All posts by Daily Khabrain

امتنان شاہد نے ”میڈیا اکانومی اینڈ ماڈرن میڈیا“ سیشن کی صدارت کی ماڈریٹر کے فرائض انجام دیئے

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی، خبر نگار خصوصی) کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹر ز (سی پی این ای) کے زیراہتمام ”میڈیا اور جمہوریت “ کے عنوان سے ملک گیر پاکستان میڈیا کنونشن 2019ملکی تاریخ کا طویل ترین میڈیا کنونشن رہا جو نو گھنٹے تک جاری رہا اس کنونشن میں چار سیشن منعقد ہوئے اس ملک گیر کنونشن میں ملک بھر سے مدیران اخبارات، ٹی وی اینکرز ، تجزیہ نگار، پریس کلب کے صدور، صحافتی تنظیموں کے مرکزی عہد ید اران، سنیئر صحافیوں ، سیاست دانوں، وفاقی و صوبائی وزراءاطلاعات سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔ سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے کہا کہ میں نے طویل صحافتی کیرئر کے دوران پہلی مرتبہ نو گھنٹے تک جاری رہنے والے میڈیا کنونشن دیکھا اور یہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب ترین کنونشن تھا۔ سی پی این ای کے سینئر نائب صدر امتنان شاہد نے ”میڈیا اکانومی اینڈ ماڈرن میڈیا“ سیشن کی صدارت کرتے ہوئے ماڈریٹر کے فرائض سر انجام دئیے اس سیشن میں سابق سیکرٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق، ایڈیٹر پاکستان ٹو ڈے یوسف نظامی، ڈائریکٹر این آئی سی، لمزفیصل شیر جان، سی ای او، اورینٹ میکن مسعود ہاشمی اور چیئرمین برین چائلڈ کام ریحان مرچنٹ شریک تھے۔

چیف جسٹس کی حلف برداری تقریب میں آرمی چیف اور امتنان شاہد میں ملاقات ، آپ اورضیا شاہد کیسے ہیں، جرنیل کا استفسار

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) ایوان صدر میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تقریب حلف برداری کے موقع پر ایڈیٹر خبریں و سی ای او چینل ۵ امتنان شاہد نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انتہائی گرمجوشی سے امتنان شاہد سے مصافحہ کیا اور انہوں نے امتنان شاہد سے ان کے والد چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ میری نیک خواہشات ان تک پہنچائیں۔

پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا مستند،سوشل میڈیا سے موازنہ نہ کیا جائے: امتنان شاہد، 17ویں صدی میں ریڈیو دوسری جنگ عظیم میں ٹیلی ویژن آنے کے باوجود اخبار ختم نہیں ہوئے: مسعود ہاشمی ، اخبارات ختم نہیں ہو سکتے: ریحان مرچنٹ، فیصل شیر جان، اعجاز الحق کی میڈیا اکانومی اینڈ ماڈرن میڈیا سیشن سے خطاب

اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی ، خبر نگار خصوصی) کونسل آف نیوز پیپر ایڈےٹرز ( سی پی این ای) کے زیر اہتما م”میڈیا اور جمہوریت “ کے عنوان سے ملک گیر پاکستان میڈیا کنونشن 2019کے دوسرے سیشن کی صدارت سی پی این ای کے سینئر نائب صدرامتنان شاہد نے کی اس سیشن کا عنوان ”میڈیا اکانومی اینڈ ماڈرن میڈیا “ تھا ۔سینئر نائب صدر سی پی این ای امتنان شاہد نے ماڈریٹر کے فرائض سر انجام دئیے اس سیشن میں سابق سیکرٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق ، ایڈیٹر پاکستان ٹو ڈے یوسف نظامی ، ڈائریکٹر این آئی سی ،لمزفیصل شیر جان ، سی ای او ، اورینٹ میکن مسعود ہاشمی اور چیئرمین برین چائلڈ کام ریحان مرچنٹ شریک تھے۔ سی ای او ، اورینٹ میکن مسعود ہاشمی نے کہا کہ 17ویں صدی میں اخبار پہلی مرتبہ مارکیٹ میں آیا جس کے دو سال بعد ریڈیو آیا تو لوگوں نے کہا کہ اب اخبار ختم ہو جائیں گے لیکن اخبار بھی رہا اور ریڈیو بھی ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ٹیلی ویژن آیا تو کہا گیا کہ اخبار اور ریڈیو ختم ہو جائے گا اور سب کچھ ٹی وی کے پاس چلاجائے گا ۔ انٹرنیٹ کے آنے کے بعد کہا گیا کہ سب ختم ہو جائےگا لیکن آج بھی اخبار ، ریڈیو اور ٹی وی قائم ہے تاہم سپیڈ آف چینج بہت تیز ہے اس وقت نیوز چینلز زیادہ اور انٹریٹمنٹ کے کم ہیں ۔ چیئرمین برین چائلڈ کام ریحان مرچنٹ نے بھی میڈیا اکانومی اور ماڈرن میڈیا بارے اظہار خیال کرتے ہوئے ماڈل میڈیا پر روشنی ڈالی اس دوران سی پی این ای کے سینئر نائب صدر امتنان شاہد نے کہا کہ 2002 ءمیں میڈیا پبلی کیشن میں اضافہ ہوا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا مستندہے اس کا سوشل میڈیا سے موازنہ نہ کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں ایک لاکھ سے زائد اخبارات اور جرائد رجسٹرڈ ہیں وہاں اکانومی اس طرح بڑھائی جاتی ہے کہ نیوز پرنٹ خود پیدا کیا جاتا ہے اور اخبارات کی لاگت اتنی نہیں آتی وہاں حکومت نے سبسڈی دی ہے اور 60فیصد علاقائی اخبارات موجود ہیں ۔ ہمارے علاقائی اخبارات اسی وجہ سے ختم ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا مسئلہ اشتہارات اور مہنگے نیوز پرنٹ کا ہے ہم نے سی پی این ای کے پلیٹ فارم سے علاقائی اخبارات کے مسائل کو اجا گر کیا ہے ۔ ڈائریکٹر این آئی سی ،لمزفیصل شیر جان نے کہا کہ اخبارات ، ریڈیو اور ٹی وی ختم نہیں ہوئے تاہم صارفین بدلتے رہتے ہیں اب ڈیجیٹل میڈیا بڑھ گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے نہ اخبار خریدا نہ ٹی وی دیکھتا ہوں ٹیلی فون کے ذریعے ہی سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات حاصل کر لیتا ہوں اب ایڈیٹرز سے اتھارٹی صارفین کو شفٹ ہو گئی ہے ۔اب علاقائی اخبارات کو بھی ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی طرف آنا ہوگا کیونکہ پاکستان میں 60ملین لوگ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں اور ہر مہینے آٹھ لاکھ لوگ سمارٹ فون کی طرف جا رہے ہیں ۔ سابق سیکرٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق نے کہا کہ مسائل موجود ہیں لیکن ہمیں ایسے حالات میں ہاتھ پاﺅں نہیں پھلانے چاہئے ہر انڈسٹری پر مشکل وقت آتا ہے لیکن ان کا حل نکالا جاتا ہے ہم بھی کوئی حل ضرور نکالیں گے میڈیا اکانومی سیٹ کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہئے ہمیں شارٹ ٹرم یا میڈیم ٹرم پلان ضرور بنانا چاہئے دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا آ رہا ہے انڈیا ، ترکی میں بھی آ گیا ہمیں بھی تیار ہونے کی ضرورت ہے پرنٹ میڈیا کی اپنی شناخت ہے چاہئے آپ سوشل میڈیا پر ہوں اگر پرنٹ میڈیا پر نہیں تو کچھ نہیں ۔اس دوران اینکر پرسن جاوید چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا کی طرف جانا اچھی بات ہے پورے میڈیا کو اس پر جانا پڑے گا اب ویب سائیٹ پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے فیس بک اور یوٹیوب پر جانا چاہئے اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی سیر حاصل گفتگو کی اور سیشن کے اختتام پر سی پی این ای کے سینئر نائب صدر امتنان شاہد نے اس سیشن کے شرکاءسابق سیکرٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق ، ایڈیٹر پاکستان ٹو ڈے یوسف نظامی ، ڈائریکٹر این آئی سی ،لمزفیصل شیر جان ، سی ای او ، اورینٹ میکن مسعود ہاشمی اور چیئرمین برین چائلڈ کام ریحان مرچنٹ کو شیلڈ پیش کیں۔

اسلام آباد: صدر پاکستان عارف علوی کا کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیراہتمام ”پاکستان میڈیا کنونشن 2019ئ“ کے موقع پر سی پی این ای کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین کے ساتھ لیا گیا گروپ فوٹو۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چودھری‘ سی پی این ای کے صدر عارف نظامی‘ سینئر نائب صدر امتنان شاہد‘ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک‘ نائب صدور ایاز خان‘ رحمت علی رازی‘ طاہر فاروق‘ عارف بلوچ‘ جوائنٹ سیکرٹری عامر محمود‘ فنانس سیکرٹری حامد حسین عابدی‘ انفارمیشن سیکرٹری عدنان ملک‘ سابق سیکرٹری جنرل اعجاز الحق‘ کاظم خان‘ ارشاد احمد عارف‘ انور ساجدی‘ مقصود یوسفی‘ یوسف نظامی‘ غلام نبی چانڈیو‘ عبدالرحمان منگریو‘ عبدالخالق علی‘ احمد اقبال بلوچ‘ احمد شفیق‘ فقیر منٹھار منگریو‘ شکیل ترابی‘ ذوالفقار احمد راحت‘ خلیل الرحمان‘ اکمل چوہان‘ بشیر احمد میمن‘ ممتاز احمد صادق‘ سید شمس الضحیٰ شاہ‘ شیر محمد کھاوڑ‘ محمود عالم خالد‘ محمد طاہر‘ نشید راعی‘ مظفر اعجاز‘ زبیر محمود خالد‘ سردار نعیم‘ علی احمد ڈھلوں‘ وقاص طارق‘ بشیر احمد خان‘ امتیاز روحانی‘ وزیر زادہ‘ منزہ سہام اور زاہد عباسی موجود ہیں۔

میڈیا کنونشن میں چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کو 50 سالہ خدمات پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا‘ ایوارڈ امتنان شاہد نے صدر مملکت سے وصول کیا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی، خبر نگار خصوصی) کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام ”میڈیا اور جمہوریت“ کے عنوان سے ملک گیر پاکستان میڈیا کنونشن 2019کے موقع پر صحافت کے شعبہ میں طویل خدمات سر انجام دینے والے سینئر صحافیوں اور مدیران کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دئیے گئے چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیاءشاہد کی نصف صدی سے زائد صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ان کا ایوارڈ سی پی این ای کے سینئر نائب صدر اور ایڈیٹر خبریں گروپ و سی ای ا و چینل فائیو امتنان شاہد نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وصول کیا، چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیاءشاہد طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے اس کنونشن میں شرکت نہ کرسکے جن دیگر شخصیات کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ان میں محمود العزیز بھی شامل ہیں جن کا ایوارڈ ان کی اہلیہ نے وصول کیا جبکہ یوسف شاہین، حافظ ثناءاللہ، انوار ساہی، اجمل دہلوی، ضیاءالدین کو ایوارڈ سے نوازا گیا ضیاءالدین کا ایوارڈ کاظم خان اور اجمل دہلوی کا ایوارڈ حامدخان نے وصول کیا۔

میڈیا نے مشکلات میں روشنی دکھائی،صدر عارف علوی، آزاد میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے : فواد چودھری ، خود احتسابی ضروری : عارف نظامی ، بحرانی کیفیت ختم ہونی چاہیے : امتنان شاہد ،دباﺅ ختم کرنا ہو گا : جبار خٹک ، مریم اورنگزیب ، نیئر بخاری ، ارشد انصاری کا سی پی این ای کے زیر اہتمام میڈیا کنونشن سے خطاب

اسلام آباد (ملک منظور احمد‘نا صر کا ظمی‘عا صم جیلا نی ‘ مظہر شیخ) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر میڈیا چوتھا ستون کا کردار ادا کرنے
میں کامیاب رہا، جمہوریت کی جدوجہد میں سب سے بڑی فوج میڈیا تھی، میڈیا کے ارتقا کا عمل آج بھی جاری ہے، آج خبر کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں، بہت اندیروں اور مشکلات میں میڈیا نے روشنی دکھائی، جدید دور میں پرنٹ میڈیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، کہیں اخبارات سروائیو نہیں کرپا رہے،پرنٹ میڈیا کا انحصار اشتہاروں پر ہے، اخبارات ای پیپرز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، میڈیا میں معلومات کے ذرائع جدید دور میں تبدیل ہوتے ہیں، میڈیا سے میرا پرانا تعلق ہے، جمعہ کو صدر مملکت عارف علوی نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے زیر اہتمام میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر میڈیا چوتھا ستون کا کردار ادا کرنے میں کامیاب رہا، جمہوریت کی جدوجہد میں سب سے بڑی فوج میڈیا تھی، میڈیا کے ارتقا کا عمل آج بھی جاری ہے، آج خبر کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں، بہت اندیروں اور مشکلات میں میڈیا نے روشنی دکھائی، جدید دور میں پرنٹ میڈیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، کہیں اخبارات سروائیو نہیں کرپا رہے،پرنٹ میڈیا کا انحصار اشتہاروں پر ہے، اخبارات ای پیپرز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، میڈیا میں معلومات کے ذرائع جدید دور میں تبدیل ہوتے ہیں، میڈیا سے میرا پرانا تعلق ہے، میڈیا کی آزادی نہایت اہم ہے، میڈیا کےلئے خود احتسابی نہایت اہم ہے، میڈیا اور حکومت پر اس پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ میڈیا خود کو ریگولیٹ کرے گا یا حکومت، کچھ میڈیا حکومتی اشتہارات پر انحصار کرتا رہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے صدر پاکستان کی حیثیت سے حلف دیا ہے کہ غیر جانبدار رہوں گا، میڈیا پ ایک کرائسز ہے جس پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ضروری ہے، حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں، جب ملکی معیشت بہتر ہوئی تو میڈیا بھی بہتر ہو جائے گا، معاشی ترقی سے میڈیا کی ترقی بھی وابستہ ہے، میڈیا کی آزادی حساس معاملہ ہے، الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے پرنٹ میڈیا کی اہمیت کم نہیں ہوسکتی،میڈیا خاموش ہو گا تو مجھے بھی تکلیف ہوگی، میڈیا کی خاموشی نے کراچی کے حالات خراب کئے جس سے پاکستان کا نقصان ہوا، وزیر اطلاعات میڈیا کے مسائل حل کر سکتا ہے، اپیل کرتا ہوں کہ صحت کے مسائل کو اجاگر کریں تا کہ اسے حل کر سکیں، دوسرا مسئلہ عورتوں کے حقوق کے ہیں، پاکستان کے اندر 90فیصد عورتوں کو اس کے وراثت کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اس کے خلاف بھی میڈیا آواز اٹھائے، میڈیا قوم کے مسائل حل کرنے میں ہماری مدد کرے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ میڈیا کو مستحکم معاشی ماڈل بنانے کی ضرورت ہے، ہم میڈیا کی ترقی چاہتے ہیں اور میڈیا کے مسائل حل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای)کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہوسکتا جب تک اس میں حکومت کا کمرشل انٹرسٹ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ایک مستحکم معاشی ماڈل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ حکومت پر انحصار نہ کرسکیں۔ فواد چوہدری نے امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں کوئی ٹرمپ کو آکر نہیں کہتا کہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو پرنٹ کرنے کے لیے اشتہارات کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ 10دن میں اشتہارات کی مد میں صرف پرنٹ میڈیا کو 9کروڑ روپے جاری کئے اور ہم ایک مہینے میں پرنٹ میڈیا کو 30 سے 35 کروڑ کے اشتہارات جاری کررہے ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اشتہارات کا بجٹ 86 ارب روپے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ معیشت ترقی کرے گی تو اشتہارات کا بجٹ ڈھائی ارب روپے تک جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت سی پی این ای، پریس کلبوں کے ساتھ میڈیا کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پریس کلب اور سی پی این ای کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ میڈیا بحران کا شکار کیوں ہوا تاکہ آئندہ ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی میں نئی جہتوں کی بات کا مقصدکسی کی حوصلہ شکنی نہیں، تمام میڈیا کو ڈیجیٹلائز ہونا پڑےگا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بدلتے وقت کے ساتھ میڈیا کو خود میں تبدیلی لانا ضرروی ہے۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب اور سی پی این ای کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ میڈیا بحران کا شکار کیوں ہوا تاکہ آئندہ ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ علاقائی اخبارات کے حوالے سے یہ ذمہ داری صوبوں کی ہے،18ویں ترمیم کے بعدوفاق صوبوں کی ذمہ داریاں کیسے اٹھائےگا۔ انہوں نے کہا کہ 58 فیصد اخراجات صوبوں کو دینے کے بعد وفاق سب کے اخراجات کیسے پورے کرے، وفاق نے سب کچھ دیکھنا ہے تواین ایف سی، 18ویں ترمیم کو دیکھنا پڑےگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کو اشتہارات دیے جانے کے باوجود لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے جس کا مطلب ہے کہ کہیں تو خامی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا اشتہارات میں اس وقت ڈھائی ارب روپے سے زائد خرچ کیے جارہے ہیں اور 5 سال سے کم عرصے میں یہ اشتہارات 7 ارب تک چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اکثر چھوٹے چھوٹے کاروبار ڈیجیٹلائزڈ ہوگئے ہیں او زیادہ تر ریونیو ڈیجیٹل میڈیا میں جارہا ہے۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ میڈیا بحران میں حکومت ملازمین اور اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں باہر جانے والے پیسے کو روکنا ہے، پاکستانی ہونے کے ناطے ڈالر باہر نہ جانے دینا ہمارا مفاد ہے اس لیے میڈیا کو پرو اکانومی ہونا چاہیے، میڈیا کو اپنا انٹرسٹ معیشت کے ساتھ جوڑ کررکھنا چاہیے کیونکہ میڈیا تب ہی مستحکم ہوگا جب معیشت مضبوط ہوگی۔فواد چوہدری نے کہا کہ سی پیک پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے اور سی پیک کو سپورٹ نہ کرنے کا مطلب خود پاں پر کلہاڑی مارنا ہے، سعودی عرب خطے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کرکے تیسری بڑی آئل ریفائنری لگانے جارہا ہے، میڈیا کواس مثبت معاشی اقدامات کو اجاگر کرنا چاہیے۔

