امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بعض مصنوعات پر عائد کیے جانے والے 50 فیصد نئے ٹیرف کو تین دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیرف 19 اگست کو نافذ ہونا تھا اور اس کا دائرہ تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات تک بتایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے 18 اگست کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کہا کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی دستاویزات ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے نئے ٹیرف کے نفاذ کو تین روز کے لیے روک دیا۔
دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کی تصدیق کی، تاہم ان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے مزید اہم کام باقی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کئی ہفتوں سے تجارتی اختلافات ختم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
مجوزہ ٹیرف سے کینیڈا کی متعدد مصنوعات متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جن میں شراب، دودھ اور دیگر اشیا کے علاوہ ہاکی کا سامان بھی شامل ہے۔ کینیڈا نے بھی ممکنہ امریکی اقدامات کے جواب میں جوابی تجارتی اقدامات کی تیاری کی تھی۔
ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے تحت Keystone XL پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ بحال کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اہم بات: فی الحال اسے مکمل اور حتمی تجارتی معاہدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ دستاویزات کو حتمی شکل دینا اور مذاکرات کے بعض نکات طے کرنا ابھی باقی ہیں۔

