راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)ہوٹل بند کرانے کا فیصلہ ناقابلِ قبول، ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا، ریلوے اسٹیشن، فلائٹ آپریشنز اور جی ٹی روڈ کھلے ہیں تو ہوٹل انڈسٹری کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ فیصلہ واپس لیا جائے،ہم کسی سیاسی جماعت کے سہولت کار نہیں، کاروبار چلانا اور مسافروں کو رہائش و عوام کو سہولیات دینا ہمارا مقصد ہے،صدر انجمن تاجران لیاقت روڈ راولپنڈی و انٹر سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن شیخ عبد الوحید نے پولیس و انتظامیہ کی جانب سے ہوٹلز بند کرنے کی ہدایات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل انڈسٹری کی بندش کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اس سے تاجروں، ہزاروں سفید پوش ملازمین اور ان کے خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا۔انہوں نے اپنے اہم بیان میں کہا کہ جب ریلوے اسٹیشن، فلائٹ آپریشنز اور جی ٹی روڈ کھلے ہیں تو ہوٹل کاروبار کیوں بند کرایا جا رہا ہے؟ دوسرے شہروں سے روزگار کے لیے آنے والے متوسط اور غریب افراد مہنگے ہوٹل افورڈ نہیں کر سکتے، ہوٹلز بند ہونے کی صورت میں ان کی رہائش کا متبادل انتظام کون کرے گا؟شیخ عبد الوحید نے واضح کیا کہ ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہم کسی جماعت کے سہولت کار تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ ہمارا مقصد کاروبار چلانا، روزگار فراہم کرنا اور مسافروں کو محفوظ و پرسکون رہائش دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں قیام کرنے والے ہر مسافر کے کوائف باقاعدہ رجسٹرڈ کیے جاتے ہیں اور یہ ڈیٹا آئی جی پنجاب سمیت متعلقہ تھانوں کے پاس موجود ہوتا ہے، اس لیے ہوٹل انڈسٹری کو اجتماعی طور پر بند کرنا تشویش کا باعث ہے۔صدر انٹر سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہوٹل انڈسٹری اہم ٹیکس دینے والے شعبوں میں شامل ہے، 98 فیصد ہوٹل مالکان فائلر ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ٹیکس دینے والی صنعت کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ ہوٹل مالکان اور عملہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور تمام ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور قانون کی پاسداری کے لیے تیار ہیں۔ ملکی وقار اور قانون کے احترام میں ہم ہمیشہ اداروں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔شیخ عبد الوحید نے وفاقی و صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور اپیل کی کہ ہوٹل انڈسٹری بند نہ کی جائے اور ہزاروں سفید پوش ملازمین کو بے روزگار ہونے سے بچایا جائے۔ جب دیگر کاروبار اور آمدورفت کے ذرائع کھلے ہیں تو صرف ہوٹل انڈسٹری کو بند کرنا ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروبار کھلے رکھے جائیں، روزگار کا تحفظ کیا جائے اور ہوٹل انڈسٹری کو بلاجواز بند نہ کیا جائے،
