نئی دہلی(آئی این پی)ہٹلر مودی کی درندہ پولیس سفاکیت پر اتر آئی۔ دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علموں پر بدترین تشدد، طالبات کے ساتھ قابل اعتراض حرکات کئی زخمی ہو کر اسپتال داخل ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہکالے شہریت قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر زہریلے کیمیکل اسپرے کا استعمال کیا گیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم پارلیمنٹ ہاس تک مارچ کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ پولیس نے اندھا دھند گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کا شدید استعمال کیا۔ اس کے باوجود طالب علموں کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکے تو پولیس نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ساتھ ان پر بدترین تشدد کیا طالبات کو گھیسٹا گیا اور پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ قابل اعتراض حرکات بھی کیں جس پر ہنگامہ اور بڑھ گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق درجن سے زیادہ طالب علم زخمی ہو کر اسپتال پہنچے جہاں کے ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان مظاہرین پر زہریلے کیمیکل اسپرے کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے وہیں مختلف بیماریوں کا بھی اندیشہ ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دینے سے انکار کردیا۔تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ لوگوں کو عوامی شاہراہ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بھارتی نشریاتی ادارے ہندوستان ٹائم کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سنجے کشن کال نے دو رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ 50 دن تک انتظار کرسکتے ہیں تو مزید ایک ہفتہ بھی انتظار کرسکتے ہیں۔ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17فروری تک کے لیے ملتوی کردی۔بینچ میں موجود ایک اور جج جسٹس کے ایم جوزف کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو سنے بغیر دونوں درخواست کو نہیں سن سکتے۔واضح رہے کہ یہ درخواستیں وکیل امیت شاہنی اور بی جے پی دہلی کے رہنما نند کشور گارگ نے دائر کی تھیں۔معمولی سی تکرار پر انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے باسط خان کے حق میں جے پور میں بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے قاتلوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔اٹھارہ برس کے باسط خان کو سنگدل مودی کے چیلوں نے محض کشمیری ہونے کی سزا دی۔ معمولی تکرار کا بہانہ بنا کر اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جس سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ باسط خان کی میت جب اس کے آبائی گاﺅں کپواڑہ پہنچی تو پورا علاقہ اس شیطانیت پر سراپا احتجاج بن گیا۔ جنہوں نے باسط خان کے خون کا حساب مانگا۔ جےپور جہاں یہ بربریت مچائی گئی تھی وہاں بھی باسط خان کے دوستوں اور دیگر کشمیریوں نے مودی حکومت کے خلاف عظیم الشان احتجاج کیا۔






































