All posts by Daily Khabrain

قیمتی گاڑیوں اور لگژری اشیا پر کسٹمز و ریگولیٹری ڈیوٹی برھانے کا فیصلہ

اسلام آباد( ویب ڈیسک )وفاقی حکومت نے 23 جنوری کو پیش کیے جانیوالے ایکسپورٹ پروموشن پیکج( دوسرے منی بجٹ) میں ادائیگیوں کے توازن میں بہتری لابے کیلیے غیر ضروری اور پر تعیش اشیا کی درآمدات کم کرنے کیلیے قیمتی گاڑیوں سمیت دیگر لگڑری اشیاپر کسٹمزڈیوٹی و ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت خزانہ کے ترجمان خاقان نجیب نے گزشتہ روز ”ایکسپریس“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے مراعات کے علاوہ برآمدی اشیائ کی تیاری میں استعمال ہونیوالے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح کم کی جائے گی اور حکومت کی جانب سے پیکج میں نئے ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کردہ پیکیج 23 جنوری کو پیش کیا جائیگا۔ اس پیکج میں اقتصادی استحکام اور گروتھ کو فوکس کیا گیا ہے جس سے اقتصادی ترقی و بحالی میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ چھ ماہ میں اکنامک فریم ورک دو چیزوں پر مرتب کیاگیا ہے۔ ایک اسٹیبلائزیشن اوردوسرا گروتھ کوبڑھانے کے لئے اقدامات ہیں تاکہ نجی شعبے کا اعتمادبرقرارہے اورترقی کی رفتار(گروتھ موومنٹم ) متاثرنہ ہو انھوں نے کہاکہ معاشی و اقتصادی استحکام کیلئے حکومت نے جہاں جہاں ضروری تھا۔ وہاں مانیٹرنگ کو سخت کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کی گئی ہے۔خاقان نجیب نے کہا کہ درآمدی اشیائ جن کی قیمت بڑھ رہی تھی ان کو مین ٹین کیاگیا تاکہ بیلس آف پیمنٹ میں استحکام رہے۔ سب سے بڑھ کریہ امر تھا کہ برآمدات کو بہتربنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مالی خسارہ کوکنٹرول کیاگیا جوکہ بجلی اورگیس کے سیکٹرز میں سامنے آرہاتھا، پہلے چھ ماہ کے اہداف بتارہے ہیں اکانمی ایک مثبت سمت کی جانب گامزن ہوگئی ہے۔

پولیس مقابلہ ڈرامہ ، سب اغوا کر کے مارے ، ایف آئی آر میں انکشاف

لاہور (خصوصی رپورٹ)سانحہ ساہیوال مقدمے کے مدعی محمد جلیل ولد بشیر کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آرمیں 16 نامعلوم افراد کو نامزدکیا گیا ہے جس میں سے 10اہلکار باوردی جبکہ 6اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے کو نامزد کیا گیا ہے ۔ ایف آئی آر کے مطابق صبح 8بجکر 30منٹ پر محمد خلیل ،اپنی اہلیہ نبیلہ ،بیٹی اریبہ خلیل، ذیشان ولد جاوید اختر (ڈرائیور) ،بیٹے محمد عمیر،بیٹی جازبہ اور منیبہ کے ہمراہ لاہورسے بوریوالا ضلع وہاڑی جانے کے لیے نکلا،جب ان لوگوں نے اوکاڑہ بائی پاس کو کرا س کیا تو ایلیٹ کی ایک گاڑی نے جس میں سی ٹی ڈی کے اہلکار سوار تھے انہیں اسلحہ کے زور پر اغوا کیا اور انہیں اپنی من پسند جگہ قادر آباد اڈے کے قریب مین جی ٹی روڈ پر لے گئے اور مقتولین کی گاڑی پر دانستہ طورپرسوچی سمجھی اسکیم کے تحت فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں محمد خلیل ،اس کی اہلیہ نبیلہ ،بیٹی اریبہ خلیل، ذیشان ولد جاوید اختر (ڈرائیور) شہید ہو گئے ۔جبکہ بیٹا عمیر ،بیٹی منیبہ اورجازبہ زخمی ہوگئے۔ دریں اثنا سی ٹی ڈی کی کارروائی کی نئی ویڈیو منظر عام پر آ گئی جس نے اہلکاروں کے جھوٹ کا پول کھول دیا، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی کو ٹکر مار کر روکا اور سیدھی فائرنگ کر دی، گاڑی میں ذیشان اور مہر خلیل کی جانب سے جوابی فائرنگ نہیں کی گئی۔ فوٹیج مبینہ مقابلے کے وقت سڑک پر پیچھے کھڑی ایک گاڑی میں بیٹھے شہری نے موبائل سے بنائی۔ موبائل سے بنائی گئی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی کو ٹکر مار کر روکا اور پہلے گاڑی سے بچوں کو اتارا جس کے چند سیکنڈ بعد اہلکاروں نے سیدھی فائرنگ کر دی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکاروں نے گاڑی سے کوئی سامان نہیں نکالا اور نہ ہی سی ٹی ڈی ٹیم پر کسی موٹرسائیکل سوار کی جانب سے فائرنگ کی گئی جب کہ فائرنگ کرنے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی سے پہلے تینوں بچوں کو اتار کر سرکاری گاڑی میں منتقل کیا اور پھر ساتھ لے گئے۔ دریں اثنا ساہیوال میں ہلاک ہونے والے مبینہ دہشت گرد ذیشان کا تعلق داعش سے ثابت ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی ایجنسیز نے ذیشان کے موبائل فون کے تجزیہ کے دوران پتا چلایا کہ وہ ایپلی کیشنز ٹیلی گرام اور تھریما کے ذریعے داعش سے رابطے میں تھا اور انکا متحرک کارکن تھا تا ہم مہر خلیل اور اسکی بے گناہ فیملی بارے سکیورٹی ایجنسیوں کو کوئی ایسی شواہد نہیں ملے جس سے ثابت ہو کہ انکا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ذیشان کے کچھ عرصے سے داعش کے ایک خطرناک نیٹ ورک سے تعلقات تھے‘ یہ نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی افسروں کے قتل‘ علی حیدر گیلانی کے اغواءاور فیصل آباد میں 2پولیس افسروں کے قتل میں ملوث ہے۔ ملتان میں آئی ایس آئی افسروں کے قتل میں سلور رنگ کی ہونڈا سٹی کار استعمال کی گئی‘ جس کی تلاش پولیس اور ایجنسیوں کو تھی۔ 13جنوری کو ہنڈا سٹی کار دہشت گردوں کو لے کر ساہیوال گئی‘ اس حوالے سے سیف سٹی کیمروں کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ذیشان کی سفید آلٹو بھی دہشت گردوں کی گاڑی کے ساتھ تھی اور یہ گاڑی بھی دہشت گردوں کے استعمال میں تھی‘ 19جنوری کو سیف سٹی کیمرے کی مدد سے سفید آلٹو کو مانگا کے مقام پر دیکھا جس کی اطلاع ایجنسی کو دی گئی اس وقت تک گاڑی لاہور کی حدود سے باہر نکل چکی تھی‘ اس لئے سی ٹی ڈی ٹیم ساہیوال کو دہشت گرد ذیشان کی گاڑی بارے بتایا گیا‘ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ساہیوال میں ذیشان کی گاڑی کو زبردستی روکا اور پھر سامنے سے فائرنگ کر کے فرنٹ پر بیٹھے دونوں افراد کو ہلاک کر دیا‘ بعد ازاں ٹیم نے بلیک واٹر طرز پر آپریشن کی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے کار پر برسٹ مارے‘ جس سے ماں بیٹی بھی ہلاک ہو گئیں جبکہ ایک بچہ معمولی زخمی ہوا۔ سی ٹی ڈی ٹیم کو بچ جانے والے بچوں سے بات چیت پر اصل حالات کا علم ہوا جس کے بعد سی ٹی ڈی حکام اس معاملے کو کور کرنے کیلئے بار بار بیان بدلتے رہے لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے مشکوک مقابلے کی مختلف پہلوﺅں پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ فائرنگ کے وقت سی ٹی ڈی اہلکار نشے میں تو نہیں تھے؟ اور یہ کہ کہیں اس واقعہ میں ذاتی دشمنی کا عنصر تو شامل نہیں؟ اس حوالے سے اب تک جتنے شواہد سامنے آئے ہیں‘ ان کے مطابق بظاہر یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا‘ جس میں سفاک سی ٹی ڈی اہلکاروں نے معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

ریٹائرمنٹ نہیں ملے گی : شیخ رشید

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملازمین سے 50فیصد زائد پنشنرز‘ ریلوے خسارہ پر قابو پانے میں ناکام‘ 60سال سے پہلے ریٹائرمنٹ نہ دینے کے فیصلے پر غور شروع کر دیا گیا۔ گزشتہ روز ایوان تجارت و صنعت میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے انکشاف کہ آرمی کے بعد ریلوے دوسرا بڑا ادارہ ہے جس کے پنشنرز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ محکمہ ریلوے ہر ماہ اپنے ڈیڑھ لاکھ پنشنرز کو 38ارب جبکہ لیبر کو 31ارب روپے ادا کرتا ہے۔ پنشنرز کی تعداد بڑھنے کی بڑی وجہ ملازمین کا قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے صنعتکاروں کی سفارش پر ملتان کو فریٹ ٹرین اور سبزی منڈی کی درآمدات کیلئے بوگی دینے کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشیداحمد کا کہنا تھا کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی‘ یہ ملک ہم سب کا ہے‘ ہمیں سب کاموں کیلئے حکومت کی طرف ہی نہیں دیکھنا چاہئے۔ ہم ریلوے کے ہسپتال اور سکولز کی نجکاری کر دیں گے۔ صنعتکار آگے بڑھیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کاروبار اور ملک کی خدمت بھی کریں۔ ملتان کے صنعتکاروں کو پاکستان ریلوے کی طرف سے کھلی آفر ہے کہ وہ جب چاہیں یہاں سے ٹریٹ ٹرین چلا دیں۔ ہم ان سے ٹریک اور دیگر سہولیات کا 23لاکھ روپے فی پھیرا لیں گے۔ آپ جتنا مرضی کمائیں یا مل کر اپنے مال کی نقل و حمل کریں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس تین تین سو‘ چار چار سو ایکڑ ریلوے اراضی جگہ جگہ موجود ہے۔ صنعتکار آگے بڑھ کر یہاں نرسریاں بنائیں‘ صنعتکاروں اور چمیبر ممبران کے دس بارہ سال پہلے بھی یہی مطالبات تھے‘ آج بھی وہی ہیں اور اگر میں کچھ سال بعد پھر آیا تو امید ہے ایسے ہی مطالبات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ ٹاپ ایکسپریس ٹرینوں میں سے ایک ٹرین کا بھی عنقریب ملتان میں سٹاپ مقرر کر رہے ہیں۔ 20فروری تک مظفرگڑھ‘ لیہ‘ بھکر اور کندیاں کے راستے اسلام آباد جانے والی ٹرین تھل ایکسپریس بھی دوبارہ چلا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال 20فریٹ ٹرینیں چلانے کا ٹارگٹ مقرر کیا ہے جن میں ایک ملتان سے شروع ہو گی۔ یورپ میں بغیر ٹکٹ سفر کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہم نے بغیر ٹکٹ والوں سے صرف ایک ہفتے میں 6کروڑ روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا ہے۔ اب ایسا نہیں چلے گا۔ یکم فروری سے بغیر ٹکٹ والوں کو گرفتار بھی کریں گے۔ ریلوے گارڈ کے ہونہار انجینئر بیٹے نے ٹرینوں میں لگانے کےلئے ٹریکر بنا کر دیئے ہیں جس کے ذریعے اب شہری گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے ٹرین کا وقت معلوم کرسکیں گے۔ ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر محمد سرفراز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہر ایکسپریس کی رفتار بڑھائی جائے اور ایک اے سی سیلپر دیا جائے۔ ملتان سے لاہور اور کراچی کیلئے دن میں ٹرینیں دی جائیں۔ ملتان سے لاہور کی ٹرین کے اوقات کوصبح 5بجے اور شام 5بجے مقرر کیا جائے۔ ملتان سے کراچی کیلئے شاہ رکن عالم ایکسپریس جسے بند کردیاگیا تھا دوبارہ چلایا جائے۔ گرین لائن کو ملتان میں سٹاف دیا جائے۔ انکوائری کے لئے نظام کو بہتر اور سٹاف کو بڑھایا جائے۔ قبل ازیں بورڈ آف مینجمنٹ ملتان انڈسٹریل سٹیٹ کے صدر خواجہ جلال الدین رومی، صدر خواجہ یوسف کے علاوہ رحیم یارخان، ڈیڑہ غازی خان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مطالبات کو وفاقی سطح پر پذیرائی دلائی جائے۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر سینئر جنرل منیجر ریلوے آفتاب اکبر، ڈی ایس ملتان امیر محمد داﺅد پوتا، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر تنویر اے شیخ، سابق صدر چیمبر اسراراعوان، خواجہ بدرمنیر، خواجہ محمد فاروق، انیس خواجہ، سید افتخار علی شاہ، آئل ملز ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ فاضل، خواجہ عثمان، میاں راشد اقبال اور پی سی جی اے کے شیخ عاصم سعید کے علاوہ پاکستان عوامی مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے عہدیداران بھی موجود تھے۔

روس کے سامنے ٹرمپ کا جھکنا امریکہ کے لئے شرم کا باعث ہے: جان کیری

واشنگٹن (آئی این پی ) امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ عالمی سطح پر مزید تنہا ہو گیا، روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے سامنے ٹرمپ کا جھکنا امریکہ کے لئے شرم کا باعث ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے عالم سطح پر امریکہ کی کوئی مدد نہیں کی اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کرنے کی توانائی نہیں رکھتے۔جان کیری نے کہا کہ شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور پیرس معاہدے سے علیحدہ ہونے جیسے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے، امریکہ کی مزید تنہائی کا باعث بنے ہیں۔انھوں نے کہا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے سامنے ٹرمپ کا جھکنا امریکہ کے لئے شرم کا باعث ہے۔واضح رہے کہ دو ہزار اٹھارہ میں روس کے صدر کے ساتھ امریکی صدر کے مذاکرات پر امریکی ڈیموکریٹس نے منفی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان فنلینڈ اور ارجنٹینا میں ملاقات ہو چکی ہے۔

یورپی اتحادکے کر تا دھرتا فرانس اور جرمنی ہیں: جرمن چانسلرانجیلا مرکل

برلن (این این آئی) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ یورپی یک جہتی کے سرخیل جرمنی اور فرانس ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے یہ پیغام جرمن شہر آخن میں بائیس جنوری کو منعقد کی جانے والی ایک خصوصی تقریب سے قبل جاری کیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس تقریب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں بھی شرکت کریں گے۔ آخن میں میرکل اور ماکروں دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے ایک نئے معاہدے کی پروقار تقریب میں شریک ہوں گے۔ بائیس جنوری کو ہونے والی اسی تقریب کے دوران جرمن اور فرانسیسی رہنما اس نئے معاہدے پر دستخط کریں گے۔ میرکل نے اس پیغام میں مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط قائم ہیں۔

