All posts by Daily Khabrain

سعودی شخص 4 میں سے 2 بیویاں کھا گیا لیکن پھرایسا کا م ہو گیا کہ سب دنگ رہ گئے

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک خبر سامنے آئی کہ ایک سعودی شخص اپنی چار بیویوں کیساتھ 13 روز کیلئے صحراءمیں بھٹک گیا اور جب بھوک لگی تو وہ اپنی 2 بیویوں کا گوشت ہی کھا گیا۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر کروڑوں لوگوں تک جا پہنچی۔رپورٹ کے مطابق 41 مصطفی علی حماد اپنی چار بیویوں کیساتھ صحراءمیں سے گزر رہا تھا کہ ریت کے طوفان کے باعث گاڑی غلط جانب موڑ دی اور پھر حادثہ پیش آ گیا جس کے باعث اس کی ایک بیوی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔تین روز تک وہ صحراءکی تپتی دھوپ میں بغیر پانی اور خوراک کے بھٹکتے رہے اور پھر حماد نے اپنی دو بیویوں کو مدد کی تلاش کیلئے بھیج دیا۔ دونوں خواتین صحراءمیں بھٹکتی بالآخر ایک گاﺅں میں پہنچ گئیں اور جب مدد لے کر پہنچیں تو تمام لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف حماد ہی زندہ بچا تھا اور اس کی دو بیویاں ہلاک ہو چکی تھیں اور وہ زندہ رہنے کیلئے ان کا گوشت کھاتا رہا۔حماد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس کمزور لمحے میں وہ اپنی بیویوں کا گوشت کھا گیا کیونکہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا مگر امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں لیکن میری تمام بیویاں نیک مسلمان تھیں اس لئے مجھے یقین ہے کہ ان کا گوشت بھی حلال تھامگر ٹھہرئیے ، اوپر آپ نے جو کچھ بھی پڑھا اس پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن جس طرح یہ ساری رپورٹ بیان کی گئی اسے دیکھ کر حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے اور ہم نے بھی کچھ ایسا ہی سوچا مگر یہ جان کر آپ کو افسوس بھی ہو گا اور شدید غصہ بھی آئے گا کہ یہ خبر بالکل جعلی ہے جو ایک اسرائیلی ویب سائٹ نے بنائی اور پھر اسے وائرل کر دیا اور لوگوں نے بھی بغیر تصدیق اس خبر کو آگے پھیلانا شروع کر دیا۔حقیقت تو یہ ہے کہ جس شخص کی تصویر پھیلائی جا رہی ہے وہ سعودی عرب کا باشندہ ہی ہے مگر اس کا نام مصطفی علی حماد نہیں بلکہ خالد محسن ہے اور وہ انسانی گوشت کھانے والا شخص نہیں بلکہ شدید حد تک موٹاپے کا شکار ہے اور سعودی عرب میں موٹاپے کی وبائ کا شکار لوگوں کیلئے ایک مثال بن چکا ہے۔

مارکیٹ میں جعلی انڈے سپلائی ، کیسے اورکس مواد سے تیار کیے جارہے ہیں ؟ چونکا دینے وا لے انکشافات

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان میں کھانے پینے والی اشیاء میں ملاوٹ عام چیز ہے، اب تو لوگ ملاوٹ شدہ چیزیں کھانے پر حیرت کا اظہار نہیں کرتے، کیوں یہ معمول کی بات ہے، لیکن اب حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں چائنا سے امپورٹ شدہ نقلی انڈے بیچے جا رہے ہیں، یہ انڈے بالکل اصلی انڈے محسوس ہوتے ہیں، ان کو کھانے والوں کو ذرا شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نقلی انڈہ کھا رہے ہیں، لہٰذا اب انڈے کھانے میں احتیاط برتی جائے۔ چین سے اس نقلی انڈے کی سپلائی ساو¿تھ ایشیا اور خصوصاً انڈیا میں جاری۔یہ نقلی انڈے کھانے کی وجہ سے انڈیا میں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، کیوں کہ انڈے میں استعمال ہونے والا سارا مواد کیمیکلز پر مشتمل ہے، انڈے کے چھلکے کو کیلشیم کاربونیٹ سے بنایا جاتا ہے، اس کے علاوہ انڈے کی زردی اور سفیدی کو سوڈیم ایلگی نیٹ، جی لیٹنگ، کیلشیم کلورائیڈ، پانی اور فوڈ کلرز سے بنایا جاتا ہے۔ یہ سارا مواد انسانی جسم کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو کھانے سے طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، نقلی انڈوں کی وڈیو دیکھی جائے تو یہ بالکل اصلی محسوس ہوتے ہیں، ان انڈوں کی زردی اور سفیدی اصل جیسی ہی لگتی ہے، اس تمام صورت حال کے بعد چوں کہ پاکستان میں انڈوں کا استعمال بہت زیادہ ہے، اگر نئی بیماریوں سے بچنا ہے تو پاکستانی عوام کو بھی ان نقلی انڈوں سے محتاط رہنا ہو گا۔

’نوری جام تماچی‘، ’چاند گرہن‘، ’ماروی‘جیسے ڈراموں کے لازوا ل کر دار گلاب چانڈیو انتقال کر گئے

کرا چی (ویب ڈیسک)خاندانی ذرائع کے مطابق گلاب چانڈیو کافی عرصے سے علیل تھے۔ انہیں طبیعت زیادہ خراب ہونے پر دو روز قبل نجی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ ا?ج انتقال کرگئےے ۔ذرائع نے بتایا کہ گلاب چانڈیو کی تدفین ان کے آبائی شہر نوابشاہ میں کی جائےگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گلاب چانڈیو عارضہ قلب اور شوگر میں مبتلا تھے۔گلاب چانڈیو نے کئی سپر ہٹ ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس میں ’نوری جام تماچی‘، ’چاند گرہن‘، ’ماروی‘، ’زہرباد‘، ’ساگر کا موتی‘ اور بیوفائیاں سمیت کئی شامل ہیں۔

کیا لاہور ائیرپورٹ پر واقعی شراب فروخت ہونے والی ہے؟ترجمان وزیراعلیٰ نے وضاحت کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) : گذشتہ روز سے لاہور ائیر پورٹ پر شراب اور بئیر فروخت ہونے کی خبریں گردش کررہی تھیں جس پر اب ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل کا رد عمل آگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نےکہا کہ کچھ نجی ٹی وی چینلز نے یہ خبر نشر کی کہ لاہور ائیر پورٹ اب شراب اور بئیر دستیاب ہو گی اور یہ کہاگیا کہ پنجاب حکومت نے اس کی اجازت بھی دے دی ہے حالانکہ یہ خبر غلط اور بے بنیاد ہے۔ٹی وی رپورٹس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ سچ یہ ہے کہ لاہور ائیرپورٹ کی سائیڈ پر ایک فور اسٹار یا فائیو اسٹار ہوٹل زیر تعمیر ہے جو غالباً مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔جتنے بھی فور اسٹار اور فائیو اسٹار ہوٹلز ہیں، جس طرح کی اجازت ان کے پاس ہے اسی طرح کی اجازت اس ہوٹل کے پاس بھی ہو گی۔اس ہوٹل کو بھی وہی اجازت دی گئی ہے جو اس سے پہلے فور اسٹار یا فائیو اسٹار ہوٹلز کے پاس موجود ہے۔ یہ خبر در اصل ا±س زیر تعمیر ہوٹل کی تھی جسے ائیرپورٹ کی خبر بنا کر چلایا گیا۔ در حقیقت یہ ہوٹل ائیر پورٹ کے اوپر نہیں ہے بلکہ ائیرپورٹ کے پاس ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ائیرپورٹ ہمیشہ ایوی ایشن کے زیر انتظام آتا ہے پنجاب حکومت کے نہیں۔ حکومت پنجاب وہاں کچھ نہیں کر سکتی۔

لاہور بورڈ نے میٹرک کے طلبا پر بجلی گرادی

لاہور (ویب ڈیسک ) : لاہور بورڈ نے میٹرک کے طلبا پر بجلی گرا دی۔ تفصیلات کےمطابق میٹرک کے سالانہ امتحانات سے ڈیڑھ ماہ قبل لاہور بورڈ نے طلبا کی اسکیم آف اسٹڈیز تبدیل کر دی۔ جس کی وجہ سے طلبا و طالبات شدید تشویش کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ سابقہ اسکیم آف اسٹڈیز کے تحت مضامین کے مخصوص چیپٹرز سے سوالات لیے جاتے تھے۔جبکہ نئے طریقہ کار کے مطابق پوری کتاب میں سے کہیں سے بھی سوالات لے لیے جائیں گے۔واضح رہےکہ میٹرک امتحانات کا آغاز 4 مارچ سے ہو گا اور ڈیڑھ ماہ قبل لاہور بورڈ کے اس اعلان کی وجہ سے طلبا کی تمام تیاری دھری کی دھری رہ گئی ہے۔ ا±ساتذہ نے بھی لاہور بورڈ کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسکیم آف اسٹیڈیز سے متعلق طلبا و طالبات کو تعلیمی سال کے آغاز پر بتایا جاتا ہے لیکن لاہور بورڈ نے اس مرتبہ سالانہ امتحانات سے ڈیڑھ ماہ قبل ہی اسکیم آف اسٹڈیز میں تبدیلی کر کے نہ صرف طلبا و طالبات بلکہ ا±ساتذہ کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی کی وجہ سے میٹرک امتحانات کے نتائج پر گہرا اثر پڑنے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

معروف حلیم فروش کو کتے کے گوشت کی حلیم بنا کر شہریوں کو کھلانے پر گرفتار کر لیا گیا

حیدرآباد (ویب ڈیسک)کچھ عرصہ قبل لاہور کے ریسٹورنٹس میں شہریوں کو گدھے کا گوشت کھلائے جانے کا انکشاف ہوا تھا جس پر فوڈ اتھارٹی نے فوری طور پر ایکشن لیا اور مضر صحت کھانا فروخت کرنے والوں کے ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کو سیل کر دیا گیا۔ تاہم اب حیدرآباد میں شہریوں کو ک±تے کا گوشت کھلائے جانے کا انکشاف ہوا ۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس ب±ک پر حیدرآباد شہر کے ایک پیج نے یہ خبر شئیر کی کہ راوی حلیم کے مالکان کی جانب سے بریانی اور حلیم میں کتوں کے گوشت کا استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے راوی حلیم اور بریانی سنٹر کے مالک کو گرفتار کرلیا۔ جبکہ حیدر آباد کی مشہور دکان راوی حلیم کو سیل بھی کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق راوی حلیم کی بریانی اور حلیم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حیدرآباد میں رہنے والا کوئی فرد ایسا نہیں ہو گا جس نے اپنی زندگی میں کبھی اس دکان کی حلیم یا بریانی نہ کھائ? ہو۔ تاہم یہ راوی حلیم سے متعلق اس قدر غلیظ انکشاف ہونے کے بعد شہریوں نے بھی کافی تشویش کا اظہار کیا ہے اور مالکان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیاہے۔

ماضی میں سیاسی بنیاد پر کیس سنے جاتے، اب ایسا نہیں ہوتا:راجہ عامر عباس گوشوارے جمع نہ کرانیوالوں کی رکنیت معطل رہے گی، اجلاس میں بھی شریک نہیںہوسکیںگے، کنور دلشاد ، نیوز ایٹ 7

