Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ترکیہ کے مشرقی علاقے میں .1 5شدت کا زلزلہ، جھٹکے محسوس کیے گئے
    • اسلام آباد میں بڑی پابندی لگ گئی، دفعہ 144 نافذ
    • نور زمان ایشین گیمز اسکواش کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
    • امریکا ایران سفارت کاری کی امید عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی
    • پرتگال کے لیے کھیلوں گا جب تک ٹیم کو فائدہ پہنچ سکتا ہوں : رونالڈو
    • چکلالہ کینٹونمنٹ بورڈ شعبہ ریونیو اور سائن بورڈ برانچ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف
    • شادی شدہ خاتون کے قتل اور اسکے بھائی کے اغوا مقدمہ میں مزید پیش رفت، مرکزی ملزم کا ایک اور ساتھی گرفتار
    • نیزہ بازی روایتی کھیلوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے:سردار سلیم حیدر
    • مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بنیادی روح اور اصول بدستور برقرار : سردار مسعود
    • راولپنڈی میں غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات کیخلاف کارروائیاں
    • صادق آباد ،بیٹ پرو ایپ پر آن لائن جوا کھیلنے / کھلانے والا شخص گرفتار، موبائل فون برآمد
    • سردار محمد سلیم اور سردار منصور کے بھوربن میں واقع گھر اور ہوٹل پر چھاپے
    • ہوٹل بندکرانے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا، عبد الوحید
    • سیکرٹری ہاسنگ اینڈ ورکس کا کے مختلف سیکٹرز کا تفصیلی دورہ FGEHA
    • 15 سالہ لڑکے سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درج
    • مری لوئر بازار میں نجی گیسٹ ہائوس میں قتل خواجہ سرا کی شناخت32سالہ محسن جاوید کے طور پر ہوئی
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 5 افراد گرفتار،شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • گھریلو رنجش پر فائرنگ کرکے شہری کو قتل کرنے والا اشتہاری گرفتار
    • پاکستان ‘ سعودیہ کے تعلقات مشترکہ مذہب اور تاریخی روابط پر مبنی : ایاز صادق
    • سر گودھا اور ملتان کے درمیان چلنے والی ریلوے ٹرین ساندل ایکسپریس بحال
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نہ کلیم کا تصور نہ خیال طورسینا …. پاکستانی فلم میں پہلی نعت جو بہت مشہور ہوئی

    By Daily Khabrainاپریل 19, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    شاعرشکیل بدیوانی
    شکیل بدیوانی کے نام سے ادبی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والا شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو واقف نہ ہو۔ یہی حال اس کی دھن بنانے والے موسیقارکا ہے۔نوشاد جو موسیقار اعظم کہلاتے ہیں، کی شہرت بھی اس قدر ہے کہ ان کے بارے میں کچھ لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ رہی گانے والی ہستی جس کو لوگ لتا کے نام سے جانتے ہیں۔ تو اس نے بھی اس نعت کو گا کر حق گائیکی ادا کر دیا اور شاید اسی نعت کا صدقہ ہے کہ شکیل اور نوشاد کے علاوہ لتا ءکو بھی جو ہندو مذہب کی پیروکارہے، قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔ فلموں میں نعتوں کا استعمال سب سے پہلے شکیل بدیوانی ہی نے کیا تھا۔ انیوں نے اپنی فلم سب سے پہلی فلم ”درد“ میں بھی بڑی خوبصورت نعت تھی۔جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔اس کے بول تھے ” بیچ بھنورمیں آج پھنسا ہے دل کا سفینہ شاہ مدینہ“ یہ نعت ثریا نے نوشاد کی موسیقی میں گائی تھی۔ان کی ایک اور نعت فلموں سے ہٹ کر بھی بڑی مقبول ہوئی تھی، جس کے بول یہ تھے۔
    نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا
    میری آرزومحمدمیری جستجو مدینہ
    شکیل بدایونی کے دل میں عشق رسول اس قدر موجزن تھاکہ اس کی کوئی تھاہ نہیں تھی۔جب ہی تو ایسی نعتیں ان کی دل کی گہرائیوں سے نکلیں۔ ان کا ایک نعتیہ مجمو عہ کلام 1950ءمیں ”نغمہ فردوس“ کے نام سے شائع ہوکر مقبولیت پاچکا ہے۔ شکیل بدایونی کا اصل نام شکیل احمد قادری تھا۔ یہ 3اگست 1916ءکو یوپی کے مشہور شہر بدایوں میں پیدا ہوئے یہ اسم بامسمی تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں قائم مکتب میں ہوئی اس کے بعد ان کو اسلامیہ ہائی سکول بدایوں میں داخل کرا دیا گیا۔ انہوں نے 1936ءمیں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ چلے آئے اور 1942ءمیں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ بعدمیں یہ دہلی میں ڈائریکٹریٹ جنرل سپلائی اینڈڈیولپمنٹ میں ملازم ہوگئے اورع یہ ملازمت 1946ءتک قائم رہی۔پھر وہ ممبئی جا کر بطور نغمہ نگار فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے اوعرر مرتے دم تک اسی سے وابستگی قائم رکھی۔
    شکیل بدایونی نے ایک علمی ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ ان کے والد بمبئی میں ایک مسجد میں پیش امام تھے۔ چنا نچہ بدایوں میں ان کے سرپرست ان کے تایا مولانا ضیاءالقادری تھے جو مشہور نعت گو شاعر بھی تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز 16سال کی عمر میں کردیا تھا، جب یہ علی گڑھ پہنچے تو راز مراد آبادی کے توسط سے جگر مراد آبادی تک رسائی حاصل کی اورع اس طرح یہ جگر صاحب کے حلقہ احباب میں شامل ہوگئے۔ جگر مراد آبادی ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ اور وہ اپنے ساتھ انہیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں منعقد کئے جانے والے مشاعروں میں لے جانے لگے۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا اور پھرپڑھنے کا انداز بھی بہت خوبصورت تھا جس کی وجہ سے یہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ مشاعروں کے بھی بڑے کامیاب شاعر مانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا کوئی ایسا شہر نہ ہوگا جہاں انہیں مشاعرہ پڑھنے کے لیے نہ بلوایا گیا ہو۔ یہ پاکستان میں بھی مشاعرہ پڑھنے چار بار آچکے تھے اور مشاعرہ لوٹ کر لے گئے تھے۔ انہوں نے یہاں پر بھی اپنے مخصوص ترنم سے خوب رنگ جمایا تھا جو لوگوں کو ابھی تک یاد ہے اسی دور کی ان کی ایک مقبول عام غزل کے دو اشعار ملا حظہ فرمائیں۔
    لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے
    محبت آئینہ بن چکی تھی وجود بزم جہاںسے پہلے
    اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تاب ضبط باقی
    ہر ایک مے کش پکاراٹھایہاں سے پہلے یہاں سے پہلے
    1946ءمیں شکیل بدایونی ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی تشریف لے گئے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پورا بمبئی امڈ آیااسی مشاعرے میں مشہور فلمساز و ہدایتکار اے آر کاردار بھی تھے۔ انہوں نے ان کو سنا تو بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے ان کو اپنی فلموں کے لئے گیت لکھنے کی پیشکش کی جو انہوں نے فوراََ قبول کر لی ۔ شکیل بدایونی نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اوع مستقل طور پر فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ نوشاد جیسا موسیقار انہیں ملا جو نہ صرف یہ کہ بہتریں موسیقار تھا بلکہ بہترین انسان بھی تھا۔ ان کو بمبئی میں نیا نیا ماحول ملا تو کچھ گھبراہت ہوئی مگر ان کو نوشاد جیسا غمخوار اور مونس مل گیا۔ جس نے ہر قدم پر ان کی مدد کی اور ان دونوں کی دوستی مرتے دم تک قائم رہی۔ شکیل بدایونی نے سب سے پہلے فلمساز و ہدایت کار کاردار کے گیت تحریر کئے۔ ان کی پہلی ہی کاوش بے حد کامیاب رہی۔ اس فلم کا ہر گیت مقبول ہوا۔ نوشاد نے ان گیتوں کی دھنیں مرتب کی تھیںجو اپنے فن میں یکتا اور بڑے تجربہ کار تھے۔ اس فلم کے یہ گیت بے حد پسند کئے گئے۔
    ہم درد کا فسانہ دنیا کو سنا دیں گے۔ (شمشاد بیگم اور ساتھی)
    افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا ۔ (اومادیوی)
    بے تاب ہے دل درد محبت کے اثر سے۔(ثریا ،روما دیوی )

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کترینہ کیف پر باڈی شیمنگ کا الزام ڈاکٹر اعجاز واریس کو تنقید کا سامنا

      شائے گل کی وضاحت، ’پابلو‘ سے متعلق پوسٹ حانیہ عامر پر طنز نہیں تھی

      دوسری بار ماں بننے کی امید نہیں تھی 41 سالہ ماہرہ خان کا انکشاف

      تازہ ترین

      بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی مستونگ میں و دہشتگرد ہلاک

      لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل مقرر

      شہباز شریف اور بل گیٹس کی ملاقات پاکستان سے پولیو کے خاتمے پر گفتگو

      26، 27 ستمبر کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون سروس معطل ہوگی:ذرائع

      پاکستانی فائٹر شہزیب رند کی دھوم میامی ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں فتح

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.