Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کراچی:عمرہ زائرین کو گردن توڑ بخار، انفلوئنزا ویکسن کی خریدار میں مبینہ بے ضابطگیاں، ویکسینیشن بند
    • بیرسٹرگوہر کا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے تنظیمی امور پر اہم نوٹیفکیشن جاری
    • گوادر میں دہشت گردوں کی کارروائی ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ
    • سنیٹر روبینہ خالد کا بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر خراجِ عقیدت
    • لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنز ویکسین بھی ناپید مریض پریشان
    • گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی گورنر ہائوس پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
    • پنجاب بھر میں اوور سپیڈنگ کرنیوالوں کیخلاف کارروائیوں میں تیزی
    • کریانہ سٹور سے 60 ہزار لے جانے کا الزام’ ایس پی شیخوپورہ 29 اکتوبر کو طلب
    • ترکیہ ‘ لیبیا کے درمیان سمندری حدود معاہدے پر اسرائیل کو پریشانی
    • چینی ماہرین کی معاونت سے پنجاب کے 65ریسکیو افسران کی خصوصی تربیت مکمل
    • لاہور سے سعودی عرب جانیوالی متعدد پروازیں منسوخ، مسافروں کو مشکلات
    • فیصل آبادغیرت کے نام پر بیوی اور اس کے آشنا کا قتل
    • پنجاب پولیس کے افسران و اہلکار جمعتہ المبارک کے موقع پر ہائی الرٹ ہو کر سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔
    • خاتون اے ایس پی کو ہراساں کرنے والے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
    • بل کلنٹن کا بیان نفرتوں کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے،اختر اقبال
    • صوبائی محتسب کے ضلعی ایڈوائزر کی کھلی کچہری
    • آئی جی پنجاب عبدالکریم جرائم کے تدارک اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دے رہے ہیں۔
    • کراچی، ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا آغاز
    • آئی جی کا شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے پنجاب بھر میں پٹرولنگ بڑھانے کا حکم
    • این سی سی آئی اے کی مختلف شہروں میں کارروائیوں کے دوران 24 ملزم گرفتار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نہ کلیم کا تصور نہ خیال طورسینا …. پاکستانی فلم میں پہلی نعت جو بہت مشہور ہوئی

