تازہ تر ین

ہم سب کرپشن کے ”ورلڈ چیمپین“ ہیں

ڈاکٹر ممتاز حسین مونس
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کو دنیا کے کرپٹ ملکوں میں شامل کر کے ہمیں وہ آئینہ دکھایا ہے جس پر حکومت‘ اپوزیشن‘ بیورو کریٹ‘ صنعتکار‘ تاجر‘ اشرافیہ‘ عام شہری اور پوری قوم کو آپس میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے کم از کم خود احتسابی ضرور کرنی چاہیے۔ مفکر پاکستان‘ علامہ محمد اقبال ؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا اور عظیم قائد محمد علی جناحؒ نے جس کی تکمیل کے لیے مسلمانان ہند کو جھنجھوڑا‘ جو دو قومی نظریہ پیش کیا گیا اور پاکستان جیسے عظیم مملکت کے حصول کے لیے جن لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں نے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی‘ جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ہندوؤں کے وہ وہ مظالم برداشت کیے جو رہتی دنیا تک بھلائے نہیں جا سکتے کم از کم وہ یہ پاکستان نہیں تھا جس کے بارے میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2022ء میں رپورٹ جاری کی ہے۔ آج ہم مفکر پاکستان اور عظیم قائد کی روح سے صرف شرمندہ ہی نہیں بلکہ رنجیدہ بھی ہیں۔ راقم کا 22کروڑ عوام سے سوال ہے کہ قیام پاکستان کا مرکزی نعرہ ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ محمد رسول اللہ“ پر کیا آج ہم قائم ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو نا صرف ہمارے اسلاف سے ہمارا کیا ہوا وعدہ تو ایک طرف کیا ہم اللہ رب العزت اور اس کے پیارے محبوب صلی اللہ الیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے تو روگردانی نہیں کر رہے۔
واصف علی واصف مرحوم کا ایک قول کہ ”خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنی خوش نصیبی پر خوش ہے“ لیکن ہم اپنے نصیب سے بڑھ کر حاصل کرنے کی جدوجہد میں دنیا اور آخرت گنوا بیٹھے ہیں۔ حکومت کا الزام ہے کہ یہ کرپشن اپوزیشن کے ادوار کی ہے اور اپوزیشن کا الزام ہے کہ ہمارے دور میں تو کرپشن تھی اور ہم دنیا کے 123ممالک سے زیادہ کرپٹ تھے اور ہماری کرپشن دنیا کے 123ممالک سے زیادہ ریکارڈ پر ہے لیکن موجودہ دور حکومت میں ہم دنیا کے 139ممالک سے زیادہ کرپٹ ہو گئے ہیں اب اس بات پر ایک طوفان بدتمیزی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بھائی صرف کرپشن کا الزام ہی منہ کالا کرنے سے بڑا الزام ہے اور ہم 139ممالک سے زیادہ کرپٹ ہیں اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ کرپشن ہماری نسوں میں رچ بس گئی ہے اور ہم سب کرپشن کے ”ورلڈچیمپیئن“ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم آج بھی پنجابی‘ سندھی‘ بلوچ‘ پٹھان‘ سرائیکی اور اپنی اپنی لسانیت میں گھرے پڑے ہیں ایک قوم نہیں ہیں۔ آج بھی ہم اپنی دنیا و آخرت کو بھول کر صرف اور صرف مال کمانے کے چکروں میں ہیں حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی اور قبر میں الماری نہیں ہوتی۔ حرام کے مال سے صدقہ خیرات اور ایصال ثواب کا کوئی عمل قابل قبول نہیں اور جن کو ہم حرام کا مال اکٹھا کر کے دے جاتے ہیں وہ ہمارے لیے شاید دعا تک بھی نہیں کرتے تو پھر ہمیں واصف علی واصف صاحب کے سنہری قول کے مطابق اپنے نصیب پر خوش رہنے کی عادت کیوں نہیں ہے۔
پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کے لیے کیا ”خمینی انقلاب“ کی ضرورت ہے یا ”موزے تنگ“ کی ضرورت ہے کیا ہمیں کسی ایسے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے جو پوری قوم کو جوتے مار کر سیدھا کرے؟ کیا ہمارے پاس ہمارے پیارے پیارے آقا صلی اللہ الہ وآلہ وسلم کی تعلیمات نہیں ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف ہم صادق اور امین بن سکتے ہیں‘ پوری دنیا میں بحیثیت مسلمان پاکستان کو ایک ایماندار‘ فرض شناس‘ پُرامن اور آخوت و بھائی چارے سے بھر پور ایک مثالی ملک بنا کر پیش کرسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج جب ہم اپنے دن کا آغاز کریں تو ہمیں خاکروب سے لے کر سبزی فروش تک‘ کلرک سے لے کر اعلیٰ آفیسر تک‘ صنعتکار سے لے کر ایک عام دکاندار تک غرض کہ چپے چپے پر کرپشن کرپشن اور صرف کرپشن کیوں نظر آتی ہے۔ ہمارے سرکاری دفاتر کے بارے میں یہ کیوں مشہور ہے کہ ہمارا سرکاری ملازم تنخواہ صرف دفتر آنے کی لیتا ہے اور کام کرنے کی ”چٹی“۔ ارباب علم ودانش ہمیں بتائے کہ جیسے بھی ہو جو بھی ہو ہمیں ایک قوم بننا ہے اور پوری دنیا کے غیر مسلم نام لے کر بتائیں کہ پاکستان وہ دنیا کا واحد ملک ہے جو لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنا اور یہ دنیا کی سب سے ایماندار قوم ہے۔
آج صادق اور امین کی ڈگریاں لیے ہر کوئی پھرتا ہے خود کو صادق و امین کہلوانے والوں نے کبھی اپنے گریبانوں کے اندر جھانکا کہ وہ کدھر سے صادق کی صواد اور امین کی الف پر بھی پورا اترتے ہیں۔ آج ہماری قوم ووٹ دینے کے لیے بڑی برائی سے چھوٹی برائی کو ووٹ دینا فخر سمجھتے ہیں عجب بات ہے کہ ووٹ برائی کو اور اس پر فخر پھر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایسی رپورٹ پر پوری قوم کو شرمندگی اور ندامت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگانا ہی بنتا ہے۔ آج دفتروں میں فائل کو پہیہ لگانے کا رواج ہے اگر ہم دین متین پر عمل کریں تو صاف صاف واضح ہے کہ ”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں“ خدا را میری التجا ہے کہ ہم جہنم جہنم کھیلنا چھوڑیں اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیں بلکہ اصلی صادق اور امین بن کر اللہ رب العزت کی رحمتوں‘ برکتوں اور عنایتوں کے طلب گار بنیں تاکہ ہماری دنیا و آخرت کی منزلیں آسان ہو سکیں اس کے لیے ہمیں آج نہیں ابھی سے ہی 22کروڑ عوام کے ہر فرد کو خود احتسابی کرنا ہو گی اور اس کرپشن کے ناسور کو اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain