All posts by Daily Khabrain

امریکی سنیٹر گراہم کی وزیراعظم سے ملاقات ، اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا‘ اے پی پی) وزیراعظم عمران خان سے امریکی ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر لنزے گراہم نے ملاقات کی ہے جس میں پاک امریکا تعلقات پر تبادلہ خیال، خطے کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا، امریکی سینیٹر نے افغان مسئلہ کے حل کےلئے وزیراعظم کے وژن کی تعریف کی، اتوار کے روز وزیراعظم ہا¶س کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے امریکی ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر لنزے گراہم نے بنی گالہ میں ملاقات کی ہے، ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی، ری پبلکن سینیٹر نے افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور لنڈ سے گراہم نے افغان مسئلہ کے حل کیلئے عمران خان کے وژن کی تعریف کی، دونوں رہنما¶ں نے پاک امریکا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکہ کیساتھ کام کرتا رہے گا، پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولتیں دینے کی پالیسیوں پر کام کررہی ہے امریکی کمپنیاں سرمایہ کار دوست ماحول سے فائدہ اٹھا سکتی ہےں، امریکی سینیٹر نے وزیراعظم کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو قابل قدر قرار دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے امریکہ سمیت تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے، علاقائی تعاون کے لئے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق سینئر یو ایس ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ سینیٹر گراہم دوطرفہ تعلقات اور خطے کی سلامتی کی صورتحال کے جائزے کے لئے پاکستان کے دورے پر ہیں۔ سینیٹر گراہم نے افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے حالیہ جاری کوششوں میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے معیشت کی بہتری، بدعنوانی کے خاتمے اور پاکستانی عوام کے لئے ملازمتوں کے مواقع تخلیق کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کو سراہا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کی گئی کوششوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کے لئے امریکہ اور خطے کے دیگر فریقین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ حالات معمول پر لائے جائیں تاکہ علاقائی تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی اقتصادی ٹیم سرمایہ کاروں کے لئے کاروبار دوست پالیسیوں کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے، امریکی کمپنیاں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی روابط کے حوالے سے دونوں اطراف نے باہمی اقتصادی تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبہ میں تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ امریکی سینیٹر لنڈسے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کر دار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج قبائلی علاقوں میں بہترین کام کر رہی ہے،ملک میں امن آیا ہے ،افغان بارڈر پر باڑ لگانا پاکستان کا اچھا اقدام ہے ،کانگریس میں اپنے ساتھیوں کو بہتری سے آگاہ کروں گا،دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے، مل کر نمٹنا ہوگا،پاکستان ہمیں قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر لے گا تو تعلقات میں زیادہ بہتری آئے گی، پاکستان ایٹمی ملک ہے ،مستحکم پاکستان امریکہ کے مفادات میں ہے،پاکستانی وزیر اعظم اور امریکی صدر کے خیالات ملتے ہیں ، ٹرمپ کہونگا جلد عمران خان سے ملاقات کریں ، افغان مفاہمتی عمل کامیاب ہونا چاہیے ،پاک امریکہ تعلقات سٹریٹیجک ہونے چاہئیں ،پاکستان اور امریکہ کے درمیان آزادانہ تجارت کا معاہدہ پاکستان کے لئے گیم چینجر ہوگا، وقت آگیا ہے طالبان میز پر آئیں اور ہتھیار پھینک دیں ،کوششیں جاری ہیں، افغانستان میں مصالحت کا سلسلہ کامیاب ہوگا،بغیر امن و استحکام کے افغانستان سے انخلا نہیں ہونا چاہیے،افغانستان میں سات ہزار امریکی فوجیوں کی موجودگی کی بات درست نہیں ،طالبان کا طاقت کے ذریعے افغانستان کا کنٹرول کسی کے مفاد میں نہیں،عمران خان کی موجودگی میں امریکہ کو پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا اچھا موقع ہے۔ امریکی سفارتخانے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہاکہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بہت زیادہ مرتبہ آیا ہوں،وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری ہوئی ہے،جنرل باجوہ کے ساتھ جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کی سرکوبی کےلئے بہت کام کیا گیا،پاکستان کی طرف سے سرحد پر باڑ لگائی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم عبوری تعلقات کی بجائے تزویراتی تعلقات چاہتے ہیں۔ امریکی سینیٹر نے کہاکہ صدر ٹرمپ سے مل کر ان سے کہوں گا کہ جلد از جلد وزیراعظم عمران سے ملاقات کریں، دونوں کے خیالات ملتے ہیں۔

