لاہور (رپورٹنگ ٹیم) چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے تعلیمی اداروں میں منشیات بارے ایکشن لیا جس پر کافی کام ہوا بھی ہے متعلقہ ادارے متحرک ہوئے اس پر کنٹرول کر نے کی کوشش بھی کی جارہی ہے میں سابق چیف جسٹس کی اس کاوش کو سراہتا ہوں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں یہ لعنت کیوں شروع ہوئی؟ ہمارے زمانے میںسرکاری تعلیمی درسگاہوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے ان میدانوں میں طالبعلم کھیل کود میں مصروف رہتے تھے جس سے ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما پروان چڑھتی تھی لیکن آج کے دور میں پرائیوئٹ تعلیمی درسگاہیں صرف چند کنال یامرلوں زمین پر محدود ہوگئیں ہیں جس میں کھیل کود کے لیے کوئی گراﺅنڈ نہیں ہوتا پھر وہ ادبی مشاعرے جن سے ذہنی نشو و نما ہوتی تھی اس کا فقدان ہے ہمارے زمانے میں ادبی مشاعروں، ملی نغموں کا انعقاد کیا جاتا تھا جس سے شعور پید ا ہوتا تھا لیکن آج کے دور میں یہ مشاغل ناپید ہوگئے ہیں ان کے فقدان کی وجہ سے منشیات جیسی لعنت تعلیمی اداروں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کی آگاہی بارے چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا دارہ اس بارے ہر تعلیمی ادارے میں سیمینار کا انعقاد کر ے گا اور منشیات کی روک تھام بارے طالبعلموں کو آگاہی دے گا۔ انہوں نے حکومت کو بھی تجویز دی کہ وہ تعلیمی اداروں میں کھیل کے پروگراموں کو فروغ دیں کھیل کے میدان بنائے جائیں کھیلوں کو فروغ دیا جائے تا کہ نوجوانوں کی مصروفیات بڑھیں۔
منشیات روکنا ہے تو نوجوانوں کیلئے کھیل اور تفریح کے مواقع پیدا کریں ،مشاعرے، ادبی محفلیں کم، منشیات کی لعنت پروان چڑھ گئی ہے : ضیا شاہد