    By Daily Khabrainاپریل 19, 2017
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    شاعرشکیل بدیوانی
    شکیل بدیوانی کے نام سے ادبی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والا شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو واقف نہ ہو۔ یہی حال اس کی دھن بنانے والے موسیقارکا ہے۔نوشاد جو موسیقار اعظم کہلاتے ہیں، کی شہرت بھی اس قدر ہے کہ ان کے بارے میں کچھ لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ رہی گانے والی ہستی جس کو لوگ لتا کے نام سے جانتے ہیں۔ تو اس نے بھی اس نعت کو گا کر حق گائیکی ادا کر دیا اور شاید اسی نعت کا صدقہ ہے کہ شکیل اور نوشاد کے علاوہ لتا ءکو بھی جو ہندو مذہب کی پیروکارہے، قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔ فلموں میں نعتوں کا استعمال سب سے پہلے شکیل بدیوانی ہی نے کیا تھا۔ انیوں نے اپنی فلم سب سے پہلی فلم ”درد“ میں بھی بڑی خوبصورت نعت تھی۔جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔اس کے بول تھے ” بیچ بھنورمیں آج پھنسا ہے دل کا سفینہ شاہ مدینہ“ یہ نعت ثریا نے نوشاد کی موسیقی میں گائی تھی۔ان کی ایک اور نعت فلموں سے ہٹ کر بھی بڑی مقبول ہوئی تھی، جس کے بول یہ تھے۔
    نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا
    میری آرزومحمدمیری جستجو مدینہ
    شکیل بدایونی کے دل میں عشق رسول اس قدر موجزن تھاکہ اس کی کوئی تھاہ نہیں تھی۔جب ہی تو ایسی نعتیں ان کی دل کی گہرائیوں سے نکلیں۔ ان کا ایک نعتیہ مجمو عہ کلام 1950ءمیں ”نغمہ فردوس“ کے نام سے شائع ہوکر مقبولیت پاچکا ہے۔ شکیل بدایونی کا اصل نام شکیل احمد قادری تھا۔ یہ 3اگست 1916ءکو یوپی کے مشہور شہر بدایوں میں پیدا ہوئے یہ اسم بامسمی تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں قائم مکتب میں ہوئی اس کے بعد ان کو اسلامیہ ہائی سکول بدایوں میں داخل کرا دیا گیا۔ انہوں نے 1936ءمیں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ چلے آئے اور 1942ءمیں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ بعدمیں یہ دہلی میں ڈائریکٹریٹ جنرل سپلائی اینڈڈیولپمنٹ میں ملازم ہوگئے اورع یہ ملازمت 1946ءتک قائم رہی۔پھر وہ ممبئی جا کر بطور نغمہ نگار فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے اوعرر مرتے دم تک اسی سے وابستگی قائم رکھی۔
    شکیل بدایونی نے ایک علمی ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ ان کے والد بمبئی میں ایک مسجد میں پیش امام تھے۔ چنا نچہ بدایوں میں ان کے سرپرست ان کے تایا مولانا ضیاءالقادری تھے جو مشہور نعت گو شاعر بھی تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز 16سال کی عمر میں کردیا تھا، جب یہ علی گڑھ پہنچے تو راز مراد آبادی کے توسط سے جگر مراد آبادی تک رسائی حاصل کی اورع اس طرح یہ جگر صاحب کے حلقہ احباب میں شامل ہوگئے۔ جگر مراد آبادی ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ اور وہ اپنے ساتھ انہیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں منعقد کئے جانے والے مشاعروں میں لے جانے لگے۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا اور پھرپڑھنے کا انداز بھی بہت خوبصورت تھا جس کی وجہ سے یہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ مشاعروں کے بھی بڑے کامیاب شاعر مانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا کوئی ایسا شہر نہ ہوگا جہاں انہیں مشاعرہ پڑھنے کے لیے نہ بلوایا گیا ہو۔ یہ پاکستان میں بھی مشاعرہ پڑھنے چار بار آچکے تھے اور مشاعرہ لوٹ کر لے گئے تھے۔ انہوں نے یہاں پر بھی اپنے مخصوص ترنم سے خوب رنگ جمایا تھا جو لوگوں کو ابھی تک یاد ہے اسی دور کی ان کی ایک مقبول عام غزل کے دو اشعار ملا حظہ فرمائیں۔
    لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے
    محبت آئینہ بن چکی تھی وجود بزم جہاںسے پہلے
    اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تاب ضبط باقی
    ہر ایک مے کش پکاراٹھایہاں سے پہلے یہاں سے پہلے
    1946ءمیں شکیل بدایونی ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی تشریف لے گئے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پورا بمبئی امڈ آیااسی مشاعرے میں مشہور فلمساز و ہدایتکار اے آر کاردار بھی تھے۔ انہوں نے ان کو سنا تو بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے ان کو اپنی فلموں کے لئے گیت لکھنے کی پیشکش کی جو انہوں نے فوراََ قبول کر لی ۔ شکیل بدایونی نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اوع مستقل طور پر فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ نوشاد جیسا موسیقار انہیں ملا جو نہ صرف یہ کہ بہتریں موسیقار تھا بلکہ بہترین انسان بھی تھا۔ ان کو بمبئی میں نیا نیا ماحول ملا تو کچھ گھبراہت ہوئی مگر ان کو نوشاد جیسا غمخوار اور مونس مل گیا۔ جس نے ہر قدم پر ان کی مدد کی اور ان دونوں کی دوستی مرتے دم تک قائم رہی۔ شکیل بدایونی نے سب سے پہلے فلمساز و ہدایت کار کاردار کے گیت تحریر کئے۔ ان کی پہلی ہی کاوش بے حد کامیاب رہی۔ اس فلم کا ہر گیت مقبول ہوا۔ نوشاد نے ان گیتوں کی دھنیں مرتب کی تھیںجو اپنے فن میں یکتا اور بڑے تجربہ کار تھے۔ اس فلم کے یہ گیت بے حد پسند کئے گئے۔
    ہم درد کا فسانہ دنیا کو سنا دیں گے۔ (شمشاد بیگم اور ساتھی)
    افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا ۔ (اومادیوی)
    بے تاب ہے دل درد محبت کے اثر سے۔(ثریا ،روما دیوی )

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      حمائمہ ملک اورعلی ظفر کرائم سیریز میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں گئی

      سمانتھا کے خوشبو برانڈ کی کمائی 120 کروڑ سے بھی آگے نکل گئی

      جھانوی کپور کا فوٹوگرافروں پراپنی نامناسب تصاویر بنانے پر تحفظات کا اظہار

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.