روس کا ڈرون طیارے کو تباہ کرنے کا ہتھیار ڈویلپ کرنے کا فیصلہ

ماسکو(ویب ڈیسک) روسی دفاعی ماہرین ایک ایسے خصوصی ہتھیار پر کام کررہے ہیں جو پرواز کرتے ہوئے کسی بھی حملہ آور ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کرسکتا ہے۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ نے اس ہتھیار کو ”شارپنل امیونیشن“ لکھا ہے یعنی اس سے کسی بندوق کی طرح نوک دار گولیاں فائر کی جائیں گی جو ممکنہ طور پر کم بلندی پر ا±ڑنے والے کسی ڈرون کو تباہ کردیں گی۔
البتہ ’تاس‘ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ابتدائی تجربات میں اس ہتھیار سے کچھ ”مثبت نتائج“ ضرور حاصل ہوئے ہیں لیکن اس کا باضابطہ استعمال ابھی بہت بعد کی بات ہے۔ مزید تفصیلات کے مطابق اس ہتھیار کا لانچر 30 ملی میٹر سے 57 ملی میٹر دہانے کا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا کے ’سینٹر فار نیول اینالیسس‘ سے وابستہ مائیکل کوفمین کہتے ہیں کہ اس وقت روسی افواج کے پاس ڈرون تباہ کرنے کی کوئی مو¿ثر ٹیکنالوجی موجود نہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ ہتھیار اس مسئلے کے فوری حل کے طور پر تیار کیا جارہا ہو۔
لندن میں ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ کے دفاعی ماہر ایگور ستیاگن کہتے ہیں کہ شاید یہ ہتھیار کسی مشین گن کی طرح درجنوں کی تعداد میں نوک دار گولیاں بڑی تیز رفتاری سے اپنے ہدف پر فائر کرے گا۔

وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے، پانامہ کیس کے فیصلہ کے اختلافی نوٹ کا متن

روس کا ڈرون طیارے کو تباہ کرنے کا ہتھیار ڈویلپ کرنے کا فیصلہ
وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے، پانامہ کیس کے فیصلہ کے اختلافی نوٹ کا متن
لاہور (ویب ڈیسک) پاناما مقدمے میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے عدالت عظمیٰ کے دو جج صاحبان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بد دیانتی اور خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے مالی معاملات اور لندن کی جائیداد کے بارے میں اس عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔دونوں جج صاحبان نے الگ الگ فیصلوں میں اسی بنا پر نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے نواز شریف اپنی ملکیتوں اور لندن کی جائیدادوں کی وضاحت کرتے ہوئے اس قوم، پارلیمنٹ اور عدالت کے سامنے دیانت دار نہیں رہے۔’اس بد دیانتی کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف آئین کی شق 62 اور عوامی نمائندگان کے قانون 1976 کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن رہنے کے اہل نہیں رہے۔‘جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے نوٹ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ میاں نواز شریف کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار پائیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صدر پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔جسٹس کھوسہ نے انسداد بدعنوانی کے ادارے نیب کو بھی حکم جاری کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے قوانین کے تحت کارروائی کرے۔اس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ نواز شریف کے خلاف اپنے سابق ڈائریکٹر جنرل رحمٰن ملک (جو اب پیپلز پارٹی کے سینٹیر ہیں) کی جانب سے 1994 میں درج کیے گئے مقدمات کی تفتیش، شواہد اور تفصیل بھی ضرورت پڑنے پر نیب کو فراہم کرے۔
جسٹس کھوسہ نے اپنے فیصلے میں نیب کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ میاں نواز شریف کے بچوں کے نام پر قائم کردہ تمام جائیدادوں اور کاروبار کا بھی جائزہ لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ بچے اپنے والد کے لیے یہ جائیدادیں اور کاربار تو نہیں چلا رہے؟اس صورتحال میں عدالت عظمیٰ محض تماشائی کا کردار ادار نہیں کر سکتی ۔ جسٹس کھوسہ نے نیب کے سربراہ کے بارے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے معامہ میں قمر زمان چوہدری کا کردار مشکوک ہے اس لیے وہ ان فریقین کے سلسلے میں ہونے والی کسی تفتیش میں کسی قسم کا اختیار استعمال نہیں کر سکتے۔جسٹس کھوسہ نے نیب کو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کی بریت کے فیصلے کو ختم کرتے ہوئے منی لانڈرنگ معاملے میں کارروائی کا حکم دیا ہے۔
پاناما مقدمے میں اختلافی نوٹ لکھنے والے دوسرے جج جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ عوامی عہدیدار کی حیثیت سے یہ میاں محمد نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ لندن فلیٹس کے بارے میں صحیح حقائق سے قوم اور اس عدالت کو آگاہ کرتے۔ ’لیکن وہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہے اس لیے وہ آئین کی شق 62 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے۔‘
جسٹس گلزار نے کہا ہے کہ اس صورتحال میں عدالت عظمیٰ محض تماشائی کا کردار ادار نہیں کر سکتی بلکہ اسے تکنیکی نکتوں سے بالاتر ہو کر انصاف کی فراہمی کے لیے ایک مثبت فیصلہ دینا ہو گا۔’اس لیے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں اور اسی بنا پر وہ رکن قومی اسمبلی عوامی عہدے کے لیے نااہل ہو چکے ہیں اور وزیراعظم کی حیثیت سے کام جاری نہیں رکھ سکتے۔‘

آئی سی سی کا چیمپیئنز ٹرافی کے وارم اپ میچز کا اعلان

دبئی(ویب ڈیسک)انٹر نیشنل کر کٹ کونسل (آئی سی سی) نے چیمپیئنز ٹرافی کے وارم اپ میچز کا اعلان کردیا، وارم اپ میچز کا آغاز 26مئی سے ہوگا۔پاکستان اپنا پہلا وارم اپ میچ بنگلہ دیش کیخلاف27مئی جبکہ دوسرا میچ آسٹریلیا کیخلاف 29مئی کو کھیلا جائیگا۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی) نے چیمپیئنز ٹرافی کے وارم اپ میچز کا اعلان کردیاہے،آئی سی سی چیمپیئنزٹرافی کے وارم اپ میچز کا آغاز 26مئی سے ہوگا۔ پہلے وارم اپ میچ میں آسٹریلیا اورسری لنکا مد مقابل ہوں گئے۔پاکستان اپنا پہلا وارم اپ میچ 27مئی کو بنگلہ دیش جبکہ دوسرا وارم اپ میچ 29مئی کو آسٹریلیا کیخلاف کھیلے گا۔بھارت 28مئی کو نیوزی لینڈ اور 30مئی کو بنگلہ دیش کیخلاف وارم اپ میچ کھیلے گا،سری لنکا اورنیوزی لینڈ کا وارم اپ میچ 29مئی کو ہوگا۔

ایک اور معروف فلمی جوڑا ٹوٹنے کے قریب

لاس اینجلس (ویب ڈیسک)ہالی ووڈ کی اے لسٹ جوڑی اداکار بین ایفلک اور اداکارہ جنیفر گارنر نے طلاق کیلئے بالآخر عدالت سے رجوع کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اداکار بین ایفلک اور اداکارہ جنیفر گارنر نے طلاق کیلئے باضابطہ طور پر عدالت سے رجوع کرلیا، دونوں کے درمیان کافی عرصہ سے اختلافات کے باعث الگ الگ الگ رہ رہے تھے، تاہم بچوں کے معاملے پر دونوں کو ہمیشہ ساتھ ساتھ دیکھا گیا۔معروف ہالی ووڈ جوڑے نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ باہم معاملات کا باریکی سے جائزہ لینے اور اچھی طرح سوچ بچار کے بعد ہم نے طلاق لینے کا تکلیف دہ فیصلہ کرلیا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے رہیں گے اور دوست رہیں گے۔امریکی فیملی قوانین کے مطابق دونوں کے درمیان مالی اور بچوں کی نگہداشت کے معاملات طے پانے کے بعد آئندہ 6 ماہ میں طلاق ہو جائے گی

سکول فیس کے بدلے مویشی دینے کی اجازت

ہرارے (ویب ڈیسک)زمبابوے کی حکومت نے والدین کو سکول فیس کے پیسے کے بدلے مویشی دینے کی اجازت دیدی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق زمبابوے کی حکومت کا کہنا ہے کہ جن والدین کے پاس اپنے بچوں کے سکول کی فیس دینے کے پیسے نہ ہوں وہ بدلے میں بھیڑ،بکری جیسے مویشی بھی متعلقہ سکولوں کو پیش کر سکتے ہیں۔ملک کے وزیر تعلیم لیزاروس دکورا نے حکومت کے ایک حامی اخبار سنڈے میل نیوز پیپر کو بتایا کہ ٹیوشن فیس کو وصول کرنے میں سکولوں کو والدین کے ساتھ نرمی برتنا چاہیے اور انھیں نہ صرف مویشی قبول کرنے چاہیں بلکہ اس کے بدلے میں ان سے خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔اخبار نے ان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ اگر کمیونٹی میں کوئی معمار ہے، تو ٹیوشن فیس ادا کرنے کے عوض میں اسے وہ کام کرنے کا موقع بھی دیا جانا چاہیے۔سنڈے میل کے مطابق بعض سکول پہلے ہی سے فیس کے بدلے مویشی لینے پر عمل کر رہے ہیں۔وزارت تعلیم سے وابستہ ایک افسر نے وزیر موصوف کے بیان کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بچوں کے والدین مویشیوں کو دے کر فیس ادا کرسکتے ہیں۔ یہ بیشتر دیہی علاقوں کے لیے ہے لیکن شہری علاقوں میں بسنے والے دیگر والدین دوسرے ذرائع کا بھی استعمال کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر وہ سکول میں بعض کاموں کو انجام دے سکتے ہیں۔حکومت نے گذشتہ ہفتے پارلیمان میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت بینکوں کے قرضوں کی واپسی بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کے ذریعے کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے بھی اس کی اجازت دی گئی۔ایک مقامی اخبار کے مطابق زمبابوے میں نقدی کا بحران پیدا ہونے کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کو کیش کے لیے بینکوں کے باہر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے مویشیوں کی پیشکش کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز ہے جس پر لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔

سابق صدر نے داعش کو امریکہ کا آلہ کارقراردیدیا

کابل/واشنگٹن (ویب ڈیسک)افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے شدت پسند گروپ داعش کو مبینہ طور پر امریکہ کا ” آلہ کار” قرار دیتے ہوئے، روس کے طالبان کے ساتھ روابط اور عسکریت پسند گروپ کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کی کوششوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کردیا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران حامد کرزئی نے گزشتہ ہفتہ داعش کے خلاف “مدر آف آل بمبز” کے حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے افغانستان میں گرائے جانے والے بم نے داعش کو ختم نہیں کیا ہے۔کرزئی نے کہا کہ میں داعش کو ان کا آلہ کار سمجھتا ہوں میری نظر میں داعش اور امریکہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔امریکہ کی فوج افغان فورسز کے ساتھ مل کر رواں سال افغانستان سے داعش کو ختم کرنے اور طالبان عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔امریکہ کی فوج کے ترجمان نیوی کے کیپٹن بل سلوین حال ہی میں وی او اے کو بتایا تھا کہ افغان فورسز کی قیادت میں ہونے والی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں “دوتہائی” اور اس کے جنگجوں کی تعداد میں “50 فیصد سے زائد” کمی ہوئی ہے۔امریکہ کی طرف سے خاص طور پر حالیہ ہفتوں میں ہونے والی کارروائیوں کے باوجود حامد کرزئی نے وی او اے کو بتایا کہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے میں داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں ہونے والی لڑائی ” کمزور” رہی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ داعش اور اتحادیوں کو ختم کرنے کے لیے شام، عراق اور دیگر علاقوں میں لڑائی کر رہا ہے تاہم ان کے پاس اپنے الزامات کی تقویت کے لیے بہت زیادہ شواہد موجود ہیں۔اپنے دور صدرات کے دو ادوار کے دوران حامد کرزئی کے امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے۔تاہم حالیہ سالوں میں ان کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، انہوں نے گزشتہ ہفتہ افغانستان میں داعش کے گڑھ پر امریکہ کی طرف سے سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانے کی مذمت اور اس بم کے استعمال کی اجازت دینے پر افغان صدر اشرف غنی کے خلاف بڑے سخت الفاظ استعمال کیے۔حالیہ سالوں میں داعش کی افغانستان میں سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے کئی مہلک حملوں بشمول گزشتہ ماہ کابل میں ایک فوجی اسپتال پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور 80 دیگر زخمی ہوئے تھے۔دوسری جانب طالبان کے روس کے ساتھ رابطے ایک ایسے وقت توجہ کا مرکز بنے جب ماسکو اس ملک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا متمنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شدت پسند گروپ داعش کے دائرہ اثر کو وسط ایشیائی ریاستوں تک بڑھانے سے روکنا چاہتا ہے، جس پر ایک دور میں اس نے قبضہ کر رکھا تھا۔افغانستان میں روس کی بڑھتی ہوئی مبینہ فوجی مداخلت کی وجہ سے امریکی اور افغان حکام کی اس بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ روس داعش جیسے شدت پسند گروپوں کے خلاف طالبان عسکریت پسندوں کی درپردہ حمایت کر رہا ہے۔وی او اے کے ساتھ انٹرویو میں حامد کرزئی نے ماسکو کے طالبان کے ساتھ رابطوں پر تنقید کو مسترد کیا۔صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد سے صدر حامد کرزئی کے روس سے تعلقات میں قربت آئی ہے اور 2015 میں صدر پوٹن سے ملاقات کے لیے کیے گئے دورہ ماسکو کے دوران انہوں نے کرائیمیا پر روس کی قبضہ کی حمایت کی تھی۔کرزئی نے روس کے بارے میں کہا کہ “وہ طالبان سے بات کرتے ہیں۔امریکہ بھی طالبان سے بات کرتا ہے۔ ناروے، جرمنی اور دیگر ملک بھی طالبان سے بات کرتے ہیں۔ روس کا بھی طالبان کے ساتھ بات کرنے کا حق ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق کم ازکم ایک امریکی عہدیدار نے افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ ہونے ” غیر رسمی رابطوں “کے تین ادوار میں شرکت کی۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس وقت سامنے آنے والی رپورٹ پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ افغان تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے عزم پر قائم ہے۔امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے گزشتہ اختتام ہفتہ کابل میں افغان راہنماں سے ملاقات کی اور کہا کہ ملکوں کو افغان طالبان کی حیثیت کو قانونی بنانے کی کوششوں سے گریز کرنا چاہیئے۔میک ماسٹر سے جب روس کے طالبان کے ساتھ درپردہ رابطوں سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی طالبان کی مدد نہیں کرنی چاہیئ۔ کسی کو بھی نہیں چاہیئے کہ وہ افغان حکومت اور افغان عوام کے خلاف مسلح مزاحمت کی مدد کریں۔

چین ، بھارت سرحد پر متنازع علاقوں کے نام تبدیل

بیجنگ(ویب ڈیسک)چین نے بھارت کے ساتھ سرحد پر متنازع علاقوں کے نام تبدیل کر دیے،گذشتہ روز کیا گیا یہ اعلان بظاہر تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ان علاقوں میں دورہ کرنے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔رواں ماہ 81 سالہ دلائی لاما نے بھارت کے شمال مشرقی دور افتادہ علاقے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا۔چین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑا ہے اور انھوں نے بھارت کو چینی مقادات کو نقصان پہنچانے سے خبردار کیا۔چین کے اس اقدام کے بعدبھارت نے ابھی تک ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم بھارت کا موقف ہے کہ دلائی لاما کا دورہ صرف مذہبی وجوہات کے لیے منعقد کیا گیا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ دلائی لاما نے ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا ہو۔ انھوں نے اس ریاست کے 1983، 1997، 2003 میں دو مرتبہ، اور 2009 میں سرکاری دورے کیے ہیں۔چینی ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین نے جنوبی تبت میں چھ مقامات کے نام کو سٹینڈرڈ بنا دیا ہے جو کہ چینی علاقے ہیں مگر ان میں سے کچھ کو ابھیبھارت کنٹرول کر رہا ہے۔چین نے یہ اعلان دلائی لاما کا ایک ہفتہ طویل دورہ ختم ہونے کے ایک روز بعد کیا ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ چین نے متنازع علاقے میں کسی مقام کا نام تبدیل کیا ہو۔یاد رہے کہ حال ہی میںبھارت نے تائید کی تھی اس کا یہ موقف برقرار ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے۔

پانامہ فیصلہ پر برہم ،آصف زرداری میدان میں آگئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ پاناما کا فیصلہ ’پگڑی گر گئی اور عزت بچ گئی‘ والی بات ہے کیونکہ ملک کے وزیراعظم اب ماتحت اداروں کے سامنے پیش ہوں گے۔کراچی میں سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین مولابخش چانڈیو نے پاناما کیس کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ نہیں سنایا بلکہ کیس مزید چلے گا، ملک کے وزیراعظم اب ماتحت اداروں کے سامنے پیش ہوں گے اس لیے اخلاقی طور پر نواز شریف کو وزیراعظم نہیں رہنا چاہیئے اور لیگی وزرا مٹھائیاں تقسیم کررہے ہیں شرم کی بات ہے۔

سپریم کورٹ کا اصل فیصلہ ہے کیا ….؟ اعتزاز احسن نے قلعی کھول دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پاناما کیس پر سپریم کورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے قوم سے مذاق قرار دیدیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جو ججز نہ کر سکے کیا وہ 19 گریڈ کا افسر کر سکے گا؟ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے فیصلے کو مسترد کرتا ہوں لیکن اختلافی نوٹ لکھنے والے اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے والے دو ججوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ان ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں۔ ان دو ججوں کی رائے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مٹھائیاں بانٹنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ 9 ماہ تک عوام کے ساتھ دھوکا اور ان کے ساتھ مذاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے لیکن میں انھیں جانتا ہوں کہ وہ آخری دم تک یہ اقدام نہیں اٹھائیں گے۔اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماءچودھری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 1993ءکی روایات کے مطابق نواز شریف پر نرم ہاتھ رکھا گیا۔ تاہم دو ججوں کا فیصلہ ہی دراصل سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ دو سینئر ججوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے۔ باقی تین ججوں نے اس رائے کی تردید نہیں کی تاہم ان تینوں ججز نے قوم کو مایوس کیا ہے۔ دو ججوں کا فیصلہ تین ججوں پر بھاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی جے آئی ٹی کا کیا بنا؟ جبکہ اصغر خان کیس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ پاناما کیس پر جے آئی ٹی بنانا نواز شریف کو راہ فرار دینے کی کوشش ہے۔

پانامہ کے فیصلے پر خواجہ سعد رفیق بھی بول اُٹھے۔۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان اب جلنا اور رونا بند کردیں اب بھی وقت ہے خدا کے لیے خیبر پختونخوا جائیں اور وہاں کے لوگوں سے لیے گئے ووٹ کا حق ادا کریں۔