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم) کونسل آف نےوز پیپر اےڈےٹرز (سی پی این ای) کے صدر عارف نظامی نے کہا ہے کہ خود احتسابی اور سےلف رےگولرائزیشن بہت ضروری ہے اس کے بغےر مےڈےا کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔اس وقت مےڈےا بحران کی وجہ سے کئی اخبارات بند ہو رہے ہےں دفاتر مےں تالا بندےاں ہو رہی ہیں اور ورکرز کی تنخواہوں کے مسائل پےدا ہو رہے ہےں جنرل مشرف نے پےمرا کی بنےاد رکھی لیکن اس کا بعد مےں کیا حشر ہوا پہلے اسے کیبنٹ ڈوےژن کے ماتحت کیا گےا اور اسے صرف جرمانے کرنے تک محدود رکھا گےا پیمرا کا اختےار صرف الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ہے پرنٹ مےڈےا اس کے اختےار مےں نہیں آتا پرنٹ مےڈےا نے خود احتسابی کےلئے اپنا نظام بنانا ہے بصورت دےگر اس طرح کے بحران پےدا ہوتے رہےں گے بد قسمتی سے ہماری تنظےمےں ہیں نہ وہ آزادی صحافت کےلئے لڑ سکتی ہیں اور نہ ہی میڈیا کے اداروں کی فلاح و بہبود کےلئے کوئی کام کر رہی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے پرانا تعلق ہے کافی عرصے بعد ایک اےسی شخصےت اس عہدے پر فائز ہو ئی جو اس عہدے کے قابل اور اہل ہے ،نہ یہ ممنون ہےں نہ تارڑ اور نہ ہی فضل الٰہی ۔انہوںنے صدر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا زےادہ فوکس اخبارات کے مسائل پر ہے سی پی این ای کا رول میڈیا کی آزادی کے ساتھ ملکی اقتصادی صورتحال ،قانون کی بالا دستی اور عوام کے حقوق کی جد و جہد پر مزکور ہے پہلے ادوار مےں معےشت کی صورتحال بہتر تھی تو سرکاری اور پرائےوےٹ سیکٹر سے اشتہارات مل رہے تھے لیکن سابق ادوار مےں فےورٹ ازم تھا اور سابق حکومت اپنے من پسند اخبارات اور ٹی وی چےنلز کو اشتہارات دےکر باقی مےڈےا کا حق مارتے تھے اب ہم توقع کرتے ہےں کہ نئی حکومت کی اس بابت آزاد پالیسی ہوگی ان کا کہنا تھا کہ سابق دور حکومت کے فےورٹ آج بھی موجودہ حکومت کے فےورٹ ہیں۔ کونسل آف نےوز پیپر اےڈےٹرز (سی پی این ای) کے سےکرٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ پاکستان مےڈےا کنونشن 2019 میں تمام اسٹےک ہولڈر کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے اس وقت مےڈےا بہت زےادہ دباﺅ کا شکار ہے اس وقت آزادی صحافت سے متعلق بھی دباﺅ ہے اور معاشی دباﺅ بھی ہے اور اس وقت زمےنی حقائق کو دےکھنے کے بجائے پوائنٹ سکورننگ کی جا رہی ہے سی پی این ای نے اس مسئلے کو ٹےک اپ کیا ہے کیونکہ اس کے مےڈےا پر منفی اثرات پیدا ہو رہے ہےں اس ضمن مےں صحافت کی تنظےموں مےں تعاون کا فقدان ہے سی پی این ای نے پریس فرےڈےم ، قواعد و ضوابط اور قوانےن کا جائزہ لیا آج کے کنونشن مےں صحت مند انہ ماحول مےں مختلف اےشوز کو زےر بحث لاےا گےا اور حکومت کو بھی مےڈےا بحران کے حل کےلئے کردار ادا کرنا چاہئے اور اگر مےڈےا کو ختم کیا جاتا ہے تو اگر مےڈےا مر ے گا تو معاشرہ میں مطلق العنانی آجائے گی ۔جمہوری قوتوں کا فرض ہے کہ آزاد مےڈےا کو فروغ دے کیونکہ کسی بھی جمہوری معاشرے مےں ترقی، خوشحالی اور جمہورےت کے فروغ کےلئے آزاد مےڈےا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کونسل آف نےوز پیپر اےڈےٹرز ( سی پی این ای) کے زےر اہتما م”میڈیا اور جمہورےت “ کے عنوان سے ملک گےر پاکستان مےڈےا کنونشن 2019سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ حکومت میڈیا کی صنعت کو دیوار کے ساتھ لگانے کے لئے تمام گھٹیا حربے استعمال کررہی ہے ، میڈیا کو اپنا نقطہ نظر اپوزیشن کے ساتھ ملکر اٹھانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل وسابق چےئرمےن سینیٹ نےئر بخاری نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ریاستی امور سنبھالتے وقت تمام مسائل کے حل کے لئے اپنی پالیسیاں مرتب کرنی چاہیئے تھیں لیکن موجودہ حکومت اپنی نا اہلی اور نا تجربہ کاری کے باعث مسائل کو بڑھا رہی ہے ، میڈیا کی صنعت اس وقت بحران کا شکار ہے ، میڈیا کارکنان مالی ودیگر مسائل کاشکار ہیں جن کو حل کرنا حکومت وقت کاکام ہے پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا کے ساتھ کھڑی ہے اور آخری وقت تک کھڑی رہے گی۔لاہور پریس کے صدر ارشد انصاری نے سی پی این ای کے عہدیداران کو سیمینار کے انعقاد کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو بچانے کے لئے یہ سیمینار میڈیا اتحاد کی پہلی کڑی ہے۔

