تازہ تر ین

سفارتکاری کے دوران بھی امریکہ ممکنہ طور پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے: امریکی ٹی وی

ایک طرف جہاں سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، वहीं دوسری جانب امریکہ نے ایران کے خلاف نئے ممکنہ فوجی حملوں کے لیے پر تولنے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی میڈیا نیٹ ورک ‘سی بی ایس نیوز’ نے معاملے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ جمعہ کو ہی نئی عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، تاہم جمعہ کی رات گئے تک اس حوالے سے کوئی حتمی منظوری نہیں دی جا سکی۔

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اندازہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سوشل میڈیا بیان سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ‘ملکی و حکومتی مصروفیات’ کے باعث وہ ہفتے کے روز اپنے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی کی تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ صدر ٹرمپ جو اپنا ویک اینڈ نیو جرسی میں واقع اپنے پرتعیش گولف ریزورٹ پر گزارنے والے تھے، اچانک اپنا پروگرام منسوخ کر کے وائٹ ہاؤس لوٹ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی فوج اور خفیہ اداروں (انٹیلی جنس) کے متعدد اعلیٰ حکام نے اپنی طے شدہ چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق، پینٹاگون اور امریکی انٹیلی جنس حکام ایک طرف تو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کچھ امریکی دستوں کے انخلا اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو متوازن کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ممکنہ ایرانی ردِعمل کے خوف سے بیرونِ ملک قائم امریکی فوجی اڈوں پر الرٹ دستوں کی فہرستوں کو بھی ازسرِ نو مرتب کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل کے آغاز میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد سے واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر براہِ راست حملوں سے گریز کیا ہے تاکہ پسِ پردہ مذاکرات کے ذریعے کسی طویل مدتی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ‘صدر ٹرمپ اپنی سرخ لکیروں پر قائم ہیں؛ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہ افزودہ یورینیم کے ذخائر برقرار رکھ سکتا ہے۔’


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain