تازہ تر ین

لیکچرار پلے بوائے ، جنسی بلاء…. جنسی انکشاف نے سندھ کو ہلا کر رکھ دیا

کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ نائلہ رند کی خودکشی یا قتل‘ تحقیقات کا آغاز‘ طالبہ کی خودکشی کے حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری۔ سال نو کا آغاز ہوتے ہی سندھ یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ نائلہ رند کی پہلی خودکشی کی خبر ملی۔ یونیورسی کی ذہین طالبہ کی خودکشی کے واقعہ سے یونیورسٹی کے طلباءو طالبات میں جہاں خوف و ہراس پھیل گیا وہاں گرلز ہاسٹل کی طالبات کی نائلہ رند کی پنکھے سے لٹکتی نعش دیکھ کر طالبات کی چیخیں نکل گئیں۔ سندھ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طالبہ نائلہ رند کے واقعہ کو خودکشی قرار دیا جارہا ہے جبکہ پولیس نے مختلف پہلوﺅں سے تفتیش کرکے اس واقعہ کو جہاں خودکشی قرار دیا ہے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ پھر بھی ہم ہر پہلو سے تحقیقات کریں گے تاکہ تفتیش مکمل ہوسکے۔ سندھ یونیورسٹی کی ذہین اور پوزیشن ہولڈر طالبہ نائلہ رند کی خودکشی کے واقعہ کے حوالے سے متضاد باتیں آرہی ہیں۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ نائلہ رند نے گھریلو حالات پریشانیوں سے تنگ آکر خودکشی کی ہے‘ تاہم نائلہ کے اہل خانہ کی جانب سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نائلہ رند نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی نہیں کی‘ اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ نائلہ رند کی کوئی گھریلو پریشانی نہیں تھیں اور ہماری بہن پوزیشن ہولڈر اور یونیورسٹی کی ذہین طالبہ تھی۔ پولیس افسران نائلہ رند کے خودکشی کے واقعہ کی گتھی سلجھانے کے لئے تفتیش کررہے ہیں اور نائلہ رند کے ورثاءنے بھی پولیس افسران کی تفتیش کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کا ماروی ہاسٹل جہاں یونیورسٹی میں پڑھنے والی طالبات رہائش پذیر ہیں ان ہی طالبات کے ساتھ سندھ یونیورسٹی کی ذہین اور پوزیشن ہولڈر طالبہ نائلہ رند رہائش پذیر تھی جو کہ چھٹیاں گزار کر اپنے ہاسٹل پہنچی اور اس کی نعش ماروی ہاسٹل میں اس کے کمرے میں پنکھے سے لٹک رہی تھی۔ طالبہ نائلہ رند کی نعش پنکھے سے لٹکتی دیکھ کر دیگر طالبات کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اطلاع دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ماروی ہاسٹل پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا تو وہاں طالبہ نائلہ رند کی نعش پنکھے سے لٹک رہی تھی۔ نائلہ رند کے واقعہ کو خودکشی قرار دے کر یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے نعش کا معائنہ کیا اور جائے وقوعہ پر شواہد اکٹھے کئے اور کمرے میں رکھی ہوئی ہر چیز کا بغور جائزہ لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ایس ایچ او جامشورو طاہر مغل نے واقعہ کے بارے میں اعلیٰ پولیس افسران کو اطلاع دی جس پر ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت سمیت دیگر افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کی نعش پنکھے سے اتار کر ایمبولینس کو طلب کرکے نعش کا پوسٹ مارٹم کرانے کے لئے سول ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کی۔ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹرز نے طالبہ نائلہ رند کی نعش کا معائنہ کرکے پولیس افسران کو بتایا کہ نائلہ کی موت گردن میں پھندا لگنے کے باعث ہوئی ہے۔ لیڈی ڈاکٹرز نے طالبہ نائلہ رند کی نعش کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد نعش ورثاءکے حوالے کردی۔ متوفیہ کے بھائی نثار رند نے اپنی بہن کی نعش وصول کی۔ متوفیہ کے بھائی نثار رند نے بتایا کہ اس کی بہن کو کوئی گھریلو پریشانی نہیں تھی اور وہ خوش و خرم تھی۔ خودکشی کرنے کے حوالے سے کوئی وجہ نہیں‘ وہ تو ہمارے گھر کی لاڈلی اور والدین گھر والوں کی پیاری تھی۔ متوفیہ نائلہ رند کی نعش ورثاءاپنے ہمراہ لے کر گاﺅں قمبر مستوئی محلہ پہنچے تو کہرام مچ گیا۔ ورثائ‘ رشتے دار دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ متوفیہ کو غسل کفن کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جنازہ اٹھا تو کہرام مچ گیا متوفیہ کو سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ متوفیہ نائلہ کے ورثاءنے جامشورو پولیس کو فری ہینڈ دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر شفاف طریقے سے تفتیش کرے کہ طالبہ نائلہ کو قتل کیا گیا ہے یا اس نے خودکشی کی ہے۔ پولیس نے طالبہ کے کمرے میں موجود اس کا موبائل فون اور دیگر سامان تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت نے بھی سندھ یونیورسٹی جامشورو ماروی ہاسٹل پہنچ کر یونیورسٹی انتظامیہ کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کرکے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ ایس ایس پی طارق ولایت کا کہنا ہے کہ طالبہ نائلہ کی خودکشی یا قتل کے حوالے سے ہر پہلو سے تفتیش کررہے ہیں۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد باریک بینی سے معلومات حاصل کیں اور تفتیش کے بعد پولیس نے بعض مقامات پر چھاپے مارے اور سندھ یونیورسٹی کے بعض ملازمین سے بھی سختی سے معلومات کیں تو پولیس کو پتہ چلا کہ ماروی ہاسٹل کے بعض ملازمین ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیوں کو خاص مہمانوں سے ملاقاتیں کرانے کے لئے مبینہ طور پر رشوت لیتے ہیں اور پھر پولیس نے مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کیا اور ڈیٹا کی مدد سے پولیس نے چھاپہ مار کر ایک ملزم انیس خاصخیلی کو حراست میں لیا جو کہ ایک نجی کالج کا لیکچرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے ملزم کا لیپ ٹاپ اور دیگر سامان تحویل میں لے لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کی مبینہ خودکشی کے واقعہ کے حوالے سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے رابطہ کیا اور واقعہ کے حوالے سے تحقیقات کرکے رپورٹ فراہم کرنے کا کہا جس پر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ڈی آئی جی حیدر آباد خادم حسین رند کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو کہ طالبہ نائلہ رند کے واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔ پولیس نے نجی کالج کے لیکچرار انیس خاصخیلی کو گرفتار کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس افسران نے ملزم کے موبائل فون اپنے اور لیپ ٹاپ کا بھی معائنہ کیا اور لیپ ٹاپ اور موبائل ڈیٹا کے حوالے سے پولیس کو ایک ایس ایم ایس کے ذریعے کامیابی ملی اور پولیس نے ملزم سے تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا۔ سندھ یونیورسٹی کے ماروی ہاسٹل میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کے واقعہ کے بعد سول سوسائٹی نے بھی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا اور نائلہ رند کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ۔ سول سوسائٹی کے نمائندگان اور کارکنوں کے احتجاج کے بعد انتظامیہ پر پریشر پڑا۔ دوسری جانب سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کی سہیلی نسیم اختر ملاح جو کہ نائلہ کی موت کے بعد رو رو کر ہلکان ہوگئی تھی اور غشی کے دورے کے بعد اس کی حالت خراب ہوگئی تھی اور اس نے نائلہ کی موت کو خودکشی قرار نہیں دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ نائلہ رند کو قتل کیا گیا ہے۔ نائلہ رند کی مبینہ خودکشی کے واقعہ کے بعد اس کی پہلی نسیم اختر ملاح نے بھی اپنی جان دے دی۔ شمیم اختر ملاح کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ نائلہ رند کے ساتھ سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سندھی میں طالبہ تھی اور اپنا پرائیویٹ سکول چلاتی تھی اور سہیلی کی ہلاکت کے بعد صدمے میں جاں بحق ہوگئی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ نسیم اختر ملاح کا نائلہ رند سے کوئی تعلق نہیں اور اس کا انتقال بیماری کے باعث ہوا ہے۔ سول سوسائٹی کے مظاہرے جاری تھے۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو و انتظامیہ اور پولیس افسران پر پریشر تھا اور لوگ سندھ یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ نائلہ رند کی ہلاکت کے واقعہ کے بارے میں حقائق جاننا چاہتے تھے۔ قمر میں نائلہ رند کی تدفین کے بعد پورے شہر میں سوگ کا سماں‘ ہڑتال کی گئی اور سول سوسائٹی سمیت طالب علموں‘ تاجروں نے احتجاج شروع کردیا تھا اور پولیس سے ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند اور ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت پر پریشر تھا۔ پولیس افسران تحقیقات کر رہے تھے جبکہ ملزم انیس خاص خیلی سے بھی تحقیقات جاری تھی۔ پولیس اس کے موبائل فون کا ڈیٹا اور لیپ ٹاپ سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ماہرین اور الیکٹرانکس ماہرین سے بھی مدد لے رہی تھی۔ پھر پولیس کو ایک ایس ایم ایس سے کامیابی ملی۔ پولیس نے ملزمان سے تفتیش کی تو ملزم نے پولیس کے سامنے حقائق اگل دیئے۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت‘ ڈی ایس پی کوٹری خالداقبال کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں پنکھے سے لٹکتی طالبہ نائلہ رند کا معمہ حل کرلیا گیا ہے۔ نائلہ رند کو قتل کیا گیا ہے‘ اس نے خودکشی نہیں کی‘ ملزم انیس خاص خیلی جو کہ لیکچرار ہے اس کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزم فیس بک پر لڑکیوں سے دوستی کرکے ان کو محبت کا جھانسہ دے کر ان کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیو کلپز بنا کر لڑکیوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ نائلہ رند سے بھی ملزم نے فیس بک پر دوستی کی اور اس کو محبت میں پھانس کر شادی کا وعدہ کیا۔ملزم انیس خاص خیلی نے نائلہ رند سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا اور اس کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز کے کلپ بنا کر بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کیا اور طالبہ نائلہ رند کی جانب سے شادی کا مطالبہ کرنے پر بے وفائی ظاہر کی اور شادی کرنے سے انکار کردیا جس پر نائلہ رند نے صدمے کے باعث نیند کی گولیاں کھانا شروع کر دیں اور لیکچرار انیس خاص خیلی کی بے وفائی کے باعث نائلہ رند نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ دوشیزہ نائلہ رند کو ملزم انیس خاص خیلی نے اس قدر ذہنی و جسمانی ٹارچر کیا جس کے باعث نائلہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوئی۔ ملزم انیس خاص خیلی کو نائلہ رند کے قتل کا ذمہ دار قراردیا گیا اور ملزم کو پولیس نے باقاعدہ گرفتار کرکے جامشورو پولیس سٹیشن میں ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے ملزم کو سخت پہرے میں تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے بتایا کہ ملزم انیس خاص خیلی نے 30سے زائد لڑکیوں کو بلیک میل کیا اور ان کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کیا۔ ملزم کے حوالے سے پولیس کے پاس اتنے شواہد اور ثبوت ہیں کہ پولیس اس مقدمے میں ملزم کے خلاف چالان پیش کرے گی۔ ملزم نے سندھ یونیورسٹی ہاسٹل میں دہشت پھیلائی جس کے باعث اس کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ ملزم انیس خاص خیلی نے نائلہ رند کو شادی کا جھانسہ دیا اور شادی نہ کرنے اور نائلہ رند کو بلیک میل کرنے پر نائلہ نے صدمے میں خودکشی کی۔ ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ بنتا ہے۔ پولیس اس مقدمے کو دہشت گردی کورٹ میں چلائے گی۔ ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے بتایا کہ ملزم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ ملزم کو عمرقید کی سزا ہوجائے گی۔ ملزم نے 3ماہ قبل نائلہ رند سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا اور شادی کرنے کے سہانے خواب دکھائے۔ اس کا دل توڑا تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور خودکشی کرلی۔ ملزم کو پولیس نے سخت پہرے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا‘ جہاں عدالت نے ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم انیس خاص خیلی انتہائی چالاک ہے اور لڑکیوں کو بلیک میل کر کے ان کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوکلپ بنا کر ٹارچر کرتا تھا۔ ملزم کو سخت پہرے میں سی آئی اے منتقل کیا گیا ہے جہاں پولیس کے سینئر افسران کی ٹیم ملزم سے تفتیش کر رہی ہے۔ ملزم انیس خاص خیلی کے بارے میں پولیس افسران کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے کئے پر پشیمان ہے اور لاک اپ میں افسردہ بیٹھا رہتا ہے۔ پولیس افسران کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے خلاف اتنے ثبوت ہیں کہ اس کو اس مقدمے میں عمرقید کی سزا ہو جائے گی۔ ملزم نے نائلہ رند اور دیگر لڑکیوں کو ذہنی‘ جسمانی اذیت دی۔ ملزم کے خلاف دیگر لڑکیوں کے ورثاءنے بھی مقدمات درج کرنے کیلئے رابطے کئے تو ہم اس کے خلاف اور مقدمات درج کریں گے جبکہ اس واقعہ کے بعد سندھ یونیورسٹی میں طلباءو طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ طالبات نے ہاسٹل آنا چھوڑ دیا ہے۔ ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے طالبات کے والدین سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کو بھول کر اپنی بچیوں کو ہاسٹل بھیجیں‘ ہم تحفظ فراہم کریں گے۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں طالبہ نائلہ رند کی ہلاکت اور ملزم انیس خاص خیلی کی گرفتاری کے بعد پولیس نے مقدمے کی تفتیش میں مزید گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جامشورو پولیس کے مطابق پولیس نے سندھ یونیورسٹی کے بعض ملازمین سمیت انیس خاص خیلی کے ایک دوست کو بھی حراست میں لے کر ہاسٹل کاریکارڈ اور دیگر سامان لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ماروی ہاسٹل کے بعض ملازمین گرلز ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات کو بلیک میل کر کے مبینہ طور پر آنے والے مہمانوں کو ہاسٹل میں جانے کیلئے مبینہ طور پر رشوت طلب کرتے تھے۔ جامشورو پولیس نے نائلہ رند قتل کیس میں سندھ یونیورسٹی کے بعض کلرک اور ماروی ہاسٹل کے ملازمین کو حراست میں لے کر ہاسٹل کا ریکارڈ قبضے میں کیا ہے۔ واقعہ کو 10روز گزر چکے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ پولیس سے مبینہ طور پر تفتیش میں مدد نہیں کر رہی ہے۔ پولیس نے بعض افراد کی گرفتاریاں کی ہیں جن کو تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ ہاسٹل کے ملازمین سے تھانے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ سندھ یونیورسٹی میں مبینہ طور پر کرپشن میں مبتلا ملازمین کو ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت اپنے آفس میں طلب کر کے تفتیش کر رہے ہیں جس کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مبینہ طور پر پولیس کی تفتیش پر اثرانداز ہونے کیلئے پولیس افسران پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ تفتیشی پولیس افسران کا کہنا ہے کہ سندھ یونیورسٹی میں ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات کو ذہنی و جسمانی طور پر تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں مبینہ طور پر بلیک میل کر کے غلط کاموں پر مجبور کیا جاتا ہے۔ نائلہ رند کے قتل کے بعد سندھ یونیورسٹی میں مضبوط طاقتور بلیک میلر گروپ سامنے آیا اور اب اس گروپ نے خود کو بچانے کیلئے سفارش اور دباﺅ کا سہارا لیا ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ہاسٹلوں میں رہنے والی طالبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ کوئی سیاسی دباﺅ برداشت نہیں کیا جائے گا‘ جبکہ دوسری جانب ایک اور پولیس انکشافات کے مطابق سندھ یونیورسٹی ہاسٹلوں میں لیڈیز ٹیچرز کے بجائے شاگرد طالبات کو وارڈن بنایا گیا تھا۔ سندھ یونیورسٹی انتظامیہ کے بعض افسران و اہلکار بلیک میلر گروپ سے تعلقات رکھتے تھے اور ہاسٹلوں میں رہنے والی طالبات کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔ نائلہ رند کیس کی تفتیش کرنے والے افسران کی جانوں کو بھی خطرہ بتایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسران کو بااثر افراد دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ نائلہ رند کیس کو بند کر دیں اور تفتیش کو روک دیں ورنہ سنگین نتائج کیلئے تیار ہوجائیں۔ نائلہ رند کے ایک قتل کیس سے بلیک میلر گروپ کے خلاف ہونے والی کارروائی سے کئی انسانی زندگیوں کو خطرات ہیں تاہم ایماندار باہمت ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت کا کہنا ہے کہ وہ نائلہ رند کیس کے حقائق منظرعام پر لائیں گے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain