لاہور (لیڈی رپورٹر) خواتین میںبھی اس و قت منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ۔منشیات اور دیگر نشوں میں ملوث اکثر خواتین کا تعلق برگر فیملی سے ہے۔ فلاحی اداروں کےساتھ ساتھ حکومت بھی لوگوں میں منشیات کے استعمال کو ترک کرنے کے متعلق آگاہی پیدا کر رہی ہے اس کے باوجود یہ وباءاب خواتین میں بھی بڑھتی جا رہی ہے۔منشیات کی روک تھام کے عالمی سطح پر بھی کام جاری ہے جیسے 26جون کو عالمی یوم انسداد منشیات منایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک اسکو روکنے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے ۔ اس وقت پور ی دنیا میں منشیات کی سب سے زیادہ مانگ یورپ میں ہے۔بہت سی یونیورسٹیز میں طالبات نشے کی لت میں مبتلا ہےں۔ والدین جو اپنے بچوں کو روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں ان کی بچیاں اپنے مستقبل کو تاریک کررہی ہیں ۔ اسی طرح گورنمنٹ ہسپتالوں میں نرسنگ سٹاف میں اور کچھ ڈاکٹرز میں منیشا ت کا رحجان بڑھتا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خواتین میں منشیات کا استعمال فروغ پانے لگا جو نہ صرف صحت کےلئے مضر ہے بلکہ طالبات کے روشن مستقبل کو تاریک کرنے کا سبب بنتا جارہا ہے۔حکومت کی طرف سے وفاقی، صوبائی اور علاقائی سطح پر منشیات کی ترسیل کا عمل روکنے اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کےلئے اقدامات کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کی استعداد کار بڑھانے کی کو ئی مربوط کو شش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے صوبائی حکومتوں کی طرف سے منشیات کی روک تھام اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کے حوالے سے کارکردگی مایوس کن ہے۔ جرمن خبر راساں ادارے کے مطابق اس مسئلے کا ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور معاشرتی بے حسی کی بدولت اتنی بڑی تعداد جو منشیات جیسی کی عادی بن چکی ہے کے لئے علاج معالجے اور بحالی کی سہولتیں بالکل ہی نا کافی نظر آتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے حکومتی سطح پر صرف چند مراکز موجود ہیں جو کہ صرف بڑے شہروں میں ہیں ۔اس مقصد کے لئے قائم نجی ادارے بھی اس سلسلے میں کام ضرور کر رہے ہیں مگر وہاں اس سے چھٹکارے کیلئے علاج اتنا مہنگا ہے کہ عام آدمی وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔اس رجحان کو کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی اس مسئلہ کی سنجیدگی کا احساس کریں اور اس پر قابو پالنے کیلئے مناسب وسائل و اقدامات بروئے کار لائیں تاکہ خواتین میں نشہ کی اس عادت کو ختم کیا جا سکے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دو سے اڑھائی لاکھ خاندان پوست کی کاشت کرتے ہیں جس سے ان خاندانوں کو اوسطا تین سے چار ہزار امریکی ڈالر سالانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے جو افغانستان جیسے غریب ملک کیلئے ایک خطیر رقم ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف کی رپورٹس کے مطابق 80فیصد منشیات افغانستان سے ساری دنیا کو منتقل ہوتی ہے جبکہ یہ منشیات افغانستان سے پاکستان کے راستہ سے سمگل ہوتی ہے اور اب تعلیمی ادارے بھی اس سے محفو ظ نہیں رہے ۔ تعلیمی اداروں کے علاوہ اب ہسپتالوں میں کام کرنے والی خواتین میں بھی منشیات کا استعمال فروغ پارہا ہے جو ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث ہے ۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاﺅن کیا جائے اور تمام شہروں میں موجود شیشہ سینٹروں کو بند کیاجائے کیونکہ نوجوان نسل شیشے سے پھر دوسرینشہ آور چیزوںکی طرف راغب ہو رہے ہےں ۔




































