لاہور‘جہانیاں (جنرل رپورٹر‘آن لائن)کرونا وائرس سے بچاو کیلئے حفاظتی سازوسامان کی ذخیرہ اندوزی اور بلیکمیں فروخت جاری ،ڈریپ اور محکمہ صحت فیس ماسک کی قیمتوں کو قابو کرنے میں ناکام ہوگیا ،ہول سیل مارکیٹ، میڈیکل سٹورز اور ڈسٹریبیوٹرزاور ایکسپوٹر کی جانب سے فیس ماسک کی قیمتوں کو دوگنا کر دیا گیا۔شہر میںعام سرجیکل ماسک کی قیمت 5 روپے سے 10 روپے میں فروخت ہورہا ہے ۔میڈیکل اسٹور نے کرونا وائرس کا خصوصی ماسک این 95 کی قیمت میں 200فیصد اضافہ کردیا ہے ۔اے کیٹگری ماسک 400 سے بڑھ کر 650 کا اوربی کیٹگری ماسک 100 سے بڑھ کر 400 کا کر دیا گیا ۔ڈریپ کی جانب سے چند روز قبل کروناوائرس سے بچاو کے حفاظتی سازوسامان ک بر آمدپر پابندی بھی لگائی گئی تھی ۔ میڈیکل سٹورز مالکان کا کہنا ہے کہ بیشتر فیس ماسک بیرون ممالک سے آتے ہیں اور ایکسپوٹر کی جانب مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔جس ایکسپوٹر، ڈسٹریبیوٹرزاور ہول سیلر کے پاس سٹاک موجود ہے وہ اپنی مرضی کے ریٹوں پر فروخت کر رہا ہے۔دوسری جانب کرونا وائرس کے مزید پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے جنوبی کوریا حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جنوبی کوریا حکومت کی جانب سے سرجیکل ماسک اور ہینڈ سنٹیذر کی ذخیرہ اندوزی پر زیادہ سے زیادہ 2 سال جیل اور 42 ہزار ڈالر جرمانہ کا اعلان کیا گیا ہے ۔چین میں زیرتعلیم جہانیاں کے قریبی گا¶ں کے رہائشی پاکستانی طالب علم کی پریشانی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھنے لگی والدین بھی پریشان. طالب علم محمد دانش شبیر نے ویڈیو پیغام میں حکومت پاکستان سے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔




































