لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کے ایچ خورشید 43ءسے لے کر 47ءتک قائداعظم کے پی اے رہے۔ فاطمہ جناح نے ان کو اپنے اخراجات پر لاءکرنے کیلئے لندن بھیجا۔ وہ اور ان کی اہلیہ مادر ملت کے پاس قیام پذیر بھی رہے۔ کے ایچ خورشید جب باہر سے پڑھ کر واپس آ گئے تو ایوب خان کے دور میں آزاد کشمیر کے صدر بنے۔ حکومت ان سے ناراض ہوئی تو ایوان صدر سے ہی ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ ساری عمر کرائے کے مکان میں رہے۔ ان کے پاس ایک پرانی گاڑی ہوتی تھی جو اکثر خراب رہتی تھی۔ جس ورکشاپ پر اپنی گاڑی ٹھیک کرانے جاتے تھے، میں بھی وہاں اپنی پرانی گاڑی ٹھیک کرانے جایا کرتا تھا وہیں ان سے دوستی ہو گئی۔ کے ایچ خورشید میر پور میں جلسہ کر کے ویگن پر واپس لاہور آ رہے تھے کہ راستے میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ لوگوں کو ان کے بارے معلوم نہیں تھا کہ یہ قائداعظم کے پی اے اور آزاد کشمیر کے صدر رہے ہیں، ان کی جیب سے اس وقت 36 روپے نکلے تھے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں کوئی ایک ایسا سیاسی لیڈر نہیں جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو۔ آوے کا آوا ہی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نویں جماعت کا ملتان میں طالب علم تھا، فیملی لاہور منتقل ہو گئی تھی۔ میں لاہور آیا ہوا تھا کہ بڑے بھائی ڈاکٹر بقاءمحمد جو ایم ایس سی میں پڑھتے تھے اور بعد میں انہوں نے پی ایچ ڈی کی پھر لندن سے بھی پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ سردار عبدالرب نشتر سے ملو گے تو میں نے کہا کہ وہ تو گورنر ہیں۔ بھائی نے کہا کہ پھر کیا ہوا اور وہ اچھرہ سے مجھے سائیکل پر بٹھا کر مال روڈ پر لاہور ہائی کورٹ کے گیٹ پر لے آئے کہ یہاں سے وہ گزرتے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ آ گئے اور ان کے ساتھ ایک بھی گارڈ نہیں تھا۔ میرے بھائی نے ان سے ہاتھ ملایا اور میری بھی ملاقات کرائی کہ یہ میرا چھوٹا بھائی ہے اور نویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ سردار عبدالرب نشتر نے مجھ سے بھی ہاتھ ملایا، ان سے جو بھی ہاتھ ملانا چاہتا تھا وہ ملاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ میں سفیر بنا دیا۔ میں اس وقت نوائے وقت کراچی کا ایڈیٹر تھا اور ان پر ایک کتاب لکھنا چاہتا تھا۔ اکثر ان کے گھر جایا کرتا تھا۔ ملاقات کرتا تھا۔ اپنی کتاب ”پاکستان کے سیاستدان“ جو جلدی آ رہی ہے اس میں ان کا بھی دکر کیا ہے۔ ان کے بارے میں مجھے پتہ چلا کہ ان کی وہاں ملکہ سے دوستی ہو گئی۔ دونوں تاش کھیلنے کا شوق رکھتی تھیں اور آپس میں بھی کھیلتی تھیں۔ ایک دن ملکہ نے شرط لگا کر اگر میں ہار گئی تو اپنا محل آپ کو دے دوں گی اس پر بیگم رعنا لیاقت علی خان نے کہا کہ میرے پاس تو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ملکہ نے پھر بھی کھیلا اور ہارنے پر اپنا محل ان کو دے دیا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے وہ محل پاکستانی حکومت کو سفارتخانہ بنانے کیلئے دے دیا۔ میں نے اس بات کی تصدیق بھی کی اور یہ درست تھی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تو ویسے ہی ہار رکھ لیا تھا جو پاکستانی حکومت کو تحفے میں دیا گیا تھا، پھر ان کی بیگم نے بڑی مشکل سے واپس دیا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں پہلے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کی عمارت نہیں تھی، اصفہانی کا بہت بڑا گھر تھا انہوں نے سفارتخانے کیلئے اپنے گھر کی چابی دے دی۔ مشرف دور میں ملیحہ لودھی امریکہ میں سفیر تھیں میں اسی سفارتخانے میں ان سے ملا پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ وہی گھر ہے جو اصفہانی نے پاکستانی حکومت کو تحفے میں دیا تھا۔ آج کل لوگ قومی خزٓنہ لوٹ کر باہر اپنا گھر بناتے ہیں۔ قوم کے سامنے یہ آئیڈیلز ہوتے ہیں جو اب بدل گئے ہیں۔ اب عزت اس کی ہے جس کے پاس پیسہ زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں بچہ تھا تو محلے میں ایک ریٹائرڈ تحصیلدار رہتا تھا جو سب کے سامنے شراب پیتا تھا، اپنے گھر میں جوا کھیلتا تھا۔ میری ماں نے اس کے گھر جانے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ میں اور میرا بھائی ہم پرائمری کے طالب علم تھے، ان کے گھر کیرم بورڈ، ریڈیو وغیرہ بہت کچھ موجود تھا۔ ہم دونوں بھائی ان کے بیٹوں سے کھیلنے وہاں چلے جاتے تھے۔ والدہ کو جب پتہ چلا تو انہوں نے ہمیں بہت مارا۔ اس کے بعد ہمارے زخموں پر سرسوں کے تیل میں ہلدی ملا کر لگاتی اور روتی جاتیں۔ آج کل ایسا وقت ہے کہ لوٹ مار کرو جو مرضی کرو اگر بڑا گھر ہے بے تحاشہ دولت ہے تو آپ کی عزت ہے۔ کے ایچ خورشید نے کہا تھا کہ میں قائداعظم کی پی اے تھا جہاں بھی جاتے تھے ان کا ٹکٹ قائداعظم اپنی جیب سے خریدتے تھے۔ دوسری طرف ایک ایسے سیاستدان کو جانتا ہوں جنہوں نے ایک بار لاہور سے کراچی جانا تھا، ان کے ساتھ 46 لوگ تھے اور سب کی پی آئی اے کی ٹکٹیں پارٹی فنڈ سے خریدی گئی تھیں۔ چیف آرگنائزر جناح مسلم لیگ آزاد بن حیدر نے کہا ہے کہ قائداعظم کی مجلس عاملہ میں چند ایک آدمی تھے۔ جن میں حسرت موہانی پہلے آدمی تھے جنہوں نے مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مکمل آزادی کا نعرے لگایا تھا۔ وہ ایم این اے تھے جب چند چہروں کا دورہ کرنے کے لئے ان کو آفس سیکرٹری سے 100 روپے دیئے گئے۔ دورہ کرنے کے بعد انہوں نے آفس سیکرٹری شمس الحسن کو 65 روپے واپس کئے جس پر وہ حیران ہو کر بولے کہ اتنے کم پیسوں میں کیسے اخراجات پورے کئے تو حسرت موہانی نے کہا کہ میں ہوٹل کے بجائے مسجد میں رات بسر کرلیتا تھا کیونکہ یہ پیسہ امانت ہے اسے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرب نشتر پنجاب کے گورنر تھے ان کا بیٹا گورنر ہاﺅس سے سائیکل پر لاہور کالج جایا کرتا تھا۔ بعد میں وہ سٹیٹ بینک کا گورنر بنا۔ گورنر ہاﺅس میں کار موجود ہوتی تھی لیکن اس میں گورنر عبدالرب نشتر اپنے ہی بیٹے جمیل نشتر کو کالج چھوڑ کر آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ کے ایچ خورشید کو قائداعظم نے تربیت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کو بطور گورنر جنرل ان کے بھائی علی احمد جناح ملنے گئے تو پہلے سے وقت نہ لینے کے باعث انہوں نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے بھائی سے کہا کہ جب تک میں گورنر جنرل ہوں مجھ سے یہاں ملنے نہیں آنا۔ انہوں نے کہا کہ فاطمہ جناح کے الیکشن سے فراغت سے پہلے ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ کے ایچ خورشید وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو بار بار فون کر رہے تھے کہ آ جاﺅ محترمہ کے ساتھ جانا ہے وہ شاید بہاولپور جا رہی تھیں۔ مجھے ان کے گارڈ نے بتایا کہ خواجہ ناظم الدین بنگالی میں کسی سے بات کر رہے ہیں کہ مجھے 5 ہزار بھیجو، پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ کے ایچ خورشید نے مجھے کہا کہ فوری پیسوں کا انتظام کرو اور ان کو دے دو۔ میں پیسے دینے گیا تو انہوں نے کہا کہ نہیں اس کے علاوہ سٹامپ پیپر بھی منگواﺅں اور میرا ڈھاکہ کا مکان لکھو۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت علی خان وزیراعظم تھے ان کو گولی لگی، سی ایم ایچ ہسپتال لے جایا گیا ان کی شیروانی اتاری تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس میں پیوند لگے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنا دہلی کا مکان پاکستان ایمبیسی کو گفٹ کر دیا تھا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان کے پاس اپنا کوئی مکان نہیں تھا۔ ان کے بچے سائیکل پر پڑھنے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مادر ملت کے پاس ایک ڈائری ہوتی تھی جس میں وہ سبزیوں تک کے بھاﺅ لکھا کرتیں اور آپس میں موازنہ بھی کرتی تھیں۔ کلکتہ الیکشن کے دوران قائداعظم سے ایک امیدوار بارے کہا گیا کہ اگر اسے اڑھائی سو روپے دے دیں تو وہ ہمارے حق میں بیٹھ جائے گا جس پر انہوں کہا کہ کرپشن کرنے سے بہتر ہے ہمارا امیدوار ہار جائے۔ قائداعظمؒ نے بمبئے الیکٹرک کمپنی میں کچھ بٹن لگوائے تھے جن کے اخراجات کا تخمینہ 5 روپے تھا۔ جب بجلی ٹھیک ہو گئی تو بل 10 روپے آ گیا جس پر قائداعظم نے اس کو قانونی نوٹس بھیجنے کی ٹھان لی۔ جب بل بھیجنے والے کو معلوم ہوا تو اس نے 5 روپے چھوڑ دیئے۔ قائداعظم نے حلال طریقے سے جتنا بھی پیسہ کمایا، 39ءمیں وصیت کر دی کہ بہنوں، علی گرھ یونیورسٹی، پشاور اسلامیہ کالج، سندھ مدرسة الاسلام کو میرے مرنے کے بعداتنا اتنا حصہ دیا جائے گا۔ انہوں نے ہمیشہ قوم کے لئے پیسہ بچایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جعلی شیعہ پارٹی کے جعلی شیعہ لال جی ہوتے تھے۔ اس کا پیغام آیا کہ اگر اس کو خرچ ہو جانے والے پیسے دے دیئے جائیں تو وہ مسلم لیگ کے حق میں بیٹھ جائے گا۔ اس پر ایک مسلم لیگی لڑکے نے سڑکوں و دیواروں پر جہاں جہاں ”لال جی“ لکھا ہوا تھا اس کے ”ج“ کے نیچے 2 نقطے اور ڈال دیئے اور وہ ”لال جی“ سے ”لال جی“ بن گیا۔ قائداعظم کا الیکشن بمبئے میں ہو رہا تھا اور وہ پشاور میں بیٹھے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ کس طرح الیکشن لڑ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے 3,2 سو پوسٹ کارڈ دوستوں کو بھیج دیے ہیں کہ اگر مجھ سے اچھا آدمی اور ہے تواس کو سلیکٹ کر لیں جبکہ اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں۔ قائداعظم نے ہمیشہ الیکش میں کسی کو دو ڈھائی سو دے کر خریدنے سے زیادہ اپنے امیدوار کے ہار جانے کو ترجیح دی۔ قائداعظم نے پہلی تقریر میں کہا تھا کہ کرپشن فری پاکستان بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 58ءکے مارشل لاءکے بعد امیدوار بکنے شروع ہوئے پھر سب نے اس گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان کا لفظ بڑا پاکیزہ ہے لیکن اب اس پر ایک شعر یاد آتا ہے کہ:
حریدار سیاست رہنما کو بیچ دیتے ہیں
یہ وہ تاجر ہیں جو شرم و حیا کو بیچ دیتے ہیں
یہ سوداگر وہ ہیں جو انبیاءکو بیچ دیتے ہیں
بھرے بازار میں خدا کو بیچ دیتے ہیں
سیاست مر کی لونڈی ہے، سیاست زر کی لونڈی ہے۔
قائد کے دوست تاجر اصفہانی نے واشنگٹن میں اپنے گھر میں پاکستان کا سفارتخانہ بنوا دیا اور معاوضہ تک نہ لیا

