ٹرمپ نے اوبامہ پر پھرالزام لگا دیا ….

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سابق امرےکی صدر باراک اوباما کو آڑے ہاتھوں لےتے ہوئے کہا ہے کہ ا±نھوں نے گوانتانامو بے کے فوجی حراستی مرکز سے مبینہ ”خطرناک قیدیوں“ کو رہا کر دیا تھا، جنھوں نے پھر سے”میدانِ جنگ کا ر±خ کیا“ سماجی رابطوں کی اےک وےب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اےک پےغام مےں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس تنصیب کو جاری رکھیں گے، قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ بند کریں گے اور ممکنہ طور پر نئے قیدی وہاں بھیجیں گے۔

خوا تین کیلئے غیر محفوظ ترین ملک کونسا ؟؟ ؟ جان کر آپ بھی حیران رہ جائینگے

لندن ( ویب ڈیسک)دنیا بھر میں 700ملین خواتین کی جبرََا شادی جبکہ 52%فیصد 18سال سے کم لڑکیوں کی شادی عام رواج بن گیا لندن ، برطانیہ میں 43%فیصد خواتین کو سڑکوں پر ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ 90%فیصد جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بھارت میں ہر چار گھنٹے بعد خواتین جنسی تشدد کا شکار بنتی ہیں جبکہ ہر آدھے گھنٹے بعد عام گھریلوتشدد کا شکار بننے میں بھارت 10ویں نمبر پر ، بروکونا فاسو 7ویںنمبر پر پاکستان 21ویں ، آزادکشمیر28ویں نمبر پر سرفہرست مقبوضہ کشمیر میں 11ہزار 8سو28خواتین زیادتی کا شکار بنی ، شام میں 10ہزا ر 540خواتین قتل ہوئی جبکہ 30ہزار سے زائد جنسی تشدد کا نشانہ بنی ، ایران 11%فیصد، عراق 19%فیصد ، برما 45%زیادتی کا شکار بنے ، یو این او کی رکن انسانی حقوق کی تنظیم©©©” ایمنسٹی انٹرنیشنل “کی جانب سے جاری کردہ خواتین کے انسانی حقوق کے دن پر رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1975کے بعد سے آبادی کا 39%فیصد ممالک نے انسانی حقوق اور خواتین پر تشدد سمیت دیگر جرائم پر کنٹرول کیا جبکہ دنیا بھر میں 700ملین خواتین کی جبرََا شادی کروائی جاتی ہے جن میں یورپ 9ویں نمبر ،جبکہ جنوبی ایشیاءپہلے نمبر پر سر فہرست ہیں جن میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان ،، سندھ اورخیبر پختون خواہ کے واقعات سامنے آئیں ہیں جبکہ آزادکشمیر گزشتہ 5سالوں سے سر فہرست ہے دوسری جانب دنیا بھر کی 18سال سے کم 52%فیصد لڑکیوں کی شادیاں جبرََا کروانے کاعام رواج ہوگیا ہے جن میں 15سے16سال کی لڑکیوں کی شادی کروانے پر بروکونا فاسو دنیا کے 7ویں نمبر پر سر فہرست ہے 1993ءمیں اقوام متحدہ نے اس کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دی تھی جبکہ تیونس میں جنس مردوں اور عورتوں کے لئے ایک عام رواج ہے 1990ءمیں 20لاکھ خواتین جو غریب طبقے سے تعلق رکھتی تھی جنسی تشدد کا شکار بنی ہیں دوسری جانب لندن اور برطانیہ میں نوجوان خواتین کی ایک بڑی تعداد جو 43فیصد ان کو سڑکوں پر ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ 90فیصد جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہےںجبکہ ایک چھوٹی سی ریاست آزادکشمیر میں گزشتہ پانچ سالوں میں 5سوخواتین تشدد کا نشانہ بنی 22قتل ہوئی42خواتین کی ابر ریزی اور ریپ کے کیسز سامنے آئیں جن کو پولیس کے ڈر اور بااثر افراد کے خوف کی وجہ سے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ریپ کا شکار بننے والی خواتین غائب ہوگئی جبکہ 15تیزاب اور جلائے جانے کے واقعات سامنے آئے دوسری جانب پاکستان اور آزادکشمیر میں ونی کاروکاری ، اور وٹے سٹے کے کیس منظر عام پر زور پکڑ رہیں ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو روکنے میں مکمل ناکام ہوگئے 2017ءمیں کیوبا 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے کی کوشش اسلام آباد میںطیبہ تشدد کیس بھی دنیا کی توجہ کا مرکز ہے جو انسانی حقوق کی شدیدپامالی ہے۔

”آپریشن ردالفساد “15غیر ملکی گرفتار….

کراچی(ویب ڈیسک)شہر قائد سے آپریشن ردالفساد کے تحت پولیس نے 15 غیر ملکیوں کو گرفتارکرلیا ۔تفصیلات کے مطابق گرفتار کیے جانیوالوں میں 13 افغانی جبکہ 2 بنگلہ دیشی بھی شامل ہیں۔15 غیر ملکیوں کو آپریشن ردالفساد کے تحت شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔تمام گرفتار افراد کیخلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر 4 مشکوک افراد کو ماشکو اور خارادار سے گرفتار کیا گیا۔دو افراد کو شاہراہ نورجہاں پر ڈکیتی کی واردارت کرنے کی بناپر پکڑا گیا۔تین افراد جو کہ سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث کو بلدیہ ،اتحاد ٹان،اور لیاقت آباد کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔

اوورسیز کیخلاف یورپی یونین کا سخت ترین فیصلہ

برسلز (نیوز ایجنسیاں) یورپی یونین کی رکن ریاستوں نے اس بلاک کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی مزید سخت بنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ برسلز میں ہونے والے یونین کے ایک وزارتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ یونین کے شینگن زون کی بیرونی سرحدوں سے گزر کر اس بلاک میں داخل ہونے والے تمام افراد کے ذاتی کوائف کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کی جائے گی۔ یورپی وزراءنے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اس عمل سے استثنٰی کی واحد صورت یہ ہو گی کہ اس نگرانی کیوجہ سے سرحدی آمد و رفت بہت بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہو اور اس حوالے سے نمونے کے طور پر کی جانے والی اتفاقیہ چیکنگ کے نتائج بھی منفی نہ ہوں۔ ان نئے اقدامات کے ذریعے یونین اپنے رکن ملکوں میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔

ڈاکٹروں کی سُنی گئی ….بڑی خوشخبری مل گئی

گلگت (نیوز ایجنسیاں) گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے محکمہ صحت میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کی ملازمتوں کو مستقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان کی جانب سے جاری احکامات کی روشنی میں کئے گئے اس اس فیصلے کے تحت ایسے تمام ڈاکٹرز جنہوں نے اپنی سروس کے دو سال مکمل کرلیئے ہیں انکو مستقل کیاجارہاہے۔ سیکریٹری صحت گلگت بلتستان سعید اللہ خان نیازی کے دفتر سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کے احکامات کے تحت سپیشل پے ( تنخواہ) کا پیکج منظور کئے جانے کے بعد ان ڈاکٹرز کو خصوصی تنخواہوں کی فراہمی کے لیئے نیشنل بنک آف پاکستان میں اکاوئنٹ بھی کھلوایا جا چکا ہے ۔ سالانہ 170ملین روپے خصوصی تنخواہوں کی مد میں ڈاکٹروںکو ادا کئے جائیں گے۔اعلامیہ کے مطابق ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے صوبائی حکومت نے یہ اہم ترین اقدامات کئے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور کے آغاز سے پہلے گلگت بلتستان میں 170ڈاکٹرزمختلف ہسپتالوںمیں ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے تھے جن کی تعداد اب بڑھ کر 400تک پہنچ چکی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے عوام دوست اقدامات اور صحت جیسے اہم شعبے میں اصلاحات کی بدولت صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹروںکی کمی کو پور ا کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کوصحت کی سہولیات میں آسانیاںمیسر ہوسکے ۔

سعودی بادشاہ پر حملہ

کوالالمپور(خصوصی رپورٹ)ملائیشین پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ا±نہوں نے سعودی بادشاہ کا دورہ شروع ہونے سے قبل شاہی مہمان پرحملے کی کوشش ناکام بنادی، عسکریت پسند بارود سے بھری گاڑی اڑاناچاہ رہے تھے۔ ملائیشین پولیس کے حوالے سے بتایاکہ پکڑے گئے سات افراد میں سے دو بارودسے بھری گاڑی اڑانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ سعودی بادشاہ 26فروری سے ملائیشیاءکے دورے پر پہنچے تھے اور600افراد پر مشتمل اپنے وفد سمیت ملائیشیاءکے دورے کے بعد انڈونیشیاءچلے گئے تھے۔انسپکٹر جنرل خالد ابوبکر نے کہاکہ گزشتہ ماہ پکڑے گئے سات افراد ملائیشیاءکے دورے کے موقع پر عرب حکام کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے اور ہم نے عین وقت پر ا±نہیں پکڑلیا‘۔پکڑے گئے افراد میں ایک ملائیشین اور چھ غیرملکی ہیں۔جن میں ایک انڈونیشی،چاریمنی اور ایک ایشیائی باشندہ ہے،تمام افراد کو داعش سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں سے تعلق کے الزام میں 21سے26فروری کے درمیان گرفتار کیاگیا، جبکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران عسکریت پسندگروہوں سے تعلق کے الزام میں سینکڑوں افراد پکڑ ے گئے۔ یادرہے کہ جنوری 2016ءسے جکارتہ میں ممکنہ طورپر داعشی جنگجو مسلح شخص کے حملے اورخودکش دھماکوں کے بعد سے ہائی الرٹ ہے۔

