لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ نے 24 سالہ لڑکی کی جنس تبدیلی کے لئے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالغ لڑکی چاہے تو جنس تبدیلی کیلئے خود عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ بیٹی کی جنس تبدیلی کیلئے ماں متاثرہ فریق نہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے شمع بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار خاتون نے اپنی بیٹی عائشہ بی بی کی جنس تبدیلی کی اجازت کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مو¿قف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی بیٹی میں جسمانی طور پر تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ گائنی مسائل کی وجہ سے جنس تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر نے جنس تبدیلی کیلئے آپریشن سے انکار کردیا ہے۔ سرکاری وکیل کا مو¿قف تھا کہ قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ عدالت اس نوعیت کا کوئی حکم جاری کرے۔ جس پر عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔ قصور کی شمع بیگم کا اصرار تھا کہ عائشہ شفیق کو آپریشن کا مشورہ ڈاکٹروں نے دیا جن کا کہنا ہے کہ عائشہ کے جسم میں 14سال کی عمر میں ہی تبدیلیاں شروع ہو گئی تھیں۔ اس نے کئی بار ڈاکٹروں سے مشورہ کیا کہ عائشہ مسلسل درد محسوس کر رہی ہے۔ فاطمہ میموریل ہسپتال کی ڈاکٹر نے اسے الٹراساﺅنڈ سکین کا مشورہ دیا جس کے بعد انہوں نے بھی اسے تبدیلی جنس کا آپریشن کرانے کا مشورہ دیا مگر کوئی ڈاکٹر عدالت کی اجازت کے بغیر آپریشن کیلئے تیار نہیں۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے بعد آپریشن عائشہ کا بنیادی حق ہے۔ عدالت اس سے قبل بھی کئی لڑکے لڑکیوں کو آپریشن کی اجازت دے چکی ہے۔ 2008ءمیں فیصل آباد کی بی اے پاس لڑکی نورین اسلم کو آپریشن کی اجازت دی گئی۔ 2010ءمیں راولپنڈی کے سمیع سلیم کو آپریشن کی اجازت ملی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عائشہ جوان ہے‘ وہ خود کیوں عدالت سے رجوع نہیں کرتی۔ اسے خود آگے آنا چاہئے‘ ماں چونکہ فریق نہیں ہے اس لئے اس کی درخواست ناقابل سماعت ہے لہٰذا مسترد کی جاتی ہے۔





































