All posts by Daily Khabrain

انجیلا میرکل کون ہیں؟

مرزا روحیل بیگ
انجیلا میرکل 17 جولائی 1954 کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں۔ جرمنی کے مشرقی حصے میں پروان چڑھنے والی انجیلا میرکل کبھی جرمنی کی سب سے مقبول اور طاقتور ترین سیاسی شخصیت بنیں گی، یہ میرکل سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ طبیعات جیسے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست میں آ کر اتنی شہرت اور کامیابی حاصل کی، کہ آج دنیا حیران ہے۔ یہ امر سب ہی کے لیئے تعجب کا باعث ہے۔ جرمنی میں انجیلا میرکل کی سیاسی قیادت کو ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔ میرکل جرمن چانسلر بننے والی پہلی خاتون سیاستدان ہیں۔
انجیلا میرکل نے جرمنی کے سیاسی منظر نامے کی کئی روایات توڑ ڈالیں۔ مشرقی جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون جنہیں سیاست کے داؤ پیچ بھی معلوم نہیں تھے قدامت پسند جماعت کی سربراہ مقرر ہوئیں اور چار مرتبہ چانسلر بھی منتخب ہو چکی ہیں۔ سن 1990 میں میرکل جرمن پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں۔ سابقہ مشرقی جرمنی میں رہنے والی میرکل کی معلومات یورپی یونین کی بابت زیادہ نہیں تھیں، نہ ہی انہیں مغربی جرمنی کی سیاست کی گہرائیوں کا زیادہ علم تھا۔ تاہم چانسلر ہیلمٹ کوہل نے انہیں خواتین اور نوجوانوں کی وزارت کا قلمدان سونپ دیا۔ چار برس بعد وہ ماحولیات کی وزیر بنیں۔ 2005 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انجیلا میرکل جرمنی کی چانسلر بن گئیں۔ جرمنی میں لوگ انہیں اپنے اصولوں پر کاربند رہنے اور پاسداری کرنے والی چانسلر کے طور پر بھی جانتے ہیں۔ انہیں دنیا کی طاقتور ترین خاتون بھی قرار دیا جاتا ہے۔ انجیلا میرکل کی شخصیت کے بہت سے منفرد پہلو ہیں، تعمیر یا ڈھانچے اور حکومت چلانے کے معاملات میں میرکل بہت مضبوط ہیں۔ ان کے خیال میں اصولوں پر کاربند ہونے میں کوئی تضاد نہیں۔ اصولوں پر چلتے ہوئے اور اقتدار کے حصول کے دوران بھی نیک دلی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ انجیلا میرکل بولنے سے پہلے سوچتی ہیں اور جب بولتی ہیں تو کم بولتی ہیں، وہ دوسروں کی بات زیادہ سنتی ہیں۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کہ اپنے بارے میں کوئی بات نہ کریں۔ ان کی کامیابی کا راز صبرو تحمل اور سٹیمنا میں ہے۔ اس عمر میں بھی رات کے دو بجے فون کر کے عملے سے کہیں گی وہ جو صبح بات ہوئی تھی اس پر کچھ نوٹس بنا لیتے ہیں۔ انجیلا میرکل کا دامن ہر طرح کی کرپشن اور اقربا پروری سے پاک ہے۔ میرکل اور ان کے شوہر جو کہ کیمسٹری کے ایک پروفیسر ہیں برلن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، وہ علاقے کے لوگوں سے عموماً سپر مارکیٹ میں ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
انجیلا میرکل برلن کی شاہراہوں پر خریداری کرتے ہوئے، اپنا سامان خود اٹھا کر گاڑی میں رکھتے ہوئے آپ کو نظر آئیں گی۔ جرمنی میں قدامت پسند جماعتیں دو ہیں، ایک انجیلا میرکل کی پارٹی سی ڈی یو اور دوسری جنوبی صوبے باویریا کی سیاسی جماعت جو کہ کرسچن سوشل یونین یا سی ایس یو کہلاتی ہے۔ یہ پارٹی نہ صرف باویریا میں حکمران ہے بلکہ سیاسی طور پر سی ڈی یو کی ہم خیال جماعت بھی ہے۔ انجیلا میرکل کی صلاحتیں اس وقت بھی ابھر کر سامنے آئیں جب 2014 میں یونان کا مالیاتی بحران شدید تر ہو چکا تھا تو جرمنی اور یونان کی پرانی دشمنی کی جھلک بھی دیکھی گئی۔ لیکن میرکل اس وقت بھی اپنی ایمانداری اور صاف گوئی سے پیچھے نہ ہٹیں۔ بچتی کٹوتیوں اور مالیاتی اصلاحات کے مطالبات پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے یونانی عوام جرمنی سے زیادہ خوش نہیں ہے۔
2015 میں انجیلا میرکل نے شام اور عراق میں خانہ جنگی سے متاثرہ لاکھوں پناہ گزینوں کو جرمنی میں پناہ دینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا تھا۔ انسانی ہمدردی کے پیش نظر کیئے گئے اس فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد انجیلا میرکل نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 2015 کی مہاجرین پالیسی کو نہیں اپنائیں گی۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل اس سال ستمبر میں ہونے والے وفاقی انتخابات کے بعد اقتدار سے دستبردار ہو جائیں گی۔ جرمن شہری میرکل کے ڈسپلن اور ان کے کام کرنے کے انداز کو یاد کریں گے۔ چانسلر میرکل جیسی شخصیت اور طرز قیادت والے حکمران اب دنیا میں ناپید دکھائی دیتے ہیں۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

نیا کابل

اکرام سہگل
دنیا نے حیرانی سے سقوط کابل کودیکھا اور اشرف غنی کی ازبکستان فرار کی بزدلی کو بھی دیکھا۔ ’بیس سال بعد جنگ ختم ہوگئی ہے۔‘ یہ وہ پیغام تھا جو گزشتہ اتوار کو طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے میڈیا کو دیا۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امریکی عملے کے انخلا نے(اگرچہ یہ زیادہ منظم تھا) کئی عشرے قبل سائیگون سے جلد بازی اور منظم امریکی رخصتی کی یاد دلا دی۔ کابل کے صدارتی محل میں آرام سے بیٹھ کر تصاویر بنوانے والے طالبان نے وہی پیغام دیا جو ویت نام نے دیا تھا۔
طالبان نے ایک ماہ سے کم عرصے میں یکے بعد دیگرے شہر قبضہ کیے اور وہ بھی کسی معمولی مزاحمت کے بغیر۔ اس کے لیے تیاریاں دیہی علاقوں میں کئی برسوں سے جاری تھیں، جہاں غنی حکومت کی طاقت اور اس کے لیے ہم دردی بالکل موجود نہ تھی۔ حتیٰ کہ مزار شریف اور ہرات میں، جہاں سے توقع کی جا سکتی تھی، مقامی جنگجوؤں کی جانب سے مزاحمت بہت کم اور بہت تاخیر سے ہوئی۔ غنی مزار شریف بھاگا، تو ترکی سے حال ہی میں مقامی جنگجوؤں کو قائل کرنے کے لیے آنے والا بدنام ازبک جنگجو دوستم ان کے ساتھ ہولیا، لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔
ایک انتہائی سنجیدہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے لیے طالبان کی تعریف ہونی چاہیے۔ وہ اہم سرحدی پوائنٹس کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں، اور جیسا کہ مقامی قوتوں کے ساتھ وہ پہلے ہی سے رابطے میں تھے۔ انہوں نے ہر ایک کو یقین دلایا کہ وہ کسی بھی حال میں سرحدیں پار کر کے غیر ملکی علاقے میں داخل نہیں ہوں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ طالبان وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ وسطی ایشیائی ممالک میں داخل نہیں ہوں گے۔ یہی یقین ایران، پاکستان اور چین کو بھی دلایا جا چکا ہے۔ چناں چہ طالبان کے خلاف افغان جنگجوؤں کو پروان چڑھانے کی ان کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے، جنھوں نے اپنی زیرک پالیسی سے جنگجوؤں کو غیر مؤثر بنا کر افغانستان کو ایک اور ممکنہ خانہ جنگی سے کم از کم فی الوقت بچا لیا ہے۔
مغرب کے لیے یہ ایک اسرار ہے کہ جس افغان آرمی کو انہوں نے پیسا دیا اور کئی برس تک اس کی تربیت کی، کیسے اور کیوں جنگ کے لیے اتنیمتذبذب اور ناکارہ نکلی۔ غنی کی حکومت نے جس کرپشن کو فروغ دیا، اس کا نتیجہ دفاعی بجٹ میں خردبرد کی صورت میں نکلا، پیسہ بے ایمانی سے ہتھیانے کے لیے دیگر فریب کاریوں کے ساتھ ساتھ دبئی میں رئیل اسٹیٹ بھی خریدی گئی، پام آئی لینڈ کے بڑے حصے کی ملکیت کس کے پاس ہے؟ فوجیوں کو شاذ و نادر ہی پوری تنخواہ مل پاتی ہے، کیوں کہ افسران سارا پیسہ ہتھیا لیتے ہیں، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کیوں فوج چھوڑنے کی شرح اتنی زیادہ ہے (سالانہ 35 ہزار فوجی)۔ یہ اکثر امریکا کے دیے ہوئے ہتھیار بلیک مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں تاکہ گزارا کر سکیں۔ ان کے پاس مغرب کی حمایت یافتہ کرپٹ حکومت کے لیے اور طالبان کے خلاف لڑنے کرنے کے لیے کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، جن کے ساتھ ان کے زیادہ تر مذہبی عقیدے، روایات اور اقدار مشترک ہیں۔ تنخواہوں کے لیے لڑنے والی افغان افواج کا کئی بار طالبان نمائندگان مذاق بھی اڑا چکے ہیں جو خود ایک مقصد کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ افغان افواج کو کوئی ایسا مقصد دینے میں، جو انھیں قائل کر سکتا، ناکامی بھی بلاشبہ ایک اور بڑی وجہ ہے جو وہ لڑنے کے لیے رضا مند نہیں۔
دوحہ امن منصوبے کی ناکامی، جس پر امریکا اور طالبان میں اتفاق ہو گیا تھا، پہلے سے طے شدہ نہیں تھی۔ امریکا جو اپنے نقصانات کم کرانا چاہتا تھا، اور اسے ایک ہاری ہوئی جنگ سے محفوظ پسپائی درکار تھی، طالبان نے اس میں اپنے اس ہدف تک رسائی کو دیکھا، جس کے لیے وہ برسوں سے لڑتے آرہے تھے، یعنی غیر ملکی قبضے کا خاتمہ۔ غنی حکومت مذاکرات میں شامل نہیں تھی۔ اس حقیقت سے یہی مترشح تھا کہ امریکا نے سمجھ لیا ہے کہ اس کا کلائنٹ اپنے مالک کا حکم ہی سنے گا۔ شروع ہی سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ طالبان مستقبل میں کسی امریکی کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کریں گے، تاہم وہ غنی کی حکومت کے خاتمے کو بعد کے سیاسی مذاکراتی طریقہ کار پر چھوڑنے کے لیے بھی تیار تھے۔ طالبان کی اقدار میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معاہدوں کی پاس داری ہوگی، اور یہ قرآن پاک اور رسولؐ کے احکامات پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں طالبان کی یقین دہانیوں پر اعتبار کر سکتی ہیں کہ بین الاقوامی سرحدوں کا احترام کیا جائے گا۔ لیکن جب امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو تمام شرائط ساقط ہو گئے۔ طالبان پر اگرچہ یہ واضح تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے ایک سیاسی حل کی ضرورت ہے، انہوں نے باقی ماندہ امریکی کٹھ پتلی اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ نہ امریکا، نہ ہی دنیا میں کسی اور کو یہ ادراک تھا کہ طالبان اتنے کم وقت میں یہ کر سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
آج کے طالبان کا رویہ 2001 سے قبل کے طالبان جیسا نہیں ہے۔ یہ ان کے الفاظ اور کابل میں ان کے عمل سے واضح ہو چکا ہے، بلکہ اس سے قبل دیگر تمام شہروں اور قصبات کی فتح میں بھی یہ سامنے آ چکا ہے۔ افغان فوج کو پیغام بہت واضح تھا، کہ اپنے ہتھیار ڈال دو اور بغیر کوئی سزا پائے چلے جاؤ، اس طرح انہوں نے کابل تک آسانی سے راستہ بنا لیا۔ماضی کے مقابلے پر آج طالبان کہیں زیادہ متحد اور منظم ہیں، ورنہ وسیع پیمانے پر قتل عام اور لوٹ مار سے بچنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ وہ غیر منظم طاقت اب نہیں رہی، طالبان کی زمینی قوت کی قیادت اور اقدار کے ساتھ وابستگی کے مضبوط عزم سے ان کا نظم و ضبط مضبوط ہوا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ چوں کہ طالبان کو ایک پشتون قوت کے طور پر بنایا گیا تھا، اس لیے اس نے پشتونوں کو افغانستان میں موجود دوسری نسلوں کے خلاف کھڑا کیا، آج طالبان میں تاجکوں اور ازبکوں کا ایک مضبوط طبقہ شامل ہے، جس کی وجہ سے ان کی نسلی تقسیم اگر مکمل طور پر ختم نہ بھی ہوئی ہو تو کم ضرور ہو گئی ہے۔ اسماعیل خان ایک انگریزی معاصر میں لکھتے ہیں کہ ”اصل معاہدہ توڑنے یا بنانے والا البتہ ایک نسلی تاجک کمانڈر قاری فصیح الدین تھا، جس نے کامیابی کے ساتھ اپنے تاجک، ازبک اور ہزارہ ساتھیوں کو جیت کر اپنی طرف کرلیا۔ عبدالوکیل متوکل کی طرح طالبان کی سینئر شخصیات شکوک و شبہات کے خوف کو دور کرنے کے لیے براہ راست مصروف ہیں۔“ نسلی امتیاز سے بچنے سے یقینی طور پر طالبان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک جامع حکومت کے قیام پر ان کے اصرار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ عبداللہ عبداللہ براہ راست یا بالواسطہ نئے سیٹ اپ کا حصہ ہوں گے (افغانستان پر میرے 29 ستمبر 2020 اور 2 اپریل 2021 کے مضامین پڑھیں)۔
طالبان رہنما کئی بار کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے افغان معاشرے میں خواتین کے کردار کے حوالے سے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ منگل کو کابل میں ان کی پہلی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا۔ اگر یہ سچ ہے اور خواتین کو اسکول جانے، نوکری کرنے اور گھومنے پھرنے کی اجازت ہوگی، تو اس سے یقینی طور پر ان کی قبولیت کو استحکام ملے گا، بالخصوص شہروں میں۔ اور آخری بات یہ کہ طالبان کا شیعہ مخالف پہلو بظاہر لگتا ہے کہ نرم پڑ گیا ہے۔ اگر ایسا برقرار رہا تو اس سے ایک متحد افغانستان میں امن کو فروغ ملے گا۔
طالبان کا یہ اعلان کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، مستقبل قریب کے لیے ایک اچھی علامت ہے۔ افغانستان بھر کو اپنے قبضے میں کرنے کے دوران طالبان نے شہریوں کو یقین دلایا کہ کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا، اور نہ لوٹ مار کی جائے گی۔ اس پر سختی سے عمل کیا گیا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ افغانوں نے طالبان کو شہروں میں داخل ہونے کی اجازت دی اور فوج نے ہتھیار ڈالے یا انہوں نے راستہ دیا۔ کابل کی فتح میں مشکل ہی سے کوئی ایک فائر کیا گیا ہوگا۔ افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی کے خوفناک بھوت کو روکا جا سکتا ہے، وہ جنگجو سردار جنھوں نے غیر ملکی فنانسنگ کے ذریعے لڑائی لڑی، اب بے اثر ہو چکے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ مغرب اپنی شکست کے بعد افغان معاملات سے دور رہے۔ امن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے افغانستان کے ارد گرد کی علاقائی طاقتیں جو جاری جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، اب امن قائم رکھنے اور افغان ملک اور معیشت کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لیے تعاون کریں۔
(فاضل کالم نگار سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭

امریکہ افغانستان میں بے بس ہوگیا؟

سید سجاد حسین بخاری
کابل میں 26اگست کی شب ایئرپورٹ پر یک بعد چھ دھماکے ہوئے جن میں 170کے قریب افراد مارے گئے اور ان میں 13امریکی بھی شامل تھے۔ آخری خبریں آنے تک کسی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تاہم روس کے بقول داعش نے ذمہ داری قبول کرلی ہے مگر داعش کے ترجمان نے کوئی بیان نہیں دیا اور پھر امریکہ نے27اگست کو ننگرہار میں کابل دھماکے کے ماسٹر مائنڈ پر ڈرون حملہ کرکے قتل کردیا۔ اس وقت کابل کی صورتحال مکمل طور پر طالبان کے قبضے میں ہے صرف احمدشاہ مسعود کے صوبے پنج شیر میں تھوڑی بہت مزاحمت ہوئی مگر وہ مذاکرات کی میز پر ختم ہوگئی۔
دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے تین حصوں پر ان کا کنٹرول ہے مگرپینٹاگون نے تردید کی ہے۔ طالبان نے اپنی حکومتی شوریٰ بھی تشکیل دے دی ہے جس میں فی الحال انہوں نے اپنے 12لوگوں کو عہدے دیئے ہیں جبکہ توقع یہ کی جارہی تھی کہ طالبان دیگر لوگوں کو بھی حکومت سازی میں شریک کریں گے مگر فی الحال ایسا نہیں کیاگیا تاہم امیدواثق ہے کہ دوسرے دھڑوں کو بھی حکومتی عہدے دیئے جائیں گے۔ افغانستان میں طالبان کو اس مرتبہ مکمل حکومت ملی ہے جبکہ ملاں عمر کے دور میں ایسا نہیں تھا۔سوائے پاکستان اور سعودی عرب کے پوری دنیا طالبان مخالف تھی مگر اس مرتبہ معاملہ الٹ ہے۔ علاقائی کھلاڑی جن میں روس‘ چین‘ترکی‘ ایران اور پاکستان مکمل طور پر طالبان کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ امریکہ اس مرتبہ پوری کوشش کررہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست طے کرے کیونکہ امریکیوں کے بقول ماضی میں ان کے ساتھ ڈبل گیم ہوئی ہے اور ہمارے 23ارب ڈالر ضائع ہوگئے۔ اس مقصد کیلئے سی آئی اے کے سربراہ ولیم کی ملاقات ایک ہفتہ قبل کابل ایئرپورٹ پر ملابرادر سے ہوچکی ہے۔ امریکہ اس وقت شدید پریشان ہے کیونکہ یورپ اول تو فوجی انخلا کے خلاف تھا دوسرا جی سیون کے تمام ملکوں نے طالبان پر پابندیاں لگانے کو کہا ہے۔ اگر یہ پابندیاں طالبان پر عائد ہوتی ہیں تو پھر امریکہ کے خواب افغانستان میں پورے نہیں ہوں گے اور ان پابندیوں کے مقابلے میں روس‘ چین‘ ایران‘ترکی طالبان کی ہرضرورت کو پورا کریں گے جس کی تازہ ترین مثال ایران کی طالبان کو مفت تیل کی سپلائی ہے۔ اسی طرح چین سی پیک کے منصوبے کو آزاد ریاستوں تک پہنچانے کیلئے طالبان کے تمام مطالبے پورے کرے گا۔ روس بھی طالبان کی ہرقسم کی مدد کرنے کو تیار بیٹھا ہے۔ المختصر یہ ہے کہ امریکہ چاہے جتنی مخالفت طالبان کی کرلے علاقائی قوتیں کسی صورت طالبان کوناکام نہیں ہونے دیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کا اس خطے میں مستقبل کیا ہوگا؟جس کا بڑا آسان سا جواب ہے کہ امریکہ کو اس خطے میں وہ حیثیت نہیں مل سکے گی جس کی وہ تمنا کررہا ہے۔ اس کی واضح ایک مثال موجود ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے علاوہ آزاد ریاستوں سے بھی فوجی اڈے مانگے مگر کسی نے نہیں دیئے۔اس وقت خطے کی صورتحال بدل چکی ہے۔ اگر امریکہ یورپی یونین اور جی سیون جیسے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی طالبان کی مخالفت کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا کیونکہ خطے میں زیادہ تر ممالک طالبان کے ساتھ ہوچکے ہیں۔ طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں نہیں ہے جبکہ ماضی میں اس کے برعکس تھا۔ اب اگر امریکہ دوبارہ افغانستان پر حملہ کرنا چاہے تو اس کیلئے مشکل ہوگا اور پہلے سے زیادہ امریکہ کا نقصان ہوگا اور امریکہ اس پوری صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے امریکہ اس خطے میں اپنے اتحادی بھارت کے ساتھ ملکر افغانستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کراتوسکتا ہے مگر فی الحال نہیں۔بھارت نے بھی طالبان کو پیشکش کی کہ وہ افغانستان میں تقریباً دو ارب ڈالر کے ادھورے منصوبے مکمل کرنا چاہتا ہے جس کا سوفیصد فائدہ افغانیوں کو ہوگا مگرتاحال طالبان نے بھارت کو کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر طالبان امریکہ سے دوستی کا ہاتھ نہیں ملاتے تو کیا ہوگا؟اس کا جواب یہ ہے کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے اندرون اور بیرون طالبان مخالف دھڑوں کو متحد کرکے طالبان کے خلاف دہشتگردی اور جنگی کارروائیاں کرائے گا جس سے افغانستان میں آئے روز دھماکے‘ بے گناہ انسانوں کا قتل‘ طالبان کی چیک پوسٹوں اور سرکاری املاک پر حملے ہونگے۔یہ سب کچھ امریکہ داعش‘ ٹی ٹی پی‘طالبان مخالف شمالی اتحاد‘ احمدشاہ مسعود اورہزارہ قبائل کو بھی اکٹھاتو کرسکتا ہے مگر وہ فی الحال نہیں اور پھر روس‘ چین‘ترکی‘ ایران اور پاکستان کوشش کررہے ہیں کہ اس مرتبہ طالبان وسیع البنیاد حکومت بنائیں اور تمام دھڑوں کو حصہ بقدر جسہ ملنا چاہئے اور طالبان بھی یہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان پانچ ملکوں کی طالبان حمایت کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امریکہ طالبان کے آگے گھٹنے ٹیک چکا ہے جس کی واضح مثال 31اگست کی ڈیڈلائن طالبان نے دی تھی کہ اگر انخلا دی گئی تاریخ پر مکمل نہ ہوا تو نقصان کا ذمہ دار امریکہ ہوگا حالانکہ امریکی اتحادی اپنے فوجی وشہری نکالنے کیلئے مزید ایک ماہ کا وقت مانگ رہے تھے مگر پینٹاگان کے ترجمان نے 27اگست کو ہی واضح کر دیا ہے کہ 31اگست تک انخلا مکمل ہوجائے گا۔ افغانستان میں امریکہ اس وقت سب سے بڑا لوزر ہے اور طالبان فاتح ہیں۔ مستقبل میں افغانستان کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کیونکہ امریکہ کو افغانستان میں حصہ نہ ملاتو یقیناً وہ طالبان مخالف دھڑوں کو اکٹھا کرکے آزاد ریاستوں میں سے کسی بھی ریاست کے ذریعے افغانستان میں بدامنی پھیلائے گا کیونکہ امریکہ نے ایک تو 23ارب ڈالر خرچ کئے اور شکست فاش کھاکر افغانستان بھی چھوڑا۔ اپنی عوام‘ میڈیا اور اتحادیوں کو بھی ناراض کیا لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ امریکہ افغانستان میں اپنا حصہ لئے بغیر آرام سے بیٹھ جائے۔ یہ انخلاء سے بھی بڑی شکست ہوگی جو امریکہ کبھی قبول نہیں کرے گا۔مجھے یقین ہے کہ اب چین اور روس کھل کر نہ صرف طالبان کا دفاع اور امریکہ سے زیادہ مالی مدد بھی کریں گے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

کراچی میں اسکول چوکیدار کے بیٹے کی 4 سالہ بچے کے ساتھ زیادتی

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں اسکول چوکیدار کے بیٹے نے 4 سال کے بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

پولیس کے مطابق بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کا مقدمہ تیموریہ تھانے میں بچے کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا بتانا ہے کہ بچے کا میڈیکل کروایا گیا جس میں اس کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی، بچے کی نشاندہی پر اسکول چوکیدار کے بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔

متاثرہ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ 29 اگست کو بیٹا اسکول کے باہر کھیل رہا تھا کہ اس کی گیند اسکول کے اندر چلی گئی، بیٹا گیند لینے گیا تو چوکیدار کے بیٹے نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

مداح ماہرہ خان کو لیفٹیننٹ جنرل نگار کے روپ میں دیکھ کر ناخوش

سچی کہانی پر مبنی آنے والی ٹیلی فلم ’ایک ہے نگار‘ میں ماہرہ خان کو پاکستان آرمی کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کے روپ میں دیکھ کر زیادہ تر مداح ناخوش دکھائی دے رہے ہیں۔

’ایک ہے نگار‘ کو پاک فوج کے شعبہ تلعقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےتعاون سے بنایا گیا ہے اور جلد ہی اسے اے آر وائے پر ریلیز کردیا جائے گا۔

ٹیلی فلم کا پہلا ٹیزر تو یوم آزادی کے موقع پر ریلیز کیا گیا تھا، تاہم اس کا دوسرا ٹیزر جاری کیے جانے کے بعد زیادہ تر لوگ ماہرہ خان کو لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کے روپ میں دیکھ کر ناخوش دکھائی دیے۔

جاری کیے گئے دوسرے ٹیزر میں جہاں ماہرہ خان کو جنرل نگار کے روپ روپ میں دکھایا گیا ہے۔

وہیں ٹیزر میں لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کے شوہر کا کردار ادا کرنے والے بلال اشرف کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے۔

ٹیزر میں پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل کی شادی اور فوج میں شمولیت سمیت ان کی جدوجہد کو بھی دکھایا گیا ہے۔

تاہم ٹیزر جاری ہوتے ہوئے ہی زیادہ تر لوگوں نے رائے دی کہ ماہرہ خان لیفٹیننٹ جنرل کے روپ میں فٹ نہیں دکھائی دے رہیں، ان کی جگہ کسی اور کو کاسٹ کیا جانا چاہیے تھا۔

زیادہ تر لوگوں نے ماہرہ خان کی اداکاری کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر چوں کہ ’ایک ہے نگار‘ بائیوگرافی فلم ہے، اس لیے کوشش کرکے ایسی اداکارہ کو کاسٹ کیا جاتا جن کے خدوخال لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر سے ملتے جلتے ہوں۔

بعض افراد نے تجویز بھی دے ڈالی کہ ماہرہ خان کی جگہ اریبہ حبیب کو کاسٹ کیا جانا چاہیے تھا، کیوں کہ وہ جنرل نگار سے کافی ملتی جلتی ہیں۔

اسی طرح بعض مداحوں نے صنم بلوچ کا نام بھی تجویز کیا اور کہا کہ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے، اس لیے وہ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا کردار اچھے طریقے سے ادا کر سکتی تھیں۔

ساتھ ہی کچھ افراد نے ماہرہ خان کی جانب سے پاک فوج کی پہلی خاتون جنرل کے کردار کو انتہائی سنجیدگی اور غصے سے ادا کرنے کی بھی شکایت کی اور کہا کہ ماہرہ خان کو مسکراتے ہوئے کردار کرنا چاہیے تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ’ایک ہے نگار‘ کو کب تک ریلیز کیا جائے گا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے رواں ماہ ہی جاری کیا جائے گا۔

ائیوگرافی فلم کی کہانی عمیرہ احمد نے لکھی ہے اوراس کی ہدایات عدنان سرور نے دی ہیں۔

اسے نینا کاشف اور ماہرہ خان کے پروڈکشن ہاؤس سول فرائے کے بینر تلے ریلیز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نگار جوہر خان کو پاک فوج میں گزشتہ برس جون میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی، اس سے قبل وہ میجر جنرل کے عہدے پر خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔

وہ مذکورہ عہدہ حاصل کرنے والی پہلی خاتون فوجی افسر بنی تھیں، انہیں جون 2020 میں ترقی دے کر سرجن جنرل آف پاکستان آرمی تعینات کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے میڈیا کی آزادی کے معاملے میں سب کو نوٹس دینے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ہر ریاستی ادارے کو نوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں احساس دلایا جائے کہ عدالت جائرہ لے رہی ہے اور ان میں سے ہر ایک سے انکوائری کرے گی کہ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کا آئینی فرض کیوں پورا نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کی جبکہ درخواست گزار نے اپنی درخواست واپس لے لی لیکن جسٹس منیب اختر نے ریماکس دیے کہ عدالت ازخود نوٹس لے کرسماعت جاری رکھے گی یہاں تک کہ اگر کمرہ عدالت خالی ہو گا تب بھی، اس میں صحافیوں کے بنیادی حقوق شامل ہیں۔

عدالتی ریمارکس ایسے وقت پر سامنے آئے جب فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کو آئندہ سماعت (15 ستمبر) کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں تاکہ سپریم کورٹ کی پریس ایسوسی ایشن (پی اے ایس) کے تحفظات کا جائزہ لیا جا سکے۔

عدالتی دفتر کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اسی طرح کے کیس میں کارروائی کی مکمل رپورٹ اور درخواست کی ایک کاپی جو ہائی کورٹ زیر سماعت ہے، اسے حاصل کی جائے۔

عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے آزادی صحافت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرنے اور پی اے ایس کے صدر امجد بھٹی سے کہا کہ وہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کی مخصوص کیسز کے ساتھ مکمل فہرست پیش کریں۔

اس دوران جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریماکس دیے کہ ججوں کی طرح صحافیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ سیاست میں ملوث نہ ہوں اور اپنے پیشے کو شائستگی اور اخلاقیات کے ساتھ جاری رکھیں۔

اس سے قبل سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو قیامت کے دن انصاف ملے گا جنہوں نے ان پر ظلم کیے اور جب ظالموں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا ملے گی۔

عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ میں درخواست واپس لے رہا ہوں کیونکہ 20 سے 26 اگست تک گزشتہ ہفتے کے واقعات ملک کی عدالتی تاریخ میں افسوسناک تھے۔

اسی طرح سینئر صحافی عامر میر نے لاہور میں ایک صفحے کی درخواست میں لکھا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں ملے گا کیونکہ ’پوشیدہ‘ عناصر جو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو دھمکانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایف آئی اے سے زیادہ طاقتور ہیں جنہوں نے انہیں اغوا اور گرفتار کیا اور انہیں دو برس سے ہراساں کررہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریماکس دے کہ یہ غیر ضروری ہے کہ درخواست گزاروں نے اپنی درخواست واپس لے لی ہے کیونکہ چیف جسٹس کی جانب سے معاملے کو طلب کیے جانے کے بعد عدالت نے صورتحال کا نوٹس لیا تھا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت درخواست گزاروں کے بیان کا خیر مقدم کرے گی اور اگر وہ (موقف پیش نہیں کرتے) تو عدالت ریاستی عہدیداروں سے جواب طلب کرے گی کہ آئین کے تحت شہریوں اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی جا رہی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر درخواست دہندگان کارروائی کے ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہتے تو یہ ان کی پسند ہے کیونکہ یہ ایک آزاد ملک ہے اور انہیں عدالت سے رجوع کرنے یا نہ کرنے کی آزادی ہے۔

وزرات صحت نے کورونا ویکسین کی خریداری کیلئے حکومت سے 50 ارب روپے مانگ لیے

اسلام آباد : قومی وزارت صحت نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے حکومت سے 50 ارب 10 کروڑ روپے مانگ لیے ہیں۔

 جیو نیوز کے مطابق وزارت صحت نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے رقم ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والے قرض کے تحت مانگی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور  ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 6 اگست کو معاہدے پر دستخط ہوئے تھے  جس کے تحت اے ڈی بی نے پاکستان کو کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے 50 کروڑ ڈالرکا قرض دینے کی منظوری دی تھی۔

ذرائع کے مطابق کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے قرض کی منظوری کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کو  بھی بھیجی جا چکی ہے۔

سمری کے مطابق پہلے مرحلے میں ویکسین کی خریداری کے لیے 30 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے جس کے تحت وزارت صحت اور  نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ویکسین کی خریداری کریں گے جبکہ رقم تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کے تحت فراہم کی جائے گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے  بھی پاکستان کو 2 ارب 77 کروڑ ڈالر دیے گئے ہیں۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد کورونا سے نمٹنے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

امریکا نے افغانستان سے سفارتی مشن قطر منتقل کر دیا

امریکی وزیر خا رجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی سفارتی مشن معطل کر کے قطر منتقل کر  دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان سے فوجی انخلا مکمل ہونے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے سائے میں انخلا  کا آپریشن مکمل کیا، انخلا میں معاونت کرنے والے تمام ممالک کے شکر گزار ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ا فغانستان میں ملٹری آپریشن ختم اور سفارتی مشن شروع ہو چکا ہے،  افغانستان سے سفارتی مشن قطر منتقل کر دیا گیا ہے اور افغانستان کی صورتحال پر مختلف ممالک سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مستقبل میں بات چیت امریکا کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو گی، تسلیم کیے جانے اور تعاون حاصل کرنے کے لیے طالبان کو مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

انسانی بنیادو ں پر افغان عوام کی امداد جاری رہے گی: امریکی وزیر خارجہ

انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ افغان جنگ 20 سال چلی لیکن اب بھی افغانستان کو  اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، افغانستان کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رہے گی، یہ امداد طالبان کو نہیں بلکہ این جی اوز کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ایک لاکھ 23 ہزار  سے زائد افراد کو بحفاظت منتقل کیا گیا، افغان شہریوں کی منتقلی کے لیے بہت محنت کی، اب بھی افغانستان سے نکلنے والے افغانیوں کی معاونت کریں گے، اگر وہ نکلنا چاہیں۔

انہوں نے بتایاکہ 6 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکالا تاہم اب بھی افغانستان میں 200 کے قریب امریکی موجود ہیں جن کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، افغانستان میں رہ جانے والے امریکیوں کو بھی نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

انخلا کیلئے طالبان سے بات چیت جاری رہے گی: انتھونی بلنکن

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں رہ جانے والوں کو نکالنا مشکل ضرور ہو گا اور اس مقصد کے لیے زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، طالبان نے بھی یقین دہائی کروائی ہےکہ سفری دستاویزات رکھنے والوں کو ملک سے جانے کی اجازت ہوگی۔ انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ انخلا آپریشن کو جاری رکھنے کے لیے طالبان سے بات چیت جاری رہے گی، طالبان کو کہا ہے کہ بیرون ملک جانے والوں کو نہ روکا جائے، دنیا کے آدھے سے زائد ممالک اس پر متفق ہیں کہ طالبان شہریوں کو نکلنے دیں۔

امریکی وزیرخارجہ کی کابل دھماکے پر گفتگو

پریس بریفنگ کے دوران کابل دھماکے پر گفتگو کرتے ہوئے انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کےگیٹ پر 4 روز  پہلے 13 امریکیوں سمیت کئی افغان ہلاک ہوئے، دھماکے میں ہلاک امریکی فوجیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ افغان سرزمین شدت پسندوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن  ہم طالبان پر انحصار نہیں کریں گے، شدت پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے طالبان پر  بھروسہ ان کے عمل پر منحصر ہو گا۔

امریکی انخلا مکمل طالبان نے کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا، طالبان کا جشن

واشنگٹن، لندن، پیرس : (نیوز ایجنسیاں)  گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان پر چڑھائی کے 20 برس بعد آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے روانہ ہوگیا، جس کے باعث کابل کی گلیاں خوشی میں کی گئی ہوائی فائرنگ سے گونج اٹھیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے تقسیم کردہ ویڈیو فوٹیجز میں جنگجوؤں کو رات گئے امریکی فوجیوں کے جانے کے بعد کابل ایئرپورٹ میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے کہا کہ ’آخری امریکی فوجی بھی کابل سے جاچکا ہے اور ہمارے ملک نے مکمل آزادی حاصل کرلی ہے‘۔

امریکی فوج نے کابل سے باہر نکلنے کی آخری پرواز پر سوار ہونے والے آخری امریکی فوجی کی نائٹ ویژن آپٹکس کے ساتھ لی گئی تصویر شیئر کی جو 82ویں ایئربورن ڈویژن کے میجر جنرل کرس ڈونا تھے۔

امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔

اگرچہ اس نے طالبان کو اقتدار سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور افغانستان کو القاعدہ کی جانب سے امریکا پر حملے کے لیے اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روک دیا لیکن اس کا اختتام ایسے ہورہا ہے کہ عسکریت پسند 1996 سے 2001 تک کے اپنے سابقہ دورِ حکمرانی سے زیادہ ملک پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔

چنانچہ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے۔

اس کے باوجود ہزاروں ایسے افغان شہری پیچھے رہ گئے ہیں جنہوں نے مغربی ممالک کی مدد کی اور طالبان کی طرف سے انتقامی کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں۔

امریکی شہریوں کا ایک دستہ ، جو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مطابق 200 سے کم اور ممکنہ طور پر 100 کے قریب افراد پر مشتمل تھا وہ بھی انخلا کرنا چاہتا تھا لیکن آخری پروازوں میں جانے سے قاصر تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل فرینک میک کینزی نے پینٹاگون کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں چیف امریکی سفارت کار راس ولسن، اڑان بھرنے والی آخری سی -17 فلائٹ میں تھے۔

اس افراتفری کے شکار انخلا کے دوران ایئرپورٹ پر ہوئے دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اس کے باوجود طالبان کی حکومت سے فرار کے خواہشمند ہزاروں افغان اور سیکڑوں امریکی شہری افغانستان میں ہی رہ گئے۔

پینٹاگون نے ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ القاعدہ کے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا کی شروع کی گئی جنگ کے 20 برسوں میں پہلی مرتبہ افغانستان میں امریکی فوج کا کوئی ایک رکن موجود نہیں ہے۔

دل شکستہ وہ لفظ تھا جسے امریکی میرین جرل فرینک میکنزی نے امریکا کی طویل ترین جنگ سے واپس جانے سے منسلک جذبات بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ اس روانگی سے بہت سے دل ٹوٹے ہیں، جو کوئی جانا چاہتا تھا ہم ہر ایک کو نہیں نکال سکے لیکن میرے خیال میں اگر ہم مزید 10 روز بھی رہتے تب بھی ہر ایک کو نہیں نکال سکتے تھے۔

تاہم امریکی افواج نے جانے سے قبل 70 سے زائد طیاروں، درجنوں بکتر بند گاڑیوں اور کابل ایئرپورٹ پر داعش کے راکٹ حملوں کو روکنے والے ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنادیا۔

طالبان اور احمد شاہ فورسز میں لڑائی شروع

پنجشیر میں افغان طالبان اور مزاحمتی تحریک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ مزاحمتی فورس کے اہلکاروں کی جنگی مشقوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