موبائل چوری ہونے کا ڈر ختم، حیرت انگیز ٹیکنالوجی آگئی

جدہ(خصوصی رپورٹ)سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ریسرچرز نے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جو چوری ہونے والے سمارٹ فونز کو خودکار طریقے سے تباہ کر دے گی۔ریسرچرز کی جانب سے ایجاد کردہ ٹیکنالوجی فورا کام کرتی ہے اور جیسے ہی کوئی فون چوری ہوتا ہے تو چند منٹوں میں ہی یہ فون کو تباہ کر دیتی ہے جس کے باعث موبائل میں موجود قیمتی ڈیٹا چوری ہونے کا خدشہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور چور کا فون کو بیچ کر پیسے کمانے کا منصوبہ بھی ناکام ہو جاتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کے تحت کسی بھی لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور موبائل فون میں پھیلنے والا پولیمر لگایا جاتا ہے جسے جی پی ایس یا پھر پاس ورڈ سے محفوظ رہنے والی ایپلی کیشن کے ذریعے ایکٹو کیا جا سکتا ہے۔ یہ پولیمر 90 مائیکرو میٹر سے زیادہ موٹی اور 0.1 مائیکرو میٹر سے کم چپ کو باآسانی تباہ کر سکتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کا مقصد انٹیلی جنس کمیونٹی، کارپوریشنز، بینک، سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشنز اور کولیکٹرز سمیت ایسے افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے جو انتہائی قیمتی ڈیٹا موبائل فون میں رکھتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والا پولیمر کسی بھی سمارٹ فون میں لگا کر اسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کا میکنیزم ہیٹر الیکٹروڈز کا استعمال کرتے ہوئے سمارٹ فون کی بیٹری سے توانائی حاصل کرتا ہے اور پولیمر کو ایکٹو کر دیتا ہے۔ یہ پولیمر 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہننے پر اصل حجم سے 7 گنا تک پھیل جاتا ہے۔ چونکہ اب زیادہ تر سمارٹ فونز ایسی بیٹریوں کے ساتھ فروخت کیلئے پیش کئے جا رہے ہیں جنہیں فون کھولے بغیر نکالا نہیں جا سکتا، اس لئے الیکٹروڈز اور بیٹری کے درمیان کنکشن ختم کرنا بھی تقریبا ناممکن ہی ہے۔یہ ٹیکنالوجی انتہائی سستی بھی ہے اور خود کو تباہ کر دینے والا ایک میکنیزم تقریبا 15 ڈالر کا ہو گا جبکہ اسے پرانے لیپ ٹاپس یا سمارٹ فونز میں بھی لگایا جا سکے گا۔

ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھانے والے افراد اس خطرناک بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں

لاہور (نیٹ نیوز) ایک سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ رات کا کھانا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھاتے ہیں تو اس سے موٹاپے کا خدشہ 40فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق باہر کی مرغن غذاﺅں کے بجائے اگر گھریلو کھانوں کو ترجیح دی جائے تو اس سے بھی وزن بڑھنے کا امکان 26 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹی وی دیکھتے وقت لوگ بے خیالی میں ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں جس کا اثر وزن میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے تعلیمی نصاب میں بڑے پیمانے پر ردوبدل

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے تمام فیکلٹیوں کے تمام تعلیمی پروگرامز کے نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کےلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں وائس چانسلر کی زیر صدارت ان کے آفس کے کمیٹی روم میں ڈینز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہواجس میں انہوں نے تمام فیکلٹیوں کے ڈینز کو ایک ہفتہ کے اندر تمام پروگراموں کے نصاب کی ہارڈ اور سوفٹ کاپیاںفراہم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل پروفیسر ڈاکٹر طاہر جمیل کو کہا کہ وہ ہر نصاب کا جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جائزہ لیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کوالٹی انہانسمنٹ سیل کو مضبوط کرکے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کےلئے اقدامات کر رہی ہے۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے قائمقام خزانہ دار راﺅ محمد شریف نے بتایا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصرکی وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے انتظامیہ پنجاب یونیورسٹی کو میڈیکل کالج اور ہاسٹلز کے قیام کےلئے پی سی ون کی تیاری کےلئے خط موصول ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے دس بسوں ، ریسرچ کے فروغ کےلئے پچاس ملین روپے اور پیف سکالرشپ کا کوٹہ بڑھانے کےلئے بھی انتظامیہ کو خطوط موصول ہو چکے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ پنجاب یونیورسٹی کو ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے جس سے کروڑوںروپے کی بچت ہوگی ۔اجلاس میں موجود ڈینز نے پنجاب یونیورسٹی کی بہتری کےلئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

ڈینگی کے بعد ایک اور وائرس نے سر اُٹھا لیا, شہریوں میں خوف وہراس

لاہور (خصوصی رپورٹ) وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کےئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے تمام متعلقہ سرکاری محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ڈینگی کی آٹ ڈور اور انڈور سرویلنس کو زیادہ موثر بنایا جائے تاکہ ڈینگی کے ساتھ چکن گنیا کی بیماری کی بھی روک تھام ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چکن گنیازیادہ خطرناک بیماری نہیں تاہم ڈینگی اور چکن گنیا کو پھیلانے والا ویکٹر مچھر ہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈینگی کے مریض کا چکن گنیا کا بھی ٹیسٹ کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکموں کے سینئر افسران کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ ٹھوس فیصلے لینے میں آسانی ہو۔ انہوں نے یہ بات کابینہ کمیٹی برائے ڈینگی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی لبنی فیصل ، پیر اشرف رسول کے علاوہ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ علی جان خان، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر فیصل ظہور، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر آصف ، پروفیسر فیصل مسعود کے علاوہ تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ راولپنڈی، گوجرانوالہ ، فیصل آباد، ملتان ، قصور، شیخوپورہ ، جھنگ، اٹک، رحیم یار خان، چکوال اور سرگودھا کے ڈپٹی کمشنرز اور CEOsہیلتھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی کارروائی میں حصہ لیا اور ڈینگی کنٹرول کے سلسلے میں اقدامات بارے اجلاس کو بتایا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈینگی کنٹرول ڈاکٹر فرخ سلطان نے صوبے میں ڈینگی کی صورتحال بارے بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آٹ ڈور اور انڈور سرویلنس میں ڈینگی لاروا رپورٹ ہونا شروع ہو گیا ۔ ڈینگی ایکسپرٹس ایڈوائزی گروپ کی سیکرٹری ڈاکٹر صومیہ اقتدار نے بتایا کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسز کو کیس مینجمنٹ کے حوالے سے ریفریشر کورسز کرا دےئے گئے ہیں اور نئے آنے والے ڈاکٹرز کو تربیتی کورسز ڈسٹرکٹ کی سطح پر بھی کرائے جا رہے ہیں۔ سیکرٹری ہیلتھ علی جان خان نے کہا کہ ڈینگی کے حوالے سے ہائی رسک ڈسٹرکٹس کو مزید اینٹامولوجسٹ اور سینٹری پٹرول دےئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کو سینکشنڈ سیٹوں پر بھرتی کرنے کا پورا اختیار ہے اور اس سلسلہ میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ چیف منسٹر ڈینگی ریسرچ سیل کے ہیڈ پروفیسر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ کراچی میں چکن گنیا کے کیس بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ وائرس پنجاب میں بھی آ سکتا ہے کیونکہ ڈینگی مچھر سے ہی چکن گنیا بھی پھیلتا ہے،وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ہدایت کی کہ چکن گنیا کی روک تھام اور مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کے لئے کٹس کی فراہمی اور دیگر معاملات بارے لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے فوری طور پر ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے ۔ پروفیسر فیصل مسعود کا کہنا تھا کہ جہاں ڈینگی ہو گا وہاں چکن گنیا بھی پایا جائے گا تا ہم چکن گنیا خطر ناک مرض نہیں لیکن بخار اور جوڑوں کے درد کی وجہ سے مریض کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے ڈینگی اور چکن گنیا کے بارے بھر پور آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے لئے تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