وزیراعظم عمران خان آج قطر کے دورہ پر روانہ ہوں گے

اسلام آباد/ دوحہ (آئی این پی) وزیراعظم پاکستان، وزیرخارجہ، وزیر پٹرولیم (آج) پیر کو دو روزہ دورے پر قطر روانہ ہونگے۔ دوحہ قطر میں پی ٹی آئی کے صدر احمد نظام آفریدی و دیگر کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان ،وزیرخارجہ ،وزیر پٹرولیم ودیگر( آج ) پیر کو دو روزہ دورے کے لیے قطر آئیں گئے قطر کے وزیر ،فوج کے سربراہ ودیگر کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی ان کا پرتپاک استقبال کرے گئی قطر میں پی ٹی آئی کی منتخب کابینہ کی کوششوں سے وزیراعظم پاکستان کا پاکستانی کمیونٹی اور ورکرز کے ساتھ پروگرام کے لیے قطر میں پاکستانی سفارتخانے نے حامی بھر لی ہے سب کا داخلہ بذریعہ کارڈ ہو گا اب تک قطر میں موجود تقریبا 50ہزار پاکستانیوں نے اپنی انٹری کروائی ہے وزیر اعظم پاکستان (کل) منگل کو قطر کے شہر الوکرہ اسٹیڈیم میں پاکستانی کمیونٹی سے جلسہ میں خطاب کریں گئے۔

سدھو کا عمران خان کے نام خط کرتار پور کوریڈور بارے تجاویز پیش

اسلام آباد (این این آئی) بھارتی سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے تجاویز پیش کیں ۔بھارتی کرکٹر نے کہاکہ یہ سکھوں کیلئے مقدس ترین زمین ہے ۔ سدھو نے کہاکہ کوریڈور پر ترقیاتی منصوبوں کے وقت کرتار پور کے تقدس کا خاص خیال رکھا جائے ۔ خط میں کہاگیا کہ کوریڈور پر روایتی بازار بنائے جائیں ، جس سے زائرین سودا سلف لے سکیں ۔ خط کے مطابق اس مقدس زمین پر مقامی پھل اور سبزیاں کاشت کیں جائیں جو زائرین کیلئے لنگر میں استعمال کیے جائیں ۔ خط میں کہاگیا کہ کوریڈور میں پکی سڑکیں بنانے سے گریز کیا جائے تاکہ پیدل چلتے ہوئے مقدس مٹی پر قدم رکھنے کا شرف حاصل ہو ۔خط کے متن کے مطابق زائرین کیلئے بنائے جانے والے بازار اور دیگر سہولت گھر ماحول دوست ہونا چاہیے ۔خط میں کہاگیا کہ صفائی ستھرائی کا خاص بندوبست کیا جائے اور کچہرا اٹھانے کا مناسب انتظام کیا جائے ۔ خط میں سندھو نے کہاکہ ہمیں مقامی فنکاروں کو اس مقدس دھرتی سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کیلئے مناسب انتظام کرنا چاہئے۔

ساہیوال آپریشن انٹیلی جنس شواہد پر کیا، ذیشان کا تعلق داعش سے تھا : راجہ بشارت

لاہور(خبر نگار) پنجاب حکومت نے ساہیوال واقعہ میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے اہل خانہ کےلئے 2کروڑ روپے کی مالی امداد اور بچوں کی مکمل کفالت کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ساہیوال آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ تھا جو اعلیٰ خفیہ ادارے اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ طور پر کیا ، ذیشان کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے تھا اور اس کی گاڑی دہشتگردوں کے زیر استعمال رہی ،ذیشان کے گھر میں دہشتگرد موجود ہونے کے مصدقہ شواہد ملے ہیں، جے آئی ٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ خلیل کا ذیشان کے ساتھ کیا تعلق تھا اور وہ اس فیملی کے ساتھ جارہا تھا، حکومت نے سی ٹی ڈی نہیں بلکہ جے آئی ٹی کے موقف کو تسلیم کرنا ہے اور اس کی رپورٹ پر من و عن عملدرآمد ہوگا ،گوجرانوالہ میں دہشتگردو ں کا گھیراﺅ اسی آپریشن کا تسلسل تھا لیکن خلیل او راسکی فیملی کی ہلاکت نے اس آپریشن کو چیلنج کردیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر قانون راجہ بشارت نے صوبائی وزراءفیاض الحسن چوہان، میاں محمود الرشید ، میاں اسلم اقبال اور دیگر کے ہمراہ 90شاہراہ قائد اعظم پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ وزیرقانون راجہ بشارت نے کہا کہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے اہل خانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس میں ایک لفظ بھی کم یا زیادہ نہیں کیا گیا ،آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے سپروائزر کو بھی معطل کردیا گیا ہے جبکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے خلیل کے لواحقین کے لیے 2 کروڑ روپے کی مالی امداد اور بچوں کے لیے مفت تعلیم اور ان کی کفالت کا اعلان کیا ہے ۔مالی امداد انسانی زندگی کا کامداوا تو نہیں کرسکتی لیکن حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے گی ۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کے موقف کے مطابق ساہیوال میں کیا گیا آپریشن سوفیصد انٹیلی جنس بنیادوں، ٹھوس شواہد ،مکمل معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ذیشان کے داعش کے نیٹ ورک کے ساتھ تعلقا ت تھے اور یہی نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی کے افسر ، علی حید رگیلانی کے اغوائ، فیصل آباد میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 13جنوری کو ایک ہنڈا گاڑی ساہیوال میں گئی اور جب اس کو سپاٹ کیا گیا تو سیف سٹی کے کیمروں نے ذیشان کی گاڑی کی بھی نشاندہی کی جو دہشتگردوں کی گاڑی کے ساتھ تھی ۔ 18جنوری کو ذیشان کے گھر دہشتگرد آئے اور اس کا 13اور18جنوری کو کیمروں کے ذریعے معائنہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ذیشان دہشتگردوں کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ذیشان کے گھر میں اسلحہ اوربارود تھا لیکن گنجان آباد علاقے میں گھر ہونے کی وجہ سے کوئی آپریشن نہیں کیا گیا تاکہ علاقے میں کوئی انسانی جانوں کو نقصان نہ ہو اور اس کا شہر سے باہر جانے کا انتظار کیا گیا ۔ 19جنوری کو سفید رنگ کی گاڑی کو مانگا کے مقام پر سپاٹ کیا گیا اورایجنسیوں کی اطلاع پر سی ٹی ڈی نے گاڑی کو روکا جو بارود لے کر جارہے تھی۔ گاڑی کے شیشے کالے ہونے کی وجہ سے پیچھے بیٹھی خواتین اور بچے نظر نہیں آئے ۔ انہوںنے کہا کہ سی ٹی ڈی کے موقف کے مطابق پہلا فائر ذیشان نے کیا لیکن جے آئی ٹی اس کا تعین کرے گی ،جے آئی ٹی اس بات کابھی تعین کرے گی کہ خلیل اور اس کی فیملی ذیشان کے ساتھ کیوں جارہی تھی اور ان کے آپس میں کیا تعلقا ت تھے ۔ انہوںنے کہا کہ گاڑی سے دو خود کش جیکٹس، آٹھ ہینڈ گرینڈ،دو پستول اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں اور یہ کہاں سے آئے اور کس لئے جارہے تھے اس کی تحقیقات ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں گھیراﺅ کرنے پر خود کو اڑانے والے دہشتگردعبد الرحمن اور کاشف ساہیوال میں مارے جانے والے ذیشان کے ساتھی اور گوجرانوالہ میں کارروائی اسی آپریشن کا تسلسل تھا لیکن خلیل او راسکی فیملی کی ہلاکت نے اس آپریشن کو چیلنج کردیا ہے ۔ ہمیں متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی ۔ حکومت کی کریڈیبلٹی ہے کہ ہم نے بلا تفریق او ربلا امتیاز انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں او رذمہ داروںکو کیفر کر دار تک پہنچایا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ہم اس پریس کانفرنس میں کسی کو چارج شیٹ نہیں کر رہے ، جو خود کش جیکٹس برآمد ہوئی ہیں وہ انہوںنے پہن نہیں رکھی تھیں بلکہ وہ گاڑی کے پیچھے پڑی تھیں ،سیف سٹی کیمروں کے ذریعے گاڑیوں کے ٹریس ہونے کی بات ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جس طرح میڈیا کے اور عوام کے تحفظات ہیں حکومت کو اس سے زیادہ احساس ہے ، ہم کوئی من گھڑت کہانی نہیں سننا چاہتے بلکہ جو جے آئی ٹی کی رپورٹ ہو گی اس پر من و عن عملدآمد کیا جائے گا اور تحفظات دو رکئے جائیں گے۔ ہم اس پریس کانفرنس میں وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ کے نمائندے کے طو رپر بیٹھے ہیں ہم نے اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں سی ٹی ڈی یا کسی کادفاع نہیں کر رہے بلکہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ، جے آئی ٹی کی اڑتالیس گھنٹوں میں رپورٹ آئے جائے گی جو آپ سے شیئر کریں گے جو بھی تحفظات ہوں گے انہیں دور کیا جائے گا ۔ انہوںنے جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق جے آئی ٹی کا اعلان ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کیا جا تاہے ۔ آئی جی آفس سے شاید میڈیا کو کچھ چلا گیا کیونکہ میں میانوالی سے آرہا تھا اور ہوم سیکرٹری سے رابطہ کیا گیا تو وہ گوجرانوالہ سے آئے اور قواعد و ضوابط کے مطابق غیر جانبدار افسران پر مشتمل جے آئی تشکیل دی گئی ۔ا نہوں نے کہا کہ ہم سی ٹی ڈی کے موقف کو کیوں مانیں ہم نے جے آئی ٹی کے موقف کو ماننا ہے ۔حکومت نے اپنے طور پرایف آئی درج نہیں کی بلکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے جو درخواست دی گئی اسکے مطابق من و عن ایف آئی درج کی اور ایک لفظ بھی تبدیل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاﺅن کے سانحہ اور ساہیوال کے واقعہ میں فرق ہے ۔ اس سانحے میں وزیر اعلیٰ کے بقول انہیں اڑتالیس گھنٹے علم نہیں ہو اجبکہ یہاں وزیراعلیٰ چھ گھنٹوں میںمتاثرہ خاندان کے گھر پہنچ گئے ۔

