لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر، سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آئین میں موجود دفعہ 63,62 پر عمل ہونا چاہئے۔ آئینی طور پر اسمبلی تک پہنچنے کیلئے جب تک کرپٹ افراد کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی تب تک اسمبلی کو بدمعاشوں اور غنڈوں سے پاک نہیں رکھ سکتے۔ چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمشید دستی نے سب سے پہلے یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ فیڈرل لاجز میں سب سے زیادہ شراب پی جاتی ہے، بوتلوں کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں لیکن اسمبلی کمیٹی نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔ کراچی میں معصوم بچی سے زیادتی کے واقعہ پر انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عرصہ دراز سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جب تک موجودہ مروجہ قانون، عدالتی و تفتیش کا نظام اور انصاف کا نظام ہے اس وقت تک ان کی روک تھام نہیں ہو سکتی۔ ایسے واقعات کو روکنا عدالت کے بس کی بات نہیں کیونکہ وہ بھی تحقیقات کیلئے کسی ریاستی ادارے کو کام سونپے گی اور سرکاری مشینری نیچے تک انتہائی کرپٹ ہو چکی ہے۔ موجودہ نظام حکومت، تفتیش اور انصاف کے نظام کو نہیں مانتا۔ معصوم بچوں سے زیادتی کرنے والے درندوں کو سزا دینے کا کام سوسائٹی کو اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا۔ قانون دان رہنمائی کریں کہ کس طرح قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے درندوں کو سزا دی جا سکتی ہے۔ ایسے درندوں کا منہ کالا کر کے سرعام گھمانا چاہئے، گلیوں و چوراہوں پر سرعام لٹکانا چاہئے تا کہ آئندہ ایسا کرنے کی کسی کی جرا¿ت نہ ہو۔ ضیاءالحق نے جب فیروز پور روڈپر پپو کے قاتلوں کو لٹکایا تھا تو بہت عرصے تک خوف و ہراس کی فصا پھیلی رہی تھی۔ اسمبلیاں کیوں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی نہیں کرتیں، ایسے ملزموں کو عبرتناک سزا دینی چاہئے۔ حکمران سعودی عرب حج و عمرہ کرنے بھاگے بھاگے جاتے ہیں، اس طرح کا قانون یہاں کیوں نہیں بناتے۔ غریب آدمی کیسے انصاف حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل چیف جسٹس آف لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات ہوئی، ان سے سوال کیا کہ غریب آدمی کیسے انصاف حاصل کرے، عدالتی اخراجات کہاں سے پورے کرے تو چیف جسٹس نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے پر بحث کیلئے وقت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عدالتی نظام ایسا ہے کہ چھوٹی عدالتوں کے جج اپنی سیٹ پر تشریف فرما ہی نہیں ہوتے، لوگ ریڈر کو 500 یا ایک ہزار دے کر تاریخ لے کر چلے جاتے ہیں اور پھر انہی پیسوں سے جج صاحبان کے گھریلو اخراجات پورے کیسے جاتے ہیں۔ مجھے خود ایک بار ریڈر کو 100 روپے رشوت دینا پڑی تھی۔ ایسے عدالتی نظام سے انصاف کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے؟ کراچی میں بچی سے زیادتی کے واقعہ پر چیف جسٹس کے ایک کو سو موٹو نوٹس سے مطمئن ہونے والا نہیں، اس کا سدباب ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ این جی اوز بھی باہر سے گرانٹ لینے کے سوا کچھ نہیں کر رہیں۔ ایک ایسی این جی او کو جانتا ہوں جس کے پاس 12 نئی گاڑیاں ہیں اور ان کے عملے کی کئی کئی سو ڈالر تنخواہ ہے۔ خود جا کر دیکھا کہ اس کے دفتر میں لوگوں کو دکھانے کے لئے 3 مریض لٹائے ہوئے تھے کہ وہ تو منشیات کے عادی افراد کا علاج کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ دفعہ 63,62 پر عملدرآمد کیلئے زور دیا کیونکہ یہ ممبراناسمبلی کیلئے ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی اس لئے ان دفعات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر کوئی ممبر اسمبلی اس پر پورا نہیں اترتا تو عدالت انصاف کرے۔ جماعت اسلامی کا مستقل مطالبہ ہے کہ 63,62 پر عمل ہو یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ بعض عناصر ترمیم سے اسےآئین سے ختم کرنا چاہتے ہیں تا کہ سرمائے کے بل بوتے پر اسمبلی پہنچیں اور پھر عوام کا خون چوسیں۔ کوئی پکڑنے والا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بھرپور توجہ دے رہی ہے، الیکشن کمیشن سے بھی بات کریں گے کہ ایسا نظام بنایا جائے جس سے گزر کر کوئی اسمبلی کا ممبر بنے۔ کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل 63,62 پر عملدرآمد کروا لیں ورنہ پھر اسمبلی میں کرپٹ ٹولہ ہی پہنچے گا۔ چینل ۵ کے بیورو چیف امریکہ محسن ظہیر نے کہا ہے کہ امریکہ کے انتخابی نظام میں کامیابی کا انحصار الیکٹرول کالج کے ووٹ پر ہوتا ہے۔ گزشتہ برس کے انتخابات میں الیکٹرول کالج میں ڈونلڈ ٹرمپ کی اکثریت تھی جبکہ پولولر ووٹ میں ہیلری کلنٹن نے 30 لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کئے تھے۔ امریکہ میں اس نظام پر بحث جاری ہے، بہت سے لوگ اس کے حق میں جبکہ بہت سے مخالفت میں ہیں۔ الیکٹرول کالج کی ترمیم کو ختم کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن تاحال کامیابی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر کو کچھ صدارتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جس کے تحت وہ ایگزیکٹو آرڈر جاری یا منسوخ کر سکتاہے۔ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران اوبامہ کے فیصلوں کی مخالفت کرتے رہے اور اعلان کیا تھا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اوبامہ کے بیشتر ایگزیکٹو آرڈر منسوخ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ سنبھالنے کے بعداب ابتدائی اقدامات کیا اٹھائیں گے؟ اس حوالے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ امریکہ کا کردار ایک لیڈر کے طور پر ہے۔ چینل فائیو کے بیورو چیف کراچی میر حمید نے کہا ہے کہ بجی زیادتی واقعہ پر چیف جسٹس کے سو موٹو نوٹس لینے تک پولیس متحرک نہیں ہوئی۔ نوٹس لئے جانے کے بعد پولیس اب تک 5 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے لیکن اصل ملزمان تک تاحال نہیںپہنچ سکی۔ علاقہ مکینوںکے مطابق متاثرہ بچی سویرا کو جمعرات کے روز ایک رکشہ میں دیکھا گیا تھا، پولیس اس رکشہ کی تلاش میں ہے تا کہ اصل ملزمان تک پہنچا جا سکے۔





































