تازہ تر ین

بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں نہ ملیں تو جرم کیسے رکے گا ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ کہنا تو بڑا مشکل ہے کہ اس اس جرم پر قابو پایا جا سکتا ہے ایک بات صحیح ہے کہ پوری دنیا میں سزائے موت کے خلاف ایک مہم شروع ہے یہی وجہ ہے کہ فواد چودھری اور شیریں مزاری نے تحریک انصاف سے ہیں نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ پیپلزپارٹی تو اپنے آپ ہمیشہ سے اپنے آپ کو لبرل سائڈ پر رکھنا چاہتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرارداد کوئی قانون نہیں ہوتا۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے قانون میں ترمیم ہو قانون میں جب تک تبدیلی نہ کی جائے اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا۔ اس سے فرق پڑنا چاہئے سعودی عرب میں سخت سزائیں ہیں جس سے جرائم کا نام و نشان نہیں ہے خوف کی وجہ سے اس قسم کے جرائم کرنے والے سوچ بھی نہیں سکتے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا میں چونکہ اس کے خلاف ہیں۔ جب زینب کا کیس چل رہا تھا میں نے بھی اس کے والد امین انصاری کو مختلف مواقع پر بلایا تھا اور اس میں اس بات پر بحث شروع کی تھی ہم نے تو بہت کوشش کی تھی کہ اس سلسلے میں راہ ہموار ہو مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں مغربیت کا اثر اتنا زیادہ ہے کہ اسی اثر کی وجہ سے کوئی اس کے لئے تیار نہیں ہوا۔ اس وقت تو امین انصاری نے بھی کہا تھا کہ میں جو کچھ میری بچی کے ساتھ ہوا اب میں چاہتا ہوں کہ آئندہ کسی بچی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ آپ اس مسئلے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب تک سزا کا خوف نہ ہو۔ جن ممالک میں سخت سزائیں ہیں وہاں ان کا اثر ہوتا ہے اور جرائم میں کمی ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ہیں کہ ضیاءالحق کے زمانے میں پپو کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دینے سے کافی عرصہ تک مثال کے طور پر 1½ سے پونے دو سال تک کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ قومی اسمبلی میں جو اس پر بحث ہوئی ہے کہ بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو کڑی سزا ہونی چاہئے اور صرف پیپلزپارٹی کے سوا سبھی جماعتوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ دنیا میں یہ بات نہیں ہو چکی کہ کڑی سزاﺅں سے جرائم میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ سعودی عرب کے بارے میں لوگ مالدار ہیں ان کی سزاﺅں کو تسلیم کر لیا جاتا ہے چونکہ پاکستان جیسے ملک ترقی پذیر ممالک میں بات کرتے ہیں تو پوری دنیا ڈنڈا لے کر ان کے پیچھے پڑ جاتی ہے حالانکہ ایک کام غلط ہے تو سعودی عرب میں بھی غلط ہے۔ لگتا ہے کہ یہ قرارداد ہی رہ جائے گی جب قانون بننے کا وقت آئے گا تو پیپلزپارٹی بھی مخالفت کرے گی کئی اور لوگ بھی اس کی مخالفت کریں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کرونا مرض ہے اگر پاکستان میں مرض جانچنے کا پیمانہ ہی نہیں ہے پاکستان ان ملکوں میں شامل نہیں ہے کہ اس کا ٹیسٹ ہو سکے۔ پاکستان سب سے زیادہ چین کے قریب ہے اور بے تحاشہ مشترکہ منصوبے بھی جاری ہیں۔ یہاں گلبرگ میں بھی ایک بہت بڑا علاقہ ہے جہاں چینی رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں سب سے زیادہ پاکستان کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جب پاکستان میں کرنا کی تشخیص کی لیبارٹری ہی نہیں ہے تو ہم کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں مرض ہے یا نہیں ہے۔ سارے کام چھوڑ کر ٹیسٹنگ لیبارٹری کا قیام ضروری ہے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain