لاہور (خصوصی رپورٹ) صوبائی دارالحکومت میں منشیات کا ناسور تیزی سے پھیلنے لگا۔ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی لاہور کے دفاتر کے قریب فٹ پاتھوں پر سرعام منشیات کا استعمال‘ نہ کوئی علاقہ محفوظ رہا اور نہ کوئی شعبہ ہائے زندگی کا مردوزن‘ نجی یونیورسٹیز کے طلباءاور چنبہ ہاﺅس میں لیگی خاتون کی ہلاکتیں بھی قانون کو حرکت میں نہ لا سکیں۔ آئے روز لاوارث نعشوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں فروخت ہونے والی منشیات میں شراب‘ چرس‘ گردہ‘ افیون‘ الکوحل‘ کرسٹل‘ آئس‘ ہیروئن اور کوکین سمیت دیگر منشیات دھڑادھڑ فروخت ہو رہی ہیں جبکہ ان کے استعمال میں بھی غیرمعمولی اضافہ کی وجہ سے اس کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس میں خطرناک ترین بات یہ کہ یہ نشے کی لت کسی مخصوص طبقے یا علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ نوجوان نسل سے لے کر وطن عزیز کو چلانے والے سیاست کے ایوانوں تک جا پہنچی ہے جس کی واضح مثال چند ماہ کے دوران مختلف نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلباءکی ہلاکت اور چنبہ ہاﺅس میں لیگی خاتون ورکر کی ہلاکت ہے جن کی پوسٹمارٹم اور فرانزک لیب رپورٹ میں نشے کی زیادتی ثابت ہوچکی ہے۔ ان انجکشنوں میں ڈیزی پام‘ زنور‘ ایول اور بی پی راﺅنڈ سمیت دیگر شامل ہیں جن کی فروخت شہر کے مختلف میڈیکل سٹورز پر سرعام جاری ہے اور اگر ان بااثر میڈیکل سٹورز کے خلاف پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں لائی بھی جائے تو چند روز میں یہ میڈیکل سٹورز پھر سے اپنے مکروہ دھندے کا آغاز کردیتے ہیں۔ جن علاقوں میں نشہ آور انجکشنوں کی فروخت اور استعمال کی بھرمار نظر آتی ہے ان میں گنگارام چوک کے اطراف‘ وارث روڈ‘ ٹیمپل روڈ‘ لارنس روڈ‘ بھاٹی گیٹ چوک‘ کربلا گامے شاہ چوک‘ داتا دربار کے سامنے اور اطراف‘ پیر مکی دربار کے اطراف‘ ٹبی سٹی کے گلی محلوں اور باب علی پارک میں‘ یادگار چوک کے اطراف میں‘ لاہور ریلوے سٹیشن کے اطراف میں‘ لاری اڈا کے اطراف میں‘ بادامی باغ کے گلی محلوں اور بادامی باغ ریلوے سٹیشن کے قریب‘ شاہدرہ ریلوے لائن کے دونوں اطراف آبادی کے گلی محلوں میں‘ بند روڈ کی ملحقہ متعدد آبادیوں اور ملتان چونگی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ ایف آئی اے‘ لاہور پولیس‘ اینٹی کرپشن فورس اور ڈرگس انسپکٹر سمیت دیگر بااختیار محکموں کی موجودگی میں شراب‘ چرس‘ گردہ‘ افیون‘ الکوحل‘ کرسٹل‘ آئس‘ ہیروئن اور کوکین جبکہ نشہ آور انجکشنوں میں ڈیزی پام‘ زنور‘ ایول اور بی پی راﺅنڈ سمیت دیگر انجکشنوں کی سرعام فروخت‘ استعمال اور نشئیوں کی دھڑادھڑ اموات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
منشیات




































