چینل فائیوکے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایک ہی مالی سال میں 3 بجٹ جاری نہیں کئے گئے۔ حکومتی آمدن میں کمی یا اخراجات میں بے پناہ اضافہ منی بجٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایف بی آر نے چند ماہ میں170ارب روپے کم وصولیاں کی ہیں جنہیں پورا کرنا ہے۔ حکومتی اخراجات اگلے چھ ماہ میں 5 سے 6 سو ارب روپے اضافی ہوں گے۔جس سے ہر پاکستانی خاندان کو 28سے30ہزار کا ٹیکہ لگے گا،ریلیف کی بات بھول جائیں۔ پاکستان کو 24سے 25ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن غیریقینی کی فضا کو بھی ختم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کے متبادل حکمت عملی ہے تو واضح کی جائے۔ مختلف ممالک سے بھیک مانگنے ، منی بجٹ کی پالیسی بیکار ہے ، 1.8ارب ڈالر ماہانہ خسارہ ہو رہا ہے۔حکومت میں پالیسی سازی ، فیصلہ سازی کا فقدان ہے اصلاحات ہو تی نظر نہیں آرہی۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی میں زیادہ آنا چاہئے ، انکے آنے سے وزراءتیاری سے آئیں گے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے بجٹ کو اپنی پالیسی کے تحت حکومت کو تبدیل کرنا چاہئے تھا مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ خسارہ بڑھ گیا ہے جسے عوام پر ٹیکس لگا کر پورا کیا جارہا ہے، عوام کے لیے منی بجٹ سے مشکلات میں اضافہ ہونے جا رہاہے۔ حکومت نے اکنامک گروتھ مومینٹم کو تباہ کیا جسکی وجہ سے افراط زر ، خسارہ اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ حکومت کے لیے ڈالرز کی کمی چیلنچ تھا جس کے لیے بہترین راہ آئی ایم ایف کے پاس جاناتھا، جاتے تو پاکستان کی معیثت آج بہتر ہوتی۔ عمران خان ایسا کوئی بین الاقوامی دورہ ہی نہیں کرتے جسمیں بھیک نہ مانگنی پڑے ۔ سینئر تجزیہ کار جنرل(ر)اعجاز اعوان نے کہاکہ امریکا نے طالبان کو ایک قوت تسلیم کرنے کے ساتھ پاکستان کاافغان معاملہ جنگ کی بجائے مذاکرات سے حل کرنے کا موقف بھی تسلیم کر لیا ہے۔امریکا پاکستان کے ذریعے یہ مذاکرات آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ طالبان سے مذاکرات یقینابہتری کی طرف جائیں گے ۔طالبان چاہتے ہیں کہ امریکا ٹایم فریم کے مطابق افغانستان سے نکل جائے ۔ امریکا لچک دکھا چکا ہے ، طالبان اپنی شرائط منوانا چاہیں گے۔ ٹرمپ اگلے انتخابات سے پہلے امریکا سے نکلنا چاہتے ہیں۔ امریکا اپنی ریگولر فورس افغانستان سے نکالنے کا عندیہ دے چکا ہے مگر پینٹاگون اورسی آئی اے افغانستان سے نکلنا نہیں چاہتے۔ افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو ٹرمپ کے حق میں جائے گا ۔اشرف غنی حکومت فوری انتخابات چاہتی ہے ۔پاکستان کا دورہ قطر کا ایک پہلو پاکستان میں سرمایہ کاری اور دوسرا طالبان سے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں تمام ثالثی ممالک کا کردار یقینی بنانا تھا تاکہ امریکا افغانستان سے چلا جائے اور امن قائم ہو۔ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے اعجاز اعوان نے کہاکہ انٹیلی جنس بیس آپریشنز میں انٹیلی جنس ادارے معلومات دیتے ہیں ، پولیس کو ڈکٹیٹ نہیں کرتے ۔ آپریشن پولیس کی اپنی ذمہ داری ہے ۔ سی ٹی ڈی کا آپریشن کا طریقہ کار غلط تھا ، معصوم لوگوں کی جانیں گئیں۔ سفاکی، نا اہلی اور بے دردی سے قتل کرنے پولیس اہلکاروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔
حکومتی آمدن میں کمی یا زائد اخراجات‘ منی بجٹ کا باعث بنتے ہیں: ڈاکٹر فرخ ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بجٹ کو اپنی پالیسی کے تحت تبدیل کرنا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا: محمد زبیر ، امریکہ مذاکرات سے آگے بڑھنا چاہتاہے بہتری کی جانب بڑھیں گے: اعجاز اعوان کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