افغان طالبان اور پنجشیر میں موجود مزاحمتی اتحاد کے درمیان افغان دارالحکومت کابل میں مذاکرات جاری ہیں اور گزشتہ دِنوں فریقین کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

وادی پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ ہے اور اس کے علاوہ وہ تقریباً پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

پنجشیر میں مزاحمتی فورس کی قیادت سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے جواں سال بیٹے احمد مسعود کررہے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں احمد مسعود نے اعلان کیا تھاکہ طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مرنا پسند کروں گا۔

گذشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ طالبان نے افغانستان کے صوبے پنجشیر میں مختلف اطراف سے پیش قدمی شروع کردی ہے جس کے بعد وہاں جنگ کے بادل ایک بار پھر منڈلانے لگے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے وادی سے متصل پہاڑوں اور چوٹیوں پر مورچے قائم کرلیے ہیں۔

طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن امان اللہ کا کہنا تھاکہ وادی میں داخلے کے وقت کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم وادی پنجشیر کی مزاحمتی فورس کے رکن نے طالبان کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

اب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) نے وادی پنجشیر میں مزاحمتی فورس کے اہلکاروں کی مشقوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ان تصاویر میں طالبان مخالف مزاحمتی تحریک کے جنگجوؤں کو جنگی مشقیں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

خبر رساں ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ مزاحمتی تحریک کے کارکن کس کے خلاف جنگ کی تیاری کررہے ہیں البتہ موجودہ صورتحال میں ممکنہ طور پر یہ تیاری طالبان کے خلاف ہی ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

اس حوالے ترجمان پنجشیر مزاحمتی تحریک جمشید دستی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو  بتایا کہ پنجشیر میں طالبان اور مزاحمتی اتحاد کے مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہیں مگرپیش رفت کم ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

جمشید دستی کا کہنا ہے کہ طالبان نے پنجشیر میں مواصلاتی نظام معطل کرنےکی کوشش کی، مواصلاتی نظام ختم کرنے سے پنجشیر والوں کیلئے مسائل ہوسکتے ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ پنجشیر میں روزمرہ استعمال کی چیزوں کی کمی نہیں، نظام زندگی چل رہا ہے، پنجشیر کا محاصرہ لمبا ہوا تو بیک اپ موجود ہیں، پنجشیر میں محصور رہ کر طویل عرصے تک مزاحمت کیلئے تیار ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

ترجمان مزاحمتی تحریک کا مزید کہنا تھا کہ طالبان سے براہ راست رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، تمام ثالث قوتوں، شخصیات کو بتا دیا ہے کہ ہم اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

مزاحمتی فورسز نے طالبان کا ایک حملہ پسپا کیا، ذرائع

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے مطابق احمد مسعود کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے پیر کی شام پنجشیر میں ایک سرحدی چوکی پر حملہ کیا جسے مزاحمتی فورسز نے پسپا کردیا۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ علاقےمیں نیٹ ورک سگنل کا مسئلہ ہے، معاملے کی تصدیق کررہےہیں۔

طالبان نے پنجشیر کا مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا، ذرائع

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

طلوع نیوز نےمقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے پنجشیر کا مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا ہے۔

پنجشیر کے ایک رہائشی گل حیدر نے بتایا کہ ’گذشتہ دو روز سے انہوں نے مواصلاتی نظام منقطع کررکھا ہے جس کی وجہ سے مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ ملک کے دیگر علاقوں میں اپنے رشتہ داروں سے رابطے نہیں کر پارہے ہیں۔‘

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

اس معاملے پر بھی طالبان کا کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

طالبان کیخلاف مزاحمتی تحریک کے مقاصد کیا ہیں؟

اطلاعات کے مطابق پنجشیر سوویت یونین کے دور سے اب تک تقریباً آزاد ہی رہا ہے اور ہر دور میں مزاحمت جاری رکھی ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

طالبان کے آخری دور حکومت میں بھی بلخ، بدخشاں اور پنجشیر میں طالبان کا نظام حکومت نافذ نہیں تھا البتہ اس بار طالبان نے بلخ اور بدخشاں پر کنٹرول قائم کرلیا ہے لیکن پنجشیر اب بھی ان کے کنٹرول میں نہیں۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

میڈیا رپورٹس کے مطابق مزاحمتی تحریک کا ایک مقصد تو طالبان کے ساتھ شراکت اقتدار ہوسکتا ہے جس میں اہم ترین شرط پنجشیر کی خودمختاری شامل ہوسکتی ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

ماضی میں طالبان کے زیر اثر نہ رہنے کی وجہ سے احمد مسعود اور ان کے ساتھ موجود دیگر قوتیں اب بھی اپنے طور پر آزادانہ نظام کی خواہاں ہیں کیوں کہ ان خوف ہے کہ طالبان کا نظام حکومت سخت قوانین پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

وادی پنجشیر ناقابل تسخیر کیوں؟

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

افغان صوبہ پنجشیر اب بھی ناقابل تسخیر ہے اور طالبان بھی اب تک وہاں داخل نہیں ہوسکے ہیں۔ پنجشیر اس سے قبل پروان صوبے کا حصہ تھا جسے 2004 میں الگ صوبے کا درجہ دیا گیا۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

پنجشیر صوبے کا دارالحکومت بازارک ہے، یہ سابق جہادی کمانڈر اور سابق وزیر دفاع احمد شاہ مسعود کا آبائی شہر ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد احمد شاہ مسعود نے 90 کی دہائی میں وادی کا کامیاب دفاع کیا تھا جبکہ اس سے قبل سابقہ سوویت یونین کی فوج بھی اس وادی میں داخل نہیں ہوسکی تھی اور متعدد حملوں کے باوجود ہر دفعہ یہ وادی ناقابل تسخیر رہی۔