پارٹی کمان اہم ترین شخصیت کے حوالے, 14اگست کو اعلان

کراچی(خصوصی رپورٹ)وزیراعظم کی ممکنہ نااہلی کے سبب مسلم لیگ ن کی ختم ہونے والی سیاست کو بچانے کے لئے مسلم لیگ شہباز (ش) میں تبدیل کرنے پر غور شروع ہوگیا ہے۔ 14اگست جشن یوم آزادی کے موقع پر مسلم لیگ ش گروپ کا اعلان متوقع ہے۔ جس کی سربراہی میاں شہباز شریف کو سونپی جاسکتی ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کی ممکنہ نااہلی کے خدشات کے پیش نظر مسلم لیگ ن کی سیاست میں انتہائی ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور اس ضمن میں اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ اگر وزیراعظم کو سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیا جاتا ہے تو اس صورت میں مسلم لیگ ن جو کہ ایک مضبوط اور طاقتور پارٹی بن چکی ہے اس کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا اور وزیراعظم کی نااہلی سے پارٹی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر گزشتہ تین روز قبل ن لیگ کی قیادت کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی نااہلی کے بعد پارٹی پر پڑنے والے اثرات پر غور کیا گیا۔ہونے والے اس اجلاس میں قیادت میں شامل ایک گروپ کا خیال تھا کہ اگر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جاتاہے تو اس صورت میں پارٹی کا مستقبل مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا اور یہاں تک کہ ن لیگ کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی لہٰذا پارٹی کو بچانے کے لئے فوری طورپر ن لیگ کی سیاست کو ش لیگ کی سیاست میں تبدیل کر دیا جائے گا اور اس کی سربراہی مکمل طور پر میاں شہباز شریف کو سونپ دی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے پارٹی کی قیادت میں اتفاق رائے بھی قائم ہوگیا ہے مگر قیادت میں شامل نواز شریف کے حامیوں نے اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم کو ایک بار پھر اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈٹ جائیں پوری قوم بالخصوص ن لیگ کے کارکنان ان کے شانہ بشانہ جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت میں شامل کچھ لوگوں کی مخالفت کے سبب اس بات کاحتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا تاہم خیال ہے کہ ن لیگ کی سیاست کو بچانے کے لئے اسے ش لیگ میں تبدیل کیا جائے گا۔ جس کا اعلان 14 اگست کو ملک کی جشن آزادی کے موقع پر متوقع ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں بڑے پیمانے پر بغاوت بھی پھوٹ پڑی ہے جس کے نتیجے میں قیادت میں شامل سینئر رہنماﺅں جن میں وزیر داخلہ چودھری نثار حسین و دیگر اہم رہنما میاں شہباز شریف کی حمایت میں ہیں جبکہ قیادت میں شامل بعض وزراءاور رہنما اب بھی نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ ادھر وزیراعظم میاں نوازشریف کے ممکنہ نااہلی اور شہباز شریف کو پارٹی قیادت سونپے جانے کے حوالے سے ملک بھر میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی روز بروز زور پکڑ رہا ہے اور اس سلسلے میں گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری سروے کے مطابق 51 فیصد پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے حق میں ہیں جبکہ 59 فیصد میاں شہباز شریف کی حمایت کررہے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی ممکنہ نااہلی کے بعد میاں شہباز شریف کو متبادل وزیراعظم کے طور پر آگے لایا جائے اور پارٹی کی قیادت بھی ان کے سپرد کی جائے۔

آﺅٹ کرنے کا منصوبہ, اکیلئے رہ گئے

کراچی (خصوصی رپورٹ) دبئی میں گزشتہ ایک ہفتے سے بستر علالت پر داخل پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ کے وزرائ، اراکین اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں سمیت کوئی بھی عیادت کرنے کیلئے دُبئی نہیں گیا، آصف زرداری کی درازی¿ عمر کیلئے کالے بکرے قربان کرنے والے رہنما بھی طبیعت پوچھنے نہیں گئے اور نہ ہی انہیں ٹیلیفون کرکے سالگرہ کی مبارکباد دی ہے اور پارٹی کے بڑوں نے ان سے منہ پھیر لیا ہے جس کی وجہ سے وہ دُبئی میں اکیلے رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر کو پیپلزپارٹی کی سیاست سے آو¿ٹ کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا ہے اور پاٹری میں اہم تبدیلیوں کا امکان ہے۔ دوسری طرف دُبئی میں زیرعلاج آصف علی زرداری کو ڈاکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے تاہم سندھ میں افواہوں کا طوفان برپا ہوچکا ہے۔

فیصلہ حکمرانوں کی مرضی کا نہ ہُوا تو کیا ہوگا؟؟طاہر القادری کا دبنگ اعلان

اسلام آباد(آئی این پی) عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ جن کی اوقات فقط ایک عدد اقامہ تھی وہ تین تین بار وزیراعظم بن گئے ،نظام نہ بدلا تو کونسلر سطح کے لوگ ملکی دولت اور وقار سے کھیلتے رہیں گے،پاناما کیس میں فیصلہ مرضی کے برعکس آنے پر حکمران توڑ پھوڑ اور بد امنی پھیلاا سکتے ہیں،ماڈل ٹاﺅن میں قتل و غارت گری کے بعد شریف برادران کے حوصلے بڑھ گئے،بلا تفریق احتساب کا یہ نادر موقع کھو دیا گیا تو پھر انصاف اور سلامتی کے وہ ادارے جو آج کچھ نہ کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں کل کو اس سے بھی محروم کر دئیے جائینگے ۔اربوں کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن بھی اربوں میں ہے ،ملک ایسے چلتے ہیں؟ اسلام آباد میڈےا سیل کے مطابق وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ، ویمن لیگ، ایم ایس ایم کے مرکزی رہنماﺅں سے ٹیلیفونک خطاب کررہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کی یوتھ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر موجودہ لوٹ مار کے نظام کو چیلنج اور ایکسپوز کیا، آج دنیا بھر سے اس لٹیرے نظام کے سرپرستوں کے خلاف گواہیاں آرہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا غریب ملک جس کا ہر شہری آج ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے اس ملک کے ہر ترقیاتی اور توانائی کے منصوبے میں اربوں کی کرپشن پکڑی جارہی ہے مگر کسی کا کچھ نہیں بگڑتا کیونکہ اداروں میں خاندانی غلامی کا حلف اٹھانے والے بٹھائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ظفر حجازی کو عبرتناک سزا دے کر بقیہ کیلئے مثال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے اقرار کیا کہ اسلام آباد نیو ایئرپورٹ منصوبہ 35ارب کا تھا بڑھ کر108 ارب کا ہو گیا،اسی طرح نندی پور منصوبہ 35ارب کا تھا 58ارب میں مکمل ہوا، نیلم جہلم پراجیکٹ 167 ملین ڈالر کا تھا بڑھ کر 5ارب ڈالر کا ہو گیا، سڑکوں کی تعمیر کے درجنوں ایسے منصوبے ہر سال پکڑے جاتے ہیں جن کی ادائیگیاں ہو جاتی ہیں مگر ان منصوبوں کا زمین پر وجود نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم کرپشن کی سیاہی دھونے کی بجائے آئینہ ہی توڑنے پر اُتر آئے

لاہور(وقائع نگار) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم اپنے چہرے پر لگی کرپشن کی سیاہی دھونے کی بجائے شیشہ توڑنے پراتر آئے ہیں،شیشہ توڑنے سے سیاہی دھلے گی، نا چہرہ صاف ہوگا۔ منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے سینٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آئین قانون کی بالادستی کو تسلیم کرلیں، پارلیمنٹ میں انکی اکثریت ہے یہ استعفیٰ دیں اور کسی اور کو وزیراعظم کے لیے نامزد کردیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اداروں سے ٹکراو کی پالیسی ترک کردیں‘ دفعہ 62 اور 63 پر پورا اترنے والے کو ہی الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو احتساب کا میکنزم بنانا چاہیے اور وزیراعظم کے خلاف کیس کا جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب احتساب کی بات کی جاتی ہے تو لوگوں کے چہرے مرجھا جاتے ہیں اگرچہ پانچ چھ ہزار لٹیروں کو جیل بھیج دیا جائے تو کرپشن بھی ختم ہوجائے اور امن بھی ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئین کےمطابق دوہری شہریت والا پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا قوم سے حقائق چھپانے والے ملک و قوم کے خیر خواہ کیسے ہوسکتے ہیں۔

مصطفی کمال نے فاروق ستار کو بچ نکلنے کا راستہ بتا دیا

کراچی (این این آئی) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم (پاکستان ) ایم کیو ایم (لندن) کا سیاسی ونگ ہے ۔یہ سب لوگ کراچی کے عوام اور مہاجروں کو گروی رکھنا چاہتے ہیں ۔جس کے نام کے ساتھ ایم کیو ایم لکھا ہوگا وہ خون پینے والا درندہ ہوگا ۔ہم مہاجر سیاست کرکے قوم کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم (پاکستان)بنانے والے فارق ستار توبہ کرلیں تو ان کے ساتھ مل کر چلنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو جمعیت علماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی بھی موجود تھے ۔قبل ازیں دونوں رہنماو¿ں نے ملاقات میں ملک کی سیاسی صورت حال ،آئندہ عام عام انتخابات اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی ۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ مہاجر سیاست سے قبل مولانا شاہ احمد نورانی مہاجروں کے لیے ایک آئیڈیل شخصیت تھے ۔انہوںنے عوام کو محبت ،امن اور بھارئی چارگی کا پیغام دیا ۔ایم کیو ایم سے قبل مہاجروں کی اچھی شناخت تھی۔ انہوںنے کہا کہ ہم مہاجر سیاست کرکے قوم کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں ۔ایم کیو ایم (پاکستان )ایم کیو ایم (لندن)کا سیاسی ونگ ہے ۔ جوبھی ایم کیو ایم سے وابستہ ہوگا وہ خونی درندہ ہوگا جو کبھی بھی اس شہر میں امن بحال نہیں ہونے دے گا ۔ یہ سب لوگ کراچی کے عوام اور مہاجروں کو گروی رکھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ہم نے آگے بڑھ کر امن کی شمع کو روشن کیا ہے ۔ایم کیو ایم (پاکستان)بنانے والے فارق ستار توبہ کرلیں تو ان کے ساتھ مل کر چلنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم تمام سیاسی رہنماو¿ں سے ملاقات کررہے ہیں تاہم آئندہ انتخابات میں کسی جماعت سے اتحاد نہیں کریں گے ۔تما م لوگ ووٹ دینے کے لیے آزاد ہوں گے اور وہ جس کو چاہیں گے ووٹ دیں گے ۔انہوںنے کہا کہ اگر ہم پاور میں ہوتے تو اس طرح ہمارے کارکن شہید نہیں ہوتے ۔اس موقع پر شاہ اویس نورانی نے کہا کہ ہم مصطفی کمال کو یہاں آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔ان کے ساتھ کراچی کی حالت اور مسائل پر بات چیت کی ہے ۔انہوںنے کہا کہ جس شخص نے اس شہر کو خون میں نہلایا ،قلم کی جگہ نوجوانوں کلاشنکوف دی، ہم اس غدار کے ساتھ کھڑے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں وہ اس سے لاتعلق ہوکر قومی دائرے میں رہ کر اپنی سیاست کا آغاز کرتے ہوئے قوم کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔انہوںنے کہا کہ کراچی کو بوری بند لاشوں کا تحفہ دینے والوں نے شہر کو اندھیرے میں دھکیل دیاہے ۔ایک ایسے شخص کو گورنر کی حیثیت سے صوبے پر مسلط کیا گیا جو اداروں کو مطلوب تھا ۔انہوںنے کہا کہ اب اسلحہ کے زور پر سیاست نہیں کی جاسکتی ہے ۔ملک میں احتساب کا ہونا اچھی بات ہے ۔ایم کیو ایم کے بانی کا بھی احتساب کیا جائے ۔ایک سوال کے جواب میں شاہ اویس نورانی نے کہا کہ عام انتخابات 2018میں ہی ہونے چاہئیں۔

”نیب آرڈیننس ختم “مقتدر حلقوں میں کھلبلی

کراچی (اے پی پی) سندھ اسمبلی نے سندھ احتساب بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ نیا قانون سندھ احتساب ایکٹ کہلائے گا۔ اپوزیشن ارکان نے بل کی مخالفت کی اور بل کی منظوری کے دوران اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اس بل کی منظوری کے بعد صوبے میں احتساب ایجنسی قائم کی جائے گی، احتساب کمیشن بنایا جائے گا اور صوبے میں احتساب عدالتیں بھی قائم کی جائیں گی ۔ اس ایکٹ کی منظوری کے بعد قومی احتساب بیورو ( نیب ) یا کوئی دوسرا ادارہ سندھ میں ہونے والی مالیاتی کرپشن یا جرائم کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گا ۔ اس طرح صوبے میں قومی احتساب آرڈی ننس 1999ءغیر موثر ہو جائے گا ۔ اس ایکٹ کے تحت سندھ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ختم کر دیا جائے گا اور اس حوالے سندھ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن ایکٹ 1991 ءبھی منسوخ کر دیا جائے گا ۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ یہ تمام مقدمات ، اسٹاف اور اثاثہ جات سندھ احتساب ایجنسی کو منتقل ہو جائیں گے ۔ احتساب ایجنسی کرپشن اور بدعنوانی کے اقدامات کے خلاف شکایات اور الزامات وصول کرے گی اور ان کی تحقیقات کرے گی ۔ سندھ احتساب کمیشن 5 ارکان پر مشتمل ہو گا ، جن میں احتساب ایجنسی کا چیئرمین ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ، احتساب ایجنسی پراسیکیوٹر جنرل ، ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر انویسٹی گیشن شامل ہوں گے ۔ احتساب کمیشن کرپشن کے مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گا اور اس حوالے سے احتساب ایجنسی کو اپنی رائے اور سفارشات پیش کرے گا ۔ احتساب کمیشن کرپشن کے عوامل کی نشاندہی کرے گا اور ان کے خاتمے کے لےے حکومت سندھ کو سفارشات پیش کرے گا ۔ چیئرمین کی عدم موجودگی میں ڈائریکٹر جنرل کمیشن کے چیئرمین کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ کمیشن کے فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوں گے ۔ احتساب ایجنسی کی نگرانی احتساب کمیشن کا چیئرمین کرے گا جبکہ احتساب ایجنسی کے انتظامی اختیارات ڈائریکٹر جنرل کے پاس ہوں گے ۔ احتساب کمیشن کے چیئرمین کے لےے پاکستان کا شہری اور سندھ کے ڈومیسائل کا حامل ہونا ضروری ہے ۔ اچھی شہرت اور دیانت دار فرد کو چیئرمین مقرر کیا جائے گا ، جو ہائیکورٹ کا جج رہا ہو یا ہائیکورٹ کا جج بننے کی صلاحیت رکھتا ہو یا گریڈ 21 کا سرکاری ملازم رہا ہو ۔ چیئرمین کی نامزدگی سندھ اسمبلی کی 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی کرے گا ، جس میں 3 ارکان حکومت سے اور 3 ارکان حزب اختلاف سے ہوں گے ۔ دونوں طرف سے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف پارلیمانی کمیٹی کے نام دیں گے ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کمیٹی کا سربراہ ہو گا ۔ پارلیمانی کمیٹی چیئرمین کا انتخاب اتفاق رائے سے یا کثرت رائے سے کر سکے گی ۔ اگر دو ناموں پر برابر ووٹ ہوں گے تو اسپیکر کا ووٹ فیصلہ کن ہو گا ۔ چیئرمین کا تقرر 3 سال کی مدت کے لےے ہو گا ۔ پارلیمانی کمیٹی مزید 3 سال کے لےے چیئرمین کی مدت میں توسیع کر سکتی ہے۔

سابق خاتون ایم پی اے کے سابق وزیر قانون بارے شرمناک الزامات

ملتان(تجزیہ نگار) سابق وزیرقانون اور مسلم لیگ ق کے رہنما بشارت راجہ کی اہلیہ اور سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ نے ملتان پریس کلب میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ راجہ بشارت کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کیاجائے کیونکہ انہوں نے پری گل آغا کو طلاق دینے کے باوجود گھر میں رکھا ہوا ہے اور مروجہ قوانین اور اسلامی تعزیرات کا بھی مذاق اڑارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے راجہ بشارت اور ان کی جماعت کو ایک ہفتہ کی مہلت دیتی ہیں کہ اگر طلاق یافتہ عورت کو گھر سے نہ نکالا تو وہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر گھر کے باہر دھرنا دیں گی۔ سیمل راجہ نے مزید کہا کہ راجہ گینگ اپنی بہو بیٹیوں اور بہنوں کو سورس کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے عورت کو سیٹیں لینے کیلئے سیڑھی بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے نہ وہ کسی سیاسی جماعت کی آلہ کار ہیں۔ وہ ایشو بیسڈ سیاست کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ شادیاں کرکے مکرجاتے ہیں مگر راجہ بشارت جس معاشرتی برائی کی ابتدا کررہے ہیں وہ پھیل گئی تو پورا معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا سیاستدان ہے جو طلاق سے ہی مکرگیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے شیخ الاسلام سمیت سندھ پنجاب کے تمام مکاتب فکر کے علماءسے فتویٰ لیا۔ انہوں نے کہا کہ طلاق یافتہ خاتون اپنے بچوں کی آڑ میں بھی اپنے سابق شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ اس کیلئے نامحرم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمام میں سب ننگے ہیں۔ سیاستدان اپنی عورتوں کو پارلیمنٹ کے بازار حسن کی زینت بناتے ہیں۔ یہ لوگ بے شرم‘ بے ضمیر ہیں۔ پارلیمنٹ کے بارے میں کتاب شائع ہونے اور اندرونی کہانیاں منظرعام پر آنے پر کسی ممبرپارلیمنٹ نے رائٹر کو نوٹس نہیں بھجوایا نہ کوئی وضاحت کی۔ انہوں نے صحافیوں کو ناقابل تردید ثبوت پیش کئے اور راجہ بشارت اور ان کے بھائی کی ریکارڈشدہ گفتگو سنائی۔ انہوں نے کہا کہ پری گل کا کہنا ہے کہ ان کی 22سال قبل راجہ بشارت سے شادی ہوئی جبکہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ان کا بیٹا1991ءمیں پیدا ہوا۔ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایاجائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ کس کا بیٹا ہے۔ سیمل راجہ نے بشارت راجہ سے شادی کے حوالے سے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے گھر اجاڑنے والے راجہ گینگ کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو مزید قوم کی بیٹیوں کے گھر برباد ہوجائیں گے۔ انہوں نے راجہ گینگ کے طریقہ واردات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلے شادی شدہ خواتین کے گھر برباد کرکے ان کی جائیداد ہڑپ کرلیتا ہے پھر جان چھڑانے کیلئے مختلف الزامات لگاکر انہیں بدنام کرتاہے۔ شادی اور طلاق سے مکرنا ان کا وتیرہ ہے۔ سیمل راجہ نے بتایا کہ ڈرامے رچاکر پہلے ان کا اڑھائی کروڑروپے مالیت کا زیور اور 22لاکھ روپے مالیت کی گاڑی ہتھیائی گئی۔ بعدازاں راستے سے ہٹانے کیلئے یکے بعد دیگر تین قاتلانہ حملہ کروائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گھبرانے والی خاتون نہیں۔ وہ قوم کی بیٹیوں کا گھر برباد کرنے والوں کے خلاف جہاد کررہی ہیں۔ سیمل راجہ نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی تو یتیم بچیوں کی سرپرستی کرتے ہیں ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں لیکن پتہ نہیں ان کی کیا مجبوری ہے کہ وہ حقائق جاننے کے باوجود خاموش ہیں اور کچھ لے دیکر معاملہ طے کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ خاتون نے راجہ بشارت کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں اخلاقی جرا¿ت ہے تو وہ میڈیا کے سامنے آکر ثابت کریں کہ انہوں نے پری گل آغا کو تین بار طلاق نہیں دی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے اس صورتحال کا نوٹس لینے اور ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ ان کے ساتھ سول سوسائٹی کی خواتین سیدہ عابدہ بخاری‘ نبیلہ بٹ‘ فریال خان اور شازیہ نے یکجہتی کا اظہار کیا۔
سیمل راجہ

نئے آئی جی پنجاب کا نیا مطالبہ

لاہور (کرائم رپورٹر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز نے محکمہ میں بنیادی تنخواہوں اور الاﺅنسز میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس دہشت گردی و دیگر جرائم کے خلاف لڑ رہی ہے ،تنخواہیں اور الاﺅنسز دیگر محکموں کے برابر کیے جائیں ۔ عہدے کے چارج سنبھالنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2008ءکے پے سکیل پر رسک الاﺅنس رواں سال 50فیصد کم ہوا ، فکس ڈیلی الاﺅنس بھی بی پی ایس 2005ءکی سطح پر منجمد کیا گیا ، 14جولائی 2017ءکے نوٹیفکیشن سے اہلکاروں کی تنخواہیں کم ہو گئیں ، کم الاﺅنسز اور تنخواہوں کے باعث اہلکاروں کا مورال متاثر ہو رہا ہے ۔ عارف نواز نے کہا کہ پولیس دہشت گردی و دیگر جرائم کے خلاف لڑ رہی ہے ، محکمہ پولیس کی تنخواہیں اور الاﺅنسز دیگر محکموں کے برابر کیے جائیں ۔ یاد رہے کہ عارف نواز اس سے پہلے ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب کے عہدے پر فائز تھے۔ عارف نوازکا تعلق پولیس گروپ کے 14 ویں کامن سے ہے اور ا نہوںنے6دسمبر 1986ءکو بطور اے ایس پی پولیس سروس جوائن کی تھی۔ کیپٹن (ر)عارف نواز خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ سماج دشمن عناصر کوجلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے،ملک سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ انکی پہلی ترجیح ہے جس کیلئے پنجاب پولیس اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پہلے سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے وطن دشمن عناصر کے خلاف جاری جنگ لڑے گی۔ میٹنگ میںایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، امجد جاوید سلیمی، ایڈیشنل آئی جی آئی اینڈ وی، اعجاز شاہ، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، شعیب دستگیر، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب، فیصل شاہکار، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب، اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، محسن حسن بٹ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز پنجاب، بی اے ناصر، ڈی آئی جی آر اینڈ ڈی، احمد اسحاق جہانگیر، ڈی آئی جی ٹریفک، فاروق مظہر، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن، احسان طفیل، ڈی آئی جی ٹریننگ، سعد اختر بھروانہ، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ٹو، سلمان چوہدری، ڈی آئی جی ایس پی یو، فیصل علی رانا، ڈی آئی جی ویلفیئر، وسیم سیال، ڈی آئی جی ڈویلپمنٹ، کامران خان، ڈی آئی جی آئی ٹی، ہمایوں بشیر تارڑاور ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ون، سید خرم علی شاہ کے علاوہ سی پی او کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں سینئر افسران کو ہدایت دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ عوام کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں بھرپور محنت ، دلجمعی اور فرض شناسی سے ادا کریں۔

