سرینگر(آئی این پی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی یس این ایل)کی 6 ماہ سے بند براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسزممکنہ طور پر ایک ہفتے کے اندر بحال ہوں گی کیونکہ کمپنی نے مالی بحران کے باوجود صارفین کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تک رسائی کو روکنے کے لئے قریب پانچ کروڑ روپے مالیت کی ہارڈ ویئر فائر وال نصب کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔تاہم بی ایس این ایل ذرائع کے مطابق ہارڈ ویئر فائر وال کی تنصیب پر پانچ کروڑ روپے صرف کرنے کے باوجودصارفین وی پی این ایپلی کیشنز کے ذریعے سماجی رابطوں اور دیگر ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرپائیں گے۔بی ایس این ایل کے پی آر او مسعود بالا نے بتایا کہ وادی میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کو ایک ہفتے کے اندر اندر بحال کیا جائے گا ۔اس کے لئے درکار کروڑوں روپے مالیت کا ساز وسامان منگوایا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہم نے صارفین کی سماجی رابطوں اور دیگر غیر اجازت شدہ ویب سائٹس تک رسائی روکنے کے لئے قریب پانچ کروڑ مالیت کی ہارڈ ویئر فائر وال حاصل کی ہے جس کی انسٹالیشن کا عمل جاری ہے۔ ہارڈ ویئر فائر وال پر بھاری رقم صرف کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر مسٹر بالا کا کہنا تھا کہ اس عمل سے کمپنی کو فائدے کے بجائے خسارہ متوقع ہے تاہم بقول ان کے حکومتی احکامات پر تعمیل کو یقنی بنانے کے لئے فائر وال کا حصول ضروری تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایس این ایل کی طرف سے کروڑوں روپے مالیت کی فائر وال انسٹال کرنے کے باوجود بھی وی پی این ایپلی کیشنز کے ذریعے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔بھارت کے سابق مرکزی وزیر داخلہ اور کانگریس کے رہنما پی چدمبرم نے جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا دونوں رہنماﺅں پر پی ایس اے لگائے جانے سے وہ حیران ہیں۔سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ الزامات کے بغیر نظربند رکھنا جمہوریت میں ایک بدترین عمل ہے، جب غیر منصفانہ قوانین منظور ہوجاتے ہیں یا ناجائز قوانین نافذ کیے جاتے ہیں تو لوگوں کے پاس پرامن احتجاج کرنے کے لیے کیا راستہ ہے؟پی چدمبرم نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ احتجاج انتشار کا باعث بنے گا۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے منظور کردہ قوانین پر عمل پیرا ہونا پڑے گا، وہ مہاتما گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا کی تاریخ اور متاثر کن مثالوں کو بھول گئے ہیں۔




































