چکوال(خصوصی رپورٹ) چکوال کے جلسے میں عمران خان کو جانب سے حلقے کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا ۔ عمران خان کی تقریر پر پیپلز پارٹی کے مقامی کارکن سخت مشتمل ہیں۔ پی ٹی آئی امیدوار کے حق میں دستبر دار ہونے والے پیپلز پارٹ کے امیدوار مظہر بٹھی نے تحریک انصاف کے امیدوار کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیگی امیدوار شہریار اعوان کو ہرانے کیلئے کی گئی پرویز الہیٰ کی پلاننگ ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے مقامی کونسلرز بھی پارٹی پروگراموں میں شرکت سے کمتر انے لگے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مجموری طور پر لیگی امیدوار کی پوزیشن مستحکم نظر آتی ہے۔ چکوال کے صوبائی حلقے پی پی 23 سے مسلم لیگ (ن) کے ایم بی اے ملک ظہور انور کے انتقال کے بعد یہاں 18 اپریل کو ضمنی الیکشن ہو رہا ہے، جس میں اگر چہ سات امیدوار میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے ملک شہریار اعوان اور تحریک انصاف کے کرنل (ر) سلطان سرخرو اعوان کے مابین ہی ہو گا۔ واضح رہے کہ یہ دونوں گھرانے روایتی حریف ہیں۔ جنرل الیکشن 2002ء میں اس حلقے سے کرنل (ر) سلطان سرخرو اعوان نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے 55 ہزار سے زائد دونوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ(ق) کے ملک ظہور انور 43 ہزار دونوں کے ساتھ رنراپ رہے۔ 2008ءمیں اسی حلقے سے کرنل (ر) سلطان سرخرو اعوان کے پاس مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ تھا، جبکہ ملک ظہور انور کے پاس حصب سابق سائیکل کا انتخابی نشان تھا۔ لیکن ملک ظہور انور نے انہیں چار ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ ملک ظہور انور نے 2013ءکا الیکشن شیر کے انتخابی نشان پر لڑا جبکہ اس بار کرنل (ر) سرخرو اعوان پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔ ملک ظہور انور ووٹوں کے ساتھ کامیاب قرار پائے۔ مسلم لیگ (ق) کے سردار امجد الیاس ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور کرنل (ر) سرخرو اعوان ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ واضح رہے کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک شہریار اعوان سابق ایم پی اے ملک ظہور انور ے بھتیجے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کو شکست سے دو چار کرنے کیلئے یہاں مسلم لیگ (ق) کی پوزیشن خاصی مضبوط رہی ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں اسی حلقے میں شامل تھصیل لاوا کی میانسپل کمیٹی کی چیئرمین شب بھی مسلم لیگ (ق) نے ہی جیتی تھی۔ بااعتماد ذرائع نے بتایا کہ جب امیدواروں کے چناﺅ کا مراحلہ آیا تو پی ٹی آئی کے ضلعی صدر منصور حیات نے چودھری پرویز الہیٰ سے رابطہ کر کے اصرار کیا کہ اس ضمن الیکشن میں پی ٹی آئی اپنا امیدوار میدان میں لانا چاہتی ہے۔ چونکہ پرویز الہیٰ کو اولین ترجیح یہان مسلم لیگ (ن) کو شکست سے دوچار کرنا تھا لہذا انہوں نے یہ پلاننگ کی کہ اگر مسلم لیگ (ق) اپنا الگ الگ امیدوار سامنے لائیںتو تینوں ہار جائیں گے ۔ لہذا کیوں نہ تینوں جماعتیں اپنا متفقہ امیدوار ن ے کر آئیں ۔ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلے انہوں نے جہانگیر ترین سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں پرویز الہیٰ اور جہانگیر ترین نے پی پی کی مرکزی قیادت سے بات کی۔ اس سلسلے میں دو ملاقاتیں لاہور میں ہوئیں۔ پھر اسی سلسلے کی تیسری ملاقات پی پی کی سینترل سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہوئی، جس میں پرویز الہیٰ جہانگیر ترین عبدالعلیم خان قمر زمان کائرہ ندیم افضل چن اور کرنل (ر) سلطان سرخرو اعوان کے بھائی بریگیڈیئر (ر) عباس نے شرکت کی ۔ یہیں پر باہمی رضامندی سے مسلم لیگ (ن) کے خلاف تنیوں جماعتوں کے اتحاد کا فیصلہ ہوا اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار مظہر بھٹی کو پی ٹی آئی امیدوار کے حق میں دستبردار کردیاگیا۔ لیکن 2 اپریل کو تلہ گنگ میں ہونے والے پر ٹی آئی کے انتخابی جلسے میں جب عمران خان نے پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ق) اور پی پی کی مقامی قیادت کی اسٹیج پر موجود گی میں دوران تقریر فواد چودھری کے متوجہ کرنے کے باوجود آصف زرداری کی کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ٹھیک ٹھاک لتاڑتوں اس پر نہ صرف پنڈال میں موجود پی پی کارکنوں نے ان کے خلاف نعرے لگائے بلکہ اسٹیج پر موجود پی پی اور پی ٹی آئی کے مقامی لیڈ بھی پہلو بدلتے دکھائی دیتے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب آخری کوشش کے طور پر پرویز الہیٰ خود بھی 10 اپریل سے اس حلقے کا چاروزہ دورہ شروع کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مجموعی طور پر مسلم لیگ (ن) کے ملک شہریار اعوان کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار کی پوزیشن کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ 2 اپریل کے عمران خان کے جلسے کیلئے پی ٹی آئی نے جہلم میانوالیل خوشاب اور راولپنڈی تک سے کارکن منگوائے۔ جلسہ سجانے کیلئے مسلم لیگ (ق) بھی حلقہ پی پی 22 سے کارکن کٹھے کر کے لائی تھیں جبکہ پی پی کے کارکن بھی جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ لیکن اس کے باوجود جلسہ گاہ میں موجود ایک بااعتماد مقامی ذریعے کے مطابق وہاں صرف آٹھ سے دن ہزار لوگ موجود تھے۔






































