اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) فنانس بل 2017ءمیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے ہوئے 16 ترامیم شامل کرکے وزیرخزانہ کو منی بجٹ لانے کا اختیارات دیئے جانے کا انکشاف۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق وفاقی حکومت کا مطلب وزیراعظم اور کابینہ ہے جبکہ فنانس بل میں مالی معاملات سے ہٹ کر کوئی آئینی و قانونی ترمیم پیش نہیں کی جاسکتی۔ ٹیکس قوانین میں مذکورہ اختیارات 18 ویں ترمیم کے ذریعے وزیرخزانہ سے لے کر وفاقی حکومت کو دیئے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے فنانس بل 2017ءکے ذریعے ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل ٹیکس وصولیوں اور نئے ٹیکسوں کی شرح میں رودبدل ٹیکس وصولیوں اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ کیلئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ءسیلزٹیکس ایکٹ 1990ءاور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005ءمیں وفاقی حکومت کو دیئے گئے اختیارات وزیرخزانہ کو دینے کیلئے 16 مقامات پر وفاقی حکومت کے الفاظ کوانچارج وزیر کے الفاظ سے تبدیل کرنے کی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔





































