Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • دوسرا ٹیسٹ، پاکستان کو16سال بعد لارڈز ٹیسٹ میچ میں شکست، سیریز انگلینڈ کے نام
    • ٹرمپ کا ’’لیک امریکا‘‘ نام، کینیڈین وزیراعلیٰ کا کرارا جواب، ڈگ فورڈ نے جھیل کے کنارے ’’لیک اونٹاریو‘‘ کا بڑا سائن لگا دیا
    • پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے، پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا
    • جمائما خان بیٹوں کے ہمراہ لارڈز ٹیسٹ میچ اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھا
    • کوئٹہ میں پانی کا بحران سنگین، یومیہ 2 کروڑ گیلن کمی کا سامنا
    • کوئٹہ میں مو سم تبدیل، سرد ہواؤں کا آغاز
    • پاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقرر
    • محمد عباس کا لارڈز میں تہلکہ، 4 اننگز میں 17 وکٹیں اور اوسط 11.41
    • قومی کرکٹرز کی خراب تکنیک پر محمد یوسف برہم، کوچز پر بھی شدید تنقید
    • آر ایس ایس سربراہ کے دورہ امریکا پر خالصتان حامی سکھوں کا احتجاج
    • مائیکل وان کی پاکستانی بیٹنگ پر کڑی تنقید، کاؤنٹی ٹیم سے تشبیہ
    • بلاول بھٹو کی شادی کی افواہوں پر مرتضیٰ وہاب نے کیا کہا؟
    • جاوید میانداد اور معین خان کے بعد باسط علی بھی عمران خان کیلئے میدان میں
    • سونے کی قیمت میں بڑا کریش، فی تولہ 15 ہزار روپے سے زائد کمی
    • انسپکٹر جمشید بڑے پردے پر، ’دی سیکرٹ پرچمنٹ‘ کا ٹریلر ریلیز
    • کنزا ہاشمی، زارا نور عباس اور اُشنا شاہ ایک ساتھ فلم ’شیروز‘ میں جلوہ گر
    • خیبرپختونخوا حکومت ای وی بائیکس سکیم متعارف کرانے کا فیص
    • خیبرپختونخوا حکومت نے خواتین کیلئے ای وی بائیکس سکیم متعارف کرانے کا فیص
    • پمز سانحہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم
    • امام الحق اکثر ڈرامے کرتے ہیںلارڈ ٹیسٹ میں انجرڈ نہیں تھے سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے راز کھول دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ”مشیر خارجہ اپنی آواز میں جوش و جذبہ پیدا کریں تا کہ بھارت کو دھمکیوں کا جواب مل سکے“ نامور اخبار نویس ضیا شاہد کی چینل ۵کے پروگرام میں گفتگو

