مشال کے نام پر کمائی کا دھندا شروع

کراچی (خصوصی رپورٹ) مشال خان کے نام پر کمائی کا نیا دھندا شروع کردیا گیا ہے۔ برطانیہ میں مقیم مشال خان کے ایک عزیز ڈاکٹر حیدر شاہ نے مقتول طالب علم کے نام سے فنڈنگ مہم شروع کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ رقم مشال کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر جمع کررہے ہیں جس کا ابتدائی ہدف 20 ہزار پاﺅن (تقریباً 26 لاکھ 78 ہزار 357 پاکستانی روپے) ہے۔ فنڈنگ مہم کے تحت رقم جمع کرنے کے لئے موصوف ڈاکٹر نے ایک ویب بیج بنایا ہے جس پر مشال کی دردناک موت کی مختصر روداد بیان کی گئی ہے تاکہ لوگوں کی جیب سے پیسہ نکولانے کے لئے جذبات کو استعمال کیا جاسکے۔ اس حربے کے اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان سطور کے لکھے جانے سے درجنوں ملکی و غیرملکی تقریباً پانچ ہزار پاﺅنڈ (6 لاکھ 68 ہزار پاکستانی روپے) جمع کرا چکے ہیں۔ مشال کے والد اقبال ایک باین اکاﺅنٹ پہلے ہی ڈاکٹر حیدر شاہ کو دے چکے ہیں۔ حیدر شاہ نے انہیں کہا ہے کہ 20 ہزار پاﺅنڈ کا ابتدائی ہدف حاصل ہوتے ہی رقم ان کے اکاﺅنٹ میں منتقل کردی جائے گی۔ اس فنڈنگ مہم کے لئے مشال کے قتل کے تین روز بعد اتوار کو ڈاکٹر حیدر شاہ نے مقتول کے والد اور بھائی ایمل سے فون پر رابطہ کرکے اپنی فنڈنگ مہم کے بارے میں آگاہ کیا تھا جس پر اقبال اور ایمل دونوں نے ڈاکٹر حیدر شاہ کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں یہ فنڈنگ مہم چلانے کی اجازت دی اور رقم کی منتقلی کے لئے ڈاکٹر حیدر کو اپنا اکاﺅنٹ نمبر بھیجا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس فنڈگ مہم میں اٹلی کے شہر پیسا میں مقیم مشال کا کزن ذوالقرنین عرف سکندر شاہ بھی پیش پیش ہے۔ ڈاکٹر حیدر شاہ برطانیہ کے بزنس سکول یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائرہیٹفیلڈ میں لیکچرار ہیں اور ان کے بقول وہ بھی مشال جیسے طالب علم اور اسی کی طرح معاشرے کے ناقد ہیں۔ لہٰذا اس کی فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی فییملی کے لئے مالی امداد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ادھر ذرائع کے مطابق مثال کے والد کو برطانیہ سے ملالہ یوسف زائی اور ان کے والد ضیاءالدین یوسف زئی نے بھی ٹیلی فون کیا ہے۔ بیٹے کے قتل پر اقبال خان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ملالہ اور ضیاءالدین نے پاکستان میں بڑھتے تشدد کے رجحان کا ذکر کیا اور کہا کہ اسی وجہ سے وہ اور ان کا خاندان بیرون ملک میں ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مشال کے اہل خانہ کو ملالہ کی فیملی کی طرح بیرون ملک شفٹ ہونے کا مشورہ دیا جارہا ہے اور مکان ہے کہ کچھ عرصے بعد فیملی کو خطرے کا جواز بنا کر اقبال خان اہل خانہ سمیت برطانیہ یا کسی اور یورپی ملک مستقل طور پر منتقل ہوجائیں گے۔ مشورہ دینے والوں نے سمجھایا ہے کہ بین الاقوامی طور پر مشال کے قتل کا واقعہ ہائی لائٹ ہونے کے بعد انہیں بیرون ملک سیٹل ہونے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ یہ ممالک پہلے ہی ”روشن خیالوں“ کے اپنے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ مشال خان کے بھائی ایمل خان نے تصدی کی ہے کہ برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر حیدر شاہ نے ان کی رضامندی سے ان کے لئے فنڈنگ مہم شروع کی ہے اور یہ کہ لوگ کھلے دل کے ساتھ پیسہ جمع کرا رہے ہیں۔ ایمل خان نے بتایا کہ ڈاکٹر حیدر شاہ ان کے دور پرے کے رشتہ دار ہیں۔ فنڈنگ کے حوالے سے وہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور دن میں کئی بار رابطہ کرکے اس بارے میں انہیں اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اگرچہ مشال کے والد کو ٹافیاں اور بسکٹ سپلائی کرنے والا ایک غریب محنت کش قرار دیا جارہا ہے تاہم مشال اپنی زندگی میں قیمتی اور نت نئے ملبوسات استعمال کیا کرتا تھا۔ اس کے پاس پیسہ مہنگے موبائل فون سیٹ اور لیپ ٹاپ رہا کرتے تھے جبکہ قریبی دوستوں کے مطابق مشال کی جیب بھی پیسوں سے بھری رہتی تھی۔ ادھر عمران خان کے اس ٹیوٹ نے کہ مشال خان کے اہل خانہ نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کا نام ان کے بیٹے سے منسوب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لہٰذا وہ اس خواہش پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک نیا بھونچال پیدا کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے اس اعلان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ مشال خان کے حق اور مارنے والوں کے خلاف دھواں دھار بیان بازی کرنے والے اے این پی کے حلقے اسے ایک سیاسی چال قرار دے رہے ہیں اور یونیورسٹی کو مشال خان کے نام سے منسوب کرنے پر تیار نہیں۔ ذرائع کے بقول خیبر پختونخوا حکومت نے اگر اس ارادے پر عمل کیا تو صوبے میں تحریک انصاف اور اے این پی کے درمیان تصادم کی فضا پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ واضح رہے کہ میڈیا میں بالخصوص ایک نجی ٹی وی چینل نے مشال خان کے قتل کے ایک مرکزی ملزم وجاہت کا اعتراف بیان ذرائع کے حوالے سے چلایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے سارے واقعہ کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈالتے ہوئے مشال خان کے قتل پر ندامت کا اظہار کیا اور یہ کہ اسے یونیورسٹی انتظامیہ نے مشال خان پر توہین کا الزام لگانے کا کہا تھا۔ وجاہت کے اس اعترافی بیان کو موم بتی مافیا حد سے زیادہ ہائی لائٹ کررہی ہے اور سوشل میڈیا پر اسے مسلسل شیئر کیا جارہا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹی وی چینل نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وجاہت کا مکمل اعترافی بیان جاری نہیں کیا، صرف اپنے مقاصد کے حصے عام کئے ہیں۔ ذرائع کے بقول مکمل اعترافی بیان میں وجاہت نے کہا ہے وہ مشال کے نظریات سے اختلاف رکھتا تھا اور اس معاملے پر اس کی مشال سے گرما گرمی رہتی تھی۔ وقوعہ کے روز انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع مردان کے نائب صدر مدثربشیر نے اسے چیئرمین کے دفتر میں بلایا، جہاں لیکچرار ضیااللہ ہمدرد، سپرنٹنڈنٹ ارشاد ، کلرک سعید اور دیگر لوگ موجود تھے۔ وجاہت کے بقول ان سب کے سامنے مدثر بشیر نے مشال خان کے توہین رسالت سے متعلق الفاظ کا گواہ بننے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب مشال خان کے قتل کے واقعے کے حوالے سے ایک نئی ویڈیو منظرعام پر آئی ہے، جس میں واقعہ کا ایک اور مرکزی ملزم قرار دیئے جانے والا مردان میں پی ٹی آئی کا تحصیل کونسلر اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا جنرل سیکرٹری عارف اپنے حامیوں سے حلف لے رہا ہے کہ مشال کو گولی مارنے والے کا نام پولیس کو نہیں بتایا جائے گا۔ ساتھ ہی عارف اپنا نام ایف آئی آر میں درج کرنے کا مطالبہ بھی کررہا ہے۔ واضح رہے کہ عارف اب گرفتار ہے تاحال پولیس ریمانڈ کے باوجود اس نے اس طرح کا کوئی اعترافی بیان نہیں دیا ہے کہ مشال کا قتل توہین کے الزام پر نہیں بلکہ کسی اور سازش کے تحت ہوا۔ مجبوراً موم بتی مافیا وجاہت کے اعترافی بیان کے اس نامکمل حصے پر قناعت کررہی ہے ، جس میں وہ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق مشال کو کلین چٹ دے رہا ہے۔ مشال کے قتل میں گرفتار ہونے والوں میں اکثریت اے این پی اور پی ٹی آئی کے اسٹوڈنٹس ونگز کے طلبہ کی ہے۔ مشال خان کا اپنا تعلق بھی پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تھا جبکہ قتل کا واقعہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہوا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ مارنے والے سیکولر، مرنے والا سیکولر جس جگہ واقعہ ہوا وہ بھی سیکولر پارٹی کا مرکز ہے مدرسہ نہیں۔ اس کے باوجود نام نہاد سول سوسائٹی اور اسلام سے بغض رکھنے والے اس واقعہ پر اسلامی انتہاپسندی کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں۔ ان میں ہی ملک سے فرار ہونے والے بلاگرز اور الطاف حسین بھی شامل ہیں۔ بوری بند لاشوں کے خالق ایم کیو ایم لندن کے سربراہ نے مشال کی موت پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے آڈیو پیغام اور تحریری بیان میں اس واقعہ کا الزام مذہبی جماعتوں پر لگایا ہے۔ وہ یہ بھول گئے کہ کراچی میں سینکڑوں پشتونوں کو ان کی ہدایت پر بے دردی سے قتل کیا گیا اور 92ءکے آپریشن میں ایم کیو ایم کے ٹارچرسیلوں سے ہی ڈرل مشینیں برآمد ہوتی تھیں جن کے ذریعے بے گناہوں کے جسموں میں سوراخ کرکے نہیں دردناک طریقے سے مارا جاتا تھا۔

جے آئی ٹی بننے سے قبل۔۔تحقیقات پر سوالیہ نشان لگ گیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے تحقیقات کیلئے ممکنہ طور پر تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) ٹیکس معاملات میں مشترکہ انتظامی اسسٹنس پر کثیر جہتی کنونشن کے ذریعے دیگر ممالک سے ستمبر 2018 تک معلومات لینے سے قاصر ہے۔ پاکستان اپریل 2017 میں 109 ممالک پر مشتمل معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کا باقاعدہ حصہ بنا تھا، اس تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ٹیکس اور مالی معاملات کی معلومات شیئر کرنا ہے، اس تنظیم کا حصہ بننے کے بعد آئندہ سال سے پاکستان کو اسے اثاثوں کی تفصیلات خود بہ خود ملنا شروع ہوجائیں گی۔ اس کثیر جہتی کنونشن کے تحت پاکستان کو اپنے شہریوں کے بیرون ملک فنڈز کی تفصیلات موصول ہونا شروع ہوجائیں گی اور پاکستان کو بھی تنظیم کے رکن ممالک کے شہریوں کے بینک اکانٹس کی ایسی ہی معلومات جولائی 2018 سے دینا ہوں گی۔ اس حوالے سے غیر رہائشی افراد کی تفصیلات جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان شیئر کی جائیں گی اور ان بینک اکانٹس کی معلومات بھی دی جائیں گی جو اس عرصے سے قبل کھولے گئے۔ اس کے بدلے میں پاکستان بھی اس عرصے میں پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات مذکورہ 109 ممالک سے حاصل کرسکے گا۔ خیال رہے کہ اس عمل کا آغاز پاکستان میں بہت دیر سے ہورہا ہے کیونکہ وہ او ای سی ڈی کا رکن بننے والا آخری ملک تھا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپنے ایک فیصلے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جو 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی اور 13 سوالوں کے جواب تلاش کرے گی، جن کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ان کے جواب تلاش کیے جانے چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاناما پیپرز اور باہاماس لیکس میں 444 آف شور کمپنیوں کے مالکان، جن میں وزیراعظم کے بیٹے بھی شامل ہیں، کے انکشاف کے بعد ستمبر 2016 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باقاعدہ طور پر اس لیکس کی تفتیش کا آغاز کردیا تھا۔ ایک افسر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو جے آئی ٹی بیرون ملک میں موجود متبادل مقامی اور ذاتی ذرائع سے کیس کی تحقیقات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس وقت تک جے آئی ٹی وزیراعظم اور ان کے بیٹے کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر ہی انحصار کرے گی۔ لیکن پاکستان کے پاس دنیا کے 9 ایسے مقامات، جو ٹیکس بچانے کیلئے جنت سمجھے جاتے ہیں، سے ایسا کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے کہ ان سے ڈبل محصولات کے ثبوت حاصل کیے جاسکیں، یا یہ معاہدے ان ممالک کو ایسی معلومات کی فراہمی کا پابند کرسکیں۔ ایف بی آر کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق 444 افراد کے نام لیکس میں موجود ہیں جنھوں نے ان دنیا کے 9 مقامات، برطانوی ورجن جزائر (271)، باہاماس (25)، پاناما (84)، سے شیلز (44)، نیو (10)، ساموا (4)، ماریشس (3)، انگویلا (2)، جرسی (ایک) میں کمپنیوں کے مالکان ہیں خیال رہے کہ ان 9 میں سے دو علاقے باہاماس اور نیو، او ای سی ڈی کنویشن کا حصہ نہیں ہیں جبکہ دیگر 7 بلا واسطہ اور بل واسطہ اس کنویشن کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان میں سے 3 علاقے براہ راست برطانیہ کے کنٹرول میں ہیں، جن میں ورجن جزائر، انگویلا اور جرسی شامل ہیں، ان 444 افراد میں سے 274 نے ان تین مقامات پر کمپنیاں قائم کررکھی ہیں۔ مارچ 2014 میں برطانیہ نے او ای سی ڈی کا دائر کار ان تینوں مقامات تک بڑھا دیا تھا۔ واضح رہے کہ جو کمپنیاں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی ملکیت میں ہیں وہ بیشتر برطانوی ورجن جزائر میں قائم ہیں۔ ان 9 مقامات سے آف شور کمپنیوں کی معلومات کیلئے ایف بی آر کو وزارت خارجہ کے ذریعے رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ ایک عہدیدار نے نجی ٹی وی کو یہ تصدیق کی کہ ان تمام 9 مقامات سے معلومات حاصل کرنے کیلئے 18 اکتوبر 2016 کو ایک خط لکھا جاچکا ہے، جس میں ان کے ریونیو حکام سے ضروری معلومات اور دستاویزاتی ثبوت مانگے گئے تھے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ 17 فروری 2017 کو ایف بی آر نے اس معاملے پر وزارت خارجہ کو ایک یاد دہانی بھی کراوئی تھی، ‘ہمیں ساموا سے ایک جواب بھی آیا، جنھوں نے پاکستان کے ساتھ ایسی کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے انکار کردیا’، عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ساموا کا موقف تھا کہ پاکستان اور ان کے درمیان مشترکہ ڈبل ٹیکسیشن کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت سے ایف بی آر نے ساموا سے مذکورہ معاہدے کیلئے کام کا آغاز کردیا ہے،’ہم دیگر علاقوں سے بھی دو طرفہ معاہدوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں’۔ ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈائرکٹریٹ کے مطابق بورڈ پاناما پیپرز میں نشاندہی کی جانے والی کمپنیوں کے مالکان کو 344 نوٹسز جاری کرچکی ہے۔ ان کے ذریعے کمپنیوں کی ملکیت، ان مالی تفصیلات اور دیگر ٹیکس معاملات کی معلومات طلب کی گئی تھیں۔ ایف بی آر ڈائریکٹریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کو 250 افراد کی جانب سے جواب موصول ہوئے جن میں سے 72 افراد نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کی تصدیق کی۔ عہدیدار کے مطابق 12 افراد کی موت کی وجہ سے ان کی بیواں نے جواب دیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ 55 افراد نے دعوی کیا ہے کہ پاناما پیپرز میں نشاندہی کی جانے والی آف شور کمپنیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس حوالے سے 9 افراد نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ پاکستانی حکام کی حدود میں نہیں آتے کیونکہ پاکستان میں مقیم نہیں ہیں۔ اس حوالے سے 72 کیسز میں مختلف وجوہات کی وجہ سے تحقیقات خارج کرنا پڑیں جبکہ 84 کیسز میں مذکورہ افراد کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹسز جاری نہ کیے جاسکے۔ریونیو عہدیدار کے مطابق پاناما پیپز میں 155 افراد 600 کمپنیوں کے ڈائریکٹر بتائے گئے تھے، ‘ ان میں سے بیشتر نے محصولات ادا نہیں کیے’۔

