس کمشنرز ان کیسز کو یا تو پہلے سے تعینات فیلڈ افسران کے سپرد کریں گے یا نئے بھرتی کیے گئے آڈیٹرز کو تفویض کریں گے۔ایف بی آر نے مارچ 2026ء کے اختتام تک 431 آڈیٹرز بھرتی کرلیے تھے جبکہ دسمبر 2026ء کے اختتام تک مزید 396 آڈیٹرز بھرتی کیے جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آڈیٹرز کی یہ تعداد ان لاکھوں تاجروں کو ٹیکس قوانین کا پابند بنانے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں جو اس وقت ٹیکس نظام کے دائرہ کار سے باہر رہ کر کاروبار کررہے ہیں۔اس اسکیم پر عملدرآمد کے لیے دباؤ آئی ایم ایف کی جانب سے تیسرے جائزے میں دی گئی اس رائے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے:”اب تک مالیاتی استحکام کے حصول میں ہونے والی پیش رفت کا انحصار بنیادی طور پر رسمی شعبے سے ٹیکس محصولات میں اضافے پر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق حکام کو چاہیے کہ وہ محصولات کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنا کر ان شعبوں میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششیں تیز کریں جہاں ان کی استعداد کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ اس اقدام سے موجودہ ٹیکس پالیسی کے ڈھانچے میں موجود خامیوں اور بے قاعدگیوں کو دور کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہوگی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
آسان ٹیکس سکیم
بریکنگ نیوز
- اقوام متحدہ امن مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے 6 نکاتی اصلاحاتی فارمولا فراہم کرے پاکستان
- 2024میں متعارف تاجر سکیم کی طرح ایف بی آر کی آسان ٹیکس سکیم بھی ناکام
- یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
- غزہ میں بارش ، خیموں میں پناہ گزیں فلسطینی مشکلات کا شکار
- حکومت LPG مافیا کو قابو کرنے میں ناکام، گیس600 روپے کلو تک پہنچ گئی
- LPG کی غیر منصفانہ قیمتوںپر تحفظات دور کرنا ترجیح ہے: علی پرویز ملک
- چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ یو ایم ٹی کے صدر ابراہیم مراد کو سوینئر دے رہے ہیں۔
- سپارکو نے پاکستان اسپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرادیا
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران تیزی کا رجحان
- لاہور:خانہ بدوش بچیاں مرکزی سبزی منڈی میں دکانداروں کا پھینکا ہوا گلا سڑا پیاز اکٹھا کر رہی ہیں۔
- دیوالی کیلئے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ کارروائیاں تیز
- لاہور،انسداد پولیو مہم جاری، 21لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلا دیئے گئے
- اسلام آباد ‘ مقررہ مقدار سے کم فیول فراہم کرنے پر 6 پیٹرول پمپ سیل
- یاد رکھا جائے ہر طاقت فانی ہے ، قبولیت ہو یا مقبولیت ، سب عارضی ہے:سعد رفیق
- بھارت میں ویزہ پر رہتی ہوں بھتہ خوری کیس میں نورا فتحی کا بیان
- بلاول بھٹو نے اذان کی آواز سنتے ہی تقریر روک دی، ویڈیو وائرل
- پاکستانی خلا باز رواں سال چین کے ‘شینژو-24’ خلائی مشن میں شامل ہوگا
- صدر یو ایم ٹی ابراہیم مراد کی چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد سے ملاقات
- پاک فوج کی جانب سے کچے کے علاقے میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
- امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان’ ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔
