Monthly Archives: July 2017
پانامہ فیصلہ ،عمران خان نے بھی زبردست اعلان کر دیا
پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہےکہ فوج کے ساتھ ساز باز کرکے اقتدار حاصل کرنے کی خواہش نہیں اور اس طرح کے الزامات غلط ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ایسے مواقع کئی بار بار آئے جب وہ ملک میں انشتار کا سبب بن سکتے تھے لیکن صرف فوج کے آنے کے خدشے کی وجہ سے پیچھے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت قائم رکھنے میں انہیں سب سے زیادہ دلچسپی ہے۔عمران خان نے کہا کہ پہلے ایسا کیا نہ آئندہ کبھی فوج کے ساتھ ساز باز کرکے اقتدار لینے کی خواہش ہے۔چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ نواز شریف جنرل جیلانی کے ذریعے سیاست میں آئے اور ذوالفقارعلی بھٹو کو جب ایوب خان اوپر لائے تو وہ چھوٹے سے تھے۔عمران خان نے مزید کہا کہ انہوں نے 21 سال جدو جہد کی ہے جس کے بعد وہ اس مقام پر پہنچے ہیں، کیا یہ جدوجہد اس لیے کی ہےکہ فوج کو اقتدار میں لاؤں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا ان سے زیادہ بڑا اسٹیک ہولڈر اور کون ہے؟چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گذشتہ سال اسلام آباد لاک ڈاؤن کے موقع پر پارٹی کی مخالفت کے باوجود پشاور سے آنے والی ریلی کو روکا کیونکہ انہیں پتا تھا اس سے انتشار ہو گا اور گیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی پھر فوج مداخلت کرے گی، اس لیے انہوں نے ریلی کو واپس بھیجا اور خود سپریم کورٹ چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس جتنی بڑی اسٹریٹ پاور ہے اس کے ذریعے اگر چاہیں تو کسی بھی وقت ملک میں انتشار پھیلا سکتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا۔ عمران خان نے کہا کہ جو آدمی ملک میں آزاد انتخابات کے لیے جدوجہد کرتا ہو وہ کیسے چاہے گا کہ فوج اقتدار میں آجائے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانے کی حمایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے، ایک ہزار حلقوں میں انتخاب لڑنا ہے اور ان سب حلقوں کے لیے نئے لوگ لانا ممکن نہیں ہے، اگر صرف نئے لوگوں کو ہی الیکشن لڑانا ہے تو ایسا پاکستان میں تو نہیں چاند پر ہی ہو سکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ سیاسی خاندانوں کے صاف ستھرے لوگوں کو انتخابات میں ٹکٹ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایک بھی ایسے شخص کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جس کے خلاف نیب میں بدعنوانی کا مقدمہ ہو۔
ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان بارے سب سے اہم خبر
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور میں پیر کو ہونے والے بم دھماکے کے بعد ورلڈ الیون کے دور پاکستان کی مہوم سی امید بھی دم توڑنے لگی تاہم ستمبر میں متوقع سیریز کیلئے حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کا امکان بہت کم رہ گیا۔ ورلڈ الیون کا دور پاکستان ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا،آئی سی سی نے ٹیم بھجوانے کے فیصلے کی توثیق بھی کردی تھی، 3ٹی ٹوئنٹی میچز کیلیے مہمان کرکٹرز کی لاہور آمد ستمبر میں متوقع تھی، اہم غیرملکی کھلاڑیوں کی مصروفیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے شیڈول طے کرنے کی اطلاعات ملیں۔ رخصتی کے قریب چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون ستمبر کے وسط میں دورہ کرے گی تاہم اس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی تھی، پی سی بی نے سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے پنجاب کے اعلی حکام سے رابطہ کیا لیکن پاناما کیس کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا،انتظامات کیلیے وقت بہت کم رہ جانے کی وجہ سے پہلے ہی ورلڈ الیون کیخلاف سیریز پر شکوک کے بادل منڈلارہے تھے۔ صرف موہوم سی امید باقی تھی کہ سیاسی حالات بہتر ہونے کی صورت میں شاید پنجاب حکومت سیکیورٹی فراہم کرنے کی حامی بھر لے، مگر فیروز پور روڈ پر دھماکے کے بعد امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اور امن و امان کی موجودہ صورتحال میں کرکٹ سیریز وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ یاد رہے کہ 3مارچ 2009کو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے پاکستانی میدان ویران ہیں،طویل تعطل کے بعد 2015میں زمبابوے ٹیم نے قذافی اسٹیڈیم میں 3ون ڈے اور 2ٹوئنٹی20میچز کھیلے، رواں سال پی ایس ایل ٹو کا فائنل بھی اسی وینیو پر ہوا، دونوں ایونٹس کے دوران سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری مشینری کو دن رات ایک کرنا پڑے، نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب بھر سے آئے سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار نے قذافی اسٹیڈیم کو ایک قلعے میں تبدیل کردیا تھا۔
تین وفاقی وزراءکے اقامہ کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور احسن اقبال کی جانب سے یو اے ای کے اقامے ظاہرنہ کرنے پران کی نااہلی کے ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے گئے ہیں۔جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور احسن اقبال کو نااہل قراردینے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو ریفرنس بھجوایا ہے۔ریفرنس میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ اسحاق ڈار، خواجہ آصف اوراحسن اقبال نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیرون ملک ملازمت کو ظاہرنہیں کیا، اس کے علاوہ تینوں وزرا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں تںخواہ بھی ظاہر نہیں کی۔اسپیکرکے دفتر کو بھجوائے گئے ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ اقامہ اور تنخواہ ظاہر نہ کرنے پرتینوں وزرا اسمبلی کی رکنیت کے اہل نہیں رہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے تحت تینوں وزراءکو تین سال سزا ہوسکتی ہے، اس لئے انہیں آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نا اہل قرار دیا جائے۔
انتہا پسند ہندوﺅں کی جنونیت جاری, مسلمانوں کو زندہ جلانے کا اعلان
نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) بھارت میں بی جے پی کے کارکنوں اور ہندو انتہا پسندوں نے گائے ذبح کرنے کے شبہ میں مسلمانوں کو سرعام زندہ جلانے کی دھمکی دےدی۔ بھارتی ریاست ہریانہ میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلمانوں کے قتل عام کا اعلان کردیا۔ جنونی ہندوو¿ں نے مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ گائے ذبح کی تو زندہ جلادیا جائے گا۔نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات مزید تنگ کردیا گیا ¾ ایک طرف مقبوضہ کشمیرمیں انسانیت سوزمظالم کی تاریخ رقم ہورہی ہے تو دوسری جانب باقی ریاستوں میں بھی مسلمانوں کا بےدردی سے قتل عام جاری ہے۔ چند روز قبل مہاراشٹر میں انتہا پسندوں نے دن دیہاڑے تلواروں کے وار کرکے مسلمان نوجوان کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا تھا۔ سب سے بڑی جمہوریت کے جھوٹے دعویدار بھارت میں مسلمانوں کےساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں بھی مظالم کی چکی میں پس رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی حکومت نے ہندو انتہا پسندی کے اس جن کو بوتل میں بند نہ کیا تو خود بھارتی ریاست کا اپنا وجود بھی خطرے پڑ سکتا ہے۔
نئی دہلی(خصوصی رپورٹ) بھارتی فوجی عدالت نے کشمیریوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے والے 5فوجیوں کی عمر قید کی سزا ختم کردی۔آرمڈ فورسز ٹربیونل نے کرنل اور کیپٹن سمیت 5 بھارتی فوجیوں کی عمر قید کی سزا معطل کردی ہے۔ ان فوجیوں کے وکیل میجر ریٹائرڈ آنند کمار نے بتایا کہ ایک دو روز میں انہیں رہا کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ 2010ءمیں لائن آف کنٹرول کے قریب مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے گاو¿ں ماڑہل میں ان فوجیوں نے 3 بیگناہ کشمیری 27 سالہ شہزاد خان، 19 سالہ شفیع لون اور 20 سالہ ریاض لون کو درانداز قرار دے کر جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا۔ 2014ءمیں بھارتی فوجی عدالت نے ان کا کورٹ مارشل کرکے عمر قید کی سزا سنائی، جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو عمر قید کی سزا دئیے جانے کی پہلی مثال تھی۔ قاتل فوجیوں میں کمانڈنگ افسر کرنل ڈی کے پٹھانیہ، کپتان اوپیندر سنگھ، صوبیدار ستبیر سنگھ، حوالدار دوندرا کمار اور لانس نائیک لکھمی شامل ہیں۔ یہ فوجی تینوں کشمیری نوجوانوں کو نوکری کا لالچ دے کر فوجی کیمپ تک لائے اور وہاں انہیں فائرنگ کرکے شہید کرکے پاکستانی درانداز ہونے کا الزام لگا دیا۔ ان شہادتوں پر وادی بھر میں چھ ماہ تک احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور 6ماہ تک ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں‘ گرفتاریوں اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔
پانامہ کیس کے فیصلے کی تاریخ بارے اہم ترین خبر
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاناما کیس کے حوالے سے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ سپریم کورٹ جمعہ تک اپنے فیصلے کا اعلان کردے گی تاہم اگر رواں ہفتے ایسا نہ ہوسکا تو محفوظ فیصلہ سامنے آنے میں کافی تاخیر بھی ہوسکتی ہے کیونکہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے ایک، اگلے ہفتے بیرون ملک کے دورے پر جارہے ہیں اور دوسرے جج، سپریم کورٹ کی لاہور بنچ کے رکن بن رہے ہیں۔ اس طرح پاناما کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ جائے گا چنانچہ اگر اس ہفتے فیصلہ نہیں سنایا گیا تومعاملہ التوا کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سمیت حکومتی جماعت اور پس پردہ قوتوں میں بعض معاملات طے ہورہے ہیں۔
102ارب کی منی لانڈرنگ کرنیوالوں کے نام سامنے آگئے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تحائف کی آڑ میں 102ارب روپے کی منی لانڈرنگ کرنے والے 2785 دولت مند پاکستانیوں کو نوٹس جاری کر دیئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحائف لینے دینے والوں سے آمدن کے ذرائع کی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔ ایف بی آر نے تصدیق کی ہے کہ مختلف ذرائع سے قیمتی تحائف وصول کرنے والے تمام افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں اور ریجنل ٹیکس آفیسز (آر ٹی آوز) سے نوٹسز کے حوالے سے مسلسل رابطہ ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق 3افراد نے ایک ارب روپے یا اس سے زائد کے تحائف وصول کئے۔ آٹھ افراد نے 50 کروڑ سے 1 ارب روپے تک کے تحائف وصول کئے۔ 97 افراد نے 10 سے 20 کروڑ روپے تک کے تحائف وصول کئے۔ دو سو 80 افراد نے 5 سے 10 کروڑ روپے تک کے تحائف وصول کئے۔ 2 ہزار 348 افراد نے 1 سے 5 کروڑ روپے تک کے تحائف وصول کئے۔
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بچوں کے درمیان تحائف کے تبادلے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تحائف کا انکشاف ایف بی آر کو جمع کرائے گئے اثاثوں کی تفصیلات سے ہوا ہے۔ جہانگیر ترین اور بچوں میں 6سال میں 2 ارب 10 کروڑ روپے کا بطور تحائف تبادلہ ہوا۔ تحائف کا سب سے زیادہ تبادلہ 2011ءمیں ایک ارب 20 کروڑ روپے کیا گیا۔ جہانگیر ترین نے بچوں کو ایک ارب 96 کروڑ روپے تحائف کے طور پر دیئے۔ جہانگیر ترین کو ان کے بچوں نے 16 کروڑ روپے تحائف کے طور پر دیئے۔
ایف بی آر تما م اراکین پارلیمنٹ کا کچا چھٹا کھول کر رکھ دیا ،جان کر آپ بھی حیران رہ جائینگے
اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایف بی آر کے اراکین پارلیمنٹ کی 2016ءکی ٹیکس گوشواروں کی ڈائریکٹری جاری کردی ہے۔ جاری ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے 2016 میں 25 لاکھ 24 ہزار 213 روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک لاکھ 59 ہزار 609 روپے ٹیکس ادا کیا۔ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2016 میں 95 لاکھ 31 ہزار 60 روپے ٹیکس دیا ،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 51 لاکھ 65 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا جن میں سے 50 لاکھ 55 ہزار بطور ایسوسی ایشن پرسنزکے طور پر ٹیکس شامل ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے 8 لاکھ 13 ہزار 869 ،وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے 14 لاکھ 11 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 46 لاکھ 17 ہزارروپے، وزیرداخلہ چوہدری نثار نے 11 لاکھ 92 ہزار 68 روپے، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے 39 لاکھ 83 ہزار 491 روپے ،وزیردفاع خواجہ آصف نے 8 لاکھ 31 ہزار 986 روپے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 1 لاکھ 4 ہزار 853 روپے ،وزیرپیٹرلیم شاہد خاقان عباسی نے 26 لاکھ 59 ہزار 183 روپے ٹیکس ادا کیا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 34ہزار 941 روپے، مولانا فضل الرحمن نے 50ہزار 101 روپے ،شیح رشید نے 5 لاکھ 5 ہزار 966 روپے کا ٹیکس جمع کرایا۔پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین نے 5 کروڑ 36 لاکھ 77 ہزار 422 روپے، رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے 63 لاکھ 68 ہزار 864 ارب روپے ،مراد سعید نے 34 ہزار 941 روپے ٹیکس ادا کیا۔وزیراعلی پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز نے 70 لاکھ 38 ہزار 777 روپے ٹیکس کی مد میں جمع کرائے۔ سینیٹر روزی خان کاکڑ نے سب سے زیادہ 4کروڑ 99لاکھ 23 ہزار 783 روپے ٹیکس دیا،سینیٹرتاج محمدآفریدی 3 کروڑ 52 لاکھ 84 ہزار 413 روپے ،سینیٹر محمد طلحہ محمودنے 3 کروڑ 24 لاکھ 95 ہزار 268روپے ،سینیٹراعتزازاحسن 1 کروڑ 38 لاکھ 54 ہزار 833 روپے کاٹیکس اداکیا،سینیٹرفروغ نسیم نے 2کروڑ 2لاکھ 33ہزار 725روپے ٹیکس جمع کرایا۔
کشمالہ اور خواجہ آصف کا میگا سکینڈل, سنسنی خیز انکشاف
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) تحریک انصاف کی راہنماءفردوس عاشق اعوان نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کی راہنماءکشمالہ طارق خواجہ آصف کے توسط سے شاہد خاقان عباسی کے فلیٹ میں رہ رہی ہیں‘ کشمالہ نے خواجہ آصف کے اکاﺅنٹ میں 16 کروڑ ٹرانسفر کرائے‘ کشمالہ طارق کے بیرون ملک سفر کے اخراجات وزارت پانی و بجلی ادا کرتی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے راہنماءفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کی راہنماءکشمالہ طارق ایان علی ٹو ہیں‘ کشمالہ طارق نے سولہ کروڑ روپے خواجہ آصف کے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کرائے ‘ خواجہ آصف نے ایک کروڑ کا فلیٹ کمرسل کراکر پچیس کروڑ روپے کا کرایا‘ خواجہ آصف نے پلاٹ کمرشل کرانے کیلئے وزارت دفاع کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمالہ طارق خواجہ آصف کے توسط سے پارلیمنٹ لاجز میں وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے فلیٹ میں رہ رہی ہیں‘ خواجہ آصف وضاحت کریں کہ ان کا کشمالہ طارق سے کیا رشتہ ہے اور وہ کس حیثیت سے پارلیمنٹ لاجز میں رہ رہی ہیں؟ فردوس عاشق اعوان نے کشمالہ طارق کو ایان علی ٹو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایان علی ٹو کے بارے میں مزید انکشافات کروں گی۔
”یہ ہے نیا پاکستان “, 52ارب کی مالی بدعنوانیوں سے ساکھ کو بڑا دھچکہ
پشاور (خصوصی رپورٹ) خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب‘ کرپشن اور انصاف کے حوالے سے ابتداءمیں بلندوبانگ دعوﺅں کا سلسلہ شروع کردیا تھا‘ لیکن صوبے میں افسران کی تقرریاں و تبادلے‘ سرکاری محکموں میں بھرتی‘ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت نے سابقہ حکومتوں کی روایات کو برقرار رکھا ہے۔ سال 2015ءمیں جب اخبارات میں اے این پی کی صوبائی حکومت کی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2012-13ءکے حوالے سے خبریں شائع ہوئیں‘ جس میں 45ارب روپے کی بے قاعدگیوں اور کرپشن کی نشاندہی کی گئی تھی تو اس وقت صوبائی اسمبلی کے ایک اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات و پبلک ہیلتھ فرمان شاہ نے اس رپوٹ پر اے این پی کی حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس رپورٹ کی بنیاد پر کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن گزشتہ سال 2016ءمیں جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے تحریک انصاف کی موجودہ اتحادی حکومت کے مالی سال 2013-14ءاور 2014-15ءکی آڈٹ رپورٹس کارروائی کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کیں تو صوبائی حکومت کے ذمہ داروں کے ہوش ٹھکانے آ گئے کیونکہ ان آڈٹ رپورٹس میں تحریک انصاف حکومت کے ابتدائی برس میں صوبے کے سرکاری محکموں میں ہونے والی اربوں روپے کی مالی بدعنوانیوں‘ بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کو چھپانے کیلئے صوبائی حکومت نے فنانس ڈیپارٹمنٹ پر دباﺅ ڈالا کہ وہ فوری طور پر ان آڈٹ رپورٹس کو صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو چھان بین کیلئے ارسال نہ کریں اور یوں یہ رپورٹس گزشتہ ایک سال سے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی الماریوں میں پڑی رہیں‘ جس کے بعد پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کے ارکان کے احتجاج پر سال 2013-14ءاور 2014-15ءکی آڈٹ رپورٹس پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو فنانس ڈیپارٹمنٹ میں بھجوا دی گئیں۔ ان رپورٹس میں تحریک انصاف کے دور حکومت کے پہلے دو برسوں کے دوران مجموعی طور پر صوبے کے سرکاری محکموں اور اداروں میں 52ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں‘ بے قاعدگیوں اور خوردبرد کی نشاندہی کی گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے تیارکردہ مالی سال 2013-14ءکے دوران خیبر پختونخوا کے سرکاری محکموں اور اداروں میں 17ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اسی طرح آڈیٹر جنرل کی رپورٹ مالی سال 2014-15ءمیں پبلک سیکٹرز کے اداروں کی آڈٹ رپورٹ میں 7ارب 98کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے تیارکردہ رپورٹ کے مطابق سال 2014-15ءکے دوران سب سے زیادہ مالی بے قاعدگیاں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں رپورٹ ہوئی ہیں جن کی مالیت 6ارب 85کروڑ روپے ہے جبکہ دوسرے نمبر پر 5ارب 98کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف انرجی اینڈ پاور ڈیپارمنٹ میں ہوا ہے۔ اسی طرح آڈٹ رپورٹس میں امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن کی تعمیر نو و بحالی کیلئے دی جانے والی امداد میں سے ایک ارب دس کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ جس میں دو کروڑ پچاس لاکھ روپے ملبہ ہٹانے کیلئے اضافی اور غیر ضروری طور پر دیئے گئے ہیں۔ آڈٹ رپورٹس کے مطابق فنانس ڈیپارٹمنٹ میں بجٹ خرچ نہ کرنے پر چار ارب روپے سے زائد، محکمہ خوراک میں تین ارب 87 کروڑ روپے، محکمہ ہاﺅسنگ میں 77 کروڑ 20لاکھ روپے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں 19کروڑ 70 لاکھ روپے، محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں 23کروڑ 10 لاکھ روپے، محکمہ آبپاشی میں چھ کروڑ 80لاکھ روپے، منرل ڈیپارٹمنٹ میں پانچ کروڑ چالیس لاکھ روپے، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تین کروڑ ستر لاکھ روپے، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں 34 کروڑ 70 لاکھ روپے، ڈائریکٹر آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں 26 کروڑ ستر لاکھ روپے اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے بٹگرام میں واٹر سپلائی سکیم کے نام پر 8 کروڑ 60لاکھ روپے نکالے تاہم آڈٹ کے دوران آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی واٹر سپلائی سکیم کے نام پر آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے نکالے، تاہم آڈٹ کے دوران آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی واٹر سپلائی سکیم غیر فعال پائی گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خیبر پختون کے سرکاری محکموں کی آڈٹ رپورٹ میں 48 کروڑ 59 لاکھ روپے کے اضافی اخراجات کا ایک کیس، مالی بیلنس میں ایک ارب چار کروڑ کا ایک کیس، دو کروڑ 55 لاکھ کی مشکوک ادائیگیوں کے آٹھ کیس، پندرہ کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کے اضافی اخراجات کے سات کیس، 55 کروڑ 94 لاکھ روپے کے غیر ضروری اخراجات کے گیارہ کیس، پانچ ارب سترہ کروڑ روپے کے مالی نقصان کے 59 کیس، 22 کروڑ 77 لاکھ روپے کے فنڈز کے غیرضروری ردوبدل کے آٹھ کیس، دو کروڑ 84 لاکھ روپے کے سرکاری فنڈ کو ڈیپازٹ نہ کرنے کے 3 کیسوں، ایک کروڑ 38 لاکھ روپے کے نان پے منٹ کے دو کیس،76 کروڑ 15لاکھ روپے کے ریکارڈ نہ پیش کرنے کے سات کیس،38 کروڑ 71 لاکھ روپے کی ریکوری نہ کرنے کے 13کیس، 6کروڑ 12لاکھ روپے کے فنڈز کی نان ایڈجسٹمنٹ کے دو کیس، 2کروڑ71 لاکھ روپے کے اوور پے منٹ کے بارہ کیس، چار کروڑ 50 لاکھ روپے کے مشکوک اخراجات کے پانچ کیسوں، آٹھ ارب 64 کروڑ روپے کے غیر مجاز اخراجات کے 23 کیس، 9کروڑ 71 لاکھ روپے غیر منصفانہ اخراجات کے چھ کیس اور 9کروڑ 43 لاکھ روپے کے غیر ضروری اخراجات کے دو کیسوں کی نشاندہی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں صوبائی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل کی جانب سے اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنے کے باوجود پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی، ذمہ دار افسران اور محکموں سے رقم وصول کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ کئی صوبائی محکمے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو ریکارڈ بھی فراہم نہیں کر رہے ہیں۔ اسی طرح صوبائی سرکاری محکمے مالی بے قاعدگیوں پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔

