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق ڈپٹی پراسکیوٹر نیب راجہ عامر عباس نے کہا ہے کہ ماضی میں نیب میں سیاسی بنیدوں پر کیسز بنائے جاتے تھے لیکن اب ایسا ہیں ہوتا، چینل ۵ کے پروگرام نیوز ایٹ 7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض ملزم نیب کی ناقص تفتیش کے باعث بری ہو جاتے ہیں، نیب قوانین میں خامیاں پارلیمنٹ درست کرسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ نئے چیف جسٹس عوام کو سستے انصاف کی فراہمی کی جانب زیادہ توجہ دینگے، تحریک انصاف کے رہنما رمیش کمار نے کہا کہ بہت زیادہ مصروف شیڈول کے باعث وزیراعظم پارلیمنٹ نہیں آرہے، تحریک انصاف چاہتی ہے کہ مللک سے کرپشن ختم ہو ، دیگر مسائل پر کام ہورہاہے، لیکن اس پر زیادہ بات نہیں ہورہی ، پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اپوزیشن کے درمیان اعتماد ہمیشہ رہا ، موجودہ حکومت نے ععوام کیلئے کوئی کام نہیں کیا، حکومت پیپلزپارٹی سے خوفزدہ ہے اس لئے نشانہ بنارہی ہے، حکومت کو جلد پتہ چل جائیگا کہ ملک کس طرح چلتے ہیں، سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو گوشوارے جمع کرانے کیلئے الیکشن کمیشن نے تین ماہ کا وقت دیا تھا لیکن گوشوارے جمع نہیں کرائے گئے ،جب تک ارکان اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کراتے انکی رکنیت معطل رہے گی ، اس دوران ارکان اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے۔

