Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کی 16 سال بعد جیت، جاپان کو 3-4 سے شکست
    • کراچی میں 26 اگست سے انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ کا آغاز، انعامی رقم 6 ہزار ڈالرز
    • نیویارک میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرہ، متعدد افراد گرفتار
    • مارک زکربرگ کی آئرلینڈ میں شاہانہ خریداری، تاریخی محل کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے
    • پاکستانی فٹ بالر مریم محمود نے برطانوی کلب ریکسہم اے ایف سی کے آنر بورڈ پر جگہ بنا لی
    • انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب
    • نیتن یاہو کے ترکیہ مخالف بیانات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں: اسرائیلی حکام
    • پنجاب سے بھکاری کراچی آتے ہیں، خواجہ سرا بھی لاہور کے ہیں: شبر زیدی
    • پاکستانی فضائی حدود کی بندش ,بھارتی ایئرلائنز کو 2.8 ارب ڈالر کا خسارہ
    • پاکستان سمیت 75 ممالک پر امریکی امیگرنٹ ویزا پابندی غیر قانونی قرار
    • ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، کراچی کے ہسپتال کے خلاف کارروائی کا حکم
    • عوام کے لیے خطرے کی گھنٹی، 29 منرل واٹر برانڈز غیر محفوظ قرار
    • چین نے ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی مزید ممالک تک بڑھا دی
    • ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کو عبرتناک شکست، انگلینڈ نے اننگز اور 103 رنز سے میچ جیت لیا
    • انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو گزشتہ نصف صدی کی مایوس کن ترین ٹیم قراردیدیا۔
    • ترکیہ نے نیتن یاہو کے عالمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
    • پاکستانی ترانے کیلئے 6 ماہ اردو زبان کی کلاسز لیں، برطانوی گلوکارہ لورا رائٹ
    • بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 49 دہشتگرد ہلاک
    • بین کٹنگ اور ایرن ہالینڈ کے گھر ننھے مہمان کی آمد، خوبصورت تصاویر شیئر کر دیں
    • غزہ میں 94 فیصد آبادی کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں ہے، اقوام متحدہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاک بھارت انڈس واٹر کمیشن 16واں اجلاس پاکستان کے بھارتی پاکل دل،لوئر کلنائی،نیمو چلنگ ڈیم پر اعتراضات

    By Daily Khabrainمارچ 26, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 23 اور 24 مارچ کو بھارت اور پاکستان کے مستقل واٹر کمشنروں کے مابین معمول کا اجلاس ہوا۔ یہ میٹنگ تقریباً اڑھائی سال بعد منعقد ہوئی ہے۔

    دنوں ملکوں کے درمیان پرمننٹ انڈس کمیشن (پی آئی سی) کے سالانہ دو روزہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے دوران دو بھارتی منصوبوں پکل دل اور لوئر کلنئی کے  ڈائزائنز پر بات ہوئی۔

    بھارت کا کہنا ہے کہ یہ دونوں منصوبے 1960 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق ہیں جبکہ پاکستان نے بھارت سے دیگر ہائیڈرو پاور منصوبوں کے، جن کو تعمیر کرنے کا منصبوبہ بنایا گیا ہے، ڈیزائن اور معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کا آخری اجلاس اگست 2018 میں لاہور میں ہوا تھا۔

    اجلاس کیا ہونا تھا کہ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے بھارت پاکستان تعلقات سے جوڑ دیا حالانکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی خوش گواری یا ناخوش گواری سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔

    سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ جائزے کے لیے سال میں کم سے کم ایک مرتبہ ایسا اجلاس ضرور منعقد کریں۔

    اس سے پہلے یہ اجلاس 2020 میں ہونا تھا جو کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا۔ 2019 میں پاکستانی ماہرین کی ٹیم نے جموں و کشمیر میں ان منصوبوں کا جائزہ بھی لیا جن پر انہیں خدشات تھے۔

    سندھ طاس معاہدہ ہے کیا؟

    سندھ طاس معاہدے کو ہندی میں ’سندھو جل سمجھوتہ‘ اور انگریزی میں ’انڈس واٹر ٹریٹی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے کامیاب ترین معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔

    یہ معاہدہ 19 ستمبر، 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان کے اقتصادی حب کراچی میں معرض وجود میں آیا۔

    اس سمجھوتے کی نگرانی ورلڈ بینک کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے کیا تھا۔

    یوں مختصر لفظوں میں کہا جائے تو انڈس واٹر ٹریٹی سندھ ریور سسٹم کی دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کی بانٹ کا نام ہے۔

    انڈس ریور سسٹم میں چھ دریا ہیں۔ 1960 کے معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا (ستلج، بیاز اور راوی) بھارت کے حصے میں آئے۔ بھارت ان تین دریاؤں کا پانی جو 3.3 کروڑ ایکڑ فیٹ بنتا ہے، بغیر کسی جھجک کے استعمال کر سکتا ہے۔

    جبکہ تین مغربی دریا (سندھ، چناب اور جہلم) جن میں لگ بھگ ساڑھے 13 کروڑ ایکڑ فیٹ پانی ہے پاکستان کو ملے۔

    بھارت مغرب کی جانب بہنے والے ان تین دریاؤں کا 20 فی صد پانی استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ان دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کر سکتا ہے اور نہ ہی آبپاشی کے لیے استعمال۔

    1960 کے بعد تین پاک بھارت جنگیں ہو چکی ہیں اور کشیدگی کا ماحول تو زیادہ تر رہتا ہی ہے۔ اس سب کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر کبھی فرق نہیں پڑا۔

    معاہدے کا آرٹیکل 09 تنازع کی صورت میں اس کے پرامن حل پر روشنی ڈالتا ہے۔ اگر کسی بات پر کوئی تنازع ہو جاتا ہے تو اسے حل کرنے کے لیے دونوںملکوں کے کمشنروں کے پاس جاتا ہے۔

    مزید کنفیوژن کی صورت پر نیوٹرل ٹیم کو بھیجا جاتا ہے جو معاملے کو دیکھتی ہے، پھر بھی فریقین یا ایک فریق راضی نہیں ہوتا تو اس کے لیے انٹرنیشنل آربیٹریشن کورٹ کا راستہ کھلا ہے۔

    تنازعات، ثالثی

    1970 میں بھارت نے جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبے بنانے شروع کیے۔ یہیں سے پاکستان کے تحفظات کا آغاز ہوا۔

    نئی دہلی کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ یہ ڈیم ایسے ڈیزائن کیے گئے ہیں جو بجلی پیدا کرتے ہیں لیکن پانی ذخیرہ نہیں ہوتا بلکہ دوبارہ دریاؤں میں چلا جاتا ہے۔ اس خاص ڈیزائن کو ’رن آف ریور‘ کہا جاتا ہے۔

    سندھ کے تین مغربی دریا جو سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستانی دریا کہلاتے ہیں جموں و کشمیر سے ہو کر پاکستان جاتے ہیں۔

    1984 میں بھارتی حکومت نے دریائے جہلم پر تلبل باراج سے ایک منصوبے کی منظوری دی لیکن پاکستان کے احتجاج پر نئی دہلی نے اس منصوبے کو یک طرفہ واپس لے لیا۔

    جموں و کشمیر سے بہنے والے دریاؤں پر کافی پن بجلی ڈیمز بن چکے ہیں جن میں باگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ، چھینانی، دول ہستی، سالال، اری، کشن گنگا اور ریتلے وغیرہ شامل ہیں۔

    330 میگاواٹ کشن گنگا منصوبہ پہلا باضابطہ سٹوریج ڈیم ہے۔ یہ ڈیم کشن گنگا ندی، جس کو پاکستان میں دریائے نیلم کہا جاتا ہے، پر 2007 میں بننا شروع ہوا اور2018 میں مکمل ہوا۔

    باہمی طور پر بات چیت سے معاملہ نہ سلجھنے کے بعد پاکستان 2010 میں اس معاملے کو بین الاقوامی ثالثی عدالت ہیگ لے کر گیا، جس نے 2011 میں بھارت کو منصوبے پر کام کرنے سے روک دیا۔

    2013 میں ثالثی عدالت نے بھارت کو اس ڈیم پر کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔ ریتلے ڈیم بھی متنازع رہا۔ 2018 میں ثالثی عدالت سے ریلیف کے بعد جنوری 2021 میں مودی حکومت نے اس منصوبے کی حتمی منظوری دے دی۔

    ریتلے پروجیکٹ 850 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں مہر علی شاہ کی سربراہی میں سات رکنی پاکستانی وفد نے پکل دول اور لور کالنائی پر اپنے اعتراضات رکھے۔ بھارتی ٹیم کی سربراہی پردیپ کمار سکسینا کر رہے تھے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      نیویارک میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرہ، متعدد افراد گرفتار

      مارک زکربرگ کی آئرلینڈ میں شاہانہ خریداری، تاریخی محل کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.