”تمام تارکین وطن کو کویت سے نکال دو“

کویت(ویب ڈیسک) کویت کو بھی اس وقت کورونا وائرس کی وبا کا سامنا ہے، جس کے باعث سینکڑوں افراد ہسپتالوں میں جا پہنچے ہیں، جبکہ کچھ افراد کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔ کویتی حکام کی جانب سے کورونا کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن میں کرفیو کا نفاذ اور کاروباری مراکز کی بندش بھی شامل ہے۔ کویتی اداکارہ حیات الفہد نے مملکت میں کورونا کی وبا کے دوران انتہائی متنازعہ ترین بیان دے ڈالا ہے۔کئی دہائیوں سے اداکاری کے جوہر دکھانے والی حیات نے مطالبہ کیا ہے کہ مملکت سے تمام تارکین وطن کو نکال دیا جائے۔ حیات کا کہنا تھا کہ مملکت میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن ہی خرابی کی جڑ ہیں، انہی کی وجہ سے مملکت میں کورونا پھیل رہا ہے۔
جب تک انہیں نکالا نہیں جائے گا، کورونا سے نمٹنا دشوار ہی رہے گا۔ یہ بات انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں ٹیلی فون پر آن لائن لیے جانے کے دوران کہی۔حیات نے تمام خرابیوں کی اصل وجہ غیر قانونی تارکین کو قرار دیا۔ حیات نے جذبات کی رو میں آ کر کہا ”ہماری برداشت ختم ہو گئی ہے۔ جب ہم کویتی لوگ بیمار پڑتے ہیں تو ہمارے لیے ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہوتی۔ جن تارکین کو ان کے وطن والے واپس لینے کو تیار نہیں، ہم نے انہیں کیوں اپنی زمین پر جگہ دے رکھی ہے میں انسانیت کے خلاف نہیں، مگر ہم اب ایسے مقام پر آ گئے ہیں، جب برداشت کی حد ختم ہو گئی ہے۔انہیں کویت سے نکال باہر کرو۔“71 سالہ اداکارہ نے مزید کہا”اقامہ فروشوں نے ہمارا ملک تباہ کر دیا ہے۔ خصوصاً غیر قانونی تارکین کو ضرور واپس بھیجنا چاہیے۔ کویت ان کی بڑی تعداد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ “کویتی اداکارہ کی جانب سے یہ شدت بھرا بیان ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب مملکت میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران کچھ غیر ملکی کارکنان کی کرفیو کی خلاف ورزی کرنے اور اس کا مذاق اڑانے کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئیں۔تاہم سوشل میڈیا پر کویتی صارفین نے اداکارہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایک کویتی صارف عبداللہ الصالح نے اپنے ٹویٹ میں کہا ”ہم ایک انسانیت پرست مملکت ہونے کے دعوے دار کیسے ہو سکتے ہیں، اگر ہم اپنے ملک میں موجود تارکین وطن کو باہر پھینک دیں گے۔ “ایک اور کویتی صارف کا کہنا تھا کہ کویت میں موجود تارکین یونیورسٹی پروفیسرز، ٹیچرز، انجینئرز، پلمبرز اور الیکٹریشن کی اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔کویت کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے، ہمیں ان کا ناشکرگزار نہیں ہونا چاہیے۔“ جبکہ کچھ صارف نے حیات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے صرف غیر قانونی تارکین کو باہر نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جن کی وجہ سے مملکت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اصل مجرم وہ لوگ ہیں جو انہیں غیر قانونی طریقے سے یہاں لاتے ہیں۔ واضح رہے کہ کویت کی 43 لاکھ کی آبادی میں تارکین وطن کی تعداد 30 لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔

”میرے پاس مت آنا“ کرونا کے خوف سے بیوی منع کر سکتی ہے : سعودی عالم کا فتویٰ

ریاض(ویب ڈیسک) ممتاز سعودی عالم دین ڈاکٹر عبداللہ بن محمد المطلق نے اپنے ایک تازہ ترین فتویٰ میں کہا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنے خاوند کو کورونا وائرس کے ڈر سے جسمانی طلب کی صورت میں قریب نہیں آنے دیتی، تو اسے شرعاً ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔ جبکہ ایسی خاتون پر بھی کوئی گناہ نہ ہو گا جو اپنے ہونے والے خاوند سے اس بناءپر شادی سے انکار کر دے کہ وہ موجود کورونا کی وبا کے دوران بھی خود کو گھر تک محدود نہیں رکھتا ہے۔کیونکہ ایسے شخص کے کورونا سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ سعودی سپریم علماءکونسل کے اہم رکن اور ایوانِ شاہی کے مشیر ڈاکٹر المطلق نے مسلمان مردوں کو تلقین کی کہ وہ خدا کا خوف کرتے ہوئے خود کو گھروں تک ہی محدود رکھیں تاکہ کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر ان کی بیویاں اور گھر والے خوف اور پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔ڈاکٹر المطلق سعودی ٹی وی چینل کے مذہبی پروگرام فتاویٰ میں عوام کے سوالات کا جواب دے رہے تھے، جب ایک خاتون کالر نے ان سے سوال کیا ”میرا خاوند کورونا کی موجودہ وبا کے دِنوں میں بھی گھر پر ٹِک کر نہیں بیٹھتا اور زیادہ وقت باہر ہی گزارتا ہے۔اسے حکومتی احکامات کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ جس کے باعث میں اپنی اور بچوں کی صحت اور زندگی کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند ہوں، یہاں تک کہ خاوند کے ساتھ سونا بھی ترک کر دیا ہے۔ کیا میں ایسا کر کے کسی گناہ کی مرتکب ہو رہی ہوں؟“ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر المطلق نے خاتون سے کہا ”آپ بالکل گناہ گار نہیں ہو۔ بلکہ آپ تو اپنی حفاظت کر رہی ہو۔ کیونکہ یہی فرمانِ خداوندی ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔تمہارا رب بہتر رحیم ہے۔“ ڈاکٹر المطلق نے مزید کہا ”آپ خاوند کی بات (کورونا کے) خوف کی وجہ سے نہیں مان رہیں۔ اگر وہ آپ کی بات مان کر گھر پر بیٹھ کر اپنی جان کو محفوظ نہیں بناتا، تو آپ اپنی حفاظت کی خاطر خود کو اس سے دور ہی رکھیں۔ اگر وہ باز نہیں آتا تو کسی شبہے کی صورت میں اسے 14 روز کے لیے قرنطینہ میں منتقل کروا دیں۔“شیخ المطلق نے وضاحت پیش کی کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی بچوں اور خاندان کی صحت اور زندگیوں کے تحفظ کو نظر انداز کرتے ہوئے محافل اور اجتماعات میں شریک ہوتا ہے، تو پھر اس کی بیوی کو اس سے جسمانی دور ی اختیار کرنے پر قطعاً کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ہم ایسے نادان خاوندوں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں، کرفیو کی خلاف ورزی نہ کرتے ہوئے گھر پر ہی وقت گزاریں۔ تاکہ ان کی بیویوں اور گھر والوں کو ذہنی اذیت کا شکار نہ ہونا پڑے۔

دبئی میں منی بس سروس پر غیر معینہ مدت کی پابندی عائد کر دی گئی

دبئی(ویب ڈیسک)دبئی سمیت متحدہ عرب امارات میں کورونا کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں اور مملکت میں باقی دنیا کی نسبت کورونا کے مریضوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ دبئی کی حکومت نے ایک اور اہم اعلان کر دیا ہے جس کے تحت ریاست بھر میں منی بسیں چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔روڈزاینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق دبئی کے تمام علاقوں میں منی بسیں چلانے پر پابندی ہو گی، پابندی کا اطلاق تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور بس رینٹل کمپنیوں پر ہو گا۔ سرکلر میں ہدایت کی گئی ہے کہ منی بسوں میں مسافر بٹھانے پرپابندی لگائی گئی ہے، یہ پابندی تاحکم ثانی لاگو رہے گی۔روڈز اتھارٹی کے مطابق منی بسیں چلانے پر پابندی کا مقصد مملکت میں مقیم تمام افراد کو کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھنا اور اس کی روک تھام کرنا ہے۔ اس وقت جو سرکاری اور نجی ٹرانسپورٹ چلائی جا رہی ہے، ان کی انتظامیہ اور ڈرائیورز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسافروں کو پہلے کی طرح ساتھ ساتھ نہیں بٹھائیں گے بلکہ انہیں مخصوص فاصلے پر بٹھایا جائے گا۔ تاکہ کورونا سے متاثرہ کسی مسافر سے موذی وائرس دیگر مسافروں میں منتقل ہونے کا امکان کم سے کم ہو جائے۔ گزشتہ روز دبئی کا علاقہ الرّاس دو ہفتوں کے لیے مکمل طور پر آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ دبئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ الرّاس کے گنجان آباد علاقے کو بند کرنے کا مقصد یہاں پر سٹیریلائزیشن مہم کو پوری طرح موثر اور کامیاب بنانا ہے، کیونکہ عام دنوں میں لوگوں کا رش ہونے کے باعث اس علاقے میں صفائی ستھرائی کی مہم فعال طریقے سے انجام نہیں دی جاسکتی، اسی لیے اس علاقے کو لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔آج کے روز سے بند ہونے والے الرّاس کے علاقے کے رہائشیوں کو خوراک، ادویہ اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی ذمہ داری دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے نبھائی جائے گی۔دبئی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگلے چودہ روز تک دبئی گرین لائن کے تین اسٹیشنز الرّاس، پام ڈیرہ اور بنی یاس سکوائر بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ان تینوں اسٹیشنز پر بھی سٹریلائزیشن کے دوران جراثیم کش ادویہ کا سپرے کیا جائے گا۔اس کے علاوہ الرّاس کو جانے والی شاہراہیں اور انٹرچینجز کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ روڈز اتھارٹی کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹرو اسٹیشنز کی بندش کا یہ فیصلہ مسافروں کی زندگی اور صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر کیا گیا ہے۔

کورونا کا خوف، سعودیہ میں مقیم امریکی شہری نے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا

ریاض(ویب ڈیسک) کورونا کی وبا نے دنیا کی سپر پاور امریکا کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں کورونا سے متاثر افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد جان کی بازی بھی ہار گئے ہیں۔ اس صورت حال نے دیگر ممالک میں موجود امریکیوں کو بھی شدید خوف زدہ کر دیا ہے۔ایک ایسا ہی امریکی رینڈی وارٹن ان دنوں سعودی شہر الجبیل میں مقیم ہے۔ رینڈی نے وطن واپس جانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس نے امریکی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کسی صورت امریکا واپسی کی حماقت نہیں کرے گا۔ اردو نیوز کے مطابق رینڈی وارٹن کی ایک گھنٹے پر محیط وڈیو کلپ ٹویٹر پر وائرل ہوئی ہے۔جس کی اصل رپورٹ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے نشر کی ہے۔اپنی طویل ویڈیو میں رینڈی سعودی عرب سے امریکیوں کو واپس بلائے جانے سے متعلق رپورٹوں پر اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہتا ہے ”کیا آپ لوگ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہو جو سعودی عرب کررہا ہے؟ سعودی شاندار کام کر رہے ہیں۔ میں بہرحال یہاں بہت اچھی جگہ پر ہوں۔میں امریکہ واپس لے جانے والے کسی بھی طیارے پر سوار نہیں ہوں گا۔ یہ تو ایک طرح کی سزا ہوگی یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔بہتر ہوگا کہ آپ کورونا سے نمٹنے کی تیاری کریں۔“ امریکی شہری رینڈی کا مزید کہنا تھا ’ ’امریکیوں کو سعودی عرب سے نکال کر کیوں لے جایا جائے گا؟ اس وقت امریکہ دنیا بھر میں کورونا کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔ اس وقت سعودی عرب چھوڑ کر جانا بے وقوفی ہوگی۔سعودی اخبار میں امریکی سفارتخانے کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کو سعودی عرب سے واپس لے جانے کا پروگرام بنا رہی ہے۔یہ نامعقول بات ہے۔ میں واپس نہیں جانا چاہتا- مملکت میں ہی رہوں گا۔ اس وقت امریکہ جانا بے وقوفی ہے۔“سی این این کی جانب سے وائرل ہونے والی وڈیو پر سعودی شہریوں کے تبصرے بھی شائع کیے ہیں۔ ایک سعودی صارف ابراہیم القحطانی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’سعودی عرب دنیا کی واحد ریاست ہے جو نئے کورونا وائرس کے ماحول میں بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں سے دستبردار نہیں ہوئی۔“ جبکہ قاسم الزرعی نے ٹویٹ میں امریکی شہری کے اس بیان پر خوشی کا اظہار کیا کہ وہ سعودی عرب میں خوش ہے اور یہاں کورونا کے حوالے سے کیے جانے والے انتظامات بہتر ہیں-

کورونا سے متاثرہ سعودی عرب میں موبائل کمپنیوں نے اہم اعلان کر دیا

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی مملکت میں کوروناکا وائرس بے قابو ہو گیا ہے۔ مملکت میں اس وقت پندرہ سو کے لگ بھگ کورونا کے مریض ہیں جبکہ شبہ ظاہر کیاجا رہا ہے کہ مزید سینکڑوں افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں، جن کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی صورت حال واضح ہو گی۔ کورونا کے باعث مملکت بھر میں معاشی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔جس کے باعث تارکین اور مقامی افراد دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے بحرانی دور میں سعودی عرب کی موبائل کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا سے متاثرہ افراد اور اس موذی مرض میں شبہے کی بناءپر قرنطینہ بھیجے جانے والے موبائل صارفین سے اپریل 2020ءکا بل وصول نہیں کریں گی۔ سعودی اخبار 24 کے مطابق سعودی عرب کی تین بڑی موبائل کمپنیوں موبائلی، ایس ٹی سی اور زین نے اعلان کیا ہے کہ قرنطینہ میں بھیجے جانے والے صارفین کو اپریل کا بل معاف ہو گا۔یہ رعایت سعودی اور تارکین وطن کارکنان دونوں کے لیے دی گئی ہے۔سعودی موبائل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مخصوص صارفین کو یہ سہولت کورونا کے باعث پیدا ہونے والے حالات اور سعودی حکومت اور اداروں کی جانب سے اس موذی مرض کی روک تھام کی مہم کا ساتھ دینے کی خاطر کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات تک سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 110 نئے کیسز سامنے آگئے ہیں۔نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1563 ہوگئی ہے جبکہ قرنطینہ میں رکھے گئے 400 افراد کو کلیئر قرار دیدیا گیا ہے۔ وزارتِ صحت نے مزید بتایا ہے کہ مملکت میں 50 افراد صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے ہیں جس کے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 165ہوگئی ہے۔سعودی گزٹ کے مطابق ایئرپورٹس پر آئے سینکڑوں افراد کو جدہ میں 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔جن میں سے 400 افراد کو گزشتہ روز کورونا وائرس سے کلیئر قرار دے کر انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ان تمام افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ جدہ میں قرنطینہ سے نکلنے والے پہلے گروپ کے واپس جاتے وقت وزارت صحت کے عہدے داروں کی جانب سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ان افراد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں تحائف بھی دیئے گئے۔

تبلیغی جماعت پر ظلم وزیادتی اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے ، چوہدری پرویز الٰہی

لاہور(ویب ڈیسک) تبلیغی جماعت پر ظلم وزیادتی کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دی جائے۔ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تبلیغی جماعت کے اجتماع پر کافی تنقید کی جا رہی تھی۔ کچھ دن قبل اسلام آباد میں تبلیغی جماعت کے کچھ ارکان میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد گزشتہ روز لاہور رائیونڈ سٹی میںمکمل لاک ڈاﺅن کر دیا گیا تھا۔ چونکہ تبلیغی جماعت کا مرکز رائیونڈ سٹی میں موجود ہے، اس لئے انتظامیہ کی جانب سے مکمل لاک ڈاﺅن کے بعدلوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں تبلیغی جماعت والوں پر ظلم و زیادتی نہیں کرنی چاہیئے۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا ان کی وجہ سے نہیں آیا۔ پنجاب حکومت کا ان سے رویہ مناسب نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ان پر زیادتی کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت نہیں دینی چاہیئے۔ تبلیغی جماعت والے پر امن لوگ ہیں، انہوں نے ہمیشہ امن کے ساتھ تبلیغ کی ہے، لیکن وہ لوگ لاوارث نہیں ہیں، اس لئے ہمیں ان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔ چوہدری پرویز الٰہی کاکہنا تھا کہ اس سلسلے میں ان کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بات ہوئی ہے جس کے بعد ان سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ تبلیغی جماعت کے جن افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہورہی ہے ا ن کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کیا جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز رائیونڈ تبلیغی مرکز میں 23 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوتھی جس کے بعد انہیں قرنطینہ منتقل کردیا گیا تھا۔اس کے بعد رائیونڈ سے 1200مشتبہ افراد کو کالاشاہ کاکو قرنطینہ سنٹر منتقل کردیا گیا تھا، بتایا گیاتھا کہ گزشتہ شب رینجرز کی نگرانی میں ر ائیونڈ سے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے کروانا وائرس کے 1200مشتبہ افراد کو کالاشاہ کاکو قرنطینہ سنٹر منتقل کیا گیا۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، گورنمنٹ کالج یورنیورسٹی کالاشاہ کاکو کیمپس اور جوڈیشنل کیمپلیکس میں کروانا وائرس کے مریضوں کیلئے قرنطینہ سنٹر اور آئسویشن سنٹر قائم کیاگیا ہے جہاں حکومت پنجاب کی جانب سے تمام بنیادی ضروریات فراہم کی گئیں ہیں۔

اماراتی حکومت نے رات کے وقت کے تمام ٹریول پرمٹس منسوخ کر دیئے

دبئی (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں کورونا کے مریضوں کی گنتی میں روزانہ درجنوں کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تشویش میں مبتلا اماراتی حکام نے جہاں کئی علاقوں کو مکمل طور پر آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے۔ وہاں مملکت بھر میں صفائی ستھرائی کے لیے سٹیریلائزیشن مہم چلائی جا رہی ہے۔ اماراتی وزارت داخلہ نے ایک اور اہم اعلان کیا ہے جس کے مطابق مملکت میں جاری سٹیریلائزیشن مہم کے دوران رات کے وقت سے مخصوص تمام ٹریول پرمٹس منسوخ کر دیئے ہیں۔اس منسوخی کا اطلاق مقامی اور وفاقی دونوں طرز کے پرمٹس پر ہو گا جن میں ’تجاول‘ سروس بھی شامل ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد رات 8بجے سے صبح 6 بجے تک جاری ڈس انفیکشن مہم کے دوران ٹریفک کی آمد و رفت کو محدود کرنا ہے تاکہ صفائی اور جراثیم کش سپرے کی مہم موثر طریقے سے نمٹائی جا سکے اور کورونا وائرس کی وبا کو اماراتی مملکت سے پوری طرح ملیامیٹ کیا جا ئے۔

بیرون ممالک میں پھنسے تمام پاکستانیوں کو واپس لایا جائے ، حکومت کا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کا بیرون ممالک میں پھنسے ہزاروں پاکستانیوں کو ملک واپس لانے کا اعلان، معید یوسف کا کہنا ہے کہ دو ہزار کے قریب مسافرمنصوبے کے تحت پاکستان آئیں گے، 3 اپریل سے 11 تک پی آئی اے کے ذریعے 17پروازیں اڑیں گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خاص معید یوسف نے اعلان کیا ہے کہ اگلے چند روز کے دوران بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کو ملک واپس لائیں گے۔ بدھ کے روز وفاقی وزراءکے ہمراہ کی گئی پریس کانفرنس میں معید یوسف نے بتایا کہ دوہزارکے قریب مسافرمنصوبے کے تحت پاکستان آئیں گے۔ اس سلسلے میں 3اپریل سے11تک پی آئی اے کےذریعے17پروازیں اڑیں گی۔ ترکی،باکو،کوالالمپور، برطانیہ،کینیڈا کیلئے خصوصی پروازیں جائیں گی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کراچی میں بھی کچھ وقت بعدپروازیں بحال کرنےکافیصلہ کریں گے۔ بیرون ملک سے اسلام آبادآنیوالی پروازکے مسافروں کوشہرکے دیگرعلاقوں میں بھجوانے کا انتظام کیاہے۔ پرواز کے تمام مسافروں کوایئرپورٹ پرقرنطینہ میں رکھ کرٹیسٹ کیاجائیگا،منفی آنے پرانہیں جانے دیاجائیگا۔ 4اپریل کوبیرون ملک سے ایک پروازاسلام آبادمیں آئےگی،تاہم تمام پروازیں ایک ساتھ بحال نہیں کی جائیں گی۔ تاہم 14 اپریل تک اندرون ملک پروازوں پربندش جاری رہے گی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے مزید بتایا کہ آج مشترکہ طورپرفیصلہ ہواکہ یکم سے14اپریل تک موجودہ صورتحال کوجاری رکھاجائیگا۔ 14اپریل سے پہلے این سی سی میٹنگ میں فیصلہ کرینگے کہ بندشیں کم کی جائیں یابڑھائی جائیں۔ وہ سروسزاورصنعتیں جوبنیادی ضرورت کی چیزیں بناتی ہیں،کھلی رہیں گی۔ کھانے پینے کی اشیا،ادویات کی صنعتوں کومکمل طورپرکھلارکھنا بہت ضروری ہے۔ گڈزٹرانسپورٹ پرکوئی بندش نہیں ہوگی،ایک آدھ شکایات آرہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا ہے کہ تمام فریقین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ این سی سی کے فیصلے پرعملدرآمدیقینی بنائیں گے۔ جتنے صوبوں کے وفاق سے موثرروابط ہوں گے اتنے بہترطریقے سے مددکرپائیں گے۔