نئے چیف جسٹس اصول پسند ،منصف مزاج مشہور ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا دور یاد رکھا جائے گا اس لئے کہ بہت سارے معاملات میں سو موٹو اتنے لئے کہ وہ تاریخ میں سب سے زیادہ ازخود نوٹس والے چیف جسٹس کے طور پر یاد رکھے جائیں ے، ہسپتالوں میں، سرکاری دفاتر میں تعلیم سمیت کسی شعبے کو نہیں چھوڑا وار اس طرح سے انہوں نے ازخود نوٹس کے تحت اتنے معاملات چھوڑ دیئے کہ وہ اتنے زیادہ تھے کہ وہ انجام تک نہیں پہنچا سکے۔ ایک ان کے دور کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سے کیس کھول تو لئے لیکن وہ کسی کو انجام تک نہیں پہنچا سکے بہت کم ہی کیسز ایسے ہیں کہ جس میں انہوں نے فائنل فیصلہ لکھا ہو ابھی پہلے بہت سارے زیر التوا بہت سارے واقعات ہیں کہ انہوں نے پچھلے کو انہوں نے وہی چھوڑ جتنی پیشیاں ہوئیں اور نئے معاملات پکڑ لئے اس اعتبار سے ان کا دور زبردست رہا کہ سنسنی خیزی رہی اور واقعات اور حالات میں پورے ملک میں ہر طرف خوفزدگی کی فضا رہی کہ کب سپریم کورٹ کا چیف جسٹس نوٹس لے گا اور اس معاملے میں ہاتھ ڈال دے گا۔ ڈیمز کے حوالہ سے ان کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ وہ یاد رہے گا۔ نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اصول پسند اور متوازن شخصیت کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ اور سخت منصف مزاج جج ہیں مگر وہ اصولوں کے مطابق چلنے والے۔ چنانچہ سب سے پہلے تو ان کا اعلان سامنے آ گیا ہے کہ وہ سوموٹو کو پسند نہیں کرتے اس لئے زیادہ ازخود نوٹس لے لے کر اپنے ذمے کام بڑھانا اس کے وہ حق میں نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جتنے کیس کھل چکے ہیں وہ کوئی ہنگامی اور ڈرامائی طور پر بہت سے سارے معاملات کو ظاہر ہے اس وقت تک نہیں سمیٹا جا سکتا ہے جب تک وہ کوئی فیصلہ نہ کر لیں اور وہ شہرت رکھتے ہیں کہ ان کے پاس پچاس ہزار کیسز بھی آئیں تو وہ پچاس ہزار کو مقررہ مدت میں نمٹا سکتے ہیں۔ ان کے لئے سب سے زیادہ بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ مقدمات کی تعداد کو کم کریں جن مقدمات کو لیتے ہیں ان کو کسی فیصلہ کن مرحلے تکپہنچائیں۔
کیا آصف زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان 5 سال نہیں نکال سکیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ تو اندازہ ہی ہوتا ہے۔ جہاں تک عمران خان کے 5 سال نکالنے کا تعلق ہے وہ شاید خود بھی نکالانا نہیں چاہتے۔ میرا اندازہ ان کے بارے میں یہ ہے کہ وہ تین سال کے بعد مڈ ٹرم الیکشن چاہیں گے اور اس طرف اشارہ بھی کر چکے ہیں کہ دوبارہ عوام کے پاس جائیں گے کیونکہ ان کو مینڈیٹ ملا ہوا ہے وہ بکھرا ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں جس پارٹی کی حکومت ہے تحریک انصاف خاص طور پر دو تہائی اکثریت نہیں ہے وہ آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں ہے نہ وہ کوئی بڑی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں ہیں یہ ضرور ہے کہ عمران خان اس وقت جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد مطمئن نہیں ہے اور مالی مشکلات کا شکار ہے اس وقت تو وہ الیکشن ڈکلیئر نہیں کر سکتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کسی ایسے مرحلے پر جب باہر سے امداد آ رہی ہے اور قرصے آ رہے ہیں اور سرمایہ کاری آ رہی ہے اور دوسرے ملکوں سے منصوبے سامنے آ رہے ہیں اور کم از کم ایک سال میں بہت ساری چیزیں جو ہیں ایسی تشکیل پا سکتی ہیں جس سے لوگوں کی بڑی تعداد کو روزگار ملے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان 50 لاکھ گھروں کا جو منصوبہ ہے اس کھوج میں ہیں وہ کس طرح اپنے وعدے کو پورا کر سکیں۔ جب تک وہ کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھا لیتے وہ فی الحال الیکشن میں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن وہ حکومت سے جاتے ہوئے بھی دور دراز تک نظر نہیں آتے۔ اس وقت ملک کا بہت سارا پیسہ باہر جا چکا ہے جب تک وہ پیسہ واپس نہ لایا جائے اور اس کے مرتکب افراد سزائیں نہ دی جائیں اور انہیں دباﺅ ڈال کر ملک کی لوٹی دولتتوہ واپس لا کر اس ملک کی مین سٹریم کی جو ادائیگیوں کا سرکل ٹوٹا ہوا ہے وہ دوبارہ شروع نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ کبھی الیکشن میں نہیں جائیں گے۔ لیکن یہ جو صورت نظر ااتی ہے مجھے یہ کم از کمدو اڑھائی سال کا عرصہ تک تو یہی حکومت چلے گی البتہ بہت تیزی کے ساتھ ایسے منصوبوں میں جائے گی عوامی مقبولیت حاصل کر سکے اور لوگوں کی بہت سی امیدیں پوری ہوں اور لوگ یہ سمجھیں کہ یہ حکومت اچھا کام کر رہی ہے اس وقت ہمیشہ جو حکومت ہوتی ہے اس وقت مڈ ٹرم الیکشن میں جاتی ہے جب وہ محسوس کرتی ہے کہ لوگ خوش ہیں اور لوگ تیار ہوں کہ دوبارہ وہی حکومت آ جائے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ بنیادی طور پر اٹھارہویں ترمیم سے مراد یہ ہے کہ صوبے کو کچھ نہ کو وہاں اس کی حکومت ہے وہ چلتی رہے آج صبح ہی اخبار میں پڑھ رہا تھا کہ فاطمہ بھٹو کو سندھ کا گورنر بنایا جا رہا ہے اگر اس کا نمائشی عہدہ بھی فاطمہ بھٹو کو دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے پیپلزپارٹی کے ساتھ جو لوگ ہیں جو بھٹو کے نواسے کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ اور جذباتی طور پر اس کی طرف کھینچا ہوا محسوس کرتے ہیں وہ بڑی آسانی سے فاطمہ بھٹو کی شکل میں وہ بھٹو کی پوتی کو زیادہ اہمیت دیں گے۔ پیپلزپارٹی کا جو سندھ میں بنیادی ووٹر ہے سندھ کا اس کے لئے آسانی پیدا ہو جائے گی کہ اگر وہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کو اور بے نظیر کے شوہر زرداری صاحب سے مطمئن نہیں ہیں تو وہ پیپلزپارٹی کو نہ چھوڑیں البتہ اس پیپلزپارٹی میں چلے جائیں جس کو فاطمہ بھٹو لیڈ کر رہی ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس بات کا بڑا امکان ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے اندر سے بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ وہ آصف زرداری کے خلاف ہیں ان کے خاندانی معاملات بھی بگڑ چکے ہیں زرداری صاحب کے قبضے ہیں مجھے بہت سے لوگوں نے بتایا کہ ان کی اپنی آبائی زمین کا بھی ان کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے۔ اگر فاطمہ کو گورنر بنا دیا جاتا ہے تو کم از کم وہ اپنا حق تو لے ہی لیں گی۔ جب وہ اپنا حق لیں گے تو وہ آصف زرداری سے بھٹو کی وراثت بھی چھین سکتی ہیں۔ وہ تو ایک متوازی پیپلزپارٹی بنے گی۔ جس میں لوگوں کے لئے آسانی ہو جائے گی کیونکہ لوگوں کے ابھی پیپلزپارٹی کو چھوڑنا مشکل ہے جن کی ذوالفقار علی بھٹو سے گہری وابستگی ہے اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو سے جو پاکستان کی دوبار وزیراعظم بھی رہیں۔ ویسے ایک زمانے میں خود کہا کرتے تھے کہ اسمبلی کے اندر جانا چاہئے ان کی بڑی مصروفیات ہوں گی اس کے باوجود انہیں اسمبلی میں جانا چاہئے روزانہ نہیں تو کم از کم جب وہ اسلام آباد میں ہوتے ہیں انہیں اسمبلی میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ ضرور دینا چاہئے۔یہ تاثر نہ دیں کہ اب حکومت تو بن گئی اور وہ اسمبلی میں کوئی دلچسپی نہ لیں۔ وہ اسمبلی جس میں بلاول بھٹو، زرداری، خورشید شاہ بھی ہے اور جس میں بے تحاشا بڑے بڑے نام ہیں شہباز شریف بھی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین بن کے بیٹھے ہوئے ہیں پارلیمنٹ کا زیادہ وزن تو اپوزیشن کے پاس چلا جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی اور سینٹ کو لازمی وقت دیں اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو ایوان سے کٹ جائیں گے جو بہتر نہ ہو گا۔ پارلیمنٹ میں حکومت کی اکثریت نظر آنی چاہئے نہ کہ اپوزیشن والے ہی چھائے رہیں وزیراعظم کو افغانستان سمیت کسیبھی ملک سے دعوت آئے تو دورہ کرنا چاہئے۔ افغان حکومت سے اچھے تعلقات بنانے چاہئیں تاہم افغان طالبان کو بیچ میں سے نکال کر نہیں۔ تحریک انصاف حکومتاگر امریکہ اور طالبان کے مذاکرات جہاں سے ٹوٹے تھے وہیں سے دوبارہ شروع کرا دیتی ہے تو یہ ایک تاریخی کامیابی ہو گی۔ افغانستان میں امن کی چابی امریکہ طالبان مذاکرات میں مضمر ہے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے اور فیصلہ کن نتیجہ تک پہنچنے تک دیرپا امن ممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان اگر افغانستان کے دورے پر جاتے ہیں تو وہ انہی ٹوٹے ہوئے سلسلوں کو جوڑنے جائیں گے۔ جب تک افغانستان میں 60 سے 70 فیصدعلاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے افغان حکومت اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ سکتی ماضی میں بھی عمران خان نے ہمیشہ افعان طالبان ہوں یا پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کو سپورٹ کیا۔
اپوزیشن کی جانب سے یونہی سنسنی پھیلائی جاتی ہے کہ اتحاد ہو گیا جب دل ہی نہ ملتے ہوں تو اتحاد کیسے ہو، اسی لئے پرسوں ہونے والا اتحاد آج ٹوٹ رہا ہے۔اپوزیشن اتحاد کا سارا ڈرامہ صرف ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے تھا کابینہ نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی بات مان لی ہے۔ 18 ویں ترمیم پر نظرثانی کی بات سندھ حکومت کو خصوصاً اس لئے بری لگتی ہے کہ انہیں اپنی بادشاہت خطرے میں نظر ااتی ہے۔ فی الوقت تو 18 ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کیلئے دو تہائی اکثریت چاہئے جو حکومت تو کیا اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے۔ کسی انسان کو زبردستی تیزاب پلا دینا انسانیت سوز جرم ہے جس کی سزا یہاں دو یا تین سال ہے۔ کم سزا کے باعث ہی مجرم یہ جرم کرتے ذرا نہیں گھبراتے۔ اس انسانیت سوز جرم کی سزا کم از کم سزائے موت ہونی چاہئے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو سخت سزا کے حوالے سے رائے عامہ ہموار کرنی چاہئے اور ان مقدمات کا فیصلہ بھی 6 ماہ کے اندر کرنا چاہئے پھر ہی یہ واقعات کنٹرول ہو سکتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا آفیشل نغمہ آج جاری کیا جائے گا