    By Daily Khabrainدسمبر 14, 2016
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    zia shahid
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سڑکوں پر نہیں آئے گی، زیادہ سے زیادہ مطالبات منوانے کیلئے حکومت پر دباﺅڈال رہی ہے۔ اگر آصف زرداری چاہتے ہیں کہ نئی پیپلزپارٹی بلاول پیروں پر کھڑی کرے تو انہیں اپنی سیاست کی قربانی دینا ہو گی۔ زرداری عقلمندی کا مظاہرہ کریں تو 27 دسمبر کو بھی پاکستان واپس نہ آئیں۔ تحریک انصاف کا اسمبلی میں جانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ متعدد بار کہا کہ سڑکوں کے بجائے اسمبلی میں لڑائی لڑیں۔ چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول جو بھی کہتے ہیں اس پر عمل پیرا ہو کر دکھائیں تا کہ لوگوں کے ذہن سے شکوک و شبہات دور ہوں۔ ان کا آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا تیر تو نشانے پر نہیں بیٹھا۔ بلاول کے نام کے ساتھ ایک کے بجائے 3 بار بھی چیئرمین لکھ دیں تو بھی اصل چیئرمین آصف زرداری ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پی پی کی مضبوطی، لوگوں کے رجحان کو مضبوط کرنے کے لئے، پارٹی کو پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے آصف زرداری جتنی کم مداخلت کریں گے، بلاول کیلئے لوگوں کو ساتھ ملانا اتنا ہی آسان ہو گا۔ اگر زرداری 2018ءکے انتخابات سے ایک دن پہلے بھی واپس آ گئے تو یہی سمجھا جائے گا کہ پارٹی میں انہی کی پالیسی چل رہی ہے۔ آصف زرداری اپنی اننگز کھیل چکے ہیں۔ حالانکہ پی پی کے باغی گروپ صفدر عباسی اور ناہید خان کے بقول بے نظیر کی وصیت ہی جعلی تھی۔ محترمہ نے کبھی نہیں کہا تھا کہ زرداری کو پارٹی کا سربراہ بنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے نوازشریف کے ساتھ تعلقات کافی اچھے ہیں۔ دونوں بحران کے وقت ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ خواجہ آصف چاہے دبئی شادی میں گئے تھے لیکن سب کو معلوم تھا کہ وہ وہاں آصف زرداری سے ملاقات کر کے نئے آرمی چیف کے بارے مشاورت کرنے گئے۔ یہی ہوا کہ خواجہ آصف کی واپسی کے بعد تمام معاملات جلدی جلدی نمٹا دیئے گئے۔ پیپلزپارٹی مفاہمت کی فضاءپیدا کر رہی ہے تا کہ الیکشن کمیشن اور نیب سمیت تمام اداروں کے چیئرمین اور نگران حکومت کے بارے مل جل کر فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا اسمبلی میں جانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ صرف سیٹوں کی کمی کے باعث اسمبلی نہ جانے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ جب نوازشریف جیتے تھے تو پی پی کا تقریباً خاتمہ ہو گیا تھا لیکن وہ پھر بھی اسمبلی میں آتی رہی۔ ایوب خان کے دور میں 8,8 لوگوں کی اپوزیشن نے حکمرانوں کو آگے لگائے رکھا۔ اپوزیشن اسمبلی میں اگر تیاری کر کے جائے تو حکومت کے غلط فیصلوں میںرکاوٹ بنا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے ایک نہ ہونے کی دو وجوہات بتائیں، ایک تو تحریک انصاف نے نون لیگ اور پی پی کی قیادت اور قائدین کو کرپٹ قرار دیا اور دوسری انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں میثاق جمہوریت کے تحت باریاں لے رہی ہے۔ مشرف بھی این آر او کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر نہیں مانتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مان لیں کہ اسمبلی فلور پر کی گئی بات بھی جھوٹ ہو سکتی ہے تو اسمبلیوں کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اب تک یہی سنا تھا کہ کوئی رکن اسمبلی، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ اسمبلی فلور یا صوبائی سطح پر غلط بیانی کرتا ہے تو اس کی سخت سزا ہے۔ حیران کن بات ہے کہ اسمبلی میں سیاسی تقریر اور اصل حقائق کچھ اور ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو بھارت کے ساتھ انہیں کسی زبان سے نمٹنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے ہمارے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی آواز کمزور ہے۔ حکومت وزیرخارجہ لانے کو تیار نہیں۔ وزارت خارجہ کی آواز میں للکار، جوش نظر نہیں آتا۔ خواجہ آصف کھڑک دھڑک کے ساتھ بولتے ہیں لیکن انہیں بھارت کے بیان پر پاگل کہنے کے بجائے انہی کے انداز میں جواب دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواجہ آصف مجھ سے کہیں کہ نصیحت کرنے کے بجائے خود کچھ کر کے دکھاﺅ تو چند گھنٹوں میں لسٹ فراہم کر دوں گا کہ بھارت کے کتنے علاقوں میں مرکز کے خلاف علیحدگی کی موومنٹ چل رہی ہے۔ وہ کس سن میں بنی تھی اب تک کتنی جھڑپیں ہو چکی ہیں، کتنی جگہ پر آرمی کو بھیجنا پڑا، کتنی جگہ پولیس کے ہمراہ سپیشل فورس پہنچتی ہے اور ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر ورلڈ بنک کا ایک ماہ کا وقت دینا احمقانہ جواب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیں پانی کے قطرے قطرے سے محتاج کر دے گا لیکن ورلڈ بینک کی معصومیت ہے کہ کہتا ہے کہ پہلے خود فیصلہ کر لیں، نہیں ہوا تو ایک ماہ بعد دیکھیں گے۔ ورلڈ بنک نے کچھ کرنا ہوتا تو ابھی کرتا ایک ماہ کے وقت نہیں دیتا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ عدالتوں کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن بدقسمتی سے ماضی کے تجربات نے عوام کو ایک بات سیکھا دی ہے کہ یہاں معاملات اتنا طول پکڑ جاتے ہیں کہ جنازہ نکلتے وقت فیصلہ آتا ہے۔ ساری دنیا باتیں کر رہی ہے کہ پانامہ کیس کا بنچ نہیں ٹوٹنا چاہئے تھا۔ جب چیف جسٹس آف پاکستان کو معلوم تھا کہ چھٹیوں پر بھی جانا ہے اور پھر ریٹائرڈ ہو رہے ہیں تو پہلے ہی روز کسی اور جج کو تعینات کر دیتے۔ اگر ہاں یا نہ میں ریفرنڈم کروایا جائے کہ ”کیا آپ اعلیٰ عدالتوں کے نظام سے متفق ہیں“ تو نتائج سامنے آ جائیں گے۔ اس اسمبلی اور اس عدالت سے پانامہ کیس پر کچھ نہیں نکلے گا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل کو اس بات پر مبارکباد دیتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی تو ایسا نکلا جس نے الزام لگنے پر استعفیٰ دے دیا۔ وہ بھی چاہتے تو حیلے بہانوں سے معاملہ کو طول دے سکتے تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا بنچ ہو یا کمیشن صرف احتساب چاہتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کوئی فیصلہ نہ لے کر مایوس کیا۔ کوئی تو ادارہ ہو جو شریف فیملی کا احتساب کرنے۔ وزیراعظم کے خاندان سمیت بہت سے لوگوں کے پانامہ لیکس میں نام ہیں۔ چاہتے ہیں کہ شروعات وزیراعظم سے ہو، پھر سب کا احتساب ہو۔ سرکاری وکیل نے خود کہا کہ ریکارڈ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے اسمبلی میں سیاسی تقریر کی تھی۔ یہ ثبوت بھی کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اور باہر کرپشن کے خلاف تحریک جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن متحد ہو کر جدوجہد کرے تو کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ اسمبلی جانے کا فیصلہ اچانک نہیں۔ بہت دیر سے یہ زیرغور تھا۔ پی ٹی آئی اسمبلی کی مختلف کمپنیوں میں پہلے سے ہی شرکت کر رہی ہے۔ محسوس کیا جا رہا تھا کہ حکومت 24 ویں ترمیم لانے پر بضد رہی تو اپنا موقف پیش کرنے کیلئے اسمبلی جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی جانے کیلئے حکمت عملی طے کر لی ہے، پانامہ ایشو پر وزیراعظم کی تقریر پر اسمبلی میں بحث کریں گے اگر وزیراعظم اسمبلی آ گئے تو بائیکاٹ کر جائیں گے۔ سپیکر نے مداخلت کی تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں دو رائے ہے، 27 دسمبر تحریک کے خدوخال تاحال سامنے نہیں آئے۔ اگر پیپلزپارٹی رابطہ کرے گی تو ضرور جواب دیں گے۔ ماہر قانون دان خالد رانجھا نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اگر قومی اسمبلی میں ثبوت پیش کر دے تو وزیراعظم کی چھٹی کرا سکتی ہے۔ لیکن چونکہ میجورٹی حکومتی پارٹی کے پاس ہے لہٰذا ان کے خلاف کوئی تحریک پاس ہوتی نظر نہیں آتی۔ پی ٹی آئی پوری تیاری کے ساتھ اسمبلی جائے، ثبوت پیش کرے تو پھر اسپیکر بھی کچھ نہیں کر سکتے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے، پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا

      کوئٹہ میں پانی کا بحران سنگین، یومیہ 2 کروڑ گیلن کمی کا سامنا

      کوئٹہ میں مو سم تبدیل، سرد ہواؤں کا آغاز

      تازہ ترین

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.