”لاہور خطرناک قرار “وجہ انتہائی تشویش ناک

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے 73اہم ترین دہشتگردوں کی فہرست جاری کردی ہے اور ان دہشت گردوں کے سر کی قیمت مجموعی طور پر 5کروڑ 53لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مطلوب دہشت گردوں کا تعلق پنجاب سے ہے اور ان میں سے19 خطرناک دہشت گرد لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گےا ہے کہ لاہور فرقہ واریت کے حوالے سے حساس شہر بن چکا ہے۔ ریڈبک کے مطابق پنجاب 36 ضلعوں پر تقسیم صوبہ ہے جن میں سے 25 ضلعوں کے اندر یہ 113 مطلوب دہشت گرد ہیں تاہم سیالکوٹ، جہلم، حافظ آباد، وہاڑی، نارووال، اوکاڑہ، چنیوٹ اور راجن پور وہ جگہیں ہیں جہاں سے کوئی عسکرےت پسند نہیں آئے اگرچہ ان علاقوں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ1997ءکے شیڈول 4 کے تحت نگرانی لسٹ میں کچھ مشکوک عسکرےت پسند شامل ہیں۔ آٹھ مطلوب دہشت گرد سرگودھا، فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ملحقہ اور آرمی کا ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں بھی چھ مطلوب دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے جبکہ پانچ پانچ دہشت گرد ملتان‘ راولپنڈی کے نزدیک اٹک، رحیم یار خان، شیخوپورہ اور بھکر سے ہے۔ ریڈبک تین حصوں میں تقسیم کی گئی ہے جس میں پہلا حصہ بائیس مطلوب دہشت گرد خود کش حملوں میں ملوث کے متعلق ہے۔ دہشت گردوں میں سے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے مطیع الرحمن پہلے نمبر پر ہے جس کے سر کی قیمت کئی سالوں سے ایک کروڑ روپے مقرر ہے۔ رحمن اور اس کے بچپن کا ساتھی قاری احسان جس کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ قاری احسان مطلوب دہشت گرد جو کہ دسمبر 2013 ءمیں گرفتاری کے بعد بھاگ گیا تھا وہ منظم طور پر اس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویزمشرف پر خود کش دھماکوں میں ملوث تھا۔ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی کی بدولت یہ دونوں دہشت گرد آج تک نہیں پکڑے جا سکے۔ پہلی پوزیشن میں بہاولپور سے تعلق رکھنے والے زبیر الیاس اور خانیوال سے ضیاءالرحمن پروفائل میں شامل ہیں۔ ان دونوں دہشت گردوں نے آٹھ دسمبر 2009ءکو ملتان میں آئی ایس آئی آفس، قاسم بیلہ میں حملہ کیا تھا۔ ایسے ہی راولپنڈی سے تعلق رکھنے والا سعد منیر بھی مبینہ طور پر امریکی شہری کے قتل میں مطلوب ہے۔
73دہشت گرد

جمیکا ٹیسٹ:پاکستان کے4وکٹوں پر201رنز یونس خان نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

کنگسٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ویسٹ انڈیز کے خلاف ابتدائی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان نے 4وکٹوں کے نقصان پر 201رنز بنا لئے۔ قومی کرکٹ ٹیم کو ویسٹ انڈیز کا سکور برابر کرنے کیلئے مزید 85رنز درکار ہیں اور اس کی 6وکٹیں ابھی باقی ہیں۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 286رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے محمدعامر نے مخالف ٹیم کے 6کھلاڑیوں کو میدان بدر کیا۔ میزبان جیسن ہولڈر نے ناقابل شکست 57رنز بنائے۔ ادھر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10ہزار رنز مکمل کر لئے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ پہلے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے یہ اعزاز ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں حاصل کیا۔ یہ یونس خان کے کیریئر کا 116واں ٹیسٹ میچ ہے۔ انہیں یہ اعزاز حاصل کرنے کیلئے 23رنز کی ضرورت تھی۔ 29نومبر 1977ءکو پیدا ہونے والے یونس خان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز سری لنکا کے خلاف 2000ءمیں راولپنڈی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے کیا۔ انہیں اپنے پہلے ٹیسٹ میں ہی سنچری بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ اب تک 52.39سے زائد کی اوسط سے رنز بنا چکے ہیں۔ یونس خان کو پاکستان کیلئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کا کپتان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
یونس خان

ڈانس پارٹی پر چھاپہ۔۔ مدہوش لڑکے لڑکیاں گرفتار ۔۔سفارشیوں کی لائنیں لگ گئیں

رائے ونڈ (نامہ نگار) اے ایس پی رائے ونڈ سرکل عبدالوہاب کے حکم پر تہلکہ خیز کارروائی چند منٹوں میں ٹھس ،فحش ” کو پارٹی“ پر دو تھانوں کی پولیس کا گرینڈچھاپہ ، تھانہ میں چند منٹ ہلڑ بازی کے بعد سب کچھ پاک صاف قرار دے دیاگیا ، مستی میں جھومتے منڈے کڑیاںگھروں گھری واپس لوٹ گئے، غریب ساﺅنڈ سسٹم والا سفارش نہ ہونے پر باندھ لیا گیا، پولیس تھانہ سٹی رائے ونڈ اور تھانہ سٹی سندر نے اڈا پلاٹ چوکی کے علاقہ میں واقع اہم شخصیت کے فارم ہاﺅس پر رائے ونڈ کے ارد گرد پھیلی یونیورسٹیوں اور کالجز کے100کے لگ بھگ لڑکوں لڑکیوں کو ڈانس پارٹی میں مدہوش حالت میں ایک دوسرے کے ساتھ بانہوں میں بانہیں ڈالتے اونچی ساﺅنڈ سسٹم پر انگلش گانوں ڈسکو ڈانس کرتے رنگے ہاتھوں دھر لیا، پرسنل شیطانی ڈانس پارٹی میں پولیس کی آمد پر بھگدڑ مچ گئی، لڑکے لڑکیاں مدہوشی میں گرتے ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوگئے، تمام تعلیم یافتہ شوخے اور شوخیوں کو پولیس کی گاڑیوں میں بے پردہ ماڈرن حالت میں تھانہ سٹی میں لایا گیا جہاں ان کو پوری عزت کیساتھ مختلف تھانیداروں کے کمروں میں ایک دوسرے سے گپیں ہانکنے کیلئے چھوڑ دیا گیا، صرف ایک دو لڑکیاں روتی رہیں کہ پولیس نے ان کے ساتھ سخت زیادتی کی ہے، وہ اپنے شریف والدین کو کیا منہ دکھائیں گی، وہ اپنی کلاس فیلو کی برتھ ڈے پارٹی پر خوشی میں ہلا گلا کررہیں تھی،ایک لڑکی کے مطابق کہ مختلف پرائیوئٹ تعلیمی کے طلبا وطالبات ہیں، اور ان میں سے کوئی باہر کی کال گرل نہیں، اور نہ ہی وہ قابل اعتراض حالت میں تھے، ایس ایچ او تھانہ سٹی رائے ونڈ حافظ عبدالماجد نے اے ایس پی عبدالوہاب کے علم میں لاتے ہوئے باری باری سب کو آزاد کردیا، پولیس کے مطابق ان کو مخبری ہوئی تھی کہ عرفان فارم ہاﺅس پر پروانے اور تتلیاں روائتی انجوائے کر رہے ہیں، اور اونچی آواز میں ڈیک لگایا گیا ہے، ایک لڑکی کے مطابق لڑکے لڑکیوںکے مابین ایک خوبصورت لڑکی کی وجہ سے ہنگامہ ہوا تو ان میں سے کسی ایک نے نشے میں پولیس کو کال کرنے کی غلطی کرڈالی، جس کے بعد سارا واقعہ پیش آیا، کئی پولیس وینوں میں بیٹھی ماڈرن اور فیشن ایبل میک اپ زدہ لڑکیوں کو روڈ سے گزارتے ہوئے تھانہ لایا گیا تو سینکڑوںمنچلے لہلہاتے پیچھے پیچھے پہنچ گئے، تھانہ کے باہر ایک ہجوم بن گیا، جبکہ تھانہ کے اندر اہم شخصیات کی آمدورفت معاملہ کے کلوز ہونے تک جاری رہی، یادرہے کہ رائے ونڈ کے ارد گرد پھیلے عیاشی کے جدیداڈوں پر پولیس کی ہونے والی یہ کارروائی اور اس کا اختتام کوئی نئی بات نہیں۔

کنٹریکٹ ملازمین کی موجیں

لاہور(ملک مبارک سے ) محکمہ اوقاف میں کنٹریکٹ سیٹوں پر تعینات ملازمین کی اکثریت گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے لگی دفتری ڈیوٹی پر جانے کی بجائے متعلقہ افسران کی مٹھی گرم کر کے اپنے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہیں ملتان پہلے نمبر پر جبکہ باقی زونز دوسرے ،تیسرے نمبروں میں شامل ان زونز میں کئی دھائیوں سے سرکل افسران و ملازمین رشوت و سیاسی اثر رسوخ کی بنا پر ایک ہی سیٹوں پر برجمان رہنے لگے جس کی وجہ سے ادارے کے سالانہ کروڑوں روپے کرپشن کی نظر ہونے لگے ۔ہیڈ آفس کی طرح حاضری کو یقینی بنانے کےلئے بائیومیٹرک سسٹم کا نفاز اور سروسز رولز پر عملدآمد کرانے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اوقاف کے پنجاب بھر کے نو زونز میں کنٹر یکٹ پر بھرتی ہونے والے درجہ چہارم کے ملازمین کی اکثریت دفتر ڈیوٹی دینے کی بجائے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہیں کسی نے اپنی شاپس بنا رکھی ہیں کسی نے رکشے لے رکھے ہیں جو سکول میں بچوں کو چھوڑنے اور لے آنے کی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں کسی نے پرائیویٹ فرموں میں کام کر رہے ہیں جبکہ دفتر میں ان کے متعلقہ افسران ان سے تنخواہ کا کچھ حصہ لے کر حاضری لگا دیتے ہیں ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں اکثر ایسے ہیں جو اخباری اشتہار کے بغیر بھرتی ہوئے ہیں ذرائع کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ان نو زونز میں کرپشن کی بڑی وجہ یہ بھی ہے مزارات پر کیش کی نگرانی کےلئے درجہ چہارم کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے اورلاہور سمیت کئی مزارات پر کیش چوری کے واقعات رونما ہوئے اور کئی نگران اور متعلقہ افسران ملوث بھی پائے گئے جن کو نرم سزائیں دے کر دوبارہ بحال کردیا گیا ۔لاہور ،ملتان ،فیصل آباد ،سرگودھا ،بہاولپور اور دیگر زونز اور ان کے سرکلوں میں تعینات افسران وملازمین کئی عرسوں سے ایک ہی سیٹوں پر تعینات ہیں بڑے مزارات جن میں داتا دربار ،بی پاک دامن ،میاں میر ،مادھولال ،بہاولدین زکریا ،شاہ رکن عالم ،حق باہو جیسے مزارات پر سرکل مینجر ،کلرک ،مالی اور نگران کئی دھائیوں سے ایک ہی جگہ پر تعینات ہیں جبکہ سروسز رولز کے مطابق کوئی بھی ملازم تین سال سے زیادہ ایک سیٹ پر تعینات نہیں ہوسکتا لیکن ان مزارات کے افسران اور ملازمین زونل ایڈمنسٹر یٹر کے کماﺅ پتر ہوتے ہیں ذرائع کے مطابق یہاں پر ایک چین سسٹم چلتا ہے نگران متعلقہ سرکل منیجر کی اشیر باد پر پرائیویٹ اشخاص مزارات پر تعینات کرتا ہے جو زائرین سے چادروں اور پھولوں کے نام پر رقم بٹورتے ہیں اور شام کو اپنا کچھ حصہ لے کر باقی نگران لے لیتا ہے جو زونل ایڈمنسٹر ٹیر تک جاتا ہے اور جو ملازم ایسا نہ کرے تو اس کا ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہے ۔ان زونز میں ایمانداری سے کام کرنے والے ملازمین نے صوبائی وزیر اوقاف اور سیکرٹری اوقاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیسے ہیڈ آفس میں بائیومیٹرک سسٹم کا نفاذ کیا گیا ہے ایسے تمام زونز اور ان کے متعلقہ سرکلز میں بھی بائیومیٹرک سسٹم کا نفاز کیا جائے تاکہ ملازمین جو دفتر نہیں آتے ان کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور ان ملازمین اور سرکل افسران کو دوسرے سرکلوں یا زونز میں ٹرانسفر کیا جائے جو کئی دھائیوں سے ایک جگہ پر تعینات ہیں ۔

اطالوی سائیکلسٹ وین کی ٹکر سے ہلاک

روم (سپورٹس ڈیسک) اطالوی سائیکلسٹ مشیل اسکارپونی تربیتی رائیڈ کے دوران پیش آنےوالے حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔ مشیل اسکارپونی ہفتے کے روز اٹلی کے شہر انکونا کے علاقے فیلوٹرانو میں اپنے گھر کے قریب سائیکلنگ کررہے تھے کہ ایک وین نے انہیں ٹکر مار دی۔حادثے کے نتیجے میں 37 سالہ اسکاپورنی کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔وہ قزاقستان میں رجسٹرڈ سائیکلنگ ٹیم آستانہ کے رکن تھے جبکہ ان کی آستانہ ٹیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ اسکارپونی کے گھر کے قریب پیش آیا۔

افغان فوجی اڈے پر حملہ….افغان وزیر دفاع اور آرمی چیف عہدے سے مستعفی

کابل(ویب ڈیسک) شمالی افغانستان میں افغان فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں 100 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد افغان آرمی چیف جنرل قدم شاہ شاہم اور وزیر دفاع عبداللہ خان حبیبی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف اور وزیر دفاع کے استعفے قبول کرلیے۔یاد رہے کہ گذشتہ جمعہ (21 اپریل) کو شمالی افغانستان میں صوبہ بَلخ کے دارالحکومت مزار شریف کے مضافات میں قائم فوجی اڈے میں ہونے والے طالبان کے حملے میں 100 سے زائد فوجی ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔رپورٹس کے مطابق 10 حملہ آوروں نے افغان نیشنل آرمی کی 209 ویں کور کے کپماو¿نڈ میں واقع مسجد پر حملہ کیا، 2 حملہ آوروں نے خود کو ا±س وقت دھماکے سے اڑایا جب فوجی اہلکار نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف تھے۔

نجم سیٹھی کی آفریدی کو بڑی خوشخبری

لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی سے ملاقات کے دوران ان کی فیئر ویل سے متعلق معاملات طے کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق نجم سیٹھی نے دبئی میں شاہد آفریدی سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ٹوئٹر”پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ شاہد آفریدی سے میری ملاقات بہت مثبت رہی،فیئر ویل کے ساتھ ساتھ مستقبل میں آفریدی کی کرکٹ میں خدمات سے متعلق بھی معاملات طے کیے گئے۔۔ذرائع کے مطابق شاہد خان آفریدی کوورلڈ الیون کے خلاف میچ کھلائے جانے کی آپشن بھی زیر غور ہے لہٰذا پاکستانی ایک بار پھر شاہد خان آفریدی کو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھنے کی امید کر سکتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے نیاکمرشل اور بزنس منیجر تعینات کردیا

لاہور (سپورٹس ڈیسک) سٹار آل راونڈر شاہد خان آفریدی نے ارسلان شاہ کو کمرشل اور بزنس منیجر تعینات کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شاہد خان آفریدی نے فیس بک پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ”میں نے ارسلان شاہ کو کمرشل اور بزنس منیجر تعینات کر دیا ۔اور ان کیساتھ manager@shahidafridi10.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔“ واضح رہے کہ ارسلان شاہ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کے بھی بزنس منیجر ہیں۔