کراچی( ویب ڈیسک ) پاکستان سپر لیگ کا اہم جز اس کا نغمہ ہے اور چوتھے ایڈیشن کا آفیشل نغمہ آج جاری کیا جائے گا۔ شائقین کرکٹ کو پی ایس ایل 4 کے نئے نغمے کا بے تابی سے انتظار ہے جو آج رات 8 بجکر 55 منٹ پر ریلیز کیا جائے گا۔ اس سے قبل پی ایس ایل کے تین ایڈیشنز میں گلوکار علی ظفر کی آواز میں الگ الگ نغمے جاری کیے گئے تھے اور چوتھے ایڈیشن کا نغمہ کس کی آواز میں ہوگا اور اس کے مکمل بول کیا ہوں گے اس حوالے سے شائقین کو بے صبری سے انتظار ہے۔ پی ایس ایل 4 ایڈیشن کے لیے نغمہ شجاع حیدر نے تحریر کیا ہے اور اس کی تھیم کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ یہ ‘کھیل دیوانوں کا’ ہے۔پی ایس ایل کے 2016 کے پہلے ایڈیشن کا نغمہ گلوکار علی ظفر نے ہی لکھا اور گایا جس نے کرکٹ سے لگاو¿ رکھنے والوں پر سحر طاری کیا۔پی ایس ایل 2017 ایڈیشن میں بھی علی ظفر کی آواز میں نغمہ ریلیز کیا گیا جس کے بول تھے، سیٹی بجے گی، اسٹیج سجے گا، تالی بجے گی اور اب کھیل جمے گا۔ پی ایس ایل 2018 ایڈیشن کے لیے علی ظفر نے ہی نغمہ گایا، جس کے بول، لو پھر آگئے جلوہ دکھانے، پھر ملے چلو ہم اس بہانے، یہ کھیل پھر جمے گا اور اسٹیج پھر سے سجے گا، پھر دل سے سیٹی بجے گی اور جاں سے نعرہ لگے گا۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں 200 روپے کا اضافہ

کراچی (ویب ڈیسک )بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 5 ڈالر کے اضافے سے 1294 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعرات کوفی تولہ اور فی10 گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 200 روپے اور172روپے کااضافہ ہوگیا۔
مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر67400روپے اور فی10 گرام سونے کی قیمت بڑھ کر57785روپے ہوگئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت بغیرکسی تبدیلی کے880 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت754روپے45پیسے پرمستحکم رہی۔