سی ٹی ڈی کا ایک اور مشکوک مقابلہ ، گوجرانوالہ میں 2 نوجوان مار دیئے

لاہور‘ گوجرانوالہ (کرائم رپورٹر‘ آئی این پی) پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایک اور مبینہ مقابلے میں دو نوجوانوں کو فائرنگ کر کے قتل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں نے لاہور میں ذیشان کے گھر میں پناہ لے رکھی تھی۔ تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں مشکوک پولیس مقابلے میں 4 شہریوں کے قتل کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ سی ٹی ڈی نے گوجرانوالہ میں بھی مقابلے میں دو نوجوان قتل کردیے۔ پیٹی بھائیوں کو بچانے کیلئے سی ٹی ڈی نے نیا حربہ اختیار کرتے ہوئے دونوں نوجوانوں کو ساہیوال واقعے میں مرنے والے ذیشان کا ساتھی قرار دے دیا۔سی ٹی ڈی کے مطابق گوجرانوالہ میں ہلاک مبینہ دہشتگردوں نے لاہور میں ذیشان کے گھر میں پناہ لے رکھی تھی جو ذیشان کے مرنے کی خبر سن کر وہاں سے فرار ہوئے۔ لیکن حساس اداروں نے ان کا سراغ لگایا جس کے بعد وہ مقابلے میں مارے گئے اور انہوں نے خودکش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ خلیل کی فیملی کو ذیشان سے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا اور ذیشان کا مقصد متاثرہ فیملی کی مدد سے دھماکہ خیز مواد خانیوال پہنچانا تھا۔ ساہیوال میں مبینہ مقابلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور اہل علاقہ نے دوسرے روز بھی فیروز پور روڈ کی دونوں اطراف کو بند کر کے احتجاج کیا، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں، مظاہرین کی جانب سے میٹرو بس سروس کے روٹ کو بھی بند کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ساہیوال میں مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے انصاف نہ ملنے پر دوسرے روز بھی فیروز پور روڈ کی دونوں اطراف کی شاہراہوںکو ٹائر جلاکر بلاک کردیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا او گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ احتجاج کی وجہ سے لاہور سے قصور اور قصور سے لاہور آنے والی ٹریفک مکمل طور پر بلاک ہوگئی اور مسافر گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکے رہے۔ مظاہرین کی جانب سے میٹرو بس سروس ٹریک کے روٹ پربھی احتجاج کیا گیا جس سے بس سروس معطل ہوگئی اور سینکڑوں مسافر بسوںکے اندر محصور ہوگئے۔ ایک موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم پولیس افسران اور مظاہرین میں شامل بزرگوںنے بیچ بچاو¿ کرایا۔ خلیل کے بھائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیے، جن لوگوںنے کہا تھاکہ ہم انصاف دلائیں گے آج وہ نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو سامنے لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔بعد ازاں پولیس افسران کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کئے گئے جس پر احتجاج ختم کردیا۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ کی جانب سے بھی واقعہ کے خلاف احتجاج کیا گیا اور حکومت او رپولیس کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔ رہنماو¿ں کا کہنا تھاکہ ہر چیز سامنے آچکی ہے لیکن پولیس کی جانب سے متضاد بیانات دئیے جارہے ہیںواقعہ کے ملوث اہلکاروں کے خلاف قرار واقعی سزا دی جائے۔

افغانستان میں امن انتہائی ضروری ، پاکستان رکاوٹوں کے باوجود علاقائی استحکام کو یقینی بنائیگا : آرمی چیف

راولپنڈی(آن لائن‘ مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چےف جنرل قمرجاوےد باجوہ نے کہا ہے کہ علاقائی امن کے لئے افغانستان مےں امن ضروری ہے، رکاوٹوں کے باوجود پاکستان علاقائی امن واستحکام کے لئے کوششےں جاری رکھے گااور اس سلسلے مےں پاکستان نے کام بھی کےاہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی اےس پی آر) کے مطابق آرمی چےف جنرل قمر جاوےد باجوہ سے امرےکی سےنٹ کام کے سربراہ جنرل جوزف اےل ووٹل نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی ملاقات مےںعلاقائی سکےورٹی افغان مصالحتی عمل پر تبادلہ خےال کےا گےا۔اس موقع پر جنرل جوزف نے کہا کہ خطے مےں امن و استحکام کے لئے پاک فوج کی کوششےںقابل تعرےف ہےں ۔آرمی چےف نے کہا کہ علاقائی امن کے لئے افغانستان مےںامن ضروری ہے پاکستان رکاوٹوں کے باوجود امن واستحکام کے لئے کوششےں جاری رکھے گا اورپاکستان نے مشکلات کے باوجود علاقائی سلامتی کے لئے کام کےا جنرل جوزف نے خطے مےںامن کے لئے پاکستان کی کوششوں کی تعرےف کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ پاک امریکہ عسکری قیادت پر مشتمل وفود میں علاقائی سکیورٹی پر گفتگو کی گئی۔ آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ملاقات میں جیو اسٹریٹجک ماحول اور افغان مصالحتی عمل بھی زیرِ غور آیا۔ سینٹ کام کے سربراہ جنرل جوزف نے اس موقع پر کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے پاک فوج کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ علاقائی امن کے لئے افغانستان میں دیرپا امن انتہائی ضروری ہے، تمام رکاوٹوں کے با وجود ہم علاقائی امن و استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