واشنگٹن(آئی این پی ) معروف امریکی اخبارنے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کی کامیابی کے بعد نریندر مودی کا ان کو مبارکباد کا فون دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بریک تھرو کا اشارہ ہے، اب کوئی کشمیری بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتا، بھارت کی اکثریتی آبادی ہندووں میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کے نتیجہ میں کشمیری مسلمانوں میں بھارت کے خلاف نفرت بڑھی ہے۔معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندو آبادی میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کا نشانہ زیادہ تر مسلمان ہی بنتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت سے نفرت کرنے والے کشمیریوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدو جہد میں مصروف کشمیریوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارتی ہندووں میں قوم پرستانہ جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور حکمراں جماعت کے کئی اہم رہنماں کا ریکارڈ مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک کے حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ بی جے پی رہنما ﺅ ں کے طرز عمل نے بھارتی مسلمانوں کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بی جے پی کے رہنماں کے طرز عمل نے انتہا پسند ہندووں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کی وجہ سے بھارت بھر میں مسلمانوں پر حملوں اور ان کے قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انھوں نے مسئلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ان کو مبارکباد کا فون اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر کوئی بریک تھرو ممکن ہے۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں بھارتی فورسز نے 21 کشمیریوں کو شہید کیا جب کہ بھارتی فوج کی بربریت میں 310 کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

