لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار میاں سیف الرحمان نے کہاہے کہ جب تک تمام ادارے مل کر ہم آہنگی کے ساتھ آگے نہیں بڑھیں گے اور ہر ایک اپنی اپنی ڈیڑ ھ اینٹ کی مسجد بنا لے گاا تو ڈلیور کرنا مشکل ہو جائے گا۔چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب دو بڑے اداروں کے سربراہ بیٹھتے ہیں توبہتری کی راہ نکلتی ہے۔انسان کو غلطیوں سے سیکھنا چاہئے۔میرے خیال میں سب کو مل جل کر مسائل کاحل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ ملک کے حالات میں بہتری آئے ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار توصیف خان نے کہا کہ اداروں وکے سربراہوں کو مل بیٹھنا چاہئے اس میں کوئی قباحت نہیں میں نہیں سمجھتا چیف جسٹس او ر وزیراعظم کی ملاقات سے کوئی خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔شیخ رشید کے حوالے سے انہوں نے کہا لگتاہے عمران خان کا ان کے ساتھ لاڈ پیار ماند پڑ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ این آر او فوج سے بھی ہوتے رہے ہیں اور عدلیہ سے بھیہوتے رہے ہیں۔نواز شریف اقتدار میں ہوں تو سب بھول جاتے ہیں اور باہر ہوں تو سب یاد آ جاتا ہے۔ تجزیہ کار اعجاز حفیظ نے کہا کہ اس وقت ملک میں افواہوں کے طوفان چل رہے ہیں یعنی چائے کی پیالی میں بھی طوفان ہے۔ ان حالات میں اپوزیشن تنقید توکرے گی۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی چیف جسٹس سے ملنے گئے تھے جس پر سب سے زیادہ تنقید ن لیگ نے کی تھی۔ میں سمجھتا ہوں چیف جسٹس اور شاہد خاقان عباسی کی ملاقات مثبت ہے سیاستدانوں کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے لیکن اگر حکومت کام کر رہی ہوتی تو چیف جسٹس کو ہسپتالوں کے دورے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔میرے خیال میں پیپلز پارٹی اس پوزیشن میں نہیں ان کا وزیراعظم آ سکے تحریک انصاف کے چانسز زیادہ ہیں۔ تجزیہ کار علامہ اظہر صدیق نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر ہوئی ہے یہ ملاقات نواز شریف کے اس بیان کے پر کہ ہم عدالت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں کے بعد ہوئی۔ن لیگ کی جانب سے جلسے بھی کم ہو گئے ہیں۔نواز شریف نے اہم وزارتیں اپنے قریبی لوگوں میں بانٹ دیں۔سپیکر قومی اسمبلی کو اس لئے لاہور سے لیا کہ انہوں نے عمران خان کو ہرایا تھا۔رانا مقبول جس نے آصف زرداری کی زبانی کاٹی انہیں بھی سینیٹر بنایا گیا۔آصف زرداری نے اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کے امیدوار وہ ہوں گے۔وزیر اعلی کے پی پہلے ٹھکیدار تھے ٹھکیدار کی ذہنیت ٹھکیداروں والی ہی ہوتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ عمران خان کسی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں رہے۔





































