لاہور (سیاسی رپورٹر) پاکستان کے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے میں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر آخری مرحلے پر مسلم لیگ (ن) نے ہمارا ساتھ نہ دیا لہٰذا نیا صوبہ نہ بنایا جا سکا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے آئین میں چار صوبوں کا ذکر ہے۔ مزید صوبے بنانے کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے جس کیلئے قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ چاہئیں۔ بعدازاں سینٹ سے بھی اس طرح کی منظوری درکار ہو گی۔ کراچی سے خبریں لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ نیا صوبہ بنانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے پنجاب اسمبلی ایک قرارداد منظور کرے کہ وہ اپنے صوبے کو دو یا تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ یہ انتہائی دلچسپ بات ہے کہ ان دنوں پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت اور شہباز شریف صاحب وزیر اعلیٰ تھے۔ اس کے باوجود ہم نے پنجاب کی تقسیم کے مطالبے پر اتنی محنت کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کو بھی جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا اور دیگر اضلاع کے ایم پی اے حضرات نے بھی ہماری حمایت کی اور پنجاب نے یہ قرارداد منظور کر لی کیونکہ جنوبی پنجاب سے اس کیلئے بہت دباﺅ تھا اور ہماری پارٹی نے بہت محنت کی تھی۔ اب ہمیں یہ مسئلہ لے کر سینٹ اور قومی اسمبلی دونوں وفاقی اداروں کے پاس منظوری کیلئے لے کر جانا تھا لیکن اُنہیں دنوں مخدوم احمد محمود صاحب نے پنجاب میں تیسرے صوبے یعنی بہاولپور کی قرارداد پیش کروا دی۔ہم نے سنیٹر فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں جنوبی پنجاب میں الگ صوبہ بنانے کیلئے کمیٹی قائم کی جس نے عوامی حلقوں مسلمہ سیاستدانوں، دانشوروں، شعروں، ادیبوں سے روا جمع کرنا شروع کر دیں۔ پنجاب اسمبلی میں ایک اور صوبے کی قرارداد منظور ہوئی تھی جبکہ بہاولپور کو ساتھ ملا کر ہر تعداد 3 تک پہنچ جاتی تھی جس کیلئے پنجاب اسمبلی میں بھی دوبارہ منظوری لینا پڑتی۔ سینٹ آف پاکستان میں پنجاب کے دو حصے کرنے کیلئے مسئلہ لے جایا گیا۔ سینٹ کی پارلیمانی کمیٹی آف لاءاینڈ جسٹس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس قرارداد کو منظور کر لیا۔ اُن دنوں مسلم لیگ ن کے سوا فنگشنل لیگ ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں نے بھی اس مسئلے پر ہماری حمایت کی۔ البتہ مسلم لیگ (ن) نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ اب یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں آنا تھا اور اگر قومی اسمبلی منظور کر لیتی تو پھر اسے سینٹ بھی جانا تھا لیکن مسلم لیگ ن کی حمایت اس لیے ضروری تھی کہ دو تہائی اکثریت درکار تو کیا اکثریتی ارکان بھی موجود نہ تھے۔ قومی اسمبلی میں کل 119 ووٹ تھے جبکہ وزیر اعظم بننے کیلئے 172 ووٹ درکار تھے۔ مجھے تو پہلے ہی 50 ووٹ دوسری پارٹیوں سے لینے تھے۔ مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں ہمارا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ میں اس دوران چاہتا تھا کہ پنجاب اسمبلی نے چونکہ ایک اور صوبے کی قرارداد منظور کی ہے لہٰذا بہاولپور کو صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا تو ایک صوبہ بھی نہیں بن سکے گا۔اسلامک یونیورسٹی بہاولپور میں PHD کرنے کو گولڈ میڈل کرنے کی تقریب میں اس تقریب میں گیا اور بہاولپور تحریک والوں کو یہاں تک پیشکش کی کہ تیسرے صوبے کا مطالبہ دوسرے صوبے یعنی جنوبی پنجاب کے مطالبے کا بھی راستہ روک لے گا۔ میں نے کہا آپ لوگ پنجاب کے دو حصے تو بننے دیں اور جنوبی پنجاب نام منظور نہیں تو نئے صوبے کا نام بہاولپور رکھ لیں لیکن مسلم لیگ (ن) نے ایک بار پھر سارا منصوبہ ناکام کر دیا اور قومی اسمبلی میں اس بل کی منظوری روک لی اور پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار احمد چودھری نے دن رات ایک کر کے مجھے وزارت عظمیٰ ہی سے فارغ کروا دیا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے میں اُس شخصیت کا نام نہیں بتاﺅں گا لیکن ایک بہت اہم عہدے پر فائز شخصیت نے میری فراغت پر میرے کان میں سرغوشی کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبہ رکوانے کیلئے کتنی تگ ودو کی گئی ہے جس کے نتیجے میں آپ کو گھر بھجوایا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میں خود سرائیکی زبان اور تہذیب سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن بہاولپور سے الگ صوبے سے مطالبے کے بارے میں میری رائے یہ تھی کہ پنجاب اسمبلی سے کرائی جانے والی جنوبی پنجاب کی قرارداد پنجاب میں تیسرے صوبے بہاولپور کا مطالبہ کرنے سے رُک جائے گی اس لیے میں نے سرائیکی صوبے کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے جنوبی پنجاب کی اصطلاع کو پسند کیا تھا جس میں بہاولپور بھی شامل ہو جائے یا جنوبی پنجاب کی طاقت بھی پنجاب کے دوسرے صوبے بہاولپور نئے صوبے کے ساتھ شامل ہو جائے۔ تاکہ پنجاب کے تین نہ سہی دو حصے تو ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ میری بھرپور کوشش کے باوجود یہ کام نہ ہو سکا اور ایک طرف مسلم لیگ ن کف وفاقی حکومت نے اور دوسری طرف جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے مابین رسہ کشی نے پنجاب میں نیا صوبہ بھی نہ بننے دیا جس کیلئے سینٹ میں موجود جماعتیں بھی تیار تھی اور وفاقی حکومت جس کی سربراہی پیپلزپارٹی کر رہی تھی وہ بھی دل وجان سے پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی تھی۔ مسلم لیگ ن کو خیر ہماری مخالف سیاسی جماعت تھی اور ان سے کہا گلہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے علاقے جنوبی پنجاب ہو یا بہاولپور کے بعض بھولے اور سادہ لوگوں نے بھی صورتحال کی نزاکت کو محسوس نہیں کیا اور یہ کام جو آسانی سے کیا جا سکتا تھا نامکمل رہ گیا۔ پاکستان جس کے تین صوبے مل کر بھی آبادی اور وسائل میں غیر منقسم پنجاب کے برابر نہیں آتے۔ جنوبی پنجاب بنتا یا بہاولپور جس میں ملتان بھی شامل ہوتا بہت سے سیاسی مسائل کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے انتظامی اور مالیاتی مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ہم پنجاب میں نیا صوبہ نہ بنوا سکے اور حیرت اس بات پر رہی۔ مسلم لیگ ن جو پنجاب کی صوبائی اسبمبلی میں اکثریت رکھتی تھی پہلے مرحلے پر تو جنوبی پنجاب کی قرارداد منظور کر لی لیکن دوسرے مرحلے پر قومی اسمبلی میں ہمیں دو تہائی کی اکثریت حاصل کرنے سے روک دیا۔
سابق وزیراعظم بھی بول پڑے …. اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا

