چاہتا ہوں نوجوان رول ماڈل کے طور پر یاد رکھیں

جمیکا(آئی این پی) مایہ ناز ٹیسٹ کر کٹر یونس خان نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد نوجوان کھلاڑی مجھے رول ماڈل کے طور پر یاد رکھیں،خواہش ہے کہ مجھے ایک ایسے کھلاڑی اور بلے باز کے طور پر یاد رکھا جائے جو ہمیشہ ملک کیلئے کھیلا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مایہ ناز بلے باز مصباح الحق اور یونس خان (آج)جمعہ سے ویسٹ انڈیز کیخلاف شروع ہونے والی سیریز میں آخری بار ایکشن میں دکھائی دیں گئے۔ مایہ ناز ٹیسٹ کر کٹر یونس خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک ٹیم پلیئر کے طور پر یاد رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں ریٹائر ہو جاو¿ں اور ڈریسنگ روم کا حصہ نہ ہوں تو نوجوان کھلاڑی مجھے رول ماڈل کے طور پر یاد رکھیں۔ ’میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایک ایسے کھلاڑی اور بلے باز کے طور پر یاد رکھا جائے جو ہمیشہ ملک کیلئے کھیلا‘۔خیبر پختونخوا کے علاقے مردان سے تعلق رکھنے والے یونس نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی سے کیا اور 2000 میں راولپنڈی میں کھیلے گئے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کے خلاف سنچری بنا کر شاندار کیریئر کی نوید سنائی۔ا یک کے بعد انہوں نے مختلف اتار چڑھاو¿ کا سامنا کیا اور ایک ٹرپل سنچری اور تین ڈبل سنچریوں سمیت مزید34 سنچریاں اسکور کیں۔یونس خان 9ہزار 977 رنز بنا کر پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بلے باز ہیں اور انہیں دس ہزار تکمیل کیلئے محض 23 رنز درکار ہیں۔

یاسر انتخاب عالم کا ریکارڈ توڑنے کیلئے 2 قدم دور

کنگسٹن (اے پی پی) یاسرشاہ کو ٹیسٹ کرکٹ میں انتخاب عالم کی زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ توڑنے کیلئے مزید 2 وکٹوں کی ضرورت ،یاسرشاہ آج ویسٹ انڈیز کےخلاف شروع ہونےوالے پہلے ٹیسٹ میچ میں انتخاب عالم کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوئے تو وہ ملک کی طرف سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے 14ویں باﺅلر بن جائیں گے۔، انتخاب عالم نے 125 وکٹیں لے رکھی ہیں جبکہ یاسر نے 23 میچز میں 124 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے کا اعزاز وسیم اکرم کو حاصل ہے جنہوں نے 414 وکٹیں لے رکھی ہیں۔

امریکی ٹینس کوئین سرینانے حاملہ ہونے کی تصدیق کر دی

شکاگو(آئی این پی) سرینا ولیمز نے اپنے حاملہ ہونےکی خبر تصدیق کر دی۔ سرینا نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر دےکر سب کو چونکا دیا ہے۔ کیونکہ سرینا ولیمز نے سوشل میڈیا پر تیراکی کے لباس میں اپنی ایک تصویر پوسٹ کر کے اس کے نیچے ’20 ہفتے ‘لکھا تھا۔جس کے بعد ان کے حاملہ ہونے کے قیاس لگائے جا رہے تھے۔جس کے بعد اب انہوں نے حتمی طور پر اس خبر کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اب سال 2018 میں ہی کورٹ پر واپسی کریں گی۔واضح رہے کہ امریکی ٹینس سٹار رواں سال تین گرینڈ سلیم ٹائٹل میں شرکت نہیں کر سکیں گی جس میں فرنچ اوپن، ومبلیڈن اور یو ایس اوپن ٹائٹل شامل ہیں۔

وہاب اور محمدعامر کی سیریز میں ریوس سوئنگ …. وسیم کا اہم انکشاف

لاہور(آئی این پی)قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کے پاس ویسٹ انڈیز کو ان کے گھر پر ہرانے کا اچھا موقع ہے۔ وہاب اور عامر کو سیریز میں ریوس سوئنگ سے فائدہ اٹھانا چاہیے، مصباح اور یونس کو اپنی آخری سیریز میں کسی دباو کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں تجربہ کار کھلاڑی ہیں سیریز کو یاد گار بنائیں گے۔اپنے ایک انٹر ویو میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راﺅنڈ ر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے پاکستان ٹیم کے پاس ویسٹ انڈیز کو ان کے گھر پر ہرانے کا یہ اچھا موقع ہے۔مصباح اور یونس کو اپنی آخری سیریز میں کسی دباﺅ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔وہاب اور عامر کو سیریز میں ریوس سوئنگ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مصباح اور یونس کو اپنی آخری سیریز میں کسی دباﺅ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔دونوں تجربہ کار کھلاڑی ہیں سیریز کو یاد گار بنائیں گے۔وہاب اور عامر کو سیریز میں ریوس سوئنگ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ21ویں صدی آگئی لیکن سفارشیں ختم نہیں ہوئیں، جس کے باعث ڈومیسٹک سسٹم کو بار بار تبدیل کرنے کے بعد بھی صحیح ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہا ہے۔وسیم اکرم نے کہا کہ میری نیک خواہشات قومی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

کنگسٹن ٹیسٹ کا آج سے آغاز

جمیکا (نیوزایجنسیاں) پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ (آج) جمعہ سے سبائنا پارک، کینگسٹن، جمیکا میں شروع ہوگا۔میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 08:00بجے شروع ہوگا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے گزشتہ روز پریکٹس سیشن میں بیٹنگ اور فیلڈنگ پر زیادہ زور دیا، پہلے ٹیسٹ سے قبل دونوں ٹیموں کی جمیکا میں سخت پریکٹس کی، قومی کرکٹ ٹیم نے 3 گھنٹے طویل ٹریننگ سیشن میں فیلڈنگ پریکٹس پر زیادہ توجہ دی۔ پاکستانی فاسٹ بولر حسن علی مکمل فٹ نہ ہو سکے جس کے باعث ان کا پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہ ہونے کا امکان ہے،پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں رینکنگ میں پانچویں پوزیشن بچانے کا چیلنج درپیش ہوگا۔قومی کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ الوداعی سیریزکواچھے اندازمیں مکمل کرنابڑاہدف ہے۔ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیم پہلے کبھی انکے ہوم گراﺅنڈمیں کامیاب نہیں ہوسکی مگراس بارتاریخ کوبدلنے کی پوری کوشش کر یں گے۔پریکٹس میچ کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ویسٹ انڈین قائد جیسن ہولڈرنے کہا ہے ٹیسٹ فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم خطرناک ہے۔مہمان ٹیم میں میچ کانقشہ بدلنے والے کئی پلیئرزموجودہیں۔ حریف ٹیم کو قابوکرنے کی حکمت عملی بنالی ہے۔پاکستان کی ٹی 20 اور ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی رہی، گرین شرٹس نے ٹی 20 سیریز 3-1 اور ون ڈے سیریز 2-1 سے اپنے نام کی۔ یونس خان اور مصباح الحق ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوجائیں گے اور اس لئے وہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کےلئے پر امید ہیں۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلی گئیں سیریز میں دونوں ٹیمیں 5-5 سے برابر ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 16ٹیسٹ سیریز میں سے5 پاکستان اور 5 ہی ویسٹ انڈیز ٹیم نے جیتیں جبکہ 6 سیریز ہار جیت کے فیصلے بغیر ہی ختم ہوگئیں لیکن ویسٹ انڈیز ٹیم کے لئے پلس پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم اس کی سر زمین پر اب تک کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی، اس اعتبار سے دونوں ٹیموں کے درمیان ویسٹ انڈیز میں 7 سیریز کھیلی گئیں جن میں 4 سیریز ویسٹ انڈیز نے جیتیں اور 3 ڈرا ہوئیں جبکہ پاکستان کوئی بھی سیریز اپنے نام کرنے میں ناکام رہا۔ ان سیریز میں کل 23 میچز ہوئے اور ان میں بھی ویسٹ انڈیز کی برتری قائم رہی، 11 میچ کالی آندھی لے اڑی جبکہ 5 میچ شاہینوں کے نام رہے جبکہ 7 میچ ڈرا ہوگئے۔ مصباح الحق ویسٹ انڈیز کو اس کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز ہرا نے میں کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کے پہلے کپتان بن جائینگے۔ ایک اور خاص بات ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان اپنے ٹیسٹ کیریئر کی آخری ٹیسٹ سیریز کھیل رہے ہیں۔یونس خان جو اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے سے صرف 23 رنز کی دوری پر ہیں۔ نوجوان کھلاڑی بابر اعظم ، حسن علی ، شاداب خان کی ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں غیر معمولی کارکردگی شائقین کرکٹ کو جیت کی امید دلاتی ہے۔ یونس خان اور مصباح الحق ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوجائیں گے اور اس لئے وہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کےلئے پر امید ہیں۔ویسٹ انڈیزکی 13 رکنی سکواڈ میں کپتان جیسن ہولڈر، دیوندرا بیشو، جرمین بلیک ووڈ، کریگ بریتھویٹ، روسٹن چیس، میگل کمنز، شین ڈورچ، شینن گبرائل، شمرون ہٹمائر، شے ہوپ، الزاری جوزف، کیرن پاویل اور ویشال سنگھ پر مشتمل ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 30 اپریل سے 4 مئی تک بارباڈوس جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 10 سے 14 مئی تک ڈومنیکا میں کھیلا جائے گا۔