کورونا سے نمٹنے کے لیے سعودی کابینہ کا خصوصی ورچوئل اجلاس

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں کورونا وائرس کے متاثرین کی گنتی 15 سو سے بڑھ گئی ہے، جس کے باعث حکام میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب کی کابینہ (وزارتی کونسل) نے منگل کے روز اپنا ورچوئل اجلاس منعقد کیا ہے جس میں کرونا وائرس کے سد باب کی خاطر لیے گئے مختلف اقدامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق وزراءنے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کو جاری رکھنے کے لیے اضافی مالی وسائل مہیا کرنے پربھی غور کیا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے کہا ہے کہ کونسل نے ایک فرمان جاری کیا ہے،اس کے تحت (کرونا وائرس کا شکار) تمام شہریوں، مکینوں اوراقامے کی خلاف ورزی کے مرتکبین کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔وزارتی کونسل نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات پر مبنی مختلف رپورٹس کا بھی جائزہ لیا ہے۔سعودی کابینہ نے مملکت کے مرکزی بنک سعودی مانیٹری اتھارٹی (ساما) اور دبئی فنانشیل سروسز اتھارٹی کے درمیان مالیاتی خدمات کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت کی منظوری دی ہے۔وزارتی کونسل نے یمن کی حوثی ملیشیا کے الریاض اور جازان کے شہری علاقوں کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کی ہے۔ سعودی شاہی فضائیہ نے حوثی ملیشیا کے الریاض اورجازان کی جانب داغے گئے دو میزائلوں کو فضاہی میں ناکارہ بنا دیا تھا اور ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔البتہ ایک میزائل کے ملبے کے ٹکڑے لگنے سے دو افراد معمولی زخمی ہوگئے تھے۔

کرونا: پاکستان کی مدد کیلئے سعودی عرب بھی میدان میں آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کیخلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کیلئے سعودی عرب بھی میدان میں آگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے امدادی سامان پاکستان کے حوالے کر دیا ہے، اس امدادی سامان میں سیفٹی کٹس، تشخیصی کٹس ،سرجیکل ماسک اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ امدادی سامان میں 1500 سیفٹی کٹس، 350 تشخیصی کٹس اور 500 سرجیکل ماسک کے باکس، 500 سینٹی ٹائزر، سرجیکل گلوز کے 550 باکس اور دیگر سامان شامل ہے۔ سامان سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کے حوالے کیا، سامان انٹرنیشنل اسلامک ریلئف آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ مثالی برادرانہ تعلقات ہیں۔ مشکل کے وقت میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے سعودی عرب کے تعاون اور امداد کے شکر گزار ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اس سے قبل چینی حکومت نے کئی لاکھ کورونا ٹیسٹنگ کٹس، این 95 ماسک اور دیگر طبی سازو سامان پاکستان بھیج چکی ہے۔خیال رہے پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2039 ہو گئی ہے جبکہ وائرس سے جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی 26 ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ملک بھر میں کیا گیا لاک ڈاون 14 اپریل تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ آج مشترکہ طورپرفیصلہ ہواکہ یکم سے14اپریل تک موجودہ صورتحال کوجاری رکھاجائیگا، بندشوں کی وجہ سےکوروناوائرس کے پھیلاو¿میں کمی ہوئی ہے، تاہم مزید بندشوں کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ آج مشترکہ طورپرفیصلہ ہواکہ یکم سے14اپریل تک موجودہ صورتحال کوجاری رکھاجائیگا۔