ایک اور روحانی باپ جنسی بھیڑیا نکلا،نویں جماعت کی طالبہ نے راز کھول دیا

گوجرانوالہ(بیورورپورٹ) استاد ہی عزت کا دشمن بن گیا نویں کلاس کی طالبہ سے اسلحہ کے زور پر دو ماہ تک زیادتی کرتا رہا والدین کو پتہ چلا تو انہوں نے بچی کو سکول جانے سے روک لیا مگر شیطان صفت پرنسپل کی اسلحہ کے زور پر گھر میں داخل ہو کر لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش محلے داروں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا مقدمہ درج کر کے ملزم کو جیل بھیج دیا ہے پولیس کا موقف تفصیل کے مطابق تھانہ لدھیوالہ وڑائچ کے علاقہ محلہ اسلام پورہ کے رہائشی طارق کی بچی حنا طارق دی ایجوکیٹر سکول لدھیوالا وڑائچ میں نویں کلاس کی طالبہ تھی سکول کا مالک پرنسپل شاھد بٹ نے اسلحہ کے زور پر دو ماہ قبل بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور دو ماہ تک بلیک میل کرتا رہا بچی کی حالت خراب ہونے پر بچی نے والدہ کو تمام حالات سے آگاہ کر دیا والدین نے اپنی عزت کے خوف سے بچی کو سکول جانے سے روک لیا تو شیطان صفت درندے نے اسلحہ کے زور پر گھر کے اندر داخل ہو کر حنا طارق کو اغوا کرنے کی کوشش کی چیخ و پکار کی آواز سن کر اھل محلہ نے اکٹھے ہو کر ملزم شاھد کو پکڑ کر چھترول کرنے کیعبد پولیس کے حوالے کر دیا پولیس نے ملزم کے خلاف زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج کر کے ملزم کو ریمانڈ کیلئے عدالت میں پیش کر دیا ہے نوٹس لیا جائے اور اس جیسے با اثر کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

پولیس کے 12ہزار سے زائد اہلکاروں بارے اہم انکشاف

کراچی(این این آئی)سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں سندھ پولیس کے 12 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کا ریکارڈ مشتبہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بدھ کومجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں ایڈیشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی)ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں ہونے والی تفتیش کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔سی ٹی ڈی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ پولیس کے 12 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کا ریکارڈ مشکوک ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک لاکھ 9ہزاراہلکاروں کے ریکارڈ کا جائزہ لیاگیا۔شواہد ملنے پرساڑھے 300 اہلکاروں کیخلاف سزا کی سفارش کی گئی۔جرائم میں ملوث 17 اہلکاربرطرف کردئیے گئے جبکہ 122 کوجبری ریٹائرمنٹ دے دی گئی ہے۔دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں اعلی افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟ یہ نہیں چلے گا کہ صرف چھوٹے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ سندھ پولیس میں کیا کھینچا تانی چل رہی ہے۔عدالت نے دوران سماعت چیف سیکریٹری سندھ کو بھی فوری طور پر عدالت میں طلب کرلیا۔چیف سیکریٹری پیش نہیں ہوئے۔ سرکاری وکیل نے آگاہ کیا کہ چیف سیکریٹری کے بیٹوں کی شادی ہے، وہ چھٹی پر ہیں۔ چیف سیکریٹری جمعہ کو عدالت میں پیش ہو کر کارروائی والے افسران کی فہرست پیش کرینگے، عدالت نے کہا کہ برے ریکارڈ کے حامل تمام پولیس افسران کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ اب تک جو کارروائی ہوئی ہے اسکی فہرست کے ساتھ چیف سیکریٹری پیش ہوں۔ عدالت نے سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