کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں نئے خطرے نے سرا±ٹھا لیا، پراسرار بیماری چکن گونیا وائرس سے شاہ فیصل کالونی اور ملیر میں سیکڑوں افراد بیمار پڑگئے۔ مچھروں سے پھیلنے والے بیمار سے ایک ماہ میں چالیس ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان میں وائرس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔گھٹنوں، ہتھیلیوں اور ٹخنوں سمیت جسم کا جوڑ جوڑ تکلیف اور سوجن کا شکار ہوجاتا ہے، ایک سو چار درجہ حرارت تک کا جان کو ہلکان کردینے والا بخار اس بیماری میں چڑھتا ہے، یہ پراسرار بیماری کراچی کے ضلع ملیر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ڈاکٹر پراسرار بیماری کی تشخیص نہ کرسکے، مگر ماہرین کے نزدیک علامات بتارہی ہیں کہ یہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی وبا چکن گونیا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی فہرست میں پاکستان ان چالیس ممالک میں شامل ہے، جہاں چکن گونیا کا خطرہ موجود ہے۔ دو ہزار چھ میں چکن گونیا نے بھارت میں پندرہ لاکھ افراد کو متاثر کرکے تباہی پھیلادی تھی اور ڈاکٹر بھی وبا سے نہ بچ سکے۔پہلے ڈینگی نے تباہی پھیلائی اور اب چکن گونیا نے دستک دیدی۔ ڈاکٹر پراسرار بیماری کی نوعیت سے ہی اب تک لاعلم ہیں۔ تین کروڑ کی آبادی والے شہر پر خوف ناک وبا کی تلوار لٹک رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم پیر کو اسلام آباد سے کراچی پہنچے گی جو اس بیماری کے سدباب کیلئے کام کرے گی۔ اس بیماری میں متاثرہ مریض کے ہاتھ پاﺅں مفلوج ہو جاتے ہیں۔
کراچی میں نئی بیماری چکن گونیا وائرس …. ہاتھ پاﺅں مفلوج …. شہری خوفزدہ