سانحہ ساہیوال : ذمہ داروں کیخلاف سخت کاروائی ہو گی : عمران خان

لاہور، اسلام آباد، ساہیوال، بوریوالا (نمائندگان خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ساہیوال میں جعلی مقابلے کے دوران پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے ہاتھوں اپنے والدین اور عزیز و اقارب کے قتل کے مناظر دیکھنے والے بچوں کی ذمہ داری ریاست اٹھائےگی۔وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ان بچوں کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں، جنہوں نے اپنے سامنے والدین کو قتل ہوتے دیکھا اور وہ صدمے کا سامنا کررہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ اپنے بچوں کے بارے میں ایسی صدمہ انگیز صورتحال کے تصور ہی سے کوئی بھی والدین پریشان ہوجائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ان بچوں کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے ایک اور ٹوئٹ کیا کہ سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تاہم قانون کے سامنے سب جوابدہ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آتے ہی ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مبینہ پولیس مقابلے میں 4 افراد کی ہلاکت میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم ورثا کا لاہور میں دھرنا اور احتجاج جاری ہے۔ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے پوری رات دھرنے اور شدید احتجاج کے بعد تھانہ یوسف والا پولیس نے مقابلے میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ایف آئی آر 16 نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی ہے جنہیں گزشتہ روز ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ مقتول خلیل کے بھائی کی مدعیت میں درج کردہ مقدمہ نمبر 33/19 میں دہشت گردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔جاں بحق افراد کے لواحقین نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر چاروں لاشیں رکھ کر گزشتہ شام سے لے کر آج صبح تک شدید احتجاج کرتے ہوئے لاشیں رکھ کر دھرنا دیا۔ ورثا نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی اور شدید احتجاج کیا۔ ایف آئی آر کے اندارج کے بعد ساہیوال میں دھرنا ختم کردیا گیا اور لاشوں کو لاہور پہنچادیا گیا ہے۔گزشتہ شب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے لواحقین سے ملاقات کرکے انہیں تسلیاں تو دی تھیں تاہم مقدمہ درج نہیں کیا گیا جس کے باعث ورثا مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے سانحہ ساہیوال کی متاثرہ فیملی کیلئے 2 کروڑ روپے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی اور میڈیکل کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی، ساہیوال میں آپریشن کرنے والے سی ٹی ڈی کے سپروائزر کو معطل کر دیا ہے باقی اہلکاروں کو حراست میں لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ساہیوال میں ٹی ٹی ڈی سے مبینہ مقابلے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں گھروں میں پہنچنے پرکہرام مچ گیا، اہل خانہ، رشتہ دار اور محلے دار دھاڑیں مار کر روتے رہے جس کی وجہ سے انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، دو خواتین غم سے نڈھال ہو کر بیہوش بھی ہو گئیں۔ سانحہ ساہیوال میں مبینہ مقابلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور اہل علاقہ نے دوسرے روز بھی فیروز پور روڈ کی دونوں اطراف کو بند کر کے احتجاج کیا، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں، مظاہرین کی جانب سے میٹروبس سروس کے روٹ کو بھی بند کر دیا، پیپلزپارٹی انسانی حقوق ونگ کا بھی واقعہ کے خلاف مظاہرہ، شرکاءحکومت اور پولیس کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ساہےوال مےں سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتےجہ مےں چار افراد کی جاں بحق پر مقتولےن کے ورثاءنے وزےرا علیٰ اور آئی جی کے ہسپتال سے جاتے ہی لاشوں کو سٹرےچروں کے ذرےعے جی ٹی روڈ گز شتہ رات1بجے بلاک کر دی جس کی وجہ سے ٹرےفک بلاک ہو نے سے سنگےن مسائل پےدا ہو گئے اور آر پی او ساہےوال شارق کمال،ڈپٹی کمشنر ساہےوال محمد زمان وٹو سے مظاہرےن کے مذاکرات کامےاب سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے 4افراد کی ہلاکت کا مقدمہ ساہےوال کے تھانہ ےوسف والہ مےں مقتول محمد خلےل کے بھائی محمد جلےل کی مدعےت مےں درج کےا گےا ۔مقدہ زےر دفعہ 302ت پ اور دہشت گر دی کی دفعہ 7ATAکے تحت درج کےا گےا ہے۔مقتولےن کے ورثاءنے مقدمہ کے اندراج کے بعد جی ٹی روڈ سے احتجاجی دھرنا ختم کر دےا۔جی ٹی روڈ بلاک ہو نے سے گاڑےوں کی لمبی لمبی لائےنےں لگ گئےں اور متبادل راستوں کے طور پر ملتان کی طرف سے آنے والی ٹرےفک کو دےہات سے گزرنےو الی سڑکوں اڈہ بوٹی پال،سروس چوک اور گےمبر کے راستے گنارا گےا جبکہ لاہور کی طرف سے آنے والی ٹرےفک پاکپتن لنک روڈ سے گزاری گئی ۔آج صبح سے ہی ساہےوال کے رہا ئشی سےنکروں افراد جی ٹی روڈ پر دھرنے کے مقام پر پہنچ کر مقتولین کے ورثاءاور رشتہ ادروں سے اظہار ےک جہتی کر تے رہے۔ ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں میاں بیوی اور بچی سمیت چار افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر ملک بھر میں فضاءسوگوار رہی۔ گھروں، تجارتی مراکز اور پبلک مقامات پر عوام کی جانب سے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شدید غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو بھی اہلکار اس میں ملوث ہیں انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساہیوال میں کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ہاتھوں مارے جانے اور وزیرقانون پنجاب کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے مقتول ذیشان کے اہل خانہ نے میت کی تدفین سے انکار کردیا۔لاہور میں ذیشان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی، جس کے بعد ورثا نے میت سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور تدفین سے انکار کردیا۔اہل خانہ نے نماز جنازہ کے بعد ذیشان کی میت فیروز پور روڈ پر رکھی اور بھائی نے مطالبہ کیا کہ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت مقتول پر عائد کیا جانے والا دہشت گردی کا الزام واپس لیں۔ مظاہرے میں ذیشان کی معذور والدہ اور بیٹی بھی شریک ہیں جنہوں نے راجہ بشارت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔قبل ازیں وزیرقانون کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے ذیشان کی والدہ نے بیٹے پر عائد ہونے والے دہشت گردی کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھاکہ میرا بیٹے کا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں معذوری کے باوجود اپنے بیٹے ذیشان کو انصاف دلواں گی اور اس کی جدوجہد بھی کروں گی۔واضح رہے کہ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد جب میتیں اٹھائی گئیں تو انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے، جاں بحق افراد کے ورثا دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جنہیں دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔

اس سال ملکی تاریخ کی ریکارڈ برآمدات کا ہدف حاصل کرلیں گے، مشیر تجارت

کراچی (ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داو¿د نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال ملکی تاریخ کی ریکارڈ برآمدات کا ہدف حاصل کرلیں گے۔

کراچی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرزاق داو¿د نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود ملکی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے، کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ ایک چیلنج ہے، جسے کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2017 کے مقابلے میں 2018 بہتر رہا، رواں سال 27 ارب ڈالر کی برآمدات کرلیں گے۔

امریکی کمپنی ‘کارگل’ کا پاکستان میں 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

مشیر تجارت نے اعتراف کیا کہ ان کی توجہ دیگر شعبوں پر زیادہ رہی اور وہ خوردنی تیل پر توجہ مرکوز نہیں کرسکے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ خوردنی تیل کی صنعت کو بہت آگے لے کر جائیں گے اور کسانوں کو خوردنی تیل کی پیداوار میں مدد سے زر مبادلہ بچے گا۔

عبدالرزاق داو¿د نے بتایا کہ کارگل کمپنی نے پاکستان میں کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ تیزی سے بڑھائیں گے جبکہ چاول اور چینی کی ایکسپورٹ کے لیے چین سے 1 ارب ڈالر کی مارکیٹ حاصل کرلی ہے۔

فیس بک میسینجر میں خاموشی سے بڑی تبدیلی کردی گئی

لاہور( ویب ڈیسک ) فیس بک انتطامیہ نے اس وقت دنیا بھر میں مقبول ترین میسیجنگ ایپلی کیشن ’میسینجر‘ پر گزشتہ ہفتے خاموشی سے تبدیل کرکے کئی لوگوں کو خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔اگرچہ آپ بھی فیس بک میسینجر کے صارفین ہیں تو آپ کے میسینجر پر بھی یہ تبدیلی آئی ہوگی اور اگر اتفاق سے کسی صارف کا میسینجر اپ ڈیٹ نہیں ہوا تو پریشانی کی کوئی بات نہیں جلد ہی ان کا بھی میسینجر ازخود اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔جی ہاں، فیس بک میسینجر انتظامیہ نے ایک بار پھر میسینجر کا ڈیزائن تبدیل کرکے اسے صارفین کے استعمال کے لیے مزید آسان بنادیا۔اگرچہ فیس بک میسینجر پر گزشتہ 2 سال سے نئے اور بہترین فیچرز متعارف کرائے جانے کا سلسلہ جاری تھا، تاہم اب اس ایپلی کیشن کے ہوم پیج کو سب کے لیے مزید آسان اور بہتر بنایا گیا ہے۔فیس بک میسینجر پر حال ہی میں کی جانے والی تبدیلی کا اعلان مئی 2018 میں کیا گیا تھا اور اکتوبر 2018 میں میسینجر میں کئی واضح تبدیلیاں کرکے اسے بلکل تبدیل کردیا گیا تھا۔

تاہم اب اسے مزید تبدیل کرکے صارفین کے لیے ا?سانی کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: فیس بک میسنجر صارفین کا بڑا درد سر ختم ہونے کے قریب
اب فیس بک میسینجر صارفین موصول ہونے والے پیغامات کو واضح انداز میں پڑھنے سمیت ا?ن لائن افراد کو جلد سرچ کر سکیں گے۔

نیا ڈیزائن جلد تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، کمپنی—فوٹو: موبائل سیرپ
نیا ڈیزائن جلد تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، کمپنی—فوٹو: موبائل سیرپ
ساتھ ہی نئی تبدیلی کے ساتھ صارفین گیمز اور معروف پیجز کو بھی ماضی کے مقابلے ا?سانی سے سرچ کر سکیں گے۔

فیس بک انتطامیہ کے مطابق میسینجر کو گزشتہ ہفتے تبدیل کردیا گیا تھا اور اس کا اپڈیٹ ورجن گوگل پلے اسٹور سمیت تمام اسٹورز پر دستیاب ہے۔

ونڈوز فونز کا عہد آخرکار ختم ہوگیا

لاہور (ویب ڈیسک ) مائیکرو سافٹ نے 2017 میں ونڈوز 8.1 موبائل آپریٹنگ سسٹم کے لیے سپورٹ ختم کی اور اب کمپنی نے ونڈوز 10 آپریٹنگ سسٹم سے لیس اسمارٹ فونز کے لیے بھی یہی اعلان کرتے ہوئے باضابطہ طور پر صارفین اینڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائسز لینے کا مشورہ دیا ہے۔

یعنی ونڈوز فونز کا عہد باضابطہ طور پر ختم ہوگیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے ڈیوائس آپریٹنگ سسٹم لائف سائیکل کو 14 جنوری کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ 10 دسمبر 2019 سے ونڈوز 10 موبائل پر چلنے والے فونز کے لیے جاری کی جانے والی سیکیورٹی اپ ڈیٹس کا سلسلہ روک دیا جائے گا۔
کمپنی نے لکھا ‘سپورٹ ختم کرنے کی تاریخ کا اطلاق تمام ونڈوز 10 موبائل ڈیوائسز بشمول ونڈوز 10 موبائل اور ونڈوز 10 انٹرپرائز پر ہوگا۔ ونڈوز 10 موبائل صارفین نئی سیکیورٹی اپ ڈیٹس، نان سیکیورٹی ہاٹ فکسز، مفت اسسٹیڈ سپورٹ آپشنز یا آن لائن ٹیکنیکل اپ ڈیٹس مفت مائیکرو سافٹ پر حاصل نہیں کرسکیں گے’۔

کمپنی نے مزید لکھا ‘صارفین کو اینڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائس کی جانب منتقل ہوجانا چاہئے’۔

اکتوبر 2017 میں مائیکرو سافٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ونڈوز 10 موبائل کے نئے فیچر یا ہارڈوئیر تیار نہیں کرے گی۔

کیا سام سنگ کے نئے فلیگ شپ فونز ایسے ہوں گے؟

لاہور( ویب ڈیسک ) سام سنگ کا ایک ایونٹ آئندہ ماہ ہونے والا ہے جس میں فولڈ ایبل فون کے ساتھ ساتھ گلیکسی ایس سیریز کے نئے فونز ایس 10 کو متعارف کرایا جائے گا۔

اور گلیسی ایس 10 سیریز کے 3 نئے فونز کی تصاویر ایک بار پھر لیک ہوکر سامنے آگئی ہیں۔

اسمارٹ فونز کی تصاویر لیک کرنے کے حوالے سے مشہور ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے اس فون کے تین ورڑن ایس 10 ای، ایس 10 اور ایس 10 پلس کی ایک تصویر ٹوئیٹ کی۔

مزید پڑھیں : سام سنگ گلیکسی ایس 10 کی تاریخ رونمائی سامنے آگئی

ایسی افواہیں مسلسل سامنے آرہی ہیں کہ ایس 10 کو 3، 4 یا 5 ورڑن میں متعارف کرایا جائے گا۔

ایس 10 اور ایس 10 پلس خم او ایل ای ڈی اسکرین، ہول پنچ سیلفی کیمروں اور ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ اسکینر کے ساتھ ہوں گے۔

تیسرا فون یعنی ایس 10 ای اس سیریز کا سستا فون ہوگا جس میں کئی فلیگ شپ فیچرز نہیں ہوں گے جبکہ اس فون کا ایک فائیو جی ورڑن بھی متعارف کرایا جائے گا جس میں بیک پر 4 کیمرے اور فرنٹ پر دو کیمرے دیئے جائیں گے۔

اوپر تصویر میں بائیں جانب ایس 10 ای، درمیان میں ایس 10 جبکہ دائیں جانب ایس 10 پلس ہے اور یہ تینوں شفاف کیسز میں ہیں۔

ایس 10 ای میں بیک پر 2 کیمرے دیئے جائیں گے جبکہ دیگر ورڑنز میں یہ تعداد 3 ہوگی۔

اور ہاں ایس 10 پلس میں ڈوئل سیفلی کیمرہ سیٹ اپ ہوگا جس کے لیے ہول پنچ کچھ بڑا کیا جائے گا۔

ان میں سے ایس 10 ایس ای 5.8 انچ، ایس 10 میں 6.1 انچ جبکہ ایس 10 پلس میں 6.4 انچ ڈسپلے دیا جائے گا۔

سام سنگ کی جانب سے ایس 10 اور ایس 10 پلس میں پہلے سے زیادہ طاقتور پراسیسر ممکنہ طور پر کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855، نیورول پراسیسنگ یونٹ اور پہلے سے بہتر کیمرے دیئے جائیں گے تاہم ایس 10 ای میں پراسیسر مڈرینج ہوگا جبکہ کچھ فیچرز بھی کم ہوں گے۔

کیا آپ اس تصویر میں چھپا کچھوا ڈھونڈ سکتے ہیں؟

لاہور( ویب ڈیسک ) چھپن چھپائی کا کھیل کھیلا ایک کچھوے نے اور وہ کچھوا چھپا ہے ایک تصویر میں۔ تو پھر آپ بھی تیار ہو جائیں اس کچھوے کی الجھن کو سلجھن میں بدلنے کے لیے۔انٹرنیٹ پر جاری اس الجھی پہیلی کو سلجھانے میں مشغول لوگ مزید الجھ رہے ہیں، آپ بھی کو شش کر کے دیکھ لیں مشکل ہے کہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو پائیں۔لین اسٹور (lenstore) نامی ویب سائٹ نے کچھ ایسی تصاویر کی سیریز جاری کی ہے جن میں مختلف شکلیں چھپی ہوئی ہیں۔ جاری ہونے والی ان 5 تصاویر میں سے کنول کے پتوں میں چھپے ہوئے ایک کچھوے کو ڈھونڈنا سب سے مشکل تصویر ثابت ہو رہی ہے اور اب تک صرف 46 فی صد لوگ ہی کچھوا ڈھونڈنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ویب سائٹ نے اعداد و شمار کی مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اس تصویری پہیلی کو بوجھنے والے ان 46 فی صد میں بڑی تعداد خواتین کی ہے، خواتین نے یہ پہیلی بہت کم وقت میں حل کی۔

میڈیا کو درپیش چیلنجز کا بھر پور مقابلہ کرینگے: میڈیا کنونشن اعلامیہ ، سی پی این ای کے کنونشن میں موثر روابط اور اتحاد کی عملی تشکیل پر اتفاق

