لاہور (خصوصی رپورٹ) دل کے سٹنٹ سیکنڈل ے بعد امرا ض گردہ اور مثانہ کی نا لیا ں کھولنے کیلئے استعمال کئے جا نیو الے یورالوجیکل سٹنٹ کا بھیانک فراڈ بھی سامنے آ گیا ہے۔ تحقیقاتی ر پو رٹ کے مطا بق لا ہور کے سر کا ر ی ہسپتا لو ں سمیت ملک بھر کے تما م مراکزصحت میں یورا لو جی کے شعبہ میں غیر رجسٹر رڈ اور غیر معیاری سٹنٹ استعما ل کئے جا ر ہے ہیں یہا ں تک کے سر کا ر ی ہسپتا لو ں کی انتظامیہ نے من پسند کمپنیو ں سے ما ر کیٹ کی قیمت سے 5سوسے 1ہزار گنا زائدریٹ پریورا لو جی کے سٹنٹ خر ید ے کمپنیا ں ہسپتالو ں کی انتظا میہ کی ملی بھگت سے بھا ر ت اور چا ئنہ سے تین سو سے پا نچ سو رو پے فی سٹنٹ خرید کر یورپ اور امر یکن کمپنیو ں کے سٹنٹ ظا ہر کے ہسپتا لو ں کو پا نچ ہزار سے 77سوتک فی سٹنٹ فرو خت کرتی ر ہی ۔ ایسا کر کے گزشتہ دس سالو ں میں کمپنیا ں مر یضو ں سے اربوں رو پے کا فرا ڈ کر چکی ہیں ۔ ر پو رٹ کے مطا بق پور ے ملک میں سپلا ئی کے جا نے والے مذکور ہ سٹنٹ میں سے کسی ایک کمپنی کا سٹنٹ ر جسٹر رڈ نہیں ہے ۔ ایسے غیر ر جسٹررڈ اور غیر معاوری یورا لو جی سٹنٹو ں کی بڑ ی منڈیا ں لا ہور ، کرا چی ، راولپنڈ ی ، فیصل آبا د اور ملتا ن سمیت پشاور ہیں۔ لا ہور کے تما م سر کا ر ی اور نجی ہسپتالوں میں یہ مکروہ د ھند ہ ہور ہا ہے جہا ں سے گردہ ، مثا نہ کی بند نا لیا ں کھو لنے کیلئے پیشاب کی بند ش اور پروسٹیٹ کی پرو سیجرزمیں یہ سٹنٹ استعما ل کیا جا تا ہے۔ ر پو رٹ کے مطا بق لاہور سمیت صو بہ پنجا ب کے د یگر سر کا ر ی اور نجی ہسپتا لو ں میں 16کے قریب مختلف کمپنیاں یورا لو جی سٹنٹ سپلا ئی کر رہی ہیں ۔ اور مختلف نامو ں سے سپلا ئی کئے جا نے والے تما م سٹنٹ ر جسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ڈر گ ر یگولیٹر ی اتھا رٹی نے ان کے ر یٹ مقر ر کئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطا بق لاہور کے ہسپتا لو ں سمیت د یگر شہر و ں کے ہسپتا لو ں میں کمپنیاں بھا رت اور چا ئنہ سے سستے دا مو ں یہ سٹنٹ منگواتی ہیں جو چور راستوں کے ذر یعے آتے ہیں ۔ بغیر نامو ں اور پیکنگ کے کلوگرام کے حساب سے سٹنٹ منگوائے جا تے ہیں اور خود ہی یو رپ اور امر یکن کمپنیو ں کے نا مو ں سے پیکنگ کرکے ہسپتا لو ں کو سپلا ئی کر دئیے جا تے ہیں۔ یہ دھندا سر کا ر ی ہسپتا لو ں کی انتظا میہ کے علم میں لیکن انتظامیہ مرا عات لیکر خاموش ر ہتی ہے ۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ یہ سٹنٹ مارکیٹ میں ایک ہزا ر رو پے سے 15سورو پے تک دستیا ب ہے مگر سر کا ر ی ہسپتا لو ں میں فی سٹنٹ 5سے 7ہزار رو پے میں خریدے جا تے ہیں ۔ اس حوالے سے بعض سر کا ر ی ہسپتا لو ں کے ڈا کٹروں کا کہنا ہے کہ یہ سٹنٹ غیر ر جسٹررڈ ہی نہیں غیر معیاری بھی ہیں اور اکثرفا ئد ے کے بجا ئے نقصا ن دیتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا غر یب مر یضو ں سے کھلا فراڈ ہو ر ہا ہے۔اس پر صو بائی وزیر صحت خواجہ سلمان ر فیق کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات ہو گئی اور با قاعدہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
یورالوجیکل سٹنٹ
دل کے جعلی سٹنٹ کے بعد یورا لوجیکل سٹنٹ کا سکینڈل بے نقاب