حکومت کا ستیاناس ہوگیا, مٹھائیاں تقسیم کرنیوالے جلدشام غریباں منائینگے

راولپنڈی (آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت کا ستیاناس ہوگیا ، مٹھائیاں تقسیم کرنیوالے کچھ دیر میں شام غریباں منائیں گے ، سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ نواز لیگ کی حکومت کا ستیاناس ہوگیا ہے آج عدالت نے دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا ہیں نواز لیگ کے والے لوگ جو ابھی مٹھائی تقسیم کررہے ہیں کچھ دیر بعد یہ شام غریباں منائیں گے۔

جے آئی ٹی بارے وزیراعظم کا بڑا بیان سامنے آگیا۔۔۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں، جے آئی ٹی میں بھی بے گناہی ثابت کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم ہاﺅس میں پانامہ کیس کا فیصلہ سنا اور کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ پہلے بھی بے گناہی کے ثبوت عدالتوں میں پیش کئے اور جے آئی ٹی میں بھی بے گناہی ثابت کریں گے۔

گندم کٹائی مہم کا افتتاح, وزیراعلیٰ کا کسانوں کیلئے بڑا اعلان

لاہور‘قصور‘کھڈیاں خاص (نمائندگان خبریں‘نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہبازشریف نے کیاہے کہ پنجاب ھکومت اس سال کسانوں سے چالیس لاکھ ٹن گندم خریدکریگی۔ ہمارے کسان بھائیوں کی محنت اورکاوش سے اس سال گندم کی فصل انتہائی بہترین اوراچھی ہوئی ہے۔ہمارے پاس بہت بڑے ذخائرموجودہیں گندم خریدکاحدف پوراکرلینگے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے کسانوں کےلئے اربوں روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔قبل ازیں بھی کسانوں کوکپاس اورآلووغیرہ کی فصل میں کافی نقصان اٹھاناپڑاجس پروزیراعظم نے کسانوں کے نقصان کاازالہ کرنے کےلئے کھاداوربجلی پراربوں روپے سبسڈی دی بلاسودقرضے جاری کئے۔جووزیراعظم میاں نوازشریف کی زراعت کے شعبہ سے دلچسپی اورکسانوں کے مسائل ومشکلات میں آسانی اورہمدردی کامنہ بولتاثبوت ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ وزیراعظم میاں نوازشریف سستے ترین بجلی کے جونئے منصوبے بنارہے ہیں جن پرسوارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی پیدواری منصوبوں میں سوارب روپے کی بچت کرنے والاشخص کرپٹ کیسے ہوسکتاہے۔ میاں شہبازشریف نے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بجلی کے بحران پربہت جلدقابوپالیاجائے گا۔موجودہ بحران ڈیموں میں پانی کی قلت کی وجہ سے ہے جوایک قدرتی عمل ہے۔بھکی پاورپلانٹ کاافتتاح ہوچکاجس سے لوڈشیڈنگ میں کمی واقع ہوگی۔ پانامالیکس عدالتی فیصلے کے سوال پرمیاں شہبازشریف نے کیاکہپانامالیکس سے متعلق فیصلے کے سوال پرانہوں نے کہاکہ قانون ہمیں سیکھاتاہے کہ مہذب قومیں عدالتی فیصلوں کومانتی ہیں۔عدالتی فیصلہ حق میں آئے یامخالف احترام کرینگے جودفیصلہ ہوگا کھلے دل سے تسلیم کرینگے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے کھڈیاںخاص کے نواحی گاو¿ں فتح پورمیں گندم کٹائی مہم کے افتتاح کے موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیرخوراک وزراعت بلال یٰسین،پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمداحمدخاں سمیت دیگروزراءایم این اےز ملک رشیداحمدخاں ،رانامحمدحیات خاں،ایم پی ایزملک احمدسعیداحمدخاں ،نعیم صفدرانصاری،ندیم سیٹھی،انیس قریشی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجودتھے۔ وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے مشین سے خود گندم کاٹ کرگندم کٹائی مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

