عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کیا جائے

لاہور(ویب ڈیسک) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ہاتھ جوڑ کر استدعا ہے کہ آپ کا کلام عمران خان پر اثر نہیں کرے گا۔ ایک آدمی نے ہر کسی کی پگڑی اچھالنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک شیطان اور ایک مکار مولوی کا کسی سے بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ ہم ان سے زیادہ باتیں کر سکتے ہیں۔ ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہی رویہ “لچا سب سے ا±چا” کے مترادف ہے۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ فارچون سے مراد دولت کا ذخیرہ نہیں بلکہ خوش قسمتی ہے۔

سمارٹ فون کو زیادہ تیزی سے چارج کرنے کا طریقہ

لاہور (نیٹ نیوز) موجودہ دور سمارٹ فون کا ہے، سب کے پاس سمارٹ فون موجود ہیں‘ مصروف زندگی اور اس کا بڑھتا ہوا استعمال اجازت نہیں دیتا کہ زیادہ وقت کیلئے چارجنگ کی جائے۔ تو کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے سمارٹ فون کو کم وقت میں زیادہ چارج کیا جاسکے؟ جی ہاں! بالکل ہے۔ سب سے پہلے اپنے فون کو ایئرپلین موڈ پر ڈالیں اس سے آپ کی تمام ایپلی کیشنز بند ہو جائیں گی، ساتھ ہی وائی فائی سگنلز اور بلیو ٹوتھ ڈیوائسز بھی ڈس کنیکٹ ہو جائیں گے۔ یہ تمام چیزیں زیادہ بیٹری خرچ کرتی ہیں۔ اس کے بعد ایک آئی پیڈ یا ٹیبلٹ کا وال چارجر لیں یہ دیگر چارجر کے مقابلے میں زیادہ بجلی فی سیکنڈ ایمپئیر آپ کے فون تک پہنچاتا ہے۔ کمپیوٹر یو ایس بی پورٹ 0.5 ایمپئیر، فون چارجر 1.0 ایمپئیر جبکہ ٹیبلٹ چارجر 2.1 ایمپئیر بجلی فراہم کرتا ہے۔ ٹیبلٹ چارجر پانچ منٹ میں 10 فیصد بیٹری چارج کریگا جبکہ کوئی عام چارجر 5 منٹ میں صرف 3 یا 5 فیصد بیٹری چارج کرتا ہے۔ اگر آپ اپنا فون زیرو سے 100 فیصد چارج کرتے ہیں تو آپ کا تقریباً ایک گھنٹہ بچ جائے گا لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کا فون کتنا پرانا ہے اور آپ اپنی بیٹری کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔

سٹرابری چھاتی کے سرطان کو روکنے میں مددگار

اٹلی(خصوصی رپورٹ) ایک نئے طبی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ایک خاص قسم کی جلدی پک جانیوالی سٹرابری خطرناک بریسٹ کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔اٹلی میں مارشے یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جلدی پک جانیوالی ایلبا سٹرابری کے اجزا چھاتی کے سرطان میں مبتلا چوہیوں کو کھلائے گئے تو ان میں رسولی میں کمی واقع ہوئی۔ اسکے علاوہ تجربہ گاہ میں پیٹری ڈش میں اگائے گئے سرطانی خلیات میں بھی کمی واقع ہوئی۔سائنسدانوں نے تجربہ گاہوں میں چوہیوں کو جو کھانا دیا ان میں 15 فیصد مقدار سٹرابری یا اسکے رس پر مشتمل تھی اورکچھ عرصے بعد سرطانی رسولیوں کے وزن اور حجم میں نمایاں کمی نوٹ کی ۔ سانئس دانوں کے مطابق ضروری نہیں کہ ان پر کیے گئے تجربات بھی عین یہی نتائج انسانوں پر مرتب کریں۔

