اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ لاہور گجرانوالہ، قصور، نارووال،شکر گڑھ،سیالکوٹ، ملتان‘ فیصل آباد‘ دینہ‘ ساہیوال (نیااخبار رپورٹ) تحریک لبیک کے زیراہتمام ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پولیس نے لاہور‘ فیصل آباد‘ بہاولپور‘ دینہ اور دیگرشہروں میں کارکنوں پر تشدد کرتے ہوئے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ فیصل آباد میں2وزراءکی برطرفی کیلئے ضلع کونسل چوک میں دھرنا دیا گیا۔ مذاکرات ناکام ہونے پر پولیس نے شرکاءپر لاٹھی چارج کر دیا جس سے درجنوں علماءاور کارکن زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ساٹھ کے قریب کارکن گرفتار کئے گئے جبکہ تحریک کے ذمہ داروں کے مطابق اڑھائی سو سے زائد کارکنوں کی گرفتاری ہوئی۔ لاہور میں اقبال ٹاﺅن‘ شاہدرہ سمیت متعدد علاقوں کی جامع مساجد سے نکلنے والے کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 100سے زائد حراست میں لئے گئے۔ کارکنان کو شہر کے مختلف تھانوں میں رکھا گیا۔ بہاولپور میں ستلج پل پر احتجاج کیا گیا۔ پولیس نے تشدد کے بعد 30افراد کو حراست میں لیا۔ دینہ میں کارکنوں نے احتجاج کے دوران جی ٹی روڈ بلاک کردیا۔ پولیس سے جھڑپ کے بعد درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ساہیوال میں 25کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ نارووال میں احسن اقبال کے گھر کے باہر دھرنادیا گیا۔ 34کارکن گرفتار ہوئے۔ پشاور‘ مردان اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا۔ شرکاءحلف نامے میں ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ دوسری طرف تحریک لبیک کا فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ رہنماﺅں نے دھرنے کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ کیلئے 7نکاتی لائحہ عمل جاری کر دیا۔ تحریک کے چیئرمین خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری نے نمازجمعہ سے قبل شرکاءسے خطاب میں کہا کہ زاہد حامد کی برطرفی تک دھرنا جاری رہے گا۔ حکومت ایک وزیر کو بچانے کیلئے پورے ملک کا نظام درہم برہم کرنے پر تلی ہے۔ انہوں نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا اگلے مرحلے میں تمام ایئرپورٹس اور ریلوے سٹیشن بلاک کر دیئے جائیں گے۔ ملک کے تمام شہروں کو بند کیا جائے گا اور ان کے گھروں کا گھیراﺅ کیا جائے گا۔ مدارس کے طلباءکے اسباق سڑکوں پر ہوں گے۔ کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباءبھی سڑکوں پر نکل آئیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ وہ تمام مسلم ممالک کے سفارتخانوں کے باہر احتجاج کریں۔ افضل قادری نے کہا احسن اقبال نے مذاکرات کیلئے رابطہ کیا تاہم ہم نے جواب دیا کہ زاہدحامد کی برطرفی تک بات چیت نہیں ہو سکتی۔ ضلعی انتظامیہ نے دھرنا قیادت کو دوسرا وارننگ نوٹس جاری کر دیا کہ شرکاءفوری طور پر فیض آباد خالی کر دیں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا۔ دفعہ 144نافذ ہے اور ہائیکورٹ نے بھی شہر میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ادھر دفعہ 144کی خلاف ورزی‘ کار سرکار میں مداخلت‘ گاڑی کے شیشے توڑنے اور دیگر الزامات پر خادم حسین رضوی اور افضل قادری سمیت 6نامزد اور دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف 2مقدمات درج کر لئے گئے۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ حامدرضا نے کہا ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کی سازش کرنے والے اسلام اور پاکستان کے مجرم ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ قادیانی اسلام و پاکستان دشمن قوتوں کے ایجنٹ ہیں۔ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر سے تحریک لبیک کے کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ پنجاب بھر سے پولیس نے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے میں شرکت کے لئے جانے والے کارکنوں کی لسٹیں تیار کی گئی تھیں جس کے بعد گزشتہ روز مختلف اضلاع میں پولیس نے کریک ڈاﺅن کرتے ہوئے تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے کر تھانوں میں بند کردیا۔ کارکنوں کو گھروں‘ دفاتر‘ دکانوں اور مساجد کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب گرفتاریوں کے خوف سے تحریک لبیک کے متعدد کارکن اپنے گھروں سے غائب ہوگئے ہیں جن کی تلاش میں پولیس مختلف جگہوں پر چھاپے ماررہی ہے۔لالہ موسیٰ میں ختم نبوت احتجاجی دھرنے پر پولیس نے بدترین لاٹھی چارج کے بعد قاری رفاقت سیالوی سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کرکے تھانہ میںمنتقل کردیا گیا ہے۔ کوریج سے روکتے ہوئے مقامی صحافی نصراللہ مجید طارق منہاس‘ فرحان بیگ‘ سید علی‘ فرقان کاظمی پر تشدد کیا گیا اور موبائل اور کیمرے چھین لئے گئے۔ اسی طرح گزشتہ شام قاری جہانگیر اور قاری ذوالفقار کی قیادت میں تحریک لبیک یارسول کے سینکڑوں کارکنوں نے سادھی جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف ٹائر جلا کر دھرنا دیا جس سے ٹریفک مکمل طور پر بلاک ہوگئی۔ کوٹ رادھا کشن میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ناظم غلام مصطفی نظامی‘ مولانا انوار حنفی‘ مہر محمد سلیم‘ محمد نواز کمبوہ‘ محمد نعیم کمبوہ و دیگر سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ خانقاہ ڈوگراں میں لاہور سرگودھا روڈ بلاک کرکے علامہ یونس رضوی کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔ قصور کے مختلف مقامات سے لبیک یا رسول اللہ کی کامیاب ریلیاں نکالی گئیں۔ پروفسر مفتی انوار کی قیادت سے ایک ریلی کا اہتمام یکا گیا۔ چونیاں میں بھی صوفی محمد یعقوب کی زیرصدارت ریلی نکالی گئی۔
تحریک لبیک یا رسول اللہ کا ملک گیر احتجاج ، ائیر پوزیشن ریلوے جام کرنیکی دھمکی
