All posts by Daily Khabrain

وزارت خزانہ 10دن بعد میکرو اکنامک فریم ورک دوبارہ پیش کرے، وزیر اعظم

اسلام آباد(ویب ڈیسک): وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ 10دن بعد میکرواکنامک فریم ورک دوبارہ پیش کرے۔وزارت خزانہ نے وزیراعظم عمران خان کومیکرو اکنامک فریم ورک کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر اکنامک ایڈوائزری کونسل کے کچھ ارکان بھی موجود تھے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کو درپیش مالی مشکلات پر گفتگو کی گئی کہ آیا آئی ایم ایف کے پاس فوری طور پر جانا چاہیے یا دوست ممالک کی جانب سے امدادی رقوم کی ترسیل تک انتظار کیاجائے۔جمعہ کے روز اجلاس کے شرکا کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور وزیراعظم اکنامک ایڈوائزری کونسل کے ارکان کو دوبارہ غوروفکر کرنے کاکہا۔ اجلاس کے شرکا کے درمیان عدم اتفاق کے باعث وزیر اعظم نے کسی قسم کی منظوری نہیں دی۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ سے کہاکہ 10دن بعد میکرواکنامک فریم ورک دوبارہ پیش کرے۔

پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں ولایتی اور دیسی موسیقی کا تڑکا لگے گا

لاہور(ویب ڈیسک) پی ایس ایل 4کی افتتاحی تقریب میں ولایتی اور دیسی موسیقی کا تڑکا لگانے کی تیاریاں کرلی گئیں۔پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کی 14فروری کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار پٹ بل آواز کا جادو جگائیں گے، بونی ایم گروپ کی مارسیا بیرٹ بھی جلوہ گر ہوں گی، پاکستان کا مشہور صوفی راک بینڈ ’’جنون‘‘ اسٹیج کی رونقیں بڑھائے گا، فواد خان آفیشل سونگ گائیں گے، اس کے ساتھ ’’ینگ دیسی‘‘ کی پرفارمنس بھی ہوگی۔افتتاحی تقریب کے بعد ایونٹ کا پہلا میچ دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے مابین کھیلا جائے گا۔ افتتاحی تقریب اور پہلے میچ کے ٹکٹ جلد فروخت کیلیے پیش کر دیے جائیں گے۔دوسری جانب پی ایس ایل 4کا آفیشل سونگ ’’ کھیل دیوانوں کا‘‘ گزشتہ شب ریلیز کردیا گیا، پہلے تینوں ایڈیشنز میں آفیشل سونگ علی ظفر نے گائے جو بے پناہ مقبول بھی ہوئے تھے، انھوں نے 2016میں ’’اب کھیل کے دکھا‘‘ میں فن کا جادو جگایا،2017 ایڈیشن میں بھی علی ظفر کی آوا

بیکٹیریا اور مالیکیول کی آواز سننے والا حساس ترین الٹرا ساؤنڈ ایجاد

 لندن(ویب ڈیسک): ہم ایک عرصے سے الٹرا ساؤنڈ کو کئی کاموں میں استعمال کررہے جن میں طبی تشخیص اور سمندروں کے اندر آبدوزوں کی رہنمائی قابلِ ذکر ہے لیکن اب اتنا حساس الٹرا ساؤنڈ نظام بنایا گیا ہے جو ایک بیکٹیریا کی آواز یا ہوا میں سالمات (مالیکیول) کی سرسراہٹ بھی سن سکتا ہے۔عام الٹراساؤنڈ میں شعاع خارج اور وصول کرنے والے دونوں آلات میں پیزو الیکٹرک (داب برق) کرسٹل ہوتے ہیں اور جب ان میں کرنٹ آتا ہے تو یہ ہائی فریکئنسی واز کی لہریں خارج کرتے ہیں جو انسان نہیں سن سکتا۔غیرصوتی آواز ہوا، پانی اور نرم ٹشو سے گزرتی ہے اور پھر ٹکرا کر مختلف سطحوں سے واپس لوٹتی ہے۔ جب یہ لہریں کرسٹل سے ٹکراتی ہیں تو اس کی تھرتھراہٹ سے ہلکی بجلی پیدا ہوتی ہے اور کمپیوٹر پر ایک تصویر نظر آتی ہے جو کسی بیماری یا حمل کی تفصیل بتاتی ہے۔لیکن اب یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے سائنس دانوں نے سلیکا سے بنی ٹکیہ سے دنیا کا سب سے چھوٹا الٹرا ساؤنڈ سینسر تیار کیا ہے۔ یہ صرف 148 مائیکرون چوڑا اور 1.8 مائیکرون موٹا ہے جس کی پشت پر لیزر ہے۔ اس پر ہلکی سی تھرتھراہٹ بھی ہو تو لیزر اسے نوٹ کرتی ہے اور اسے ایک درست تصویر کی صورت میں دکھاتی ہے۔اس کے موجد پروفیسر واروِک بوون ہیں جن کے مطابق یہ انتہائی ہلکے ارتعاشات کو نوٹ کرسکتا ہے۔ اس طرح یہ کسی وائرس پر ثقل کا اثر، ہوا میں اڑتے مالیکیول اور خلیات کی آواز بھی سن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کوئی نمائشی شے نہیں جو ریکارڈ کے لیے بنائی گئی ہو بلکہ اس سے خلوی (سیلولر) سطح پر آوازیں اور تھرتھراہٹ سنی جاسکتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جان دار خلیات (سیلز) تھرتھراتے رہتے ہیں اور ان کے یہ سگنل بہت کارآمد ہوتےہیں۔اس طرح صحت مند یا بیمار خلیات کے درمیان فرق کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح کینسر والے خلیات کو بھی الگ کرکے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔

عام گھریلو چیزیں بھی کینسر اور عارضہ قلب کی وجہ بن سکتی ہیں، تحقیق

منی سوٹا(ویب ڈیسک): نئی امریکی تحقیق سے یہ تشویش ناک بات سامنے آئی ہے کہ صفائی ستھرائی اور عام گھریلو اشیا میں ڈائی کلورو فینولز (ڈی سی پی) اور دیگر ایسے کیمیکل پائے جاتے ہیں جو دل کے امراض اور سرطان کے خطرے سے خالی نہیں۔جرنل آف اوکیوپیشنل اینڈ اینوائرمینٹل میڈیسن میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک جانب تو اینٹی بیکٹیریا مصنوعات، بو دور کرنے والی اشیا اور ٹوتھ پیسٹ وغیرہ میں ڈی سی پی عام پایا جاتا ہے تو دوسری جانب ان میں خطرناک ٹرائی کلوسان بھی عام موجود ہوتا ہے۔یہ بات قابل غور رہے کہ ٹرائی کلوسان کی تباہیوں پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اور اب کئی ممالک نے اس کیمیکل پر پابندی لگادی ہے جو شیمپو سے لے کر ٹوتھ پیسٹ تک درجنوں اشیا میں عام استعمال ہوتا ہے۔اس حوالے سے یونیورسٹی آف مِنی سوٹا اسکول آف پبلک ہیلتھ نے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشنل ایگزامنیشن سروے کے تحت ایک سروے کیا ہے۔ اس میں 3,617 افراد شریک ہوئے جس میں تمام شرکا نے سوال نامے بھرے۔شرکا سے ان کے بیمار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا اور ان کی پیشاب کے نمونوں میں دو طرح کے کیمیکل 2,5-DCP اور 2,4-DCP کی مقدار نوٹ کی گئی۔

نئے چیف جسٹس کے آنے سے میڈیا کے کیمروں کا کردار کم ہو جائیگا:کامران مرتضیٰ ، ہماری پراڈکٹس کو چین کی مارکیٹ تک رسائی دی جائے : ڈاکٹر سلمان شاہ کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر سپریم کورٹ بار کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کے آنے سے میڈیا کے کیمروں کا کردار کم ہو جائے گا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سول جبکہ آصف کھوسہ کریمنل سائیڈ پر بڑی اتھارٹی ہیں۔ آصف کھوسہ کے آنے سے چند مہینوں سپریم کورٹ میں جوہری فرق نظر آئے گا۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سابق چیف جسٹس کے دور کے سیاسی فیصلوں کو سراہنا تاریخ پر منحصر ہے۔ وہ آئیڈیل ازم کا شکار ہوئے تھے اور سمجھ بیٹھے کہ تمام کیسز روم نمبر ون میں آئیں گے اسی لیے آج وہ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ذات سے نکل کر اداروں کو بنانا چاہئے۔ دن رات کام کرنے سے ادارہ مضبوط نہیں ہوتا۔ ثاقب نثار کو سپریم کورٹ کے سترہ ججوں اور پانچوں ہائی کورٹ کی ججز کو بلوا کر بطور ادارہ پالیسی طے کرنی چاہئے تھی۔ تاہم آنیوالے سالوں کے لئے ہم اچھی امید رکھتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس کی نیت اچھی ہو سکتی ہے مگر انکا کام دستور کی مطابقت میں نہیں تھا اسکے نتائج ملک و قوم کی فائدہ میں نہیں تھے۔ سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ برآمدات کی کمی پاکستانی معیشت کی بدحالی کا ایک سبب ہے۔ آج ہمارے پاس اٹھارہ ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ جمع تھا جسے ادائیگیوں کیساتھ ملایا جائے تو فنانسنگ گیپ تیس ارب ڈالرز بنا۔ اسے فنانس کرنے لیے حکومت کو بھاگنا پڑامگر ابھی بھی تیس ارب ڈالر پورا نہیں ہو سکا۔ حکومت کا پہلا اقدام ایکسپورٹرز کے مسائل حل کرنا تھا، انرجی سیکٹر کو پچھلے پانچ سال میں خطے کے لحاظ سے مہنگا ترین سیکٹر بنا دیا گیا ہے۔ انرجی سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ بجلی چوری ، بلوں کی ادائیگی سمیت دیگر مسائل حل نہیں کیے جا سکے۔ موجودہ حکومت برآمدی سیکٹر کو سپورٹ کر رہی ہے تاکہ تجارتی خساہ کم ہو سکے۔ ادائیگیوں کا توازن درآمدات کم کرنے سے درست ہوگا اس دوران حکومت کو معاشی اصلاحات کرنا ہوگی۔ کسانوں کو کم قیمت ملنے کیوجہ سےآلوسڑکوں پر بکھیر کر احتجاج کیا جارہا ہے۔گذشتہ دور میں برآمدات کی بجائے ٹھیکوں اور ریونیو پر نظام درست کئے بغیر توجہ دی گئی جو موجودہ معاشی صورتحال کیوجہ بنا۔ مہمند ڈیم پر حکومت کو عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے کہ پیپرا رولز کے مطابق ٹھیکوں کی منظوری دی گئی۔ سی پیک میں بزنس کمیونٹیز کو شامل کرنا حکومت کا اچھا اقدام ہے ۔ ہماری پراڈکٹس کو چین کی مارکیٹ تک رسائی کے لئے ہر ممکن سہولت دی جانی چاہئے۔

رنویرسنگھ نے شادی کے بعد دپیکا کے گھرمنتقل ہونے کی وجہ بتادی

ممبئی(ویب ڈیسک): گزشتہ برس شادی کے بندھن میں بندھنے والے بالی ووڈ اداکار رنویرسنگھ نے شادی کے بعد اپنے گھر میں رہنے کے بجائے اپنی اہلیہ دپیکا پڈوکون کے گھر میں منتقل ہونے کی وجہ بتادی۔یہ رواج عام ہے کہ شادی کے بعد لڑکی اپنے والدین کا گھرچھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر منتقل ہوجاتی ہے تاہم رنویر سنگھ اور دپیکا پڈوکون کے معاملے میں اس کے بالکل برعکس ہوا ہے۔ شادی کے بعد دپیکا کے بجائے رنویر سنگھ اپنی اہلیہ کے گھر منتقل ہوگئے ہیں۔حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں رنویرسنگھ نے دپیکا کے گھرمنتقل ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ بچپن سے ہی انہوں نے شادیاں دیکھیں اور محسوس کیا کہ لڑکی کا لڑکے کے گھرمیں منتقل ہونا ضروری نہیں، اس کے علاوہ رنویرنہیں چاہتے تھے کہ دپیکا کو ان کے کمفرٹ زون (آرام دہ جگہ) سے باہرنکالیں۔ رنویرکے نزدیک دپیکا اوران کا آرام ان کی پہلی ترجیح ہے لہٰذا وہ دپیکا کے بجائے خود ان کے گھرمیں شفٹ ہوگئے۔

علی رحمان اگلی فلم میں ‘ہیر’ کو منانے چلے

علی رحمان (ویب ڈیسک)اور حریم فارق کے مداحوں کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی پسندیدہ جوڑی فلم ’پرچی‘ کے بعد اب ’ ہیر مان جا‘ میں جلوہ گر ہونے جارہی ہے۔فلم ’ہیر مان جا‘ کا رنگین موشن پوسٹر بھی ریلیز کردیا گیا ہے جس میں حریم فاروق عروسی لباس زیب تن کیے نظر آرہی ہیں جب کہ علی رحمان خیالوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔پوسٹر میں حریم فاروق نے عروسی جوڑے کے ساتھ جاگرز پہنے ہوئے ہیں، جسے دیکھ کر قیاس ہوتا ہے کہ شاید وہ فلم میں ایک شرارتی لڑکی کا کردار نبھا رہی ہیں۔

ڈوپلیسی نے پاکستانی ون ڈے ٹیم کو جنوبی افریقا سے مضبوط قرار دیدیا

جنوبی افریقی(ویب ڈیسک)کپتان فاف ڈوپلیسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایک روزہ ٹیم ہم سے بہت مضبوط ہے۔سینٹ جارج پارک میں ٹریننگ سیشن کے بعد فاف ڈوپلیسی کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسی ایک روزہ ٹیم ہیں جو ابھی تک اپنی ٹیم میں بیلنس تلاش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف پہلے دو میچز میں کوئنٹن ڈی کوک اور ڈیل اسٹین کی غیر موجودگی ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم ان لوگوں کو پرکھیں جنہیں ہم ٹیم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ڈوپلیسی کا کہنا تھا کہ اگر پرفارمنس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کی ایک روزہ ٹیم ہم سے بہت مضبوط ہے اور یہ ہمارے لیے بہت زبردست چیلنج ہو گا۔فاف ڈوپلیسی کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی اسپنرز کو بہت اچھا کھیلتے ہیں اسلیے لیے یہ مارے اسپنرز کے لیے چیلنج ہو گا۔پروٹیز کپتان نے مزید کہا کہ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس دو بہترین سپنرز موجود ہیں اور ہمارے پاس اپنے اسپنرز کو ورلڈکپ کے لیے تیار کرنے کا بہترین موقع ہے۔

مہمند ڈیم , رزاق داﺅد کو چھوڑیں یہ دیکھیں ٹھیکہ میرٹ پر دیا گیا یا نہیں : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جو سی پی این ای کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا ہے یہ تیسرا ایوارڈ ہے۔ پہلا ایوارڈ صدارتی ایوارڈ تھا وہ صدر پرویز مشرف نے زیادہ زبانوں میں روزنامے نکالنے پر دیا تھا۔ دوسراایوارڈ جو تھا وہ سی پی این ای نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر کے ایڈیٹرز نے جب مجیب الرحمن شامی صدر ہوتے تھے تو نوازشریف وزیراعظم پاکستان نے مجھے یہ ایوارڈ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا تھا اور اب پھر ایک مرتبہ سی پی این ای نے پھر دوبارہ اس ایوارڈ کے قابل سمجھا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں اور انہوں نے تیسرا ایوارڈ عارف علوی صاحب نے دیا تھا سی پی این ای کی طرف سے دیا گیا ہے۔ صدر عارف علوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو سیلف ریگولرائز ہونا بہت ضروری ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اس سلسلے میں چونکہ اپنی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے نہیں پہنچ سکا تھا لیکن امتنان شاہد صاحب جو آج کل سی پی این ای کے سینئر نائب صدر اور صدر جناب عارف نظامی صاحب تو اگر آپ ان سے فون پر بات کر لیں تو چونکہ وہ وہاں موجود تھے لہٰذا صدارتی تقریر پر بھی وہ اپنا نقطہ نظر بتا سکیں گے اور اس کے بعد بہت اہم تقریر ہوئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی۔ انہوں نے اخباری صنعت کے بہت سارے مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے اور خود سی پی این ای کو یہ فریضہ سونپا ہے کہ آپ حضرات ان معاملات پر ریسرچ ورک کر کے بتائیں۔
پروگرام کی میزبان نے سی پی این ای کے سینئر نائب صدر امتنان شاہد کی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں جو کاغذ بنتا ہے اوور انڈین حکومت اخبارات کو سبسڈائز کرتی ہے۔ پاکستان میں اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ فواد چودھری صاحب نے ایک بڑے اہم مسئلہ کی طرفت وجہ دلائی تھی کہ انڈیا نے نیوز پرنٹ اپنا بنانا شروع کر دیا ہے اور پاکستان میں سارے کا سارا کاغذ امپورٹ ہوتا ہے چنانچہ بنیادی طور پر جو خام مال استعمال ہوتاہے۔ اخباری صنعت میں نیوز پرنٹ ہے اخباری کاغذ ہے۔ اخباری کاغذ دنیا بھر سے امپورٹ ہوتا ہے اور اس کی قیمتیں دن بدن پڑھتی جا رہی ہیں۔ پچھلے سال ہی ان قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے انڈیا میں جس طرح سے لوکل نیوز پرنٹ کو پروموٹ کرنے کے لئے ان کو سبسڈی بھی دی جاتتی ہے تا کہ وہ مقامی طور پر کاغذ تیار کر سکیں۔ پاکستان میں بھی یہ قدم اٹھانا چاہئے تا کہ جو اخبار کی کھپت پر اخراجات ہوتے ہیں ان کو کم از کم کیا جا سکے۔
مہمند ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی حکومت اور ڈسکون کمپنی سے بات چیت کرے ان کے دلائل سنے، ٹھیکہ جن ایشو پر دیا گیا جبکہ ڈسکون کمپنی کی ساکھ بہت اچھی ہے اگر کام اسے میرٹ پر ملا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ اس کمپنی کا تعلق کسی وزیر کے خاندان سے ہے ٹھیکہ منسوخ نہیں کرنا چاہئے۔ رزاق داﺅد کو کمپنی سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ صرف یہ چیک کر کے ٹھیکہ میرٹ پر دیا گیا بحث ختم کر کے فوری ڈیم کی تعمیر شروع کر دینی چاہئے نئے چیف جسٹس کھوسہ صاحب نے بڑے انقلابی فیصلے کئے مثبت کام کرنے والے ہیں ان کا کام کرنے کا انداز ثاقب نثار سے مختلف ہے ان کے دور میں سو موٹو کے بجائے فیصلے زیادہ ہوں گے اور لاکھوں زیر التوا مقدمات ختم ہوں گے۔ ہائیکورٹ نے ادویات کی قیمتوں میں اُاصہ واپس لینے کا اچھا فیصلہ کیا تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہاں کاروباری مزاج میں قیمتیں بڑھا کر واپس لینا شامل نہیں ہے۔ ایک بار ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ ہوا تو اسے فوری عملاً نافذ کر دیا جاتا ہے جس کو واپس لینا مشکل ہوتاہے،ہائیکورٹ کو اپنے فیصلہ پر عملدرآمد کرانے کیلئے بڑی تگ و دو کرنی ہو گی۔ نوجوانوں کے حوالے سے سروے کا مقصد اگر سروے برائے سروے ہو تو وہ بے فائدہ ہوگا تاہم اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ جائزہ لیا ائے نوجوانوں کو کھپانے کیلئے کسی قسم کی ملازمتیں چاہئیں تو اس کا بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ اگر محض ایک رپورٹ میں بنانی ہے تو وہ بے فائدہ ہو گی۔

جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ریاستی اداروں کی ساکھ بڑھی اب جوڈیشل ایکٹوازم میں یوٹرن آئےگا:امجداقبال ، افغانستان کے حوالے سے بہتر کردار ادا کرنے سے پاکستان بہتری کی طرف جائے گا:ضمیرآفاقی ، نئے چیف جسٹس سے عوام کو بڑی توقعات ،انصاف فراہمی میں اہم کردار ادا کرینگے:میاں افضل ، سی پی این ای اجلاس میں پرنٹ میڈیا کے مسائل بارے امتنان شاہد نے اچھی تجاویز دیں:میاں حبیب ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار امجد اقبال نے کہا ہےکہ پرنٹ میڈیا اشتہارات سمیت ہر طرح سے بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پیپر، پرنٹنگ پلیٹ ، سیاہی سمیت تمام چیزیں مہنگی ہوئی ہیں۔ پرنٹ میڈیا کو سرکاری ہی نہیں پرائیویٹ اشتہارات کی بھی ضرورت ہے۔ پچھلے دور حکومت میں اشتہارات کی بھرمار کے ساتھ میڈیا کے اخراجات بھی بڑھے تھے۔چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ سی پی این ای کے اجلاس میں صدر مملکت نے کہا کہ میڈیا کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ آج وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ میڈیا نے اگر ہم سے کچھ لینا ہے تو وہی پرنٹ کرے جو ہم کہتے ہیں۔ ایسا اقدام اشتہارات کو بطور ٹول استعمال کرنا ہے۔ میڈیا انڈسٹری کو چلانے کے لیے حکومت ریلیف پیکیج دے میڈیا کا گلا نہ گھونٹا جائے۔کچھ میڈیا ہاﺅسز کا ایجنڈا اور ہے مگر پروفیشنل اداروں کے لیے حکومتی سپورٹ نہ ہونا خطرناک ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے دورمیں ریاست کے اداروں کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ کے آنے سے جوڈیشل ایکٹوازم میں یو ٹرن نظر آئے گااور عدالتی نظام میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جلد پارلیمنٹ آنے کی ضرورت پڑے گی اوروہ ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کے جواب دیا کریں گے۔ امریکی نمائندگان کا دورہ پاکستان میں ملاقاتیں افغانستان سے نکلنے کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے ہیں۔ جو پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ ٹرمپ نے درمیانی راستہ نکالنے کے لیے پاکستان کے لیے پالیسی بدلی ہے۔ افغانستان میں اب چین اور روس کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تجزیہ کار ضمیر آفاقی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ہر جگہ تباہی نظر آرہی ہے۔ حکومت سچ سننا نہیں چاہتی آتے ہی اسی فیصد اشتہارات کے ریٹ کم کر دئیے ۔ حکومت تحریک انصاف کو پرموٹ کرنے کا انتقام میڈیا سے لے رہی ہے۔ حکومت میڈیا کو استعمال کرتی ہے۔ حکومت کا کام روزگار دینا ہے، غریب کا کاروبار بند نہ کرے۔ انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ دانشور شاعرانہ مزاج جج،چار کتابوں کے مصنفف ہیں اور اپنے دور میں پچاس ہزار کیسز حل کر چکے ہیں۔ انہیں عدالتی نظام کی بہتری پر توجہ دینی چاہئے۔ گیارہ ماہ میں عام آدمی کو ریلیف دیکر سسٹم ٹھیک کر دیں تو انکا احسان تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ عمران خان اسمبلی میں جائیں یہ نہ ہو کہ اسمبلی میں جانے کی پوزیشن میں نہ رہیں۔ افغانستان کے حوالے سے بہتر کردار ادا کر کے پاکستان بہتری کی طرف جائے گا۔تجزیہ کار میاں افضل نے کہا کہ میڈیا آئینہ ہے، دکھانے پر حکومت ناراض ہے۔ ریاست میڈیاانڈسٹری کی ذمہ دار ہے اسے ساتھ لیکر چلے۔ کھادوں پر اربوں اڑا رہے ہیں میڈیا کو کاغذ پر ریلیف دیں۔ چیف جسٹس کھوسہ سے عوام کو بڑی توقعات ہیں وہ میرٹ کا قتل نہیں ہونے دیں گے۔ اسمبلی کے وزیراعظم کو اسمبلی کا ماحول پسند نہیں آرہا۔مگر جب شہباز شریف وزیراعلی پنجاب تھے کتنے اجلاسوں میں آئے۔افغانستان کے حوالے سے کردار میں پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی ہر بات منوا سکے۔ میزبان کالم نگار میاں حبیب کا کہنا تھا کہ سی پی این کے نائب صدر امتنان شاہد نے سی پی این ای کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل کے حوالے سے بہت اچھی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہاکہ اخباری پیپر کی قیمت سو فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ حکومت میڈیا کا بڑا تشہیری کلائینٹ ہے ، اس برے وقت میں سانس لینے دے۔ حکومت میڈیا کے بغیر زندہ رہنے کا سوچ رہی ہے تو معاشرے میں ایسا بحران پیدا ہوجائے گا جو ان سے سنبھالا نہیں جائے گا۔ میڈیا عوام کی مشکلات کا حل ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑا خلا انصاف کی عدم فراہمی ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑے بدمعاشوں کو کٹہرے میں لاکر عوام کو امید دی ہے۔ جھوٹے کیسز کیخلاف کارروائی شروع ہو جائے تو عدالتی بوجھ بہت کم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف اپنی آزادی کے لیے پارلیمنٹ میں تقریریں کر رہے ہیں۔ امریکہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن عمل میںکوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