لال بیگ کے دماغ میں حیرت انگیز چیز کا انکشاف

لاہور (نیٹ نیوز) لال بیگ کا شمار کرہ ارض کے قدیم جانداروں میں ہوتا ہے جس کی افزائش نسل گندگی اور کچرے میں تیزی کے ساتھ ہوتی ہے۔ بعض محققین کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ایٹمی حملے کے بعد بھی اگر کوئی جاندار بچ سکتا ہے تو وہ لال بیگ ہے۔ اس حوالے سے لندن کی لیبارٹری میں لال بیگ کے جسم کے تمام حصوں اور خون کو الگ کر کے ان کا مشاہدہ کیا گیا اور بالآخر ٹیم یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ لال بیگ کے دماغ میں موجود کیمیکل میں جان لیوا جرثوموں اور وائرس کو ہلاک کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ٹیم ممبر سائمن لی کا کہنا ہے کہ لال بیگ کے دماغ سے انہیں 9اینٹی بیکٹیرئیل مالیکیول ملے ہیں جنکی وہ اب شناخت کر رہے ہیں تا کہ مستقبل میں ان کا کیمیائی تجزیہ کرسکیں اور جب کیمیکل کی شناخت ہوجائیگی تو اس کو تیار کرکے مارکیٹ میں مہیا کیا جاسکے گا۔ امریکی نسل کے لال بیگوں کی افزائش صاف ستھرے ماحول میں کی جاتی ہے اور اسے 30 روزہ تجربے کیلئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ سائمن لی کا کہنا ہے ہوسکتا ہے کہ غیرصحتمند ماحول میں پائے جانیوالے لال بیگ میں اس سے زیادہ اینٹی بیکٹیرئیل کیمیکل ہوں۔ لال بیگ کے دماغ سے ملنے والے مالیکیول انسانی جسم میں انفیکشن پیدا کرنیوالے ایم آر ایس اے اور ای کولائی بیکٹیریا کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ مالیکیول کی شناخت اور کیمیکل کی تیاری کے بعد اس کو جانوروں اور بعد میں کسی رضاکار پر آزمایا جائیگا اور اس پورے مرحلے میں ابھی کم سے کم دس سال کا عرصہ درکار ہے۔

پانامہ فیصلہ کے بعدہنگامہ ، جی ایچ کیو میں ہنگامی کورکمانڈر کانفرنس، اہم فیصلہ ہو گیا

راو لپنڈی(ویب ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاناما کیس کی جے آئی ٹی میں شامل پاک فوج کے نمائندے قانونی اورشفاف کارروائی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں 202ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، کانفرنس میں اعلیٰ ترین عسکری قیادت نے ملک میں جاری آپریشن رد الفساد کا جائزہ لیا۔کور کمانڈرز کانفرنس میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ بھی تفصیلی طور پر زیر غور آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پاک فوج پاناما کیس کے فیصلے کے تناظر میں تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی میں شفاف کردار ادا کرے گی اور جے آئی ٹی میں شامل ادارے کے نمائندے سپریم کورٹ کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

major general asif ghafoor

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناماکیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جس میں نیب، ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسر بھی شامل ہوں گے۔

چینی باشندوں نے ہمت کی اعلیٰ مثال قائم کردی

بیجنگ (نیٹ نیوز) چینی باشندوں نے ہمت، لگن اور جستجو کی اعلی ترین مثال قائم کردی۔ بلند و بالا پہاڑی کے انتہائی خطرناک راستے پر 9400 میٹر لمبی نہر کھود ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق چینی باشندوں نے ہمت، لگن اور جستجو کی اعلیٰ ترین مثال قائم کردی اورجو سوچا وہ کرکے دکھا دیا۔ انہوں نے جنوب مغربی چین کے گوئی ژو پہاڑی سلسلے میں 9400 میٹر طویل ایک نہر بنا ڈالی۔ تقریباً 36 سال میں ہاتھوں سے بنائی گئی اس نہر کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں تو دنیا بھر میں لوگ حیران رہ گئے۔

بھارت میں گوبر کی بارش

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) بھارت کے ایک دیہات کائروپلا میں ہر سال لوگ ایک دوسرے پر گائے کا خشک گوبر پھینکتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے اس سے صحت اور خوشحالی آتی ہے جب کہ اس عجیب مقابلے میں ہر سال درجنوں لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔دیومالائی داستانوں کے مطابق ویربھادرہ سوامی اور ایک دیوتا شیوا ، دونوں ہی بھدراکھالی نامی دیوی کی محبت میں گرفتار ہوئے تھے۔ ویربھادرہ سوامی نے بعد میں دیوی سے شادی کا انکار کردیا اس پر بھدراکھالی دیوی نے اپنے قبائلی وفاداروں کے ساتھ بدلہ لینے کی ٹھانی اور اس نے ویربھادرہ سوامی پر گوبر کے اپلوں سے بارش کروادی۔ اسی یاد میں ہرسال دیہاتی ایک دوسرے پر خشک گوبر کے اپلے پھینکتے ہیں۔لڑائی سے قبل گوبر سے بنی ہزاروں گیندوں کو خشک کرکے ایک جگہ جمع کردیا جاتا ہے اور لوگ 2 حصوں میں بٹ جاتے ہیں ۔ ایک ویربھادرا سوامی کا گروپ ہوتا ہے جب کہ دوسرا بدرکھالی کی ترجمانی کرتا ہے۔ دونوں گروپ درختوں، میدان اور گھر کی چھتوں پر چڑھ کر ایک دوسرے پر گوبر پھینکتے ہیں۔ لوگ دیوانہ وار ایک ہاتھ سے گوبر پھینکتے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں تولیا یا کپڑا لے کر اپنا بچا کرتے ہیں۔ آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والی اس گوبر جنگ میں زخمی ہونے والے بعض لوگوں کا علاج ایک مندر میں کیا جاتا ہے جہاں زخموں پر گوبر کی ہی راکھ لگائی جاتی ہے۔گائے کا گوبر تو اتنی تکلیف نہیں دیتا لیکن گوتمار کا میلہ اس سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جہاں 2 گاﺅں پندھورنا اور سواراگاں کے افراد ایک دوسرے پر پتھر پھینکتے ہیں۔ اس سنگ زنی میں کئی لوگ شدید زخمی اور چند ہلاک بھی ہوجاتے ہیں

چیف جسٹس آف پاکستان نے عمران خان کو کیا کچھ کہ دیا ؟ کپتان سوچنے پر مجبور….!

اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ فیصلوں میں اختلافی نوٹ ساری دنیا میں آتے ہیں لیکن جتنا شور اختلافی نوٹ پر یہاں مچا ہے کہیں بھی نہیں ہوتا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے عمران خان کی جانب سے بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان نے کہا کہ بنی گالہ میں تیزی سے غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں ان کو روکنا ہوگا، بنی گالہ میں ناجائز قبضے پر انہوں نے سابق چیف جسٹس کو بھی خط لکھا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زندگی دو چیزوں پانی اور ہوا پر محیط ہے، دیکھناہے کہ بنی گالہ میں ہونے والی تعمیرات قانون کے مطابق ہیں یا نہیں، جو درخت کٹ گئے وہ واپس نہیں لائے جا سکتے لیکن نئی شجر کاری ہو سکتی ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلوں میں اختلافی نوٹ ساری دنیا میں آتے ہیں، جتنا شور اختلافی نوٹ پر یہاں مچا ہے کہیں بھی نہیں مچتا، نظام اور عدلیہ کے لیے یہ وقت اہم ہے، ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا، ہم سب کو مل کر ملک کے تشخص کے لیے کام کرنا ہے، آپ عام آدمی نہیں، آپ کی آواز سے بہتری بھی آسکتی ہے خرابی بھی، موجودہ حالات میں آپ کو اہم اور تعمیری کردار ادا کرنا ہے، آپ قوم کو بےاعتمادی کی فضا سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔دوران سماعت سی ڈی اے اور آئی سی ٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرائی، عدالت نے سی ڈی اے اور آئی سی ٹی کی رپورٹ عمران خان کے وکلا کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے راول ڈیم کے ارد گرد تجاوزات سے متعلق بھی رپورٹ طلب کرلی، عدالت عظمٰی نے حکم دیا کہ بوٹانیکل گارڈن اور نیشنل پارک سے کسی قسم کی کٹائی نہ کی جائے،سی ڈی اے سے نقشہ منظورنہ کرانے والے مکانات کو بجلی ، گیس نہ دی جائے ، کیس کی مزید سماعت 10 مئی کو ہوگی۔
+