کولمبیا میں کار بم دھماکے میں 21 افراد ہلاک،68 زخمی

بوگوٹا(ویب ڈیسک) کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں پولیس ٹریننگ اکیڈمی میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جب کہ 68 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی امریکی ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں پولیس اکیڈمی میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جب کہ 68 زخمی ہوگئے، دھماکا اتنا شدید تھا کہ آواز دور دور تک سنائی دی جب کہ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے، واقعہ کے بعد پولیس نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو فوراً قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔پولیس کے مطابق دھماکا پولیس اکیڈمی کے کمپاو¿نڈ میں ہوا جہاں پولیس نے گاڑی کو چیک پوائنٹ پر رکنے کا اشارہ کیا تاہم ڈرائیور گاڑی روکنے کے بجائے اکیڈمی کمپاﺅنڈ میں گھس گیا اور تھوڑی دیر بعد دھماکا ہوگیا، پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں 80 کلوگرام دھماکا خیز مواد رکھا گیا تھا اور ممکنہ طور پر گاڑی کا ڈرائیور بھی دھماکے میں مارا گیا تاہم ابھی تک کسی بھی تنظیم نے دھماکے ذمہ داری قبول نہیں کی، دھماکے کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور دھماکے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔کولمبیئن حکومت کی جانب سے دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور ملک میں 3 دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ کولمبیئن صدر کا کہنا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لائیں گے۔

پاکستان کی ون ڈے ٹیم ہم سے زیادہ مضبوط ہے، جنوبی افریقی کپتان

پورٹ الزبتھ(ویب ڈیسک) جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے پاکستان کو اپنی ٹیم سے زیادہ مضبوط قرار دے دیا۔پورٹ الزبتھ میں پہلے میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ ٹیسٹ کی نسبت پاکستان کی ون ڈے ٹیم ہم سے زیادہ مضبوط ہے تاہم سیریز میں مقابلہ اچھا ہوگا، ورلڈ کپ سے قبل ایک متوازن ٹیم تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آئندہ مقابلوں میں مختلف کمبی نیشن آزمائیں گے۔جنوبی افریقی کپتان کا کہنا تھا کہ سینٹ جارج پارک کی پچ اسپنرز کے لیے مددگار ہوتی ہے، ایک یا دو اسپنرز کھلانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں گے، پیس بیٹری کےلیے مختلف بولرز کا میسر ہونا خوش آئند ہے، اولیور نے موقع ملنے پر اپنا انتخاب درست ثابت کیا جب کہ دیگر بولرز بھی اپنی اہلیت ثابت کررہے ہیں۔

پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کا اعلان کردیا

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کا اعلان کردیا۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس کے بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بریفنگ میں کہا کہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالف کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو محدود اختیارات کی خیرات نہیں بلکہ مکمل صوبہ چاہیے۔کراچی میں رہنما پیپلز پارٹی یوسف رضا گیلانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، 18 ویں ترمیم پر ہم نے تمام پارٹیوں سے مشورے لیے تھے، چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی تھا ہم نے اسے ختم کیا۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام اراکین نے مل کر 73 کے آئین کو بحال کیا، ہمارا مصمم ارادہ ہے کہ 18 ویں ترمیم کا دفاع کریں گے، 18 ویں ترمیم کے خلاف وفاقی حکومت کچھ ادارے واپس لے رہی ہے، وفاقی حکومت کے اداروں کو واپس لینے کی مذمت کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا سامنا کیا اور باعزت بری ہوئے، نئے چیف جسٹس سےامید ہے کہ بھٹو صاحب کا کیس حل کریں گے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فوری طور پر جنوبی پنجاب کا صوبہ بنایا جائے، یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انسانی حقوق پرعمل کیلیے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی اصولوں کی سیاست کرتی ہے، کسی دباﺅ میں نہیں آتی، جو کچھ قومی مفاد میں ہوگا وہی کریں گے۔