اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کے موقع پر جمعرات کو وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ ہوگی،ریڈزون میں عام افراد کا داخلہ بند ہوگا،بغیرپاس سپریم کورٹ کی عمارت میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی،ایس پی سیکیورٹی سپریم کورٹ احمد اقبال نے پی ٹی آئی ،ن لیگ ،جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے رہنماﺅں سے رابطہ کرکے عدالت آنے والوںکی فہرست حاصل کرلی ہے،بڑی سیاسی جماعتوں کو 15,15پاسز دیئے جائیں گے،سیاسی جماعتوں کو کارکنان کو عدالت کی طرف نہ لانے، امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھنے اور قانون کو کسی صورت ہاتھ میں نہ لینے کا کہا گیا ہے،ریڈ زون اور سپریم کورٹ کی عمارت کی سیکیورٹی پر پولیس اور رینجرز کے 1500سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد میں پہلے سے موجود پاک فوج کے دستے اہم عمارتوں کی سیکیورٹی کیلئے طلب کیے جاسکتے ہیں،سیکیورٹی صورتحال کی مانیٹرنگ سیف سٹی کمانڈ اینڈکنٹرول سنٹر میں ہوگی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ سننے کیلئے آنے والے سیاسی رہنماﺅں کی فہرستیں ایس پی سیکیورٹی احمد اقبال نے حاصل کرلی ہیں،سیاسی جماعتوں کی طرف سے دیئے گئے ناموں کے مطابق کمرہ عدالت کیلئے پاسز جاری ہوں گے،احاطہ عدالت میں بھی سیاسی کارکنوںکے داخلے پر پابندی ہوگی،صرف وہی شخص عدالت جاسکے گا،جس کوپاس دیاجائے گا،عدالت کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہوں گے،احاطہ عدالت میں بھی پولیس اور رینجرز اہلکار ہوں گے جبکہ عدالت کی عمارت کے اندر پولیس کی اسپیشل برانچ کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جاسکے،سپریم کورٹ کی عمارت اور ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلئے پولیس اور رینجرز تعینات ہوں گی جو (آج) جمعرات کو اللصبح اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچ جائیں گی،مجموعی طور پر 1500سے زائد اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹیاں دیں گے،ہنگامی صورتحال پیدا ہونے پر ریڈزون کی عمارتوں کی سیکیورٹی کیلئے پاک فوج کے دستے تیار رہیں گے،تمام سینئر پولیس افسران سیکیورٹی ڈیوٹیاں خود چیک کریں گے۔ایس پی سیکیورٹی احمد اقبال نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنان کو عدالت کی طرف نہ آنے دیں،دوسری طرف آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں پولیس،انتظامیہ اور رینجرز کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سپریم کورٹ اور ریڈزون کی سیکیورٹی سے متعلق پلان کو حتمی شکل دی گئی،تمام افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ موقع پر موجود رہیں اور سیکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیں اور سیاسی جماعتوں کو پابند کریں کہ وہ امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھیں اور کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے گا۔….





