صرف رومانوی فلم میں کام کروں گی

ممبئی (نیٹ نیوز) بالی وڈ اداکارہ سشمیتاسین اپنے کیریئر میں رومانوی‘ کامیڈی اور ایکشن فلموں میں کام کر چکی ہیں تاہم طویل عرصے سے وہ سکرین سے غائب ہیں اور اب اداکارہ نے ایک بار پھر فلموں میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق مس یونیورس کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ فلموں کے سکرپٹس پر غور کر رہی ہیں تاہم اب تک کوئی ایسی کہانی سامنے نہیں آئی جو ان کی توجہ حاصل کر سکے۔ 41سالہ سشمیتاسین نے کہا میں نے کامیڈی‘ ہارر‘ ڈرامائی تمام فلموں میں کام کیا لیکن اس وقت میں ایک بہترین رومانوی فلم میں کام کرنا چاہتی ہوں۔

ملکی سیاست میں بھونچال، جے آئی ٹی بنتے ہی استعفیٰ

لاہور(وقائع نگار) پاکستان مسلم لیگ (ق)کی قیادت میں پانچ جماعتی ہم خیال اتحا د نے وزیر اعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے گرینڈ الائنس کی منظوری دیدی ۔تفصیلات کے مطابق چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کااجلاس ہوا جس میں (ق)لیگ،سنی اتحاد کونسل،مجلس وحدت المسلمین اورعوامی تحریک نے شرکت کی۔چار جماعتی اتحاد کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا گیا کہ جے آئی ٹی کو دباو¿ سے بچانے کے لئے وزیراعظم مستعفی ہوں،شفاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی 15 روزہ رپورٹ کو عام کیا جائے اور پانامہ فیصلے کی روح کے مطابق وزیراعظم کی حیثیت ملزم کی ہے۔اجلاس میں شرکت کیلئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی سربراہی میں میاں مقصود،ڈاکٹر وسیم اختر سمیت دیگر رہنماکا چوہدری پرویز الٰہی نے استقبال کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے شجاعت حسین نے کہا پناماکیس میں تمام ججوںنیک فیصلہ دیاسپریم کورٹ کافیصلہ واقعی تاریخی ہے، انہوں نے وزیر اعظم کے مستعفی ہونےکی پیش گوئی بھی کردی،، پا ناماکیس میں تمام ججوں نے ایک ہی فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے ،تحقیقات کو شفاف بنانے کےلئے نوز شریف کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے نواز شریف کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں تمام مسائل کی ماں کرپشن ہے یہ کیس سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ایک ٹیسٹ ہے،ملک کے حکمران کرپشن میں ملوث ہیں ، انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا فیصلہ ہے کہ وزیراعظم کے خلاف وہ جے آئی ٹی تشکیل دی ہے جو دہشت گردی میں ملوث لوگوں سے عمومی تحقیقات کےلئے بنائی جاتی ہے مگر اب نوز شریف اور اس کے خاندان کو اس جے آئی ٹی میں پیش ہونا پڑے گا۔سپریم کورٹ نے ایک لحاظ سے وزیر اعظم کو ملزم ڈیکلیئر کیا ہے،اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن کے خلاف سب سیاسی ورکر مل کر ایک ایسا لائحہ عمل طے کریں جس سے پانامہ میں ملوث سب لوگوں کا احتساب کیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے کرپٹ لوگوں اورکرپٹ سسٹم کے خلاف بات کرتی رہی ہے جس کی مثال 1996میں امیر جماعت اسلامی قاضی حسین مرحوم کا دھرنا تھا جس کے دوران پانچ کارکنان بھی شہید ہوئے،پاناما معاملے سے پہلے ہم نے کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ کیا بعد ازاں پاناما سکینڈل میں معلوم ہوا کہ ملک کا وزیر اعظم اور اس کا خاندان کرپشن میں ملوث ہے،حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی میں اپوزیشن کی جانب سے تحقیقات کے لئے بنائے گئے ٹی او آرز مسترد کردیئے گئے کیوں کہ ان کو اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کی کرپشن پکڑی جائے گی،ہر طرف سے مایوس ہوکر سپریم کورٹ جانا پڑا جس نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دی تاہم تحقیقات کو شفاف بنانے کےلئے اخلاقی طور پر وزیر اعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔پاکستان مسلم لیگ (ق)کی قیادت میں پانچ جماعتی ہم خیال اتحا د نے وزیر اعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے گرینڈ الائنس کی منظوری دیدی ۔تفصیلات کے مطابق چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کااجلاس ہوا جس میں (ق)لیگ،سنی اتحاد کونسل،مجلس وحدت المسلمین اورعوامی تحریک نے شرکت کی۔چار جماعتی اتحاد کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا گیا کہ جے آئی ٹی کو دباو¿ سے بچانے کے لئے وزیراعظم مستعفی ہوں،شفاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی 15 روزہ رپورٹ کو عام کیا جائے اور پانامہ فیصلے کی روح کے مطابق وزیراعظم کی حیثیت ملزم کی ہے۔اجلاس میں شرکت کیلئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی سربراہی میں میاں مقصود،ڈاکٹر وسیم اختر سمیت دیگر رہنماکا چوہدری پرویز الٰہی نے استقبال کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے شجاعت حسین نے کہا پناماکیس میں تمام ججوںنیک فیصلہ دیاسپریم کورٹ کافیصلہ واقعی تاریخی ہے، انہوں نے وزیر اعظم کے مستعفی ہونےکی پیش گوئی بھی کردی،، پا ناماکیس میں تمام ججوں نے ایک ہی فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے ،تحقیقات کو شفاف بنانے کےلئے نوز شریف کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے نواز شریف کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں تمام مسائل کی ماں کرپشن ہے یہ کیس سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ایک ٹیسٹ ہے،ملک کے حکمران کرپشن میں ملوث ہیں ، انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا فیصلہ ہے کہ وزیراعظم کے خلاف وہ جے آئی ٹی تشکیل دی ہے جو دہشت گردی میں ملوث لوگوں سے عمومی تحقیقات کےلئے بنائی جاتی ہے مگر اب نوز شریف اور اس کے خاندان کو اس جے آئی ٹی میں پیش ہونا پڑے گا۔سپریم کورٹ نے ایک لحاظ سے وزیر اعظم کو ملزم ڈیکلیئر کیا ہے،اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن کے خلاف سب سیاسی ورکر مل کر ایک ایسا لائحہ عمل طے کریں جس سے پانامہ میں ملوث سب لوگوں کا احتساب کیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے کرپٹ لوگوں اورکرپٹ سسٹم کے خلاف بات کرتی رہی ہے جس کی مثال 1996میں امیر جماعت اسلامی قاضی حسین مرحوم کا دھرنا تھا جس کے دوران پانچ کارکنان بھی شہید ہوئے،پاناما معاملے سے پہلے ہم نے کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ کیا بعد ازاں پاناما سکینڈل میں معلوم ہوا کہ ملک کا وزیر اعظم اور اس کا خاندان کرپشن میں ملوث ہے،حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی میں اپوزیشن کی جانب سے تحقیقات کے لئے بنائے گئے ٹی او آرز مسترد کردیئے گئے کیوں کہ ان کو اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کی کرپشن پکڑی جائے گی،ہر طرف سے مایوس ہوکر سپریم کورٹ جانا پڑا جس نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دی تاہم تحقیقات کو شفاف بنانے کےلئے اخلاقی طور پر وزیر اعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئر مین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو فیصلہ کن تحریک چلے گی۔ حکومت کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینے کےلئے اپوزیشن متحد ہوجائے۔ حکمرانوں میں کچھ شرم اور کچھ حیا ہوتی تو پانامہ کے فیصلے کے بعد خود استعفیٰ دیکر گھر چلے جاتے۔مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم جے آئی ٹی بنتے ہی استعفیٰ دے دیں گے‘صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے نوازشریف عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں۔