سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جنرل راحیل شریف کے دورِ کمان میں بآسانی پاکستان سے باہر جانے میں کامیاب ہوئے۔ جس کا تذکرہ ذرائع ابلاغ میں تواتر سے ہو رہا ہے۔ انہیں حکومتی اجازت ملنے کی انہونی کے پیچھے جنرل راحیل شریف کی خواہش سمجھی جاتی ہے کیونکہ پرویز مشرف جنرل راحیل شریف کے اعلیٰ افسر ہی نہیں بڑے بھائیوں جیسے سرپرست تھے۔ لال مسجد کیس اور اکبر بگٹی قتل کیس میں پرویز مشرف اعلیٰ اور ادنیٰ عدالتوں کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ گو دونوں مقدمات جنرل پرویز مشرف کے خلاف بحیثیت فرد غیر منطقی اور صریحاً بغض پر مبنی ہیں۔ جس پر مزید رائے زنی مناسب نہیں لیکن پرویز مشرف کی ”علالت“ کو جواز بنا کر عدالتوں میں حاضری سے بچا لیا گیا۔ جس میں جنرل راحیل شریف ممدو معاون ثابت ہوئے۔ ملٹری ہسپتال میں داخلہ تھا یا باحفاظت ان کے قلعہ نما گھر تک پہنچایا جانا جنرل راحیل شریف کی منشاءکے بغیر ممکن نہ تھا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بحیثیت کور کمانڈر راولپنڈی انہیں تحفظ فراہم کیا تھا جو جنرل راحیل شریف کے احکامات کی تعمیل تھی۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے 5 ہفتے قبل سول ملٹری تعلقات میں تناﺅ آ گیا۔ جب انگریزی اخبار ”ڈان“ میں سرل المیڈا نامی صحافی کا ایک خبر نما مضمون شائع ہوا۔ جس میں آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان مبینہ طور پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ فسانہ طراز اپنی دلچسپی کے ڈائیلاگ گھڑ کر بے تکان ٹی وی چینلز پر ڈرامائی انداز میں رواں تبصرے کرنے لگے۔ عسکری ذرائع اور حکومت پنجاب کے علاوہ مرکزی حکومت نے بھی ایسے کسی واقعہ کی تردید کی۔ تاہم اخبار کے ذمہ داران اپنی بات پر قائم رہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوا کہ مذکورہ بالا واقعہ کلیتاً غلط نہیں تو بھی کچھ گڑ بڑ ضرور تھی۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ اور اس میں قائم میڈیا سیل متنازعہ خبر کے اثرات کی لپیٹ میں آ گئے۔ بعض تجزیہ کار علی الاعلان کہنے لگے کہ وزیراعظم کے ساتھ عرصہ دراز سے کام کرنے والی اہم شخصیت سب کچھ اگلنے پر تیار ہو گئی ہے۔ کسی وعدہ معاف گواہ کا متوقع بیان منظر عام پر آتے ہی ملک میں ایک نیا سیاسی بھونچال آ جائے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آئی ایس آئی کسی اہم شخصیت کو اٹھانے والی ہے۔ یہ سب قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں اور آزمودہ منفی صحافتی نسخے کے طور پر استعمال ہوئیں۔ البتہ بعض ذرائع نے یہ ضرور بتایا کہ عسکری قیادت نے اس معاملے کو سنجیدہ لیا تھا اور حکومت نے فوج کی تسلی کے لئے جو اقدامات اٹھائے ان میں وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا استعفیٰ وزیراعظم نے اس لیے طلب کیا کہ وہ خبر کی اشاعت رکوانے میں ناکام رہے۔ اس خبر کے ”لیک“ ہونے کا الزام قریباً نصف درجن شخصیات پر عائد کیا جاتا رہا۔ ایک معتبر میڈیا گروپ سے رابطہ کیے جانے اور خبر چھپوانے کی ناکام کوشش کے بعد ”ڈان“ کو مخصوص شناخت کی بناءپر منتخب کیا جانا زیر بحث رہا۔ خبر درست تھی یا غلط یہ بات ماند پڑ گئی، سوال یہ اٹھنے لگے کہ فوج کے خلاف یہ کھیل کیوں کھیلا گیا۔ حکومت فوج کو کبھی ناخوشگوار صورتحال سے کیوں دوچار کرنا چاہتی تھی۔ سرل المیڈا کے امریکی صدارتی انتخابات کی کوریج کی آڑ میں ملک سے روانگی بھی زیر بحث رہی۔ جو صحافی ہونے کے ناطے اپنا ذریعہ خبر عیاں کرنے کے پابند نہیں لیکن آج بھی اپنی اس رائے پر قائم ہیں کہ ان کی خبر غلط نہیں تھی۔ سرل المیڈا کے مضمون کو صریحاً من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس مضمون کی اشاعت پر عسکری قیادت کا اظہار ناراضی اور حکومت کی تشویش کے حوالے سے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی سنائی دیتی رہی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ایسی کوئی سازش فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش ہو سکتی تھی۔ کیونکہ فوج نے جنرل راحیل شریف کی کمان میں عوام کے دلوں میں گھر کر رکھا تھا۔ حکومت نے تحقیقات کے آغاز میں کافی پھرتی دکھائی اور اس خبر کے لیک ہونے کا مورد الزام ٹھہرانے کے لئے جسٹس ریٹائر عامر رضا کی سربراہی میں کمیشن بنایا جو جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ تک کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک مشہور و معروف تجزیہ کار نے اپنے پروگرام میں یہ کہا کہ جنرل راحیل شریف ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل تک اعلیٰ حکومتی شخصیت کی قریبی غیر حکومتی شخصیت کو گرفتار کرنے والے تھے جو صرف داستان گوئی ہے۔ یا ان کی ذاتی پرخاش جوں جوں جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ قریب آتی گئی نیوز سکینڈل گوشہ گمنائی کی طرف چلتا رہا۔ جس کا انجام ماضی کے میمو گیٹ سے مختلف نہیں ہوگا۔ رہا فوجی وکالت کا مسئلہ تو وہ جنرل راحیل شریف کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذمہ داری ٹھہرا۔ برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر ”نیکولس کارٹر“ نے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے قبل اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جنرل راحیل شریف عسکری دنیا کے بہترین آرمی چیف ہیں وہ ان کے نہ صرف ذاتی دوست ہیں بلکہ ایک انتہائی پیشہ ور اور اعلیٰ عسکری اقدار کے حامل جنرل بھی۔ افواج پاکستان اور پاکستانی شہریوں کی دہشتگردی کےخلاف قربانیاں قابل ستائش ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی بطور پاکستان آرمی چیف کارکردگی انتہائی متاثر کن ہے۔ جنرل راحیل شریف کے ان اوصاف کی وجہ سے ان کو دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان اور پاکستانی فوج انتہائی دشوار حالات میں دہشتگردی کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کامیاب کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج دنیا کی منجھی ہوئی عسکری قوت ہے۔ (جاری ہے
نامور لکھاری ، عہد ساز صحافی ضیا شاہد اور دفاعی تجزیہ کار مکرم خان کے مقبول کالم کی 26 ویں قسط