اسلام آباد (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے گزشتہ جمعہ کو منعقدہ سی پی این ای ”پاکستان میڈیا کنونشن 2019ئ“ میں منظور کردہ اعلان نامے کے خاص نکات کو جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیا کنونشن میں میڈیا کی آزادی، میڈیا قوانین، میڈیا پر پابندیاں، میڈیا کے اقتصادی مسائل، جدید میڈیا ٹیکنالوجی، میڈیا کی سا لمیت اور بقا، میڈیا کے باہمی اتحاد اور یکجہتی کے موضوعات پر منعقدہ مباحثوں میں سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ کنونشن میں آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی کو درپیش خطرات اور خدشات کا تفصیلی جائزہ لے کر میڈیا کو درپیش چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کرنے کا عزم مصمم کیا گیا۔ کنونشن میں اتفاق کیا گیا کہ عوام اور میڈیا کی جمہوری حاصلات کو غصب کرنے ، قدغن اور نقب لگانے کے مقصد سے کسی بھی اقدام کی ریاستی اور حکومتی اہلکاروں سمیت کسی بھی ادارے اور فرد کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ کنونشن کے اعلان نامے میں میڈیا کے اداروں اور ان کے کارکنوں کے مصائب، مسائل اور پریشانیوں کی جانب ریاستی اور وفاقی حکومت کے رویہ کو ظالمانہ، بے اعتنائی اور بے حسی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے آزادی صحافت، آزادی اظہار اور عوام کے حق آگہی پر بالواسطہ مہلک اور کاری حملہ قرار دیا ہے۔کنونشن میں میڈیا سے متعلق وفاقی حکومت کے مجوزہ خصوصی قوانین کو جمہوری روایات، آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی، اطلاعات تک رسائی اور آگہی سمیت بنیادی انسانی حقوق پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے اور میڈیا کے لئے مجوزہ قانون سازی میں میڈیا کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہ کرنے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ میڈیا کی آزادی میں ریاستی، غیر ریاستی اور حکومتی مداخلت سمیت ہر غیر ضروری عمل دخل اور مداخلت کی بھرپور مخالفت کی جائے گی ، اسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گااور اس کی بھرپور مزاحمت بھی کی جائے گی۔ کنونشن کے شرکاءنے اعلان نامے کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ آزاد میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں معلومات کی آزادانہ ترسیل، عوامی دلچسپی کے معاملات پر توجہ، شفافیت اور احتساب کے لئے آزادی اظہار اور دیگر انسانی حقوق کے فروغ اور اسے تحفظ دینے میں آزاد میڈیا اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ اعلان نامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پریکٹیشنرز کو اس امر کا بخوبی ادراک اور احساس ہے کہ آزادی صحافت کا ذمہ دارانہ استعمال بھی ازحد ضروری ہے اور غیر اخلاقی میڈیا پریکٹس کی اجازت ہر گز نہیں ہونی چاہئے، اس کے لئے میڈیا میں ایک متفقہ رضاکارانہ ضابطہ اخلاق کی تشکیل اور استعمال پر زور دینا چاہئے کیونکہ اخلاقی پریکٹس کی مانیٹرنگ صرف رضاکارانہ طور پر تشکیل شدہ ادارے ہی کر سکتے ہیں، جبکہ خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ اور کاروائی کو رضاکارانہ بنیادوں پر تشکیل کئے جانے والے میڈیا کمیشن کے سپرد کیا جانا چاہئے۔ اعلامیہ میں آزادی اظہار اور آزادی صحافت اور جدید میڈیا ٹیکنالوجی کے پھیلاو¿ کے ثمرات کو ملک کے تمام دور افتادہ اور محروم علاقوں، شہروں، دیہاتوں اور دیگر نچلی سطحوں پر پہنچانے کے لئے سازگار ماحول کی تشکیل کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس ضمن میں چھوٹے شہروں اور پسماندہ علاقوں سمیت ملک کے تمام حصوں کے مقامی پریس کلبوں ، مقامی میڈیا تنظیموں ، مین اسٹریم میڈیا اور ان کی تنظیموں کے ساتھ روابط مربوط کرنے کے لئے مو¿ثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کنونشن میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مقامی اور علاقائی میڈیا کو ریاست اور حکومت کی عدم سرپرستی اور میڈیا پالیسی کی وجہ سے فروغ حاصل نہیں ہو سکا ہے جس کے نتیجے میں میڈیا کے شعبے میں مقامی سطح پر لاکھوں افراد کے روزگار کے امکانات اور مواقع کا اور سب سے بڑھ کر عوام کے حق آگہی، حق اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی اور علاقائی میڈیا کی غیر موجودگی کی وجہ سے عوام کے مقامی مسائل، مقامی قیادت، مقامی معیشت، مقامی تشہیر (ایڈورٹائزنگ) اور مقامی ثقافت پس پشت دھکیل دیئے گئے ہیں، اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنے کے باوجود میڈیا سے متعلق امور صوبوں سے مقامی سطح پر منتقل نہ ہو سکے ہیں، یوںعوام کے بنیادی حقوق کی مقامی سطح پر بے قدری، بے اختیاری اور پابندی بدستور ہے۔ میڈیا کنونشن نے میڈیا کے شعبے میں لاکھوں لوگوں کے روزگار کے اسباب اور وسائل دستیاب کرنے کی غرض سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے مقامی میڈیا کی تشکیل اور فروغ پر بھی زور دیا ہے تاکہ مقامی قیادت، مقامی زندگی، مقامی معیشت، مقامی تشہیر ، مقامی سیاست اور مقامی ثقافت کو مقامی میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا جا سکے، جس سے لاکھوں مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔ میڈیا پالیسی کا مقصد ایسے سازگار عوامل پیدا کرنا ہوگا جس کے ذریعے نہ صرف عوام کے بنیادی حقوق کی بجا آوری ہو بلکہ میڈیا کے شعبے کو بھی فروغ حاصل ہو سکے۔ اعلان نامے میں صحافت اور میڈیا کو مقامی سطح یعنی تمام ضلعوں اور تحصیلوں تک منتقلی، رسائی اور پھیلاو¿ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ مقامی مسائل کی نشاندہی ممکن ہو سکے اور مقامی قیادت، مقامی ترقی، مقامی ثقافت، مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہو سکے۔ان اقدامات سے ملک کے اندر ایک آزاد، مضبوط اور متحرک (dynamic) میڈیا کے ذریعے پاکستان کے عوام کی بالواسطہ طور پر خود اختیاری کی سطح میں ایک نمایاں اضافہ ہوگا۔ ایک روبہ ترقی جمہوری کلچر پروان چڑھے گا اور جمہوریت بھی مستحکم ہوگی جہاں آمریت کے امکانات ختم ہوں گے وہاں معیشت میں ترقی کی نئی راہوں کے متعلق عوامی سطح پر آگہی میں بھی اضافہ ہوگا۔ عملیت پسندی بڑھے گی، مایوسیوں اور عدم تحفظ اور بے گانگی میں کمی آئے گی۔ کنونشن میں وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے مقامی اور علاقائی اخبارات کو یکسر نظرانداز کئے جانے کومیڈیا کے لئے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے نام نہاد مساویانہ اشتہارات کی تقسیم کی بے نتیجہ پالیسی کے نام پر علاقائی اور درمیانے درجے کے اخبارات کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے لہٰذا فوری طور پر اشتہارات کی تقسیم کے لئے ایک منصفانہ لیکن نتیجہ خیز پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ چھوٹے ، مقامی اور علاقائی اخبارات کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔ کنونشن نے وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے مقامی اور علاقائی میڈیا کے مسائل کے حل کے لئے سی پی این ای کی تفصیلی تجاویز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا۔کنونشن میں وفاقی وزیر اطلاعات کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا بھی جدید تقاضوں اور رجحانات سے مرصع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی ضرورت اور اثر پذیری کا احیاءہو رہا ہے۔ نئے رجحانات اور مہارتوں کے ذریعے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقامی اخبارات ور مخصوص موضوعات کے جرائد کی ضرورت اور مارکیٹ میں وسعت کی صورتحال موجود ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کنونشن نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ پرنٹ میڈیا کے لئے کسی بھی نئے قانون کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔کنونشن کے تمام شرکاءنے سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کو کامیاب کنونشن کے انعقاد پر مبارکباد دی اورانتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور سی پی این ای کو اختیار دیا کہ وہ پرنٹ، ریڈیو، ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے تمام میڈیا پریکٹیشنرز میں مربوط روابط، یکجہتی اور باہمی اتحادکو عملی شکل دینے کے لئے ہر ممکن اور ضروری تدابیر اختیار کرے تاکہ ملک کے تمام میڈیا پریکٹیشنرز کے درمیان مربوط تعاون کو عملی شکل دی جا سکے۔ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے بتایا کہ اس سلسلے میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی مزید لائحہ عمل اور پروگرام کا جلد ہی اعلان کریں گے۔

جب ٹوائلٹ میں تیرتے سانپ نے دہشت پھیلادی

لاہور (ویب ڈیسک ) اس وقت آپ کا کیا حال ہوگا جب آپ واش روم کا رخ کریں اور ٹوائلٹ سیٹ میں ایک بن بلایا مہمان آپ کو ‘خوش آمدید’ کہنے کے لیے بیٹھا ہو اور ایسا لگے جیسے حملہ ہی کرنے والا ہے؟ایسا ہی کچھ آسٹریلین شہر برسبین کے ایک رہائشی کے ساتھ ہوا جس نے ایک کافی بڑے کارپٹ پائیتھان کو کموڈ کے اندر تیرتے دیکھا۔پانی کے اندر تیرنے والے اس سانپ نے کچھ ایسی پوزیشن بنارکھی تھی جیسے چھلانگ لگا کر حملہ کردے گا۔سانپ پکڑنے والے ادارے برسبین اسنیک کیچر کے لیے کام کرنے والے اسٹیورٹ لالور کو صبح 6 بج کر 45 منٹ پر خوفزدہ رہائشی کی کال ملی جس نے درخواست کہ اس کے واش روم سے اس زہریلے جاندار کو نکالا جائے۔اسٹیورٹ کے مطابق ‘ اس رہائشی نے اس لیے کال کی تاکہ ہم سانپ نکال سکیں اور وہ سکون سے واش روم کو استعمال کرسکے’۔

اس قسم کے سانپ ریاست کوئنزلینڈ میں بہت زیادہ عام ہیں مگر یہ عام نہیں کہ سانپوں کو ٹوائلٹ میں دریافت کیا جائے، ہر سیزن میں ایسے 2 یا 3 ہی واقعات ریکارڈ ہوتے ہیں۔

تو اسٹیورٹ نے دستانے پہنے اور اپنے ہاتھوں سے سانپ کو پکڑ لیا۔

یہ بھی پڑھیں : دنیا کا سب سے بڑا سانپ پکڑا گیا

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے سانپ ہمیشہ سورج میں رہنا پسند کرتے ہیں مگر جب گرمی حد سے زیادہ ہو تو وہ خود کو ٹھنڈا رکھنے کے ذرائع بھی تلاش کرتے ہیں۔

اگرچہ اس نسل کے سانپ زہریلے نہیں ہوتے مگر ان کے کاٹنے پر گوشت کافی کٹ جاتا ہے اور علاج نہ ملنے پر کافی دیر تک خون بھی بہتا رہتا ہے۔

اس تصویر میں مرد کی بیوی کون ہے؟

لاہور( ویب ڈیسک ) ہر روز انٹرنیٹ پر نت نئی پہلیاں سامنے آتی رہتی ہیں جن میں سے کچھ آسان اور کچھ مشکل ہوتی ہے۔

اور ایسی ہی ایک پہیلی آج کل سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہی ہے جس کا درست جواب 10 سے صرف 3 افراد ہی دے پاتے ہیں۔

بس آپ کو اوپر لگی تصویر کو باریک بینی سے دیکھ کر یہ بتانا ہے کہ ان 3 خواتین میں سے اس مرد کی بیوی کون ہے جو دائیں جانب کونے میں کھڑا ہے؟

آپ خوب سوچ سمجھ کر اور تصویر کی تمام تر تفصیلات کا تجزیہ کرکے اپنا جواب نیچے کمنٹس میں بتائیں۔

تو آپ نے کیا جواب دیا یا کس خاتون کا انتخاب کیا؟

ویسے اس کا جواب آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

اگر تو آپ نے مرد کے سامنے کھڑی سیاہ جیکٹ والی خاتون کا انتخاب کیا ہے تو بدقسمتی سے وہ غلط اور 70 فیصد افراد عام طور پر اسی کو منتخب کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر آپ نے بائیں کونے میں کھڑی سفید قمیض والی خاتون کا انتخاب کیا تو وہ بھی غلط ہے۔

اس کا درست جواب تو اب جان ہی چکے ہوں گے اور وہ ہے درمیان میں کھڑی خاتون۔

یہ بھی پڑھیں : 20 سیکنڈ میں اس پہیلی کا جواب دے سکتے ہیں؟

جس شخص نے یہ تصویر بنائی اس کے بقول شوہر اور بیوی نے شادی کی انگوٹھی پہن رکھی ہے جو اس جوڑے کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