پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کیے جانے کے ہائی پروفائل کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مرتکب شخص کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
یہ سنگین تنازع اس وقت منظرِ عام پر آیا جب اداکارہ نے مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی محمد ثاقب چدھڑ پر ہراسانی، سنگین دھمکیاں دینے اور اپنے سسرال والوں کو ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔
اداکارہ کی جانب سے باضابطہ شکایت درج کروائے جانے کے بعد این سی سی آئی اے اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اداکارہ مومنہ اقبال اور رکنِ اسمبلی ماضی میں طویل عرصے تک تعلق میں رہے تھے، تاہم تقریباً 8 ماہ قبل دونوں کے تعلقات خراب ہوئے۔
بعد ازاں اداکارہ کی منگنی ہو گئی اور اب ان کی شادی یکم جون کو طے ہے، جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
معاملے میں ٹھوس اور مبینہ شواہد سامنے آنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی ہی پارٹی کے رکنِ اسمبلی کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے دوٹوک بیان میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی عورت کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا نجی و ذاتی مواد کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، چاہے قانون ہاتھ میں لینے والے شخص کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا بڑے سے بڑے سرکاری عہدے سے ہی کیوں نہ ہو، اس کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





