وزیراعظم بچ گئے, جے آئی ٹی کے سامنے بیٹوں سمیت پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس کے فیصلے میں قطری شہزادے کا خط بھی مسترد کر دیا ہے اور منی ٹریل سے متعلق تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیدیا ہے۔ وزیراعظم بال بال بچ گئے، سپریم کورٹ کا پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی جے آئی ٹی بنانے، وزیراعظم ، حسن نواز اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم سپریم کورٹ ا?ف پاکستان نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دو کے مقابلے میں تین ججز کے اکثریتی فیصلے کے تحت وزیراعظم کو فی الحال نااہل قرار نہیں دیا ہے۔اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل دو سینئر ترین ججز جسٹس گلزار اور جسٹس ا?صف سعید کھوسہ نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا۔پاناما کیس کے 540 صفحات پر مبنی فیصلے میں فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ا?صف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔فیصلے میں 7روز کے اندر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے ا?ئی ٹی) تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو کہ 60روز کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہو گی اور ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کے ایک 3رکنی بنچ کو اپنی پیش رفت سے ا?گا ہ کرے گی۔عدالت نے کہا ہے کہ جے ا?ئی ٹی میں نیب، وفاقی تحقیقات ادارے (ایف ا?ئی اے)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن ا?ف پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک، ا?ئی ایس ا?ئی اور ایم ا?ئی کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا۔فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو بھی جے ا?ئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔جسٹس کھوسہ نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) اپنا کام کرنے میں ناکام رہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا، جسے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے ‘فتح’ قرار دیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔پاناما کیس کے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول ‘دی گاڈ فادر’ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، ‘ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے’۔فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔فیصلے کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا نمائندہ شامل کیا جائے۔عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے وکلائ کی جانب سے سماعت کے دوران بطور ثبوت پیش کیے گئے قطری خطوط کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ رقم قطر کیسے منتقل ہوئی، جبکہ گلف اسٹیل ملز کے معاملے کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے۔اپنے تفصیلی میں سپریم کورٹ نے لکھا، ‘ان پٹیشنز کی باقاعدہ سماعتوں کے دوران تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لینے کے بعد اس عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ اس عدالت کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان درخواستوں کے محدود دائرہ کار کے اندر مدعا علیہ (وزیراعظم نواز شریف) اور ان کے خاندان کی کاروباری سرگرمیوں اور ذاتی زندگیوں کا جائزہ لے، یہ درخواستیں بنیادی طور پر، خاص طور پر نہیں، نواز شریف اور ان کے بچوں (مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز) کی جائیدادوں سے متعلق ہیں، جن کا انکشاف پاناما پیپرز کے ذریعے سے ہوا تھا’۔لارجر بینچ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے خصوصی بینچ بنانے کی استدعا کی، تاکہ اس کیس میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات بند گلی میں نہ رہ جائیں۔ تین ججوں نے تحقیقاتی کمیشن بنانے کی سفارش کی جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے، انہیں نااہل قرار دینا چاہئے، بچوں کی وضاحت بھی قبول نہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ وزیراعظم کی ذمہ داری تھی کہ لندن فلیٹس سے متعلق عدالت اور قوم کو مطمئن کرتے، وزیراعظم لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ایسا کرنے میں ناکام رہے، ایسی صورت میں عدالت محض تماشائی نہیں بن سکتی۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ نوازشریف قومی اسمبلی کی نشست اور وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ دیں۔ پانامہ کیس تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز افصل کی طرف سے تحریر کئے جانے والے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے معاملے کی تحقیقات کیلئے غیر رضا مندی ظاہر کی جس پر جے آئی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں پانامہ فیصلے پر دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اختلافی نوٹ لکھا جن میں سے جسٹس آصف سعید نے لکھا کہ ہم حقائق کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف اپنے دفاع میں خاطر خواہ ثبوت دینے میں ناکام رہے ہیں، قطری خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور قانون شہادت آرڈیننس 1898ءکے تحت خط ثبوت کے طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ جسٹس کھوسہ نے مزید لکھا کہ وزیراعظم کی قوم اور پالیمنٹ سے تقریر میں تضاد پایا گیا ہے،لہٰذا عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے اور آرٹیکل 63 ون ایف کے تحت ان کو قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار دینے کا حکم دیتے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے مزید تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ پانامہ کیس کے تفصیلی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ لندن فلیٹس کے علاوہ بھی شریف خاندان کی کروڑوں پاﺅنڈ کی جایدادیں ہیں۔ وزیراعظم کے بیٹوں نے کروڑوں کی جائیداد بنائی مگران میں کسی نے بھی اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ انہوں نے جائیدادیں بنانے کے لئے ابتدائی پیسہ کہاں سے لگایا اور انہیں کس نے جائیداد بنانے کے لئے مدد فراہم کی۔تفصیلات کے مطابق عدالت کی جانب سے فیصلے میں لکھا گیا کہ یہاں ایک اور بات کا تذکرہ کرنا مناسب ہوگا کہ اس سماعت کے دوران ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے اندرون اور بیرون ممالک لندن فلیٹس کے علاوہ بھی کئی جائیدادیں اورکاروبار ہیں۔ جن کی مالیت کروڑوں روپے یاامریکی ڈالر ز ہے۔فیصلے میں بتائی گئی صرف 4 جائیدادیں لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں ہیں جو کہ صرف حسین نواز شریف کی ملکیت ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہ وزیر اعظم کے دوسرے بیٹے حسن نواز شریف کے نام پر کئی کمپنیاں اورکاروبار ہیں،جن کی مالیت کروڑوں پونڈز ہیں، اور ان کے وہ بھی بلاشرکت مالک ہیں جبکہ وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف جو مریم صفدر کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں ان کی الگ سے کئی جائیدادیں ہیں ۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ انہوں نے یہ کاروبار اور دولت اپنی ذاتی کمائی سے شروع کی ہیں ۔نہ ہی کیس کے دوران ان میں سے کسی نے اپنے کاروبار کے ابتدائی سرمایے کے بارے میں تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حدیبیہ پیپر ملز کے کیس کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیدیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو حکم دیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کو دوبارہ کھولا جائے اور نیب 45 دن میں سپریم کورٹ کو رپورٹ دی جائے۔یاد رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے نے اعترافی بیان حلفی دیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مزید تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔

پانامہ کا فیصلہ آگیا ،قطری خط مسترد،وزیر اعظم کو بیٹوں سمیت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس کے فیصلے میں قطری شہزادے کا خط بھی مسترد کر دیا ہے اور منی ٹریل سے متعلق تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیدیا ہے۔ وزیراعظم بال بال بچ گئے، سپریم کورٹ کا پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی جے آئی ٹی بنانے، وزیراعظم ، حسن نواز اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم سپریم کورٹ ا?ف پاکستان نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دو کے مقابلے میں تین ججز کے اکثریتی فیصلے کے تحت وزیراعظم کو فی الحال نااہل قرار نہیں دیا ہے۔اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل دو سینئر ترین ججز جسٹس گلزار اور جسٹس ا?صف سعید کھوسہ نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا۔پاناما کیس کے 540 صفحات پر مبنی فیصلے میں فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ا?صف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔فیصلے میں 7روز کے اندر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے ا?ئی ٹی) تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو کہ 60روز کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہو گی اور ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کے ایک 3رکنی بنچ کو اپنی پیش رفت سے ا?گا ہ کرے گی۔عدالت نے کہا ہے کہ جے ا?ئی ٹی میں نیب، وفاقی تحقیقات ادارے (ایف ا?ئی اے)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن ا?ف پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک، ا?ئی ایس ا?ئی اور ایم ا?ئی کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا۔فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو بھی جے ا?ئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔جسٹس کھوسہ نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) اپنا کام کرنے میں ناکام رہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا، جسے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے ‘فتح’ قرار دیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔پاناما کیس کے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول ‘دی گاڈ فادر’ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، ‘ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے’۔فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔فیصلے کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا نمائندہ شامل کیا جائے۔عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے وکلائ کی جانب سے سماعت کے دوران بطور ثبوت پیش کیے گئے قطری خطوط کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ رقم قطر کیسے منتقل ہوئی، جبکہ گلف اسٹیل ملز کے معاملے کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے۔اپنے تفصیلی میں سپریم کورٹ نے لکھا، ‘ان پٹیشنز کی باقاعدہ سماعتوں کے دوران تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لینے کے بعد اس عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ اس عدالت کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان درخواستوں کے محدود دائرہ کار کے اندر مدعا علیہ (وزیراعظم نواز شریف) اور ان کے خاندان کی کاروباری سرگرمیوں اور ذاتی زندگیوں کا جائزہ لے، یہ درخواستیں بنیادی طور پر، خاص طور پر نہیں، نواز شریف اور ان کے بچوں (مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز) کی جائیدادوں سے متعلق ہیں، جن کا انکشاف پاناما پیپرز کے ذریعے سے ہوا تھا’۔لارجر بینچ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے خصوصی بینچ بنانے کی استدعا کی، تاکہ اس کیس میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات بند گلی میں نہ رہ جائیں۔ تین ججوں نے تحقیقاتی کمیشن بنانے کی سفارش کی جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے، انہیں نااہل قرار دینا چاہئے، بچوں کی وضاحت بھی قبول نہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ وزیراعظم کی ذمہ داری تھی کہ لندن فلیٹس سے متعلق عدالت اور قوم کو مطمئن کرتے، وزیراعظم لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ایسا کرنے میں ناکام رہے، ایسی صورت میں عدالت محض تماشائی نہیں بن سکتی۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ نوازشریف قومی اسمبلی کی نشست اور وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ دیں۔ پانامہ کیس تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز افصل کی طرف سے تحریر کئے جانے والے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے معاملے کی تحقیقات کیلئے غیر رضا مندی ظاہر کی جس پر جے آئی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں پانامہ فیصلے پر دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اختلافی نوٹ لکھا جن میں سے جسٹس آصف سعید نے لکھا کہ ہم حقائق کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف اپنے دفاع میں خاطر خواہ ثبوت دینے میں ناکام رہے ہیں، قطری خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور قانون شہادت آرڈیننس 1898ءکے تحت خط ثبوت کے طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ جسٹس کھوسہ نے مزید لکھا کہ وزیراعظم کی قوم اور پالیمنٹ سے تقریر میں تضاد پایا گیا ہے،لہٰذا عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے اور آرٹیکل 63 ون ایف کے تحت ان کو قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار دینے کا حکم دیتے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے مزید تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ پانامہ کیس کے تفصیلی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ لندن فلیٹس کے علاوہ بھی شریف خاندان کی کروڑوں پاﺅنڈ کی جایدادیں ہیں۔ وزیراعظم کے بیٹوں نے کروڑوں کی جائیداد بنائی مگران میں کسی نے بھی اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ انہوں نے جائیدادیں بنانے کے لئے ابتدائی پیسہ کہاں سے لگایا اور انہیں کس نے جائیداد بنانے کے لئے مدد فراہم کی۔تفصیلات کے مطابق عدالت کی جانب سے فیصلے میں لکھا گیا کہ یہاں ایک اور بات کا تذکرہ کرنا مناسب ہوگا کہ اس سماعت کے دوران ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے اندرون اور بیرون ممالک لندن فلیٹس کے علاوہ بھی کئی جائیدادیں اورکاروبار ہیں۔ جن کی مالیت کروڑوں روپے یاامریکی ڈالر ز ہے۔فیصلے میں بتائی گئی صرف 4 جائیدادیں لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں ہیں جو کہ صرف حسین نواز شریف کی ملکیت ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہ وزیر اعظم کے دوسرے بیٹے حسن نواز شریف کے نام پر کئی کمپنیاں اورکاروبار ہیں،جن کی مالیت کروڑوں پونڈز ہیں، اور ان کے وہ بھی بلاشرکت مالک ہیں جبکہ وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف جو مریم صفدر کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں ان کی الگ سے کئی جائیدادیں ہیں ۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ انہوں نے یہ کاروبار اور دولت اپنی ذاتی کمائی سے شروع کی ہیں ۔نہ ہی کیس کے دوران ان میں سے کسی نے اپنے کاروبار کے ابتدائی سرمایے کے بارے میں تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حدیبیہ پیپر ملز کے کیس کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیدیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو حکم دیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کو دوبارہ کھولا جائے اور نیب 45 دن میں سپریم کورٹ کو رپورٹ دی جائے۔یاد رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے نے اعترافی بیان حلفی دیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مزید تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