نئی دہلی‘ ممبئی (نیٹ نیوز) بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں جمعہ کو حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان نونک جھونک کے بعد کارروائی پیر تک کے لئے ملتودی کردی گئی، بھارتی میڈیا کے مطابق جمعے کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود ہرش وردھن سے کچھ سوال پوچھے ۔ مسٹر ہرش وردھن راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مسٹرگاندھی کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ملک کے نوجوان ڈنڈے ماریں گے۔ اس کے بعد حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے اراکین کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے ، کے اراکین بھی کھڑے ہوکے مرکزی وزیر صحت پر اعتراض کرنے لگے ۔ پھر بی جے پی اور حزب اختلاف کے اراکین پارلیمان کے درمیان نعرے بازی شروع ہوگئی ۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اسپیکر اوم برلا نے کارروئی ایک بجے تک کے لئے ملتودی کردی ۔ دوپہر کے کھانے کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے اراکین دوبارہ اسی مسئلے پر الجھ پڑے جس کے بعد کاروائی پیر تک کے لئے ملتوی کردی گئی ۔دوسری جانب راجیہ سبھا کے چیئر مین ایم وینکیا نائیڈو نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کے لئے این پی آر کو ضروری قرار دیا ہے۔راجیہ سبھا میں جمعے کو وقفہ صفر کے دوران جنتا دل یونائٹیڈ کے رکن رام ناتھ ٹھاکر نے مطالبہ کیا کہ حکومت سن دو ہزار اکیس میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائے ۔ اس کے جواب میں چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے لئے این پی آر پر عمل درآمد ضروری ہے۔راجیہ سبھا کے چیئرمین نے یہ ریمارکس ایسے عالم میں دیئے ہیں کہ پورے ملک میں جاری مظاہروں ، دھرنوں اور ریلیوں میں سی اے اے اور این آر سی کے ساتھ ہی این پی آر کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی کے شاہین باغ دھرنے کے خلاف اپیلوں پر سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جمعے کو جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے شاہین باغ دھرنے کے خلاف ، بھارتی جنتا پارٹی کے سابق رکن اسمبلی نند کشور گرگ اور امت ساہنی کی اپیلوں پر سماعت یہ کہتے ہوئے پیر تک ملتودی کردی کہ اس دن ان اپیلوں پر زیادہ بہتر طریقے سے سماعت ہوسکے گی ۔مسٹر گرگ کے وکیل نے بینچ کے سامنے اپنی دلیل میں کہا کہ دہلی میں ہفتہ کو اسمبلی انتخابات میں پولنگ ہوگی ، اس پر جسٹس کول نے کہا کہ اسی لئے سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کی جاتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں جاری خواتین کے دھرنے کے خلاف اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ اس دھرنے کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اس لئے اس کو ختم کرایا جائے۔یاد رہے کہ دہلی کے شاہین باغ میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین کا احتجاجی دھرنا تقریبا دو مہینے سے جاری ہے۔اس درمیان کئی بار طاقت کا استعمال کرکے دھرنا ختم کرانے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی ہوئی۔دھرنے کے مخالف انتہا پسندوں نے دھرنے کے قریب پہنچ ک غیر مہذب اور اشتعال انگیز نعرے لگا کے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی لیکن دھرنے پر بیٹھی خواتین اور منتظمین نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔دہلی کے ساتھ ہی ہندوستان کی دیگر ریاستوں اور شہروں میں بھی سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دھرنے ، مظاہرے اور ریلیاں جاری ہیں۔




